سرسید اویئرنیس مشن پروگرام کے زیر اہتمام سرسید سمپوزیم کا انعقاد

Prof-Shakeel-Samdani
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے بانی سرسید احمد خاں کی دو صد سالہ تقریبات کے تحت آج سرسید اوےئرنیس مشن پروگرام کے زیر اہتمام یونیورسٹی کے ویمنس پالی ٹیکنک میں سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا جس میں ویمنس کالج کی پرنسپل پروفیسر نعیمہ گلریز نے مہمان خصوصی کے طور پر حصہ لیا۔ پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے پروفیسر نعیمہ گلریز نے کہا کہ سرسید محض ایک ادارے کے بانی نہیں تھے بلکہ انہوں نے پوری قوم کو جگانے کا کام کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اور جدید اور انگریزی تعلیم کی مدد سے ہی دنیا میں اعلیٰ مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پروفیسر نعیمہ گلریز نے پروگرام کے کو آر ڈی نیٹر پروفیسر شکیل صمدانی کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں انہوں نے اے ایم یو اور اے ایم یو سے باہر سرسید کے پیغام کو پہنچانے کا جو کام کیا وہ قابلِ تعریف ہے۔پروگرام کے مہمان اعزازی ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ سرسید کثیر الجہت شخصیت کے مالک تھے اور وہ بیک وقت تاریخ داں، آرکی ٹیکٹ اور ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ہی ایک مصلح بھی تھے۔انہوں نے کہا کہ سرسید نے ایک جدید تعلیمی ادارے کے قیام کے لئے اپنی پوری زندگی صرف کردی اور آج یہ ادارہ ان کے خوابوں کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہے۔
پروگرام کو آر ڈی نیٹر پروفیسر شکیل صمدانی نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ملک کی واحد یونیورسٹی ہے جہاں صرف قابلیت کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہے اور یہاں مذہب، ذات پات، رنگ و نسل اور صنف کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اے ایم یو کو ملنے والی قومی اور بین الاقوامی رینکنگ اس بات کی شاہد ہے کہ یہ ادارہ صحیح سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ہمیں سرسید کے تعلیمی مشن کو جاری رکھنے کی ضرورت اور قصبہ قصبہ قریہ قریہ اور ملک کے طول و عرض میں تعلیمی اداروں کا جال بچھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سرسید کا قائم کردہ یہ ادارہ رات دن ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔
پروفیسر صمدانی نے سمپوزیم کے انعقاد کے لئے ویمنس کالج کی پرنسپل ڈاکٹر سلمیٰ شاہین کا شکریہ ادا کیا۔اپنے خطاب میں شعبۂ سیاسیات کے ڈاکٹر محب الحق نے کہا کہ کئی تاریخ نویسوں نے سرسید کو ہندو مسلم اتحاد کا چیمپین قرار دیا ہے۔ سرسید نے نہایت سلیس زبان میں تہذیب الاخلاق شائع کرکے عوام کی اصلاح کا بیڑہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سرسید کا ماننا تھا کہ انسان تعلیم یافتہ ہونے کے بعد نفسیاتی اعتبار سے کافی مضبوط ہو جاتا ہے۔ ویمنس پالی ٹیکنک کی پرنسپل ڈاکٹر سلمیٰ شاہین نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ آج کے دور میں خواتین کو سرسید سے سبق لیتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے جدوجہد کرنی چاہئے اور اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنے کی عادت کو فروغ دینا چاہئے۔اس موقع پر طالبات نمرہ احمد، طیبہ فطین اور زریں فاطمہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروگرام کی نظامت ڈاکٹر شیبا کمال نے کی اور مہمانوں کا شکریہ پروگرام انچارج طارق احمد نے ادا کیا۔پروگرام کو کامیاب بنانے میں مس فوزیہ، نجیندر کمار، رضیہ چودھری اورعبد اللہ صمدانی کا خصوصی تعاون رہا۔پروگرام کے آخر میں مضمون نویسی مقابلے کی فاتح طالبات اور مقررین کو انعام اور اسناد سے نوازا گیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *