مظفرپورشیلٹرہوم معاملہ: سپریم کورٹ نے لگائی بہارسرکارکوپھٹکار

Supreme-Court
پہلے بہارکے مظفرپور میں اورپھراترپردیش کے دیوریا میں شیلٹرہوم میں لڑکیوں کے ساتھ عصمت دری معاملے پرسپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کیاہے۔سپریم کورٹ نے مظفرپور معاملے پرسماعت کرتے ہوئے سرکارکوجم کرپھٹکارلگائی ہے۔اس دوران دیوریا شیلٹرہوم کی لڑکیوں کے ساتھ ہوئے ریپ کا بھی ذکرکیا۔سپریم کورٹ نے کہاکہ ملک بھرمیں یہ کیاہورہاہے۔لیفٹ -رائٹ اورسینٹرسب جگہ ریپ ہورہاہے۔سپریم کورٹ نے بہارسرکارکوپھٹکارلگاتے ہوئے پوچھاکہ آخرکیوں نہیں شیلٹرہوم کی جانچ کی گئی۔
سپریم کورٹ نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آربی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہرچھ گھنٹے میں ایک لڑکی کا ریپ ہورہاہے۔ملک بھرمیں سال 38ہزارسے زیادہ ریپ ہورہے ہیں۔ملک میں سب سے زیادہ ریپ مدھیہ پردیش میں ہورہے ہیں، دوسرا نمبریوپی کاہے۔سپریم کورٹ نے نتیش سرکارکوپھٹکارلگاتے ہوئے کہاکہ ’’ریاستی سرکار2004سے تمام شیلٹرہوم کوپیسے دے رہی ہے لیکن ان کوپتہ ہی نہیں ہے کہ وہاں کیا ہورہاہے۔سپریم کورٹ نے فنڈنگ پرسوال کیاکہ کون ہے جوبہارکے شیلٹرہوم میں پیسہ دے رہاہے۔سپریم کورٹ نے بہارسرکارکی مظفرپورشیلٹرہوم چلانے والے غیرسرکاری این جی اوکورقم دینے پرکھینچائی کی جس میں لڑکیوں کے ساتھ مبینہ طورپر ریپ کیا گیا اورجنسی زیادتی کی گئی۔
سپریم کورٹ نے کہاکہ مظفرپوروالا این جی اواکیلا نہیں ہے جہاں اس طرح کے الزام سامنے آئے ہیں۔این جی اونے اپنی رپورٹ میں ریاستی سرکارکے فنڈ سے چل رہے ایسے 15اداروں کا ذکرکیاہے، جوجانچ کے دائرے میں آئی ہیں۔
خیال رہے کہ دواگست کوعدالت عظمیٰ کی طرف سے مظفرپورمعاملے کولیکربہارسرکاراورمرکزکونوٹس بھیج کرجواب طلب کیاتھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *