بہار زمینی کارکنان سے دور ہوگئی ہیں سیاسی پارٹیاں

آج کل آپ بہار میں کسی بھی وزیر یا ایم ایل اے کے گھر پر چلے جائیے، ایک عجیب سا سناٹا محسوس کریں گے۔ آج وہاں وزیر کے اسٹاف اور سیکورٹی گارڈ کے علاوہ کچھ چنندہ لوگوں کے چہرے ہی نظر آئیںگے۔ اقتدار کی دھمک والی کوئی رونق وہاں کہیں بھی دکھائی نہیں پڑے گی ۔ پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ ان کے زمانے میں اقتدار کے گلیاروں میں صبح و شام تو ایسے لگتا تھا، جیسے وہاں میلہ لگا ہوا ہو۔ وزیر کی چھوڑیئے۔ ایم ایل ایز کے گھر پر بھی حلقہ کے عوام اور مقامی لیڈروں کی بھیڑ لگی رہتی تھی۔ وزیروں کے یہاں کی تو بات ہی کچھ اور ہوتی تھی۔ ان کے یہاں پورا دربار لگتا تھا اور وزیر ایک ایک کر کے اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل سنتے تھے اور اس کے حل کی کوشش کرتے تھے۔ کارکن بھی وزیر کے محکمہ سے لوٹنے کا انتظار کرتے رہتے تھے۔ چائے اور ناشتے کا دور چلتا تھا اور جنہیں رکنا پڑگیا، ان کے لئے کھانے کا بھی انتظام ہوتا تھا۔ علاقے کے لوگ یہ کہہ کر لوٹتے تھے کہ لیڈر نے ہماری بات دھیان سے سنی اور امید ہے کہ کام ہو جائے گا۔ لیکن آج تو ان گلیاروں میں بالکل سناٹا ہی سناٹا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے، اس کا جواب امید میں چھپا ہے۔

 

 

 

رہنمائوں سے دور ہوتے کارکنان
کڑوا سچ یہ ہے کہ سیاسی کارکنوں نے وزیروں اور ایم ایل ایز سے امید ہی توڑ دی ہے۔ انہیں لگنے لگا ہے کہ پٹنہ میں درباری کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ بہتر ہے کہ اپنے گھر میں ہی دال روٹی کا جگاڑ کیا جائے۔ بہت سارے سیاسی کارکنوں سے بات چیت میں یہ بات سامنے آئی کہ ان جیسے لوگوں کا سیاسی آقائوں پر سے بھروسہ کم ہو رہا ہے۔ حلقے میں وزیر اور ایم ایل اے کا جھولا ڈھونے میں اپنی زندگی کے20-30 سال نکال دینے والے سیاسی کارکنوں کو لگنے لگا ہے کہ انہیں اقتدار کی تجوری سے سوائے یقین دہانیوں کے، کچھ ملنے والا نہیں ہے۔ اس لئے اب بے وجہ ان وزیروں اور ایم ایل ایز کی درباری کرنے کا کیا فائدہ۔ اب تو یہ سبھی ماننے لگے ہیں کہ آج کل کے وزیروں اور ایم ایل ایز میں پرانے وزیروں اور ایم ایل ایز جیسا دم خم نہیں ہے۔ آفیسر اب ان کی باتوں کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے، جتنا پہلے لیتے تھے۔ تھانے میں پیروی کرنی ہو یا پھر ٹھیکہ پٹہ لینا ہو، اب وزیروں اور ایم ایل ایز کی بہت زیادہ نہیں چلتی۔اس لئے حلقے کے لوگوں نے پٹنہ میں وزیروں اور ایم ایل ایز کے یہاں جاکر فریاد کرنا کم کردیاہے، یہی سبب ہے کہ ان کے گھروں پر تو سناٹا طاری ہے۔
وزیروں اور ایم ایل ایز کے یہاں زیادہ تعداد سیاسی کارکنوں کی ہوتی تھی، لیکن ان کی مایوسی اور ناامیدی تو ان دنوں اور بھی انتہا پر ہے۔ انتخابات میں بڑھ چڑھ کر سرگرم رہنے والے سیاسی کارکنوں کو امید تھی کہ سرکار بننے پر ان کی جلا وطنی ختم ہوگی اور کسی نہ کسی کمیشن یا پھر 20 رکنی کمیٹی میں انہیں جگہ مل جائے گی۔ ان کارکنوں کا کہناہے کہ وزیر یا ایم ایل اے تو چنندہ لوگ ہی بن سکتے ہیں، ہم لوگوں کی امید تو انہی کمیشنوں اور 20 رکنی کمیٹی کی تشکیل پر لگی رہتی ہے۔
نتیش کمار کی سرکار بنے تقریباً 3 سال ہو گئے ہیں ، نہ تو کمیشنوں کی تشکیل ہو رہی ہے اور نہ ہی20 رکنی کمیٹی کی تشکیل ہو رہی ہے۔ جنتاد دل (یو ) اور بی جے پی سے جڑے بہت سارے سرگرم کارکنوں کو لگتا ہے کہ اگر نیتش ان کمیشنوں کی تشکیل نہیں کرتے ہیں اور20 رکنی کمیٹی نہیں بناتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر اس کا نقصان پارٹی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ غور طلب ہے کہ لگ بھگ دو درجن کمیشن اور ریاست سے لے کر ضلع و سب ڈویژن سطح پر اگر20 رکنی کمیٹی کی تشکیل کر دیاجائے، تو لگ بھگ 10 ہزار سیاسی کارکنوں کے عہدہ کی جلا وطنی ختم ہو سکتی ہے۔ ضلع و سب ڈویژن اور بلاک سطح پر اس میں ممبر بنے سیاسی کارکن تب ایک نئے جوش کے ساتھ پارٹی کے لئے رات دن ایک کرنے کی حالت میں آ جائیںگے۔
نتیش کمار نے جب لالو پرساد کے ساتھ مل کر سرکار بنائی تھی تو یہ طے ہوا تھا کہ کمیشنوں کی تشکیل ہوگی اور20 رکنی کمیٹی بنائی جائے گی۔ فارمولہ 40:40:20 کا طے ہوا تھا۔ یعنی کہ 40فیصد لوگ جنتاد لی (یو) کے ، 40 فیصد لوگ راشٹریہ جنتاد دل کے اور 20فیصد کانگریس کے کارکنوں کو ایڈجسٹ کرنے کی بات طے ہوئی تھی۔ بات آگے بھی بڑھی تھی اور لگنے لگا تھا کہ ان سیٹوں کو بھر دیا جائے گا لیکن تبھی سیاست نے ایسی کروٹ بدلی کہ نتیش نے راشٹریہ جنتاد دل کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی کے ساتھ سرکار بنا لی۔ یہ سرکار بنے بھی سال بھر ہو گیا، لیکن ان کمیشنوں اور کمیٹیوں کی تشکیل کو لے کر کوئی سگبگاہٹ نہیں ہے۔
جانکار بتاتے ہیں کہ جنتاد دل یو اور بی جے پی کی سطح پر آج کی تاریخ تک اس معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دونوں ہی پارٹیوں میں ان عہدوں پر فائز ہونے کی امید لگائے لیڈروں کی بڑی تعداد ہے۔ جنتاد دل یو اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ابھی نہیں چاہتے ہیں کہ کیڈروں کے درمیان کوئی پھوٹ پڑے، خاص طور پر لوک سبھا انتخابات تک۔ پارٹی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک انار سو بیمار جیسی حالت ہے اور ایسے حالات میں کوئی بھی پارٹی جوکھم اٹھانا نہیں چاہتی۔ یقین دہانیوں کے بھروسے جب تک گاڑی چل رہی ہے، تب تک چلنے دینے میں ہی بھلائی سمجھی جارہی ہے ۔لیکن اپوزیشن کا کہتا ہے کہ سرکار میں وہیل پاور کی کمی ہے ۔ اس لئے وہ ان تقرریوں کی ہمت نہیں کر پارہی ہے۔
راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیدر رام بدن رائے کہتے ہیں کہ زمینی اور ایماندار کارکنوں کو عزت دینے کی منشا اس سرکار میں ہے ہی نہیں۔ صرف چاپلوس لیڈروں اور ایم ایل ایز کو ملائی بانٹنے میں یہ سرکار مشغول ہے۔ اس لئے زمین پر کام کر رہے سیاسی کارکنوں کو اس سرکار سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے ۔ شری رائے کہتے ہیں کہ لگ بھگ دو درجن کمیشنوں اور 20 رکنی کمیٹیوں کی تشکیل سے نتیش کمار کو کون روک رہا ہے ۔ ظاہر ہے ،زمین پر بیٹھے سیاسی کارکنوں کی انہیں کوئی فکر نہیں ۔ رام بدن رائے کہتے ہیں کہ جو کارپوریشن اور کمیشن ابھی موجود ہیں ،اس میں ساری چیزیں افسروں کی مٹھی میں ہے، سیاسی کارکن تو بس مہرے ہیں۔ بی جے پی اور جنتا دل یو سے جڑے ذرائع کا کہناہے کہ ابھی سیاسی کارکنوں کو لوک سبھا انتخابات تک انتظار کرنا پڑے گا اور اس کے بعد بھی پٹارہ کھل ہی جائے گا، اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا ماننا ہے کہ بِڑھنی کے کھوتے میں کوئی ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتا، اس لئے بہتر ہے کہ بگل سے نکل لیاجائے۔

 

 

 

کابینی توسیع میں بھی ہوگی تاخیر
وزیر برائے سوشل ویلفیئر منجو ورما کے استعفیٰ کے بعد ایک بار پھر سے نتیش کابینہ کی توسیع کی اٹکلیں تیز ہو گئی ہیں۔ آئینی پروویژنوں کے تحت ابھی نیتش کمار8 اور لوگوں کو وزیر بنا سکتے ہیں۔ بہار اسمبلی کے ممبروں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ریاستی کابینہ میں 36 وزیر ہی رہ سکتے ہیں۔ جنتا دل یو کوٹے سے 14، بی جے پی کوٹے سے 12 اور لوجپا سے ایک کو وزیر بنایا گیا۔ اس طرح پہلے سے ہی کابینہ میں 7 جگہیں خالی رہ گئی تھیں۔ منجو ورما کے استعفیٰ کے بعد اب8 سیٹیں خالی ہو گئی ہیں۔
سابق ریاستی کانگریس صدر اشوک چودھری کی قیادت میں کانگریس کے 4 ودھان پریشدن ممبروں کے جنتا دل (یو) میں شامل ہونے کے بعد سے ہی کابینہ کی توسیع کی چرچا چل رہی ہے۔ منجو ورما کے استعفیٰ دینے کے بعد یہ چرچا ایک بار پھر اور تیز ہو گئی ہے۔ لیکن ہمارے ذرائع بتاتے ہیں کہ نتیش کمار اسے لے کر بہت جلد بازی میں نہیں ہیں۔
غور طلب ہے کہ وزیر برائے سوشل ویلفیئر ریاستی کابینہ میں اکلوتی خاتون ممبر تھیں، اس لئے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ کابینہ کی ایک چھوٹی توسیع ہوسکتی ہے لیکن وہ بھی سرمائی سیشن کے پہلے۔ اس توسیع میں ایک یا دو لوگوں کو جگہ مل سکتی ہے۔ جانکار کہتے ہیں کہ یہ امکان لگ بھگ نہ کے برابر ہے کہ نتیش کمار وزیروں کے سبھی8 خالی عہدوں کو ایک ساتھ بھر دیںگے۔ ابھی تک یہ طے تھا کہ کابینہ کی کوئی بھی توسیع لوک سبھا انتخابات کے بعد ہی ہوگی۔ لیکن منجو ورما والے معاملے کو لے کر ایک دشواری خاتون کوٹے کی وزیر کو لے کر آرہی ہے۔ اس لئے یہ امید کچھ حد تک کی جاسکتی ہے کہ دسہرے کے بعد نتیش کمار ایک یا دو لوگوں کو وزیر بنا سکتے ہیں۔ حالانکہ ابھی سے ہی اس کے لئے دعویداروں کے نام تیرنے لگے ہیں۔ خاتون کوٹے میں لیسی سنگھ کا دعویٰ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ وہ نتیش سرکار میں پہلے بھی وزیر رہ چکی ہیں۔ سیمانچل کی سیاست میں جنتا دل( یو) کی پیٹھ بڑھانے کے لئے نتیش کمار لیسی سنگھ کو موقع دے سکتے ہیں۔ کشواہا کوٹے سے وزیر بننے کا سب سے مضبوط دعویٰ نیتش کمار کے بھروسہ مند رام بالک سنگھ کا ہے۔
سمستی پور ضلع کے ویبھوتی پور کے ایم ایل اے رام بالک سنگھ کی شبیہ اور نتیش کمار کے تئیں ان کی وفاداری وزیر عہدہ کی دورڑ میں ان کو آگے کررہاہے۔ کابینہ توسیع کو لے کر نیتش کمار کا ریکارڈ پہلے بھی لیٹ لطیف کا رہا ہے۔ لوک سبھاانتخابات کے بعد کابینی توسیع کو لے کر نتیش کمار کا ریکارڈ پہلے بھی تاخیر کا رہا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد کابینی توسیع کے پیچھے ان کی سوچ 2020 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کو لے کر ہے۔ جنتاد ل (یو )خیمہ یہ مان کر چل رہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کے ٹھیک پہلے یا بعد ریاست کی سیاسی تصویر بہت کچھ بدلنے والی ہے، جس کے بارے میں ابھی صرف قیاس ہی لگائے جارہے ہیں۔ اس لئے کون وزیر بنے گا اور کب بنے گا، اسے لے کر پتے کھولنے کا یہ صحیح وقت نہیں ہے۔ بہتر ہوگا کہ ابھی ہر کسی کی امید کو زندہ رکھا جائے، تاکہ پارٹی پوری طرح یک جٹ رہ سکے اور آئندہ سیاسی اسکرپٹ بہتر طریقے سے لکھی جاسکے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *