سعودی اور کینڈا میں چل رہی ہے سفارتی جنگ

پہلے قطر سے اور اب کینڈا سے سعودی عرب کی سفارتی جنگ شروع ہوگئی ہے۔سعودی عرب نے کینیڈا پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ سعودی کے اندرونی معاملوں میں مداخلت کرتا ہے۔اس الزام کے بعد کینیڈا کے سفیر کو ریاض سے واپس بھیج دیا گی اہے جبکہ کینیڈا میں تعینات سعودی سفیر کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔یہی نہیں سعودی عرب نے کینڈا کے ساتھ ہوئے تمام نئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے کو روک دیا ہے۔اس کے علاوہ سعودی حکام نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا میں تمام سکالر شپ، تربیتی اور فیلو شپ پروگرام معطل کیے جا رہے ہیں اور یہ پروگرام کسی اور ملک میں منتقل کیے جائیں گے۔نیز کینیڈا کے ساتھ تمام نئے تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاہدے بھی روک دیا ہے۔
دراصل کینڈا کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتاری پر اپنی تشویش کا اظہار کیاہے۔سعودی عرب میں موجودہ نظام کے خلاف بولنے والی خواتین کی آواز کو دبانے کے لئے بڑے پیمانے پر گرفتاری کی جارہی ہے ۔ حراست میں لی گئی خواتین میں ایک نام ثمر بداوی کا بھی شامل ہے جنہیں گزشتہ ہفتہ حراست میں لیا گیا تھا۔اس سے قبل ڈرائیونگ کا حق دالنے کے لئے مہم کی سربراہی کرنے والی سات خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔سماجی کارکن منال الشریف کہتی ہیں کہ خواتین کے حقوق کی باتیں کرنے سے جو خاتون حراوست سے بچ گئیں انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

 

 

 

حالانکہ اب خاتون کو ڈرائیونگ کی اجازت مل چکی ہے مگر ان کارکنوں کے خلاف کارروائی جاری ہے جنہوں نے اس مہم کی سرپرستی کی تھی۔ سعودی عرب کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ عالمی دبائو میں کوئی فیصلہ تو کرلیتا ہے مگر ملک کے اندر ان لوگوں کو اس کی سزا ضرور دیتا ہے جس نے آواز بلند کی ۔مثال کے طور پر خواتین کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی کارکن لجنال الذلول کو محض اس لئے گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے نظام میں مردوں کی سرپرستی کے خلاف بیان دیا تھا۔
سعودی نظام میں مردوں کی سرپرستی کو چیلنج کرنا نہ صرف معیوب ہے بلکہ خطرناک بھی۔ کیونکہ حکومت کے طریقہ کار میں خواتین کوحقوق دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 2015 میں پہلی مرتبہ ملک میں خواتین کو ووٹ دینے یا انتخابات مین حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی ۔ اسی سال ذلول نے انتخابات میں حصہ لینے ک افیصلہ کیا تھا ۔چونکہ خواتین کو انتخاب مین شرکت کرنے کی کاغذی اجازت دے گئی گئی تھی ،اس لئے انہں بطور امیدوار تسلیم تو کرلیاگیا لیکن بعد میں بیلٹ پیپر پر ان کا نام ہی شامل نہیں کیا گیا تھا۔
غرضیکہ سعودی عرب کی حکومت کے طریقہ کار میں کسی کو بولنے یا آواز اٹھانے کا حق نہیں دیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر کینڈا نے اس کے خلاف آواز اٹھادی تو یقینا سعودی نظام اسے برداشت نہیں کرسکتا ہے ۔اسی نفسیات کا تقاضہ ہے کہ کینڈا کی ایک تشویش پر سعودی عرب نے بطور ناراضگی یکے بعد دیگر کئی اعلانات کردیئے اور یہ تمام اعلانات دونوں ملکوں کے بیچ سفارتی قطع تعلق کے باب سے تھے۔سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ سعودی عرب نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی داخلی معاملات میں کسی ملک کی مداخلت یا احکامات کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ہم اپنی روایت کے مطابق کینڈا کی اس تشویش کو رد کرتے ہیں۔
سعودی عرب میں ایسے وقت میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کو حراست میں لیا جا رہا ہے جب ملک کے ولی عہد شہزادہ سلمان قدامت پسند معاشرے کو ترقی پسندی کی جانب گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے ایسے ماحول میں ان گرفتاریوں سے سعودی ولی عہد کی ترقی پسندی کے تاثر کو نقصان پہنچے گا۔سعودی شہزادہ چاہتے ہیں کہ ملک قدیم روایت سے ہٹ کر نئے دور کے ساتھ چلے۔ان خواتین کی مہم ولی عہدی کی چاہت کو تقویت دینے کا سبب بنے گی، مگر گرفتاریوں سے ایک منفی پیغام جارہا ہے۔
سعودی عرب میں سماجی کارکنوں اور خواتین کی ترقی کی مہم سے جڑے افراد کو حراست میں لئے جانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی آزادی کے مد نظر ان تمام گرفتار شدگان کو رہا کیاجائے۔بہر کیف حکومت کے اس رویے سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے سعودی عرب میں نیا نظام لانے کی جو باتیں ہورہی ہیں ، یہ سب ایک دھکوسلہ ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *