ڈنمارک میں حجاب پہننے پر پابندی کا قانون منظور ہونے کے بعد پہلی سزا،دس ہزار روپئے کا جرمانہ

hijab
ڈنمارک میں نقاب(حجاب) پہننے پر پابندی کے قانون کی منظوری کے بعد پہلی بار اس قانون کے تحت ایک خاتون کو عوامی مقام میں نقاب پہننے پر جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔بی بی سی کے مطابق،جمعے کو یہ واقعہ کوپن ہیگن سے 25 کلو میٹر دور ہورشوم قصبے کے ایک شاپنگ مال میں پیش آیا۔پولیس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جھگڑا شروع ہونے کے بعد انھیں وہاں بلایا گیا اور دونوں عورتوں پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔نقاب پوش خاتون پر نئے قانون کے تحت 10ہزارکرونر (ڈنمارک کی کرنسی) کا جرمانہ عائد کیا گیا جوکہ دوسری خاتون پر نقص امن کے تحت جرمانہ کیا گیا۔
ڈنمارک میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے والے نقاب یا حجاب پر یکم اگست سے پابندی کے بعد پہلی بار 28 سالہ ایک عورت پر اس قانون کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق ایک 28 سالہ نقاب پوش خاتون کا ایک دوسری خاتون سے جھگڑا شروع ہو گیا جو ان کا نقاب اتارنے کی کوشش کر رہی تھی۔پولیس کو موقع پر طلب کیا گیا جنھوں نے سی سی ٹی وی کی مدد سے فوٹیج دیکھی اور نقاب پوش عورت کو بتایا کہ اگر انھوں نے نقاب نہیں اتار تو ان پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ڈنمارک میں اس قانون کی منظوری کے بعد انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔یہ قانون ملکی پارلیمان میں تو اس سال کے اوائل میں ہی منظوری کر لیا گیا تھا تاہم اسے بدھ کو لاگو کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بدھ کو ڈنمارک کے اس نئے قانون کے منظور ہونے کے بعد مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر تنقید کی ہے۔اس قانون میں برقع اور نقاب کا نام سے ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن اس میں درج ہے کہ ‘کوئی بھی شخص ایسا کپڑا پہنے جس سے عوام کے سامنے اس کا چہرہ ڈھک جائے، تو وہ قابل سزا ہو گا اور اس پر جرمانہ عائد ہوگا۔’
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *