6سالہ یوزا سلیم:ہندوستان کا ایک لٹل ونڈر

yoza-saleem
ہمت و حوصلہ اور عزم صمیم ہو تو نہ پہاڑ کی بلندی ،نہ پاتال کی گہرائی نہ سمندر کی تیز لہریں ،نہ طوفان بے تمیزی اور نہ ہی عمر کی نوخیزی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ایسے ہمت و حوصلہ والے ہر چیلنج کو سر کرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ کوئی افسانوی تخیل نہیں بلکہ نئی دہلی کے ایک 6سالہ بچے نے کرکے دکھا دیاہے۔ یہ بچہ ہے یوزا سلیم جس نے Youngest Black Belt in Taekwondo‘ کا خطاب جیت کر ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے۔ اس کے اس ریکارڈ کو گولڈن بک آف ورلڈ ریکارڈ میں رجسٹرڈ کیا گیاہے۔
یوزا سلیم کی کامیابی ملک و قوم کے بچوں کے لئے یقیناًمشعل راہ ہے ۔ جن بچوں میں کھیل کود کے تعلق سے ہچکچاہٹ اور تذبذب کی کیفیت پائی جاتی ہے ،اب وہ بچے یوزا سلیم سے تحریک پاکر خود میں حوصلہ پید اکرنے کی کوشش کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ اس نے اپنی اس کامیابی کو پانے کے لئے اس وقت سے ٹریننگ شروع کردی تھی جب اس کی عمر محض 3سال تھی۔ یہ ٹریننگ اس نے ’’انٹرنیشنل تائیکونڈو اکیڈمی ‘‘ میں لی تھی۔اس کی انتھک محنتوں کا ثمرہ تھا کہ محض 6 سال کی عمر نے اس نے ریکارڈ بنا لیا تھا۔جبکہ یہ عمر ایسی ہوتی ہے جب عام طور پر انسانی فطرت اعصاب و پٹھوں کو صحت مند بنانے کی طرف توجہ بھی نہیں دیتا ہے،اس عمر میں اس نے متاثر کن جسمانی ساخت کی بے نظیر مثال قائم کی تھی۔
اس کی ان کاوشوں کاہی نتیجہ ہے کہ دسمبر 2017 میں تائیکونڈو ہیڈکوارٹر، ساؤتھ کوریا نے اسے بلیک بیلٹ کا سرٹیفکیٹ دیا۔ یہی نہیں اس کے کوچ ماسٹر شکیل احمد اسے عام بچوں سے الگ غیر معمولی خوبیوں کا حامل بچہ سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس بچے کی رواداری، قوتِ برداشت، سیکھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت ،جسمانی لچک منفرد اور نایاب ہے۔ان خوبیوں نے اسے بڑی شہرت دی ہے۔ابھی حال ہی میں اس نے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہوئے ہندوستان کے لئے پانچواں گرانڈ اوپن ’انٹرنیشنل تائیکونڈو چمپئن شپ ‘جیتا ہے۔
ظاہر ہے اس کی اس کامیابی نے تمام رشتہ داروں ، دوستوں خاص طور پر اس کے والدمحمد سلیم احمد کے چہرے پر حسین مسکراہٹ بکھیر دی ہے ،وہ سب اس کی کامیابی پر بے پناہ خوش ہیں اور مزید کامیابی کی تمنا رکھتے ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *