یوم آزادی پرریلیزہورہی ہے:کرپشن مخالف فلم’ ستیہ میوجیتے‘

satyamev-jayate
پوری دنیامیں کرپشن(بدعنوانی ) کا معا ملہ بہت ہی حساس ہے۔تمام ممالک میں وہاں کے لیڈران، انتظامیہ بلکہ ہرکوئی بدعنوانی کوختم کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی بدعنوانی کا معاملہ بہت حساس اورقابل توجہ ہے ۔یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا کہ ہندو ستان کے ہرشعبے میں اوپرسے لیکر نیچے تک بدعنوانی عروج پرہے۔ خصوصاً سرکار ی محکموں میں لیکن پرائیویٹ سیکٹر بھی بدعنوانی سے پاک نہیں ہیں۔حالانکہ یہاں اعلیٰ سطح کے لیڈران وسماجی وملی رہنما سے لیکر نیچے سطح پربیٹھے عہدیداران اپنے شعبے جات سے اورملک سے کرپشن کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہیں۔اتناہی نہیں ، سرکاری انتظامیہ ، ایڈمنسٹریشن، آئی ایس ، آئی پی ایس ودیگرسرکاری سسٹم کے ذمہ داران بھی بدعنوانی کے خاتمہ کا دعویٰ کرتے ہیں اوربدعنوانی سے پاک ایڈمنسٹریشن وسسٹم چلانے کا حلف بھی لیتے ہیں۔لیکن اس کے با وجود آئے دن کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی شعبے میں بدعنوانی کا معاملہ ضرور سامنے آجاتاہے۔
ویسے یہ بھی کہنا غلط ہوگاکہ ہرمذکورہ افسر بدعنوان ہوتاہے یا بدعنوانی میں ملوث ہوتاہے۔ایسا بالکل نہیں ہے۔ آج بھی ایماندارافسران ،لیڈران وذمہ داران منصفانہ طورپر، غیر جانبد ارانہ طورپرامورکو انجام دے رہے ہیں لیکن تب ہرشعبے میں ،ہر امورمیں رشوت خوری ، بدعنوانی کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ ملک میں چھوٹے سے لیکربڑی سطح تک ،یعنی میونسپل وارڈ، ضلع پارشد، میونسپل کارپوریشن، چےئرمین، ایم ایل اے، ایم پی، سرکا ری ونیم سرکاری ادارے ، این جی اوز یادیگرگورنمنٹ وپرائیویٹ سیکٹرکیلئے جوانتخابات ہوتے ہیں، ہر امیدوار اپنے اپنے طورپر منصفانہ ، غیر جانبد ارانہ کام کرنے کیلئے ،کرپشن ختم کرنے کے نام پرووٹ لیتے ہیں لیکن بعدمیں معاملہ برعکس ہوجاتاہے۔اسی طرح سرکاری سسٹم کے ذمہ داران وافسران کا بھی یہی حال ہے۔
یادرہے کہ روزاول سے سماج میں رائج برائیوں کے خاتمے کیلئے ہرکوئی اپنے اپنے طورپرکام کررہا ہے۔جہاں سماج میں سابقہ روایت برقراررکھنے کیلئے بھی کام ہورہاہے ،وہیں وقت اور حالات کے اعتبارسے لوگ سماج میں بدلاؤ کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ملک میں،سماج میں جہاں ہمارے رہنما بد عنوانی، ریپ ، چوری ڈگیتی، ہراساں کے خلاف کام کررہے ہیں، وہیں سرکاری افسران بھی انسانی زندگی کے تعلق سے ہرشعبے میں بدعنوانی سے پاک ، ریپ ودیگر برائیوں سے پاک صاف سماج کی تشکیل کیلئے دن رات کام کررہے ہیں۔
اتناہی نہیں، سماجی برائی وبدعنوانی کے خاتمہ، سماج میں تبدیلی ، سماج کے ماضی ، حال ومستقبل پرجہاں ایک سے بڑھ کرایک کتابیں لکھی گئی ہیں، ناول لکھے گئے ہیں،وہیںیہ سب کچھ ناٹک اورڈراموں میں بھی پیش کیاگیاہے۔ اس کے علاوہ گاہے بگاہے فلموں کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے اورکوشش کی بھی جارہی ہے تاکہ اس دنیامیں بسنے والے انسان خودکوبدلیں اوراچھے سماج کی تشکیل کرلیں۔
بدعنوانی کے خلاف فلمی دنیا
بہرکیف ملک میں دیگرمعاملوں کی طرح بدعنوانی ایک بہت حساس معاملہ ہے، جس کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ اسی کے پیش نظربالی ووڈ ادا کارجان ابراہم اورمنوج واجپئی کی فلم ’ستیہ میوجیتے ‘15اگست کے موقع پرآرہی ہے۔بالی ووڈ ایکشن ڈراما فلم ’ستیہ میوجیتے‘ کا ٹریلر ریلیز ہوگیا ہے۔ اس فلم میں جان ابراہم اورمنوج واجپئی زبردست ایکشن میں نظر آر ہے ہیں۔ٹریلر کے مطابق ’ستیہ میو جیتے‘ کی کہانی بدعنوانی مٹانے والے ایک پولس افسر کی زندگی پر مبنی ہے۔ جو بدعنوان افسروں کو قتل کرنا شروع کر دیتا ہے ا ور شہر میں ایک دہشت کا ماحول بن جاتا ہے۔منوج باجپئی فلم میں ایک پولس افسرکے کردار میں ہیں۔ لاپ ملن جاویری اور نیکھل اڈوانی کے پروڈکشن میں بنی فلم میں آئشہ شرما اہم اداکارہ کے طور پر نظر آئیں گی۔
زبردست ایکشن سے بھرپور فلم کے ٹریلر میں بات چیت بھی دمدار ہے۔ یہ کہانی ہے کرپشن(بدعنوانی) سے لڑتے پولس والے کی، جوسماج کوصحیح راہ دکھاتاہے۔ٹریلرکے مطابق، فلم کے اندرچندڈائیلاگس قارئین و نا ظرین کی نذرہیں۔
چندقابل ذکرڈائیلاگ
جان ابراہم:’سچ میں اچھے دن آگئے ۔لگ بھگ 42سومذاہب ہیں اس دنیا میں، اور ان کی وجہ سے نا جانے کتنے لوگ مرتے ہیں، مارتے ہیں۔ لیکن تم جیسوں نے ایک نئے مذہب کوجنم دیاہے کرپشن‘‘۔
جان ابراہم:’’تجھے ایسی موت ماروں گا کہ تواس جنم میں جلے گا اوردرد اگلے جنم تک جلے گا‘‘
منوج واجپئی:’’چھوٹی مچھلی بہت پکڑ لی،اب مگرمچھ کوپکڑنے کی باری ہے‘‘
منوج واجپئی:’’قانون کوہاتھ لینے کا حق صرف قانون کے ہاتھو ں میں ہوتاہے‘‘
منوج واجپئی:’’ہم خاکی وردی والے اسے خاک میں ملائیں گے، اس سالے کوچھوڑ نا نہیں ہے۔‘‘
جان ابراہم:’’دوٹکے کی جان لینے 9ملی میٹر کی گولی نہیں 56انچ کا جگرا چاہئے‘‘
جان ابراہم:ایک شپتھ آپنے لی تھی، ایک میں نے لی…جنہیں خاکی پہننے کا حق نہیں، انہیں خاک میں ملانے کی‘‘۔
منوج واجپئی:سرکاری ریوالور کی گولی میں آج بھی بہت دم ہے۔ توبچے گا نہیں‘‘
جان ابراہم:روک کردکھاؤ، روکوں گا بھی اورٹھوکوں گا بھی‘‘۔
جان ابراہم:دیکھا کتنا دم ہے ایک عورت کی مارکا،اب دنیا کا کوئی مرد طعنہ نہیں مارے گا کہ تونے چوڑیاں پہنی ہیں کیا‘‘۔
قابل غوربات یہ ہے کہ دیگراداکاروں کی طرح فلم ’ستیہ میوجیتے‘ بھی تنازعہ کا شکارہوگئی ہے۔ اتناہی نہیں ،فلم کولیکر پولس میں شکایت بھی کی گئی ہے۔ یادر ہے کہ جان ابراہم کی اداکاری والی فلم ’ستیہ میو جیتے‘ کا ٹریلر 28 جون کو جاری کیا گیا ہے۔دراصل،فلم ’ستیہ میو جیتے‘ کے ٹریلر میں مْحَرم کے مناظر دکھانے پر تنازعہ ہوگیاہے۔ اس میں جان ابراہم کو زنجیروں کا ماتم کرتے دکھایا گیا ہے ۔ٹریلرکے مطابق، ماتم کے دوران ایک شخص کاجان ابراہم قتل کردیتاہے،جس کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق،حیدرآباد کے ایک بی جے پی رہنما نے اس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ بی جے پی مائنارٹی سیل کے شہر سکریٹری سید علی جعفری کے مطابق فلم کا ٹریلر مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا ہے۔
خبروں کے مطابق،اس معاملہ سے وابستہ ایک وکیل کا کہنا ہے کہ ٹریلر میں عزادری محرم کی غلط طریقہ سے منظر کشی کی گئی ہے جبکہ فلم کے تخلیق کار اس سین کے بغیر بھی فلم کو بہتر طریقہ سے دکھا سکتے تھے ۔ فلم کا عزادری محرم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اس سے ایک طبقہ کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ جعفری نے حیدرآباد میں اس فلم کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے اور کہا ہے کہ اس فلم ٹریلر سے نہ صرف انہیں بلکہ پورے شیعہ طبقہ کو سخت اعتراض ہے۔ جعفری کا مطالبہ ہے کہ فلم سے عزادری محرم کے مناظر ہٹا دیئے جائیں۔
خبروں کے مطابق،اس حوالے سے فلم کے ہدایت کار ملاپ زاویری نے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جب کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کے سینئر ممبر کا کہنا ہے کہ فلم کو ہمارے پاس آنے دیجئے، فلم سنسر بورڈ کے تجربہ کار پینل کو دکھائی جائے گی اور اگر پینل کو فلم دیکھتے ہوئے کہیں بھی محسوس ہوا کہ فلم میں شامل محرم کے حوالے سے سین کے باعث لوگوں کے جذبات مجروح ہونے کا خدشہ ہے تو یہ سین فلم سے فوراً ہٹادیا جائے گا۔ سی بی ایف سی کا موقف مذہبی معاملات میں بہت واضح ہے، کسی کو بھی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی کے جذبات مجروح کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
بہرکیف ’پرمانو‘ جیسی کامیاب فلم دے چکے جان ابراہم کی اگلی فلم ’ستیہ میوجیتے‘15اگست 2018 کو ریلیزہونے والی ہے۔اب دیکھنا ہے کہ فلم سے بدعنوانی کے خاتمہ پرکتنا اثرکرتاہے۔یہ دیکھنا ہے کہ فلم باکس آفس پرکیاکمال کرپاتی ہے لیکن ٹریلرسے امیدہے کہ فلم باکس آفس پرکامیابی کے ساتھ دھمال مچائے گی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *