تاج محل تحفظ معاملہ:سپریم کورٹ نے مانگے سبھی فریقوں سے مشورے

taj-mahal-and-supreme-court
سپریم کورٹ نے آگرہ میں واقع تاریخی عمارت تاج محل کے تحفظ کے سلسلے میں تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیل کے ساتھ مشورے مانگے ہیں۔تاج محل کے تحفظ کے معاملے میں سپریم کورٹ نے سرکارکے ذریعے مقررایکسپرٹ پینل کوایک مہینے میں وزن ڈاکیومنٹ دینے کوکہاہے ۔ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یوپی سرکارپربھی سوال اٹھائے ہیں۔
جسٹس مدن بی لوکر کی سربراہی والی خصوصی بنچ نے تاج محل کے تحفظ کے معاملے میں حکومت کے ذریعہ خصوصی کمیٹی کو ایک ماہ میں اپنی تفصیلات سونپنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے تاج محل کے تحفظ (ٹی ٹی زیڈ) میں صنعتی کمپنیوں کے صحیح اعدادوشمار دستیاب نہ کرانے پر اترپردیش کی حکومت پر زبردست نکتہ چینی کی ہے۔جسٹس لوکر نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ٹی ٹی زیڈ میں صنعتوں کی تعداد کا صحیح علم نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ویڑن پیپر کا مسودہ ہی غلط ہے۔ یہ بہت ہی حیرت کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت کو یہ نہیں معلوم کہ علاقے میں کتنی صنعتیں چل رہی ہیں۔
عدالت نے یہ تبصرہ اس وقت کیا جب حکومت تاج محل کے تحفظ کے لئے منتخب خصوصی کمیٹی کی رکن پروفیسر میناکشی دوہتے نے بنچ کو بتایا کہ پہلے ریاستی حکومت نے انہیں علاقے کی صنعتوں کی فہرست دی تھی لیکن بعد میں کہا کہ اس میں تبدیلی کی جائے گی کیونکہ فہرست صحیح نہیں ہے۔عدالت نے شنوائی کے دوران استغاثہ ایم سی مہتہ، مرکزی ماحولیاتی تحفظ بورڈ اور اترپردیش حکومت سے تاج محل کے تحفظ کے تعلق سے مشورے مانگے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہاکہ سرکارکی لسٹ کے مطابق، 1996میں علاقے میں 511انڈسٹری تھیں، اب یہ 1167ہیں۔ ان میں سے کتنی چل رہی ہیں،یہ سرکارکوپتہ ہی نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے کہاکہ تاج محل کے آس پاس ریسٹورنٹ اورہوٹلوں کی کیا صورتحال ہے، اس کی بھی سرکار کوپختہ جانکاری نہیں ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *