میڈیا کی موجودہ صورتحال جمہوریت کے لئے بہت خطرناک

ان دنوں صحافیوں پر شنی کی ساڑ ھے ساتی چل رہی ہے، جو تھوڑا آزادانہ طور پر سوچتے ہیں ۔ جو ادارے صحافت سے جڑ ے ہیں، چاہے وہ اخبار نکال رہے ہوں یا نیوز چینل چلا رہے ہوں،ان کا صحافت کے تئیں کمٹمنٹ یا ان کی وفاداری مشکوک تو نہیںہے لیکن وہ سوالوں کے دائرے میںضرور آئیں گے۔ کسی بھی صحافی کو نوکری پر رکھنا یا نہ رکھنا ادارے کا اپنا فیصلہ ہے لیکن وہ فیصلہ صحیح فیصلہ ہونا چاہیے۔ اگر دیکھنے میںلگے کہ اس فیصلے کے پیچھے کچھ دوسری طاقتوں کا ہاتھ ہے یا ان کا دباؤ ہے، تب یہ فیصلہ ان کے لیے صحیح ہوگا لیکن صحافیوں کے لیے اسے صحیح ماننا تھوڑا مشکل ہے۔
پنیہ پرسون واجپئی، ابھیسار شرما اور میلند کھانڈیکراور اس سے قبل اے بی پی کے پرانے ایڈیٹر شازی زماں، ان سب کو ایک حکمت عملی کے تحت، اور لگ رہا ہے کہ باہری دباؤ کے تحت، ادارے سے جانے کے لیے مجبور کر دیا گیا۔ ان کے جانے کی صحیح وجہ یہ صحافی ہی بتا سکتے ہیں لیکن ادارے کے باہر کے لوگوںکو دکھائی دے رہا ہے کہ اقتدار سے جڑے اہم لوگوںکو ان کی صحافت سمجھ میںنہیںآرہی تھی۔ انھیںلگ رہا تھا کہ یہ لوگ اپوزیشن کا ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ یہ اپوزیشن کا ایجنڈا چلا رہے تھے یا نہیںچلا رہے تھے، یہ تو ادارہ جانے، ارباب اقتدار کے لوگ جانیںلیکن عوام کے بیچ ان کی مقبولیت کافی بڑھ رہی تھی۔ اس مقبولیت نے ان کی ساکھ کو مضبوط بنا دیا تھا۔ لوگ ان کے شو دیکھنے کے لیے ٹیلی ویژن پر جم جاتے تھے۔
شازی زماں کے جانے کے بعد ، آنند بازار پتریکا نے میلند کھانڈیکر کو ڈائریکٹر نیوزکی ذمہ داری سونپی تھی۔ میلند کھانڈیکر کا پورا کریئر ایک اچھے صحافی کا کریئر رہاہے۔ میلند کھانڈیکر نے آنند بازار پتریکا کے اے بی وی پی نیوز کو کافی اونچائی دی او رکوشش کی کہ اے بی پی نیوز چینل قصیدہ خوانی کے اس دور میںکچھ دوسری چیزیںبھی دکھائے۔ پنیہ پرسون واجپئی پر بھی کئی داغ ہیں، خاص طور سے ان کی ایک ویڈیو کلپنگ بازار میں ہے، جس میںوہ اروند کجریوال سے بات کرتے نظر آتے ہیں اور انھیں صلاح دیتے نظر آتے ہیں کہ کیسے وہ میڈیا میںاپنی رسائی بنائیں۔ ابھیسار شرما کے بارے میں یہ کہا جارہاہے کہ یو پی اے کے دنوںمیںان کی بیوی، جو کہ وزارت خزانہ کے ایک پروجیکٹ میںکام کرتی ہیں، سے انھیںکافی مدد ملی تھی۔ اس لیے، انھوںنے بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ایک مہم چھیڑرکھی تھی جو کانگریس کو فائدہ پہنچا رہی تھی۔ اس میںکتنا سچ ہے،کتنا نہیںہے، یہ کوئی نہیںجانتا۔ لیکن اسکرین پر سوال اٹھاتے ہوئے پنیہ پرسون واجپئی اور ابھیسار شرما جس طرح دکھائی دے رہے تھے، وہ ان کے جرنلزم اسٹائل کو ساکھ فراہم کر رہے تھے۔
ان کے جاتے ہی سوشل میڈیاپر ان کے خلاف ایک بڑی مہم چھیڑ دی گئی۔ ان کی ساکھ او ر امیج توڑنے کی کوشش کافی سنجیدگی سے ہورہی ہے۔ ان دونوںپر الزام لگائے جارہے ہیں۔چونکہ میلند کھانڈیکر ڈائریکٹر نیوز تھے، اس لیے ان کی تنقید تو نہیںکی جارہی ہے لیکن پنیہ پرسون واجپئی اور ابھیسار شرما اس وقت ڈرٹی کیمپین کمپنی کے نشانے پر ہیں۔ وہ سارے لوگ بہت خوش ہیں، جو ایک طرفہ خبر دیکھنا چاہتے ہیں۔

 

 

صحافت میںاب جو تبدیلی آئی ہے، اس تبدیلی میںموضوع کی بنیاد پر فیصلہ نہیںہوتا بلکہ ذاتی رشتوںکی بنیاد پر فیصلہ ہوتا ہے۔ اس با ت کی بنیاد پر بھی فیصلہ ہوتا ہے کہ کون اقتدار کے کس شخص کے کتنا نزدیک ہے۔ اسی لیے بڑے صحافی آج کل کھلے عام کہیںبھی یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیںکہ میںارون جیٹلی کی اس دعوت میںگیا، میںامت شاہ کے ساتھ بیٹھ کر یہ بات کر رہا تھا، میں نے مودی جی کے ساتھ ایسی سیلفی لی۔ انھیںگاہے بگاہے ارباب اقتدار کے ساتھ اپنی نزدیکی دکھاتے ہوئے دوسروں پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے کہیںبھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اور یہی لوگ آج اپنے کو بڑا صحافی کہتے ہیں۔ اب میںیہ تو نہیںکہتا کہ انھیںصحافت کی اے بی سی ڈی نہیںآتی کیونکہ اب نئی صحافت کا نیا چہرہ ہے۔ اور شاید اسی لیے پورے میڈیا ورلڈ کو خاص طور سے نیوز چینلوں کو ، عوام غصے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
ان ٹیلی ویژن چینلوں نے ملک کا بڑا ’اپکار ‘کیا ہے￿ انھوںنے کشمیر کے لوگوںکے خلاف ہندوستان میںنفرت پھیلانے کا کام کامیابی کے ساتھ کیا اور کشمیر کے لوگوںمیںیہ احساس بھر دیا کہ ہندوستان کے لوگ کشمیر کے لوگوںکو اپنا نہیںمانتے اور انھیں غدار کے روپ میںدیکھتے ہیں۔ پورے کشمیر میںچار پانچ صحافیوں کے نام انتہائی نفرت سے لیے جاتے ہیں۔جب یہ صحافی اپنا شو کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے حکومت ہند کی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ یہی صحافی چلا رہے ہیں۔ پاکستان کا سوال ہوتو یہ اندھ راشٹر واد کی وکالت کرتے ہوئے پاکستان سے فوری طور پر جنگ کرنے کی دلیل دیتے ہوئے ہندوستان کے عوام کو سمجھانے میںجٹ جاتے ہیں۔ ان صحافیوں کے کریئر میں ایک بھی رپورٹ نہیں ہے۔ یہ ٹیلی ویژن پر بے وقوفی بھرے سوال پینلسٹ سے پوچھتے ہیں او رپینلسٹ بھی انہی کو بناتے ہیں جو بے وقوفی بھرے سوالوںکا انتہائی بے وقوفی سے جواب دیں۔ ان صحافیوں کی وجہ سے پورا ٹیلی ویژن نیوز چینل ملک کو کسی بھی طرح کی جانکاری نہ دینے کا سپر گینگ بن گیا ہے۔
ان لوگوںکی وجہ سے ہندوستانی ٹیلی ویژن چینل میںانویسٹی گیٹو جرنلزم ختم ہوگیا ہے۔ ان کی وجہ سے خبروںکے پیچھے کی خبریں ختم ہوگئی ہیں۔ ان کی وجہ سے عوام کی جدو جہد ختم ہوگئی ہے۔ ان کی وجہ سے اقتدر سے جڑے لوگ بے لگام ہوگئے ہیں اور ان کی وجہ سے ہندوستانی میڈیا پر پوری دنیا میںایک چھاپ پڑ گئی ہے کہ انھیںدلالی آتی ہے،انھیںپبلک رلیشن بنانا آتا ہے، انھیں ارباب اقتدار کی خدمت کرنی آتی ہے، انھیںتجارتی گھرانوں کی جنگ میںاپنے مالکوںکا ساتھ دینا آتا ہے، بس انھیںصحافت نہیںآتی۔ انھیں نیوز تلاش کرنا نہیںآتا ۔ انھیںنیوز بولنا بھی نہیںآتا۔
جب پورا بازار اقتدار کو اپنے قبضے میںلیے ہوئے ہوتو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میڈیا ورلڈ ان کے قبضے میںنہ جائے۔ ملک کے دو سرمایہ داروں میںخبروںکی دنیا کو لے کر بٹوارہ ہوگیا ہے۔ گجرات کے ایک بڑے سرمایہ دار ہیں جو وزیر اعظم کے نزدیکی ہیں۔ انھوںنے پرنٹ میڈیا کو اپنے قبضے میںلینے کی مہم چھیڑ دی ہے اور ان اداروں کے شیئر خریدنے شروع کردیے ہیں۔ دوسرے ممبئی میںایک بڑے سرمایہ دار ہیں، جن کا دنیا کے دولت مندوںمیںکبھی تیسرا تو کبھی چوتھا مقام آتا ہے، انھوںنے پوری ٹیلی ویژن دنیا کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ہر ٹیلی ویژن چینل میںان کے کافی شیئر ہیں۔ خود ان کا اپنا ٹی وی نیٹ ورک ہے۔ انھوں نے اسے خریداتھا اوراب یہ ان کی پوری ملکیت میں ہے۔ اس لیے اب نہ ٹی وی چینلوں میںاور نہ اخباروںمیں کوئی بھی ایسی خبر دیکھنے کو ملتی ہے جس کا رشتہ عوام کے دکھ،تکلیف یا اس کے خواب سے ہو۔ ان کی ملکیت والے 80 فیصد نیوز چینل سرکار سے سوال کرتے نہیںدکھائی دیتے ہیں بلکہ جو لوگ سرکار کے خلاف ہیں، انھیںفکس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

 

 

ابھی شاید ہندوستانی خبروںکی دنیا کو کئی ایسے جھٹکے دیکھنے ہیں تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ اب تک جو صحافت تھی، وہ صحافت تھی ہی نہیں۔ آج جو صحافت ہو رہی ہے وہی صحافت صحیح ہے۔یہ تو اچھا ہے کہ ونوددوآجیسے صحافی کسی ادارے میںنہیںہیں ورنہ انھیں بھی آج باہر ہونا پڑتا۔ کچھ نئی نیوز ویب سائٹ شروع ہوئی ہیں، جن میں کچھ صحافی ابھی بھی اپنی صحافت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید اسی لیے سرکار تیزی کے ساتھ نیوز پورٹلوں کو کنٹرول کر نے کے لیے قانون بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایسی صورت حال جمہوریت کے لیے بہت خطرناک ہے۔ اور اس صورت حال کی کوئی مخالفت نہیںکر رہا ہے ۔ جو صحافی ہیں، وہ بھی مخالفت نہیںکر رہے ہیں۔ وہ آپس میںبیٹھتے نہیںہیں، تبادلہ خیال نہیںکرتے ہیں بلکہ اگر کوئی ہٹایا یا نکالا جاتا ہے تو ا س کا جشن مناتے ہیں اور اس کی جگہ وہ کیسے پہنچ جائیںاس کی حکمت عملی بناتے ہیں۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ بازار کی ملکیت والے ملک میںایسا ہی ہوتا ہے لیکن بازار کی ملکیت والا ملک امریکہ بھی ہے، برطانیہ بھی ہے۔ یہاںتو اتنی بے شرمی سے یہ سب نہیںہوتا ہے۔ تب ہمارے یہاںاتنی بے شرمی سے کیسے ہو رہا ہے؟ سوال ہے، جواب تلاش کیجئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *