سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ طاق پر کسانوں کو زبردست دھوکا

’کسانوں کی آمدنی دوگنی کر دیںگے۔۔۔‘ ایسا بول بول کر مرکزی سرکار اور برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اپنے ہی جال میں پھنس گئی ہے۔ اب تک سوامی ناتھن کمیش کی سفارشیںنافذ کرنے کی مانگ کرنے والے کسانوں نے کسانوں کی منیمم انکم ڈکلیئر کرنے کی مانگ شروع کردی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ جب کسانوںکی آمدنی ہی ڈکلیئر نہیں کی گئی ہے تو وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی دیکھا دیکھی دیگر لیڈر یہ کیسے کہتے پھرتے ہیںکہ وہ کسانوں کی آمدنی دوگنی کردیں گے؟
کسان گھیریں گے پارلیمنٹ
ملک بھر کے کسان ماہ نومبر مہینے میںجب پارلیمنٹ کو گھیریںگے تو وزیر اعظم سے پوچھیںگے کہ کسانوںکی آمدنی کتنی ہے؟ اس کے بعد ہی ا س کا دوگنا یا تین گنا ہونا ہوسکتا ہے۔ منیمم سپورٹ پرائس کے نام پر ٹھگے ہوئے کسان 2019 کے الیکشن سے پہلے مرکزی سرکار سے دو دو ہاتھ کر لینا چاہتے ہیں۔ کم سے کم آمدنی کے تعین کی مانگ کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لیے پارلیمانی اور اسمبلی سیٹیں ریزروڈ کیے جانے کی مانگ بھی شامل ہے۔ کسان مانتے ہیںکہ ان کے ووٹ سے جیت کر پارلیمنٹ پہنچنے والے اراکینپارلیمنٹ یا اسمبلیوں میںپہنچنے والے اراکین اسمبلی ایوان میںکسانوں کے مفاد کی آواز نہیں اٹھاتے۔ لہٰذا کسانوںکے اپنے نمائندے چن کر پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں جانے چاہئیں۔ شیڈول کاسٹس، شیڈول ٹرائبس اور ٹیچر کمیونٹی کی طرح کسانوں کی سیٹیں بھی ریزروڈ ہونی چاہئیں۔
دراصل مرکزی سرکار کی بیجا بیان بازیوں اور ریاستی سرکار کے بیجا فیصلوں کے سبب خاص طور سے اترپردیش کے کسان بوکھلا اٹھے ہیں۔ آب پاشی کے لیے استعمال میںآنے والے موٹر پمپوںپر پڑوسی ریاست ہریانہ میں پاور ٹیرف انتہائی کم ہے اور پنجاب میںمفت ہے، بہار میںسبسڈی ہے تومدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی بھاری رعایت ہے۔ ایسے میںیو پی سرکار بجلی کی شرح بڑھاتی چلی جارہی ہے۔ ایک ہارس پاور کی موٹر پر بجلی فیس دو سو روپے ہے۔ آب پاشی کے لیے کسانوںکو کم سے کم پانچ ہارس پاور کی موٹر لگانی پڑتی ہے، لہٰذا کسانوںکا بجلی بل بھاری بوجھ کی طرح ان کے سر پر آپڑا ہے۔ کسانوں کے تئیںسنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والی بی جے پی سرکار میںبجلی کی شرح اور بڑھا دی گئی ہے۔ کسانوںکا بقایا بجلی بل وصول کرنے کے لیے الگ سے تھانے مقرر کردیے گئے ہیں، جو کسانوںسے پیسے وصول کرتے ہیں اور ادائیگی میںتاخیر ہونے پر ایف آئی آر درج کرکے کسانوں کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف چینی ملوں پر گنا کسانوں کے جو کروڑوں روپے بقایا ہیں، اس کی ادائیگی کو لے کر سرکار سراسر جھوٹ بولتی ہے اور چینی ملوںکے مالک کسانوںکے گنے پر اپنی خوشحالی کی فصل کاٹ رہے ہیں۔ ہر بار پیرائی سیزن میںسرکار جھوٹ بولتی ہے کہ گنا بقایا کی ادائیگی ہو رہی ہے۔ جزوی ادائیگی کو بڑھا چڑھا کر بتایا جاتا ہے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اتر پردیش میںصرف سرکاری چینی ملوںپر گنا کسانوںکے چار ہزار 176 کروڑ روپے باقی ہیں۔ پرائیویٹ چینی ملوں پر کسانوں کا بقایا 11 ہزار پانچ سو کروڑ روپے سے زیادہ ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ گنا کسانوںکے بقایا کی ادائیگی کرنے کے لیے مرکزی سرکار نے چینی ملوں کے لیے جو 85 سوکروڑ روپے منظور کیے، اس میںتین ہزار کروڑ روپے ریلیز بھی ہوگئے لیکن کسانوںکے بقایا کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ یہ نشان زد کیے جانے والی حقیقت ہے کہ چینی ملوںکو مرکزی سرکار سے ملنے والا راحت پیکیج سود سے پاک ہوتا ہے۔
کسانوں سے وصولی جاری
لیکن کسانوںکا قرض یا بجلی بل کا بقایا سود سمیت وصول کیا جاتا ہے۔ کسانوں سے وصولی بربر طریقے سے کی جارہی ہے۔ کسانوں کے قرض کا بقایا تحصیل میں پبلک نوٹس بورڈ پر چسپاںکردیا جاتا ہے جبکہ صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے بقایا کا بیورا خفیہ رکھا جاتا ہے۔ کسان پوچھتے ہیںکہ یہ کس طرح کا عدالتی توازن ہے؟ سرمایہ دار اور صنعت کار بھی بینک سے قرض لیتے ہیںاور کسان بھی بینک سے ہی قرض لیتے ہیں۔ سرمایہ داروں کا قرض بڑا ہوتا ہے جبکہ کسانوںکا قرض انتہائی چھوٹا ہوتا ہے۔ پھر ایسا امتیاز کیوں؟ قرض بقایا ہونے پر کسانوں کو تحصیل کے لاک اَپ میںبند کرکے ہراساں اور ذلیل کیا جاتا ہے جبکہ بڑے بقایا دار سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کے ساتھ ایسا نہیںہوتا بلکہ انھیںبیرون ملک بھاگ جانے کا موقع دیا جاتا ہے ۔ ’کسان مزدور سنگھرش مورچہ‘ کے صدر شیواجی رائے کہتے ہیںکہ ملک کے سامنے اب یہ صاف ہونا چاہیے کہ بڑا قرض خور کون ہے؟ کسان یا صنعت کار؟ کسانوںکو بھی یہ ظاہر ہونا چاہیے کہ سرکار ان کی بھی ہے، سرکار صرف سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کا مفاد دیکھنے کے لیے نہیںہے۔ ملک کے تقریباً سارے صنعت کاروں کا منافع لگاتار بڑھتا جارہا ہے جبکہ کسان لگاتار بدحال ہوتا چلا جارہا ہے، ایسا کیوں؟
مرکزی سرکار، ریاستی سرکار اور حکمراں پارٹی لگاتار کہتی رہی ہے کہ کسانوںکی آمدنی دوگنی کی جائے گی۔ شیوا جی پوچھتے ہیںکہ کیا سرکار بتائے گی کہ کسان کی سرکاری طور پر کم سے کم آمدنی کیا ہے؟ پھر آمدنی دوگنی کرنے کی دوغلی بات کیوں کرتی ہے؟ جب کسانوں کی آمدنی ہی مقرر نہیںہے تو سرکار یا پارٹی اسے دوگنی کیسے کر دے گی؟ سرکار پہلے یہ تو بتائے کہ کسانوںکی آمدنی دراصل ہے کتنی؟ کسان طویل عرصے سے 22500 روپے فی خاندان آمدنی یقینی بنانے کی مانگ کر رہے ہیں لیکن سرکار اس پر کوئی دھیان ہی نہیں دیتی۔ مرکزی سرکار کیا صرف مرکزی سرکار کے ملازمین کے لیے ہے؟ ریاستی سرکار کیا صرف ریاستی ملازمین کے لیے ہے؟ کیا انھیںمحض اس لیے ووٹ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے موج کا انتظام کرتے رہیں اور عام شہری مرتا رہے؟ مرکزی سرکار کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ کسان خاندانوں کے لیے کم سے کم آمدنی مقرر ہو اور ہر ایک مہینے اس کی ادائیگی کسان خاندان کے کھاتے میںچلی جائے۔ کسانوںکی فصل پر سرمایہ دار دولت مند ہوتا جارہا ہے۔ کسانوںکی فصل پر سرکار بی پی ایل اور انتیودے اسکیموں میںمفت راشن بانٹ کر واہ واہی لوٹتی ہے اور کسانوںکو اس کا کریڈٹ دینے کے بجائے بوجھ لادتی جاتی ہے۔

 

 

 

 

کسان کیوں محروم اپنے حق سے ؟
سرکار جب کارپوریٹ اور صنعتی گھرانوں کو اپنی مصنوعات کی قیمت طے کرنے کے حق میںمداخلت نہیںکرتی تو کسانوںکو ان کے ان کی مصنوعات کی قیمت طے کرنے کا حق کیوںنہیںدیتی؟ کسانوں پر ظلم و ستم کیوں؟ اگر سرکار کسانوںکو ان کے پروڈکٹ کی قیمت طے کرنے کا حق نہیںدے سکتی تو اس کا پورا پروڈکٹ خرید لے۔ کسانوں کا پورا پروڈکٹ سرکار خریدے اور اس کی مارکیٹنگ کا انتظام کرے، تبھی ملک کا کسان ٹینشن فری ہوکر ملک کو کھانا دے پائے گا۔ لیڈر، نوکر شاہ، سرمایہ دار، دھنا سیٹھ اور دلالوں سے لے کر عام نوکر پیشہ اور سڑک پر زندگی گھسیٹتا عام آدمی سب وہی دال روٹی اور سبزی کھاتے ہیں، جسے کسان پیدا کرتا ہے۔ پھر کسانوںکو قابل قدر حیثیت کیوںنہیںدی جاتی؟ بی پی ایل کے نام پر کم سے کم علامتی قیمت پر بانٹا جانے والا اناج ہو یا انتیودے کے نام پر مفت میںبانٹا جانے والا اناج، بالواسطہ طور پر اس کی قیمت کسانوں سے ہی وصول کی جارہی ہے۔ کسانوںکی سبسڈی روکی جارہی ہے اور سرمایہ داروں کے لیے سرکار کا خزانہ کھلا ہوا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر وزیر اعلیٰ تک سب ان کی خوشامد کررہے ہیں۔ ملک کو سیاسی لوگ چلا رہے ہیں یا سرمایہ دار؟ ملک کے لوگوںکو یہی ظاہر ہورہا ہے۔
ان ہی مسائل پر ملک بھر کے کسان سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ 14 جون کو دہلی کے ’گاندھی پرتشٹھان‘ میں’اکھل بھارتیہ کسان سنگھرش سمنوے سمیتی‘ کی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میںملک بھر کے دو سو سے زیادہ کسان لیڈر شریک ہوئے ، میٹنگ میں طے ہوا کہ کسانوںکی پوری قرض معافی ، سبرامنیم کمیٹی کی سفارشوں کے سی 2-فارمولے کے مطابق کسانوںکی لاگت کی قیمت طے کرنے اور کسانوںکی کم سے کم آمدنی یقینی بنانے کی مانگ کو لے کر 30 نومبر کو ملک بھر کے کسان پارلیمنٹ گھیریں گے۔ اس سے قبل بڑے پیمانے پر کسانوں سے بات چیت کرنے اور تیاری کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
اترپردیش کے باغپت کے نگواں کٹی میںپچھلے دنوں کسانوںکی میٹنگ ہوئی۔ کسان پنچایت کے طور پر ہوئی میٹنگ میں10 ہزار سے زیادہ کسان فوری اطلاع پر اکٹھے ہوئے۔ مقامی لوگ کہتے ہیںکہ 20 سال کے بعد انھوںنے ایک ساتھ اتنے کسانوںکا اجتماع دیکھا جبکہ اس سبھا میںمغربی اترپردیش کے محض تین چار ضلع شاملی، مظفر نگر،باغپت اور میرٹھ کیکسان ہی پہنچے تھے۔ میٹنگ میں شامل کسان لیڈروںمیں’کسان ادھیکار سمنوے منچ‘ کے کوآرڈینیٹر نریندر رانا، ’بھارتیہ کسان سنگٹھن‘ کے صدر ٹھاکر پورن سنگھ،’ کسان مزدور سنگھرش مورچہ‘ کے صدر شیواجی رائے، کسان لیڈر غلام محمد جولا، مہیش سنگھ سمیت کئی کسان لیڈر ان شامل تھے۔
اس میٹنگ میںکسانوں کا ایک وفد لکھنؤ آکر ریاستی وزیر برائے توانائی شری کانت شرما سے ملا۔ کسانوں نے سرکار کے ذریعہ بڑھائی گئی بجلی کی شرح کو واپس لینے کی مانگ کی لیکن سرکار نے کوئی بھی مثبت رخ نہیں دکھایا اور بات چیت ناکام رہی۔ اس کے بعد ریاستی کسانوں نے سرکار سے سیدھے سیدھے بھڑنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ 17 ستمبر کو باغپت کے بھڑل گاؤں میںکسانوںکی بڑی پنچایت بلائی جارہی ہے، جس میںیہ حکمت عملی طے کی جائے گی کہ کسان بجلی بل کا بائیکاٹ آندولن شروع کرکے جیل بھرو آندولن کے لیے تیار رہیں۔ کسان تنظیموںکی مانگ ہے کہ ریاستی سرکار کسانوںکو بجلی اور پانی مفت میں دے۔ٹریکٹر سمیت دیگر زراعتی آلات پر لگنے والا ٹیکس ہٹائے۔کھاد کی قیمت کم کرے اور سرمایہ داروںکو فائدہ پہنچانے کے بجائے کسانوں کو ہی بیج پیدا کرنے کی مالی سہولت فراہم کرے۔

 

 

 

 

 

پارلیمنٹ و اسمبلیوں میں کوٹا کی مانگ
کسان یہ بھی مانگ کر رہے ہیںکہ پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میںطبقاتی نمائندگی نظام نافذ ہو۔ جس طرح درج فہرست ذات، قبائل کے لیے پارلیمانی اور اسمبلی حلقے ریزوڈ ہوتے ہیں، اسی طرح کسانوںکے لیے بھی لوک سبھا اور ودھان سبھا سیٹیںریزروڈ ہونی چاہئیں۔ ودھان پریشد وںکے لیے جس طرح ٹیچروں کے لیے سیٹیں محفوظ ہیں،اسی طرح کسانوںکے لیے بھی محفوظ ہونی چاہئیں تاکہ کسان اپنی بات پارلیمنٹ اور اسمبلیوںمیںرکھ سکیں۔ طبقاتی نمائندگی کا نظام لاگو ہونے پر صرف کسان کیا، صحافی، مزدور اور دیگر طبقے کے لوگ بھی اپنی آواز لیجسلیٹو کے طور پر اٹھا سکیںگے۔ اگر ایسا نہیںہوتا ہے تو پھر جمہوریت اور ووٹنگ کا کوئی جواز نہیںرہ جاتا۔
کسان لیڈر شیواجی رائے کہتے ہیںکہ مرکزی سرکار کے ذریعہ اعلان کردہ منیمم سپورٹ پرائس کسانوںکے ساتھ دھوکا ہے۔ کسانوںکے پاس کوئی ایسا فورم نہیںہے جہاںسے وہ پورے ملک کو اس دھوکے کے بارے میںبتا سکیں۔ کسانوں کا درد یہ بھی ہے کہ ملک کا میڈیابھی کسانوں کی بات صحیح طریقے سے نہیںاٹھاتا۔ سوامی ناتھن کمیٹی منیمم سپورٹ پرائس طے کرنے کے عمل میںپوری لاگت یعنی سی 2-فارموملے کو بنیادبنانے کی سفارش کرتی ہے لیکن مرکزی سرکار جزوی لاگت کے فارمولے (+2 ایف ایل) کو بنیاد بنا کر منمانے طریقے سے منیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) طے کردیتی ہے۔ سوامی ناتھن کمیشن نے سی 2- فارمولے کے تحت زرعی پیداوار میںاستعمال میں آنے والے آلات کا خرچ، قرض پر لگنے والا سود، زمین کا کرایہ، کسان خاندان کی مزدوری، کھاد، بیج، آب پاشی، بجلی ، گاڑیوں کے کرایہ سمیت پوری لاگت جوڑ کر ایم ایس پی طے کرنے کی سفارش کر رکھی ہے۔ لیکن مرکزی سرکار نے اسے نہیںمانا۔ مرکزی سرکار کے ذریعہ مقررکی گئی منیمم سپورٹ پرائس میں14اشیائے خوردنی کو شامل کیا گیا ہے، جس میںدھان، جوار،ہائی بریڈ باجرہ، راگی، مکا، ارہر، مونگ، اڑد، مونگ پھلی، سورج مکھی کے بیج، سویا بین، تل، نائیجر سیڈ اور کپاس ہے ۔ مرکز نے دھان کی پیداوار کے لیے جزوی لاگت 1166 روپے فی کونٹل طے کرکے 1750 روپے منیمم سپورٹ پرائس کا اعلان کردیا جبکہ سی 2- فارمولے سے دھان کی فصل پر لاگت 1560روپے طے ہوتی اور اس میں50 فیصد جوڑ کر منیمم سپورٹ پرائس 2340 روپے ہوتی۔ کسان لیڈر کہتے ہیںکہ سرکار محض چھ فیصد کسانوں کی فصلی مصنوعات خریدتی ہے، وہ بھی کسانوںسے نہیں بلکہ بڑے تاجروں اور بچولیوں کے ذریعہ خریدتی ہے۔ اس میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوتی ہے۔ اس سے کسان سپورٹ پرائس سے کافی کم شرح پر علاقائی تاجروں یا بچولیوں کو اپنا مال بیچنے پر مجبورہو جاتا ہے۔ سرکار کے خریداری مراکز گھپلے بازی کا مرکز بنے رہتے ہیں۔ سرکار کے ذریعہ بنائے گئے ضابطے اور کٹوتی کی آدھا درجن شرائط کسانوں کے استحصال کا ذریعہ بنتی ہیں اور کسان اپنی مصنوعات منڈی میںلاکر پھنس جاتا ہے۔ آخرکار کسان بچولیوں اور دلالوں کی شرطوں پر مال بیچ کر چلا جاتا ہے۔
گنا بقایا پر سرکار جھوٹ بول رہی ہے
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ریاست کے گنا وزیر سریش رانا بار بار عوامی فورموں سے بھی گنابقایا کی ادائیگی کو لے کر گمراہ کن بیان جاری کرنے سے نہیںجھجکتے ۔ جیسا کہ اوپر بتایا گیا کہ چینی ملوں پر ریاست کے گنا کسانوں کا تقریباً 16 ہزار (15,676) کروڑ رروپے بقایا ہے۔ راشٹریہ لوک دل کے لیڈر جینت چودھری کہتے ہیںکہ اس سال 18 مئی تک پرائیویٹ اور سرکاری چینی ملوں پر گنا کسانوں کا 13367 کروڑ روپے باقی تھے ۔ بقایا کی یہ رقم بڑھ کر 16 ہزار کروڑ روپے پر پہنچ گئی۔
ابھی پچھلے دنوں ہی گنا بیلٹ سہارنپور میںچینی ملوںکے ذریعہ بقایا رقم کی ادائیگی میںکی جارہی بہانہ بازی کے خلاف کسانوںکی ناراضگی دیکھ کر انتظامیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ سہارنپور کے کمشنر سی پی ترپاٹھی نے بقایا کی ادائیگی پر چینی ملوں کی ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے 16 چینی ملوں کے خلاف نوٹس جاری کرکے ادائیگی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بقایا کی ادائیگی میںحکومت و انتظامیہ کی دلچسپی اس سے ہی ظاہر ہوتی ہے کہ سہارنپور کی 16 چینی ملوںکے خلاف نوٹس جاری ہوا ہے۔ اکیلے سہارنپور کی چینی ملوں پر گنا کسانوںکے 1766 کروڑ روپے باقی ہیں۔ اس میں1670 کروڑ روپے اصل اور 96 کروڑروپے سود کے ہیں۔ دیوبند، کھتولی اور ٹیکولا چینی ملوںپر بقایا کل بقایا کا 80 فیصد سے اوپر ہے۔ سہارنپور ڈویژن کی 17 میںسے 9 چینی ملوںپر سو کروڑ روپے سے زیادہ بقایا ہے۔ بڑھانا چینی مل پر سب سے زیادہ بقایا 217 کروڑ روپے ہے۔ بقایا داروں میںسرکاری کو آپریٹو چینی مل نانوتہ اور سرساواں مل بھی شامل ہیں۔ بقایا کا ضلع واربیورا دیکھیںتو آپ کو اقتدار کے علمبرداروں کے جھوٹ کا پور پور دکھائی پڑے گا۔ سہارنپور ضلع کی چھ چینی ملوںپر 534 کروڑ روپے باقی ہیں۔ مظفر نگر کی آٹھ چینی ملوںپر 772 کروڑ روپے باقی ہیں۔ شاملی کی تین چینی ملوں پر 461 کروڑر وپے سے زیادہ باقی ہیں۔ دیوبند چینی مل پر 95 کروڑ روپے بقایا، گانگنولی چینی مل پر 158 کروڑ بقایا، شیر مئو چینی مل پر 83 کروڑ بقایا، گاگلہیڑ ی چینی مل پر 27 کروڑ بقایا، نانوتہ کو آپریٹو چینی مل پر 114 کروڑ بقایا اور سرساواں کوآپریٹو چینی مل پر 56 کروڑ روپے باقی ہیں۔ اسی طرح کھتولی چینی مل پر 144کروڑ، تتوانی چینی مل پر 140 کروڑ، بڑھانا چینی مل پر 217 کروڑ، منصور پور چینی مل پر 110 کروڑ، ٹیکولا چینی مل پر 27 کروڑ، کھائی کھیڑی چینی مل پر 76 کروڑ، روہانہ چینی مل پر 24 کروڑ، مورنا کوآپریٹو چینی مل پر 34 کروڑ ، شاملی چینی مل پر 187 کروڑ، اون چینی مل پر 117 کروڑ اور خود ریاست کے گنا وزیر سریش رانا کے اسمبلی حلقے میںواقع تھانہ بھون مل پر 157 کروڑ روپے کا بقایا زیر التواہے۔ کسان کہتے ہیںکہ گنا وزیر اپنے اسمبلی حلقے کی چینی مل سے بقایا کی ادائیگی نہیںکرا پارہے ہیں تو پھر وہ بڑ ے بڑے بول کیوں’پھینکتے ‘ رہتے ہیں۔
چینی ملوںپر گنا کسانوں کے بقایا کی ادائیگی کا کم و بیش یہی حال پورے اتر پردیش میںہے۔ مرادآباد میںبھی گنے کی ر قم کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب کسانوں کا غصہ اب ابال پرہے۔ ضلع کے گنا کسان شدید مالی بحران سے گزر رہے ہیں۔ اس سلسلے میںگزشتہ دنوں کسانوںکی میٹنگ میںگنا ادائیگی میںغیر متوقع تاخیر کا مدعا زور دار ڈھنگ سے اٹھا۔ بلاک چیئرمین کالے سنگھ نے کہا کہ ایک طرف گنا کسانوں کے بقایا کی ادائیگی نہیںہورہی ہے اور دوسری طرف کسانوں کو خسرہ کھتونی کے نام پر پریشان کیا جارہا ہے۔ ان کسانوں نے طے کیا ہے کہ وہ 23 ستمبر کو پیدل ہی دہلی کے لیے کوچ کریں گے۔
ادھر سنبھل ضلع میںبھی گنا بقایا کا معاملہ بہت گرم ہورہا ہے۔ کسانوں کے تیور کو دیکھتے ہوئے وہاںبھی ضلع انتظامیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔ سنبھل کے ضلع افسر نے چینی ملوںکو بقایا رقم کی ادائیگی کرنے کو کہا ہے۔ چینی ملوں پر گنا کسانوں کے بقایا کا بیورا دیتے ہوئے انتظامیہ نے بتایا ہے کہ مجھاولی وینس چینی مل پر 96.16 کر وڑ روپے کا بقایا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ اس میں 57.26 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسمولی شوگر مل پر 509.40 کروڑ کے بقایا میںسے 396.19 کروڑ کی ادائیگی کردی گئی ہے ، اب اس پر 113.21 کروڑ روپے باقی ہیں۔ اسی طرح رجپورہ شوگر مل نے 432.8 کروڑ کے بقایا میںسے 342.11 کروڑ کی ادائیگی کی ہے۔ اب اس پر 90.47 کروڑ روپے باقی ہیں۔
شکنجے میں کسنے کی تیاری
ایک طرف اتر پردیش کے گنا کسانوں کے بقایا کی ادائیگی نہیںہو رہی ہے ، دوسری طرف ریاستی سرکار گنا کسانوںسے ڈکلیئریشن فارم داخل کرنے کا دباؤ بنا رہی ہے۔ جو کسان سرکار کی طرف سے مقررہ فارمیٹ پر ڈکلیئریشن فارم داخل نہیں کریںگے،ان کا گنا چینی ملوں کے ذریعہ نہیںخریدا جائے گا۔ گنا کسانوں کو اپنے شکنجے میںکسنے کے لیے سرکار نے ڈکلیئریشن فارم کا فتور نکالا ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے کہ جن گنا کسانوں نے مقررہ فارمیٹ میںڈکلیئریشن فارم بھر کر پیش نہیںکیا ہے، ان کسانوںکا سٹا سنچالت نہیںہوگا اور پیرائی سیزن 2018-19 میںانھیںگنے کی سپلائی کی اجازت نہیںدی جائے گی۔ اس کے علاوہ گنا کسانوں کو اپنے کھیت کی کھتونی کی دستاویز بھی پیش کرنی ہوںگی۔ کسانوںکے ڈکلیئریشن فارم کے ساتھ کھتونی کی دستاویز، آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، بینک پاس بک کی فوٹو کاپی بھی جمع کر نی ہوگی، تبھی ان کا گنا خریدا جائے گا۔
الجھ گئی سبز انقلاب کے خالق کی رپورٹ
اقتدار میںآنے سے پہلے بی جے پی کسانوںکے لیے سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشیںلاگو کرنے کے وعدے کرتی رہی لیکن اقتدار پر بیٹھتے ہی بی جے پی لیڈروںنے تیز رفتاری سے اپنا رنگ بدل دیا۔ اب بی جے پی سوامی ناتھن کمیشن کے نام سے ہی بدکتی ہے۔ کسانوںکے لیے جو منیمم سپورٹ پرائس کا اعلان کیا گیا ، وہ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشوں کے برعکس ہے۔ آپ یہ جانتے ہیںکہ ملک میں سبز انقلاب کے خالق مانے جانے والے سوامی ناتھن کی صدارت میں2004 کے نومبر مہینے میں’راشٹریہ کسان آیوگ ‘کی تشکیل گئی تھی۔ کمیشن نے اکتوبر 2006 میںاپنی رپورٹ دے دی لیکن اسے اب تک کسی بھی سرکار نے نافذ نہیںکیا۔سوامی ناتھن کمیشن نے کسانوںکی حالت سدھارنے سے لے کر زراعت کو فروغ دینے کے لیے کئی سفارشیںکی تھیں۔
سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات
سرکار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ کمیشن کی کئی سفارشیں لاگو کردی گئیں لیکن یہ آدھا سچ ہے۔ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارش یہ ہیں: -1 فصل پیداوار کی قیمت سے 50 فیصد زیادہ دام کسانوںکو ملے۔ -2 کسانوںکو اچھی کوالٹی کے بیج کم دام میں مہیا کرائے جائیں۔ -3 گاؤں میں کسانوںکی مدد کے لیے ’ولیج نالج سینٹر‘ یعنی گیان چوپال بنائی جائیں۔ -4 خواتین کسانوںکے لیے کسان کریڈٹ کارڈ جاری کیے جائیں۔ -5 کسانوں کے لیے’ ایگری کلچر رسک فنڈ‘ بنایا جائے تاکہ قدرتی آفات کے آنے پر کسانوںکو مدد مل سکے۔ -6اضافی اور استعمال نہ ہونے والی زمین کے ٹکڑوں کی تقسیم کی جائے۔ -7زرعی زمین اور جنگلی زمین کو غیر زرعی مقاصد کے لیے کارپوریٹ گھرانوںکو قطعی نہ دیا جائے۔ -8 فصل بیمہ کی سہولت پورے ملک میںہر فصل کے لیے ملے۔-9 کھیتی کے لیے قرض کا بندوبست ہر غریب اور ضرورت مند کسان تک پہنچے۔-10سرکار کی مدد سے کسانوںکو دیے جانے والے قرض پر سود کی شرح کم کرکے چار فیصد کی جائے۔ -11 قرض کی وصولیابی میںراحت، قدرتی آفات یا بحران زدہ علاقوںمیںسود سے راحت عام حالت میںبحال ہونے تک جاری رہے۔ -12 لگاتار قدرتی آفات کی صورت میں کسان کو مدد پہنچانے کے لیے ’ایگری کلچر رسک فنڈ ‘کی تشکیل کی جائے۔

 

 

 

 

 

لیڈروںپر اربوںروپے بقایا
کسانوںکے بجلی بل یا قرض کے بقایا کی معمولی رقم کی وصولی غیر معمولی اور غیر انسانی طریقے سے ہوتی ہے جبکہ لیڈروں پر بجلی بل کے اربوں روپے باقی ہیں لیکن اس کی وصول یابی نہیںہوتی۔ حکمرانی کا یہی دوغلہ کردار ہندوستانی جمہوریت کی سچائی ہے۔ آپ حیرت کریںگے کہ اتر پردیش کے وزیروں اور اراکین اسمبلی پر 10 ہزار کروڑ وپے کا بجلی بل باقی ہے۔ اس کے علاوہ لیڈروں کی آرام گاہوںیعنی وی آئی پی گیسٹ ہاؤس پر بھی دو کروڑ 65لاکھ روپے کا بجلی بل بقایا ہے۔ اور تو اور ودھان سبھا میںوزیروں کو اخلاقیات کا سبق دینے والے اسمبلی اسپیکر ہردے نارائن دیکشت پر بھی 12 لاکھ 64 ہزار روپے کا بجلی بل بقایا ہے۔
بجلی بل بقایا کا بیورا دیکھیںگے تو آپ کو سیاست کی اصلیت کا احساس ہوگا۔ بہو کھنڈی منتری آواس پر ایک کروڑ 47 لاکھ، ریاستی کھیل وزیر چیتن چوہان پر 17 لاکھ 72 ہزار، خود بجلی کے وزیر شری کانت شرما پر 6 لاکھ 51 ہزار، ایگری کلچر منسٹر سوریہ پرتاپ شاہی پر 9 لاکھ 28 ہزار، نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ پر 10 لاکھ 80 ہزار، شہری ترقی کے وزیر سریش کھنہ پر 9لاکھ 20 ہزار، صنعتی ترقی کے وزیر ستیش مہانا پر 7 لاکھ 83 ہزار اور وزیر خزانہ راجیش اگروال پر قریب 9 لاکھ روپے کا بجلی کا بل باقی ہے۔ ملازمین کا الزام ہے کہ پرائیویٹائزیشن سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ہو رہا ہے۔ ریاستی توانائی وزیر شری کانت شرما جب یہ کہتے ہیںکہ بجلی محکمہ 72 ہزار کروڑ روپے کے خسارے میںہے تو خود پر انگلی اٹھانے کی اخلاقی جرأت نہیںکر پاتے۔
آزادی کے 71 سال بعد
2017 سے 2018 کے بیچ ملک کے لوگوں نے کسان آندولن کو زبان اور سرحدی حد بندی پار کرکے ملک گیر شکل لیتے ہوئے دیکھا ہے۔ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک کئی اہم اور کوئی علاقائی سطح کے کسان آندولن ہوئے لیکن سیاست نے ان کسان آندولنوںکو فیصلہ کن شکل تک نہیںپہنچنے دیا۔ کسان آندولن سے جڑے لیڈروں کو لالچ کے ذریعہ گرایااور کسان آندولنوں کو فیل کرانے کا کام کیا۔
آپ یاد رکھیںکہ گزشتہ سال 13 مارچ 2017 کو تمل ناڈو کے کسانوںنے دہلی کے جنتر منتر پر آندولن شروع کیا تھا۔ تمل ناڈو کے کسانوںکا وہ آندولن تقریباً 40 دن چلااور 23 اپریل 2017 کو ختم ہوا۔ اس کے بعد ایک جون 2017 کو مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے کسانوں نے آندولن شروع کیا۔ مدھیہ پردیش کے کسانوں کا آندولن منصوبہ بند تشدد کی بھینٹ چڑھا اور پانچ کسانوں کی موت ہوئی او رسیکڑوں گاڑیاںآگ کے حوالے کر دی گئیں۔ تشدد کی لپیٹ میںآکر بکھر گیا مدھیہ پردیش کا کسان آندولن سیاسی سازشوں کا شکار بنا۔ سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے پر الزام لگائے لیکن حقیقت یہی ہے کہ کسانوںکے آندولن کو تشدد کا روپ دینے کے لیے غیر سماجی اور اراجک عناصر کا سہارا لیا گیا۔ راجستھان میںبھی کسانوںکا آندولن مؤثر رہا لیکن مہا راشٹر اور راجستھان دونوں ریاستوںکے کسان آندولن بڑے نتائج حاصل کرنے کے بجائے علاقائی مفاد پر اطمینان کرکے ختم ہوگئے۔ کسانوں کا بنیادی مسئلہ وہیںکا وہیںرہ گیا۔
اس سال ایک سے 10 جون تک 130کسان تنظیموںنے مختلف شہروں میں علامتی آندولن چلایا اور زرعی مصنوعات خاص طور سے پھل، سبزیاں اور دودھ وغیرہ کی سپلائی بند رکھی۔ ملک کے 30 مختلف نیشنل ہائی ویز پر کسانوںکے دھرنا پردرشن سے بھی ملک بھر میںپیغام گیا۔ مدھیہ پردیش کے 10 مقامات پر کسانوںکا دھرنا پردرشن ہوتا رہا۔ مہاراشٹر کے آٹھ، ہریانہ کے چار، راجستھان کے تین، کرناٹک کے دو، کیرل اور جموںو کشمیر کے ایک ایک مقام پر کسانوں نے اپنا ڈیرا جمایا۔ اس آندولن کی نشاندہی کرنے والا پہلو جموں و کشمیر کے کسانوں کا آندولن میںساتھ آنا ہے۔ کسانوںکے اس اتحاد سے بیداری بھی آئی ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر ایک گھنٹے میںدرج ہونے والی کسان کی خود کشی کم ہونے لگی ہے۔ حالانکہ اس کا کریڈٹ لینے کے لیے حکمراں پارٹیاں ناپسندیدہ حرکتوںسے لے کر بیان جاری کرتی رہیں۔ اتحاد اور آندولن سے ملک بھر کے کسانوںمیںیہ بیداری مضبوط ہوئی کہ ارباب اقتدار کے ساتھ مل کر کارپوریٹ گھرانے کسانوںکی کھیتی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا کسانوں کو اب یہ بات سمجھ میںآرہی ہے کہ انھیںاپنا بنیادی کام کسی بھی قیمت پر نہیںچھوڑنا ہے، جبکہ اس سے پہلے کسان کھیتی چھوڑ کر دوسرا دھندہ اپنانے کا ارادہ کر رہے تھے۔ مشرقی اترپردیش کی گنا بیلٹ کے کسانوں نے تو زرعی کام چھوڑ کر دوسری ریاستوںمیںدہاڑی مزدور تک بننا منظور کر لیا۔ بیداری کی وجہ سے ملک کی 60 سے زیادہ کسان تنظیموں کا’کسان ایکتا منچ‘ کی شکل میںآیا اور ایک بار پھر آندولنوں کا دور شروع ہوا۔ بھٹہ پارسول، بیتول، مندسور کے آندولن بھلے ہی وقت سے پہلے بکھر گئے لیکن ان آندولنوں نے وسیع پیمانے پر کسانوںکو متحد ہونے کا پیغام دیا۔
کسانوںکے آندولن کو متحد شکل میںآتا دیکھ کر ماہر اقتصادیات کہتے ہیںکہ ہندوستان کا بازار دیہات پر مرکوز ہونے والا ہے، اسی لیے کارپوریٹ گھرانے کسی بھی قیمت پر کسانوںکو اقتصادی طور پر اہل نہیںہونے دینا چاہتے۔ کسان اقتصادی طور پر اہل نہیںہوگا تو مستقبل میںدیہی سیکٹر میںتیار ہونے والے زراعت پر مبنی درمیانی،چھوٹے اور مائیکرو صنعتی اداروں پر کسانوںکا مالکانہ حق نہیںہوپائے گا اور اس دیہی بازار کو بھی کارپوریٹ گھرانے ہی کنٹرول کر پائیںگے۔ اس سازش میں حکومت بھی کارپوریٹ گھرانوں کا ساتھ دے رہی ہے کیونکہ سیاسی پارٹیوں کا الیکشن لڑنے کے لیے پیسہ بھی کارپوریٹ گھرانوں سے ہی ملتا ہے۔ ملک کے 650 ضلعوں میںسے 500 ضلعوں کے بازار دیہات پر مبنی ہیں۔ کارپوریٹ گھرانے اس بازار پر اپنا کنٹرول چاہتے ہیں۔ ملک میںاناج کی پیداوار قریب تین سو ملین ٹن ہے اور قریب ڈھائی سو ملین ٹن دیگر فصلوںکی پیداوار ہے۔ دودھ کی پیداوار 150 ملین ٹن ہے جو ملک کی معیشت کو 30 سے 40 لاکھ کروڑ کا بزنس دیتی ہے۔ اگر کسان متحد ہوئے تو اتنے بڑے دیہات پر مبنی بازار کی کنٹرولر کسان کمیونٹی ہی ہوگی۔ لڑائی کا بنیادی نکتہ یہاںہے۔

 

 

 

 

 

عام لوگ بھی سمجھ رہے ہیں کسانوںکے بنیادی مسائل
دو سالوںمیںکسان آندولنوں نے کسانوںکے بنیادی مسائل کے بارے میںملک کے عام لوگوںکو جاننے سمجھنے کا موقع دیا ہے۔ کسانوں کے ان مسائل کو گزشتہ 71 سال سے سیاستدانوں نے دبا چھپا کر رکھا اور اس پر سیاسی روٹیاں سینکتے رہے۔ آزادی کی سات دہائیوں کے بعد بھی ملک میںکھیتوں کے بٹوارے کا کوئی متوازن قانون نہیںبنایاگیا۔ آج بھی ملک میںزرعی زمین کے مالکانہ حق کو لے کر ہونے والے تنازعے سب سے زیادہ ہیں ۔ غیر مساوی زمین کی تقسیم کے خلاف کسان آواز اٹھاتے رہے ہیں لیکن سرکاریں ساہوکاروں او ر جاگیر داروں کے حق میںکھڑی رہی ہیں۔ زمینوںکا بڑا حصہ بڑے دولت مندوں، لیڈروں اور نوکر شاہوں کے روپ میںنئے جاگیرداروں، دلالوں اور ساہوکاروں کے پاس ہے۔ بدعنوانی کے بڑے بڑے فارم ہاؤس ہیں، جہاں کسان مزدور کام کرتے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانی کسانوںکی حالت زار ہے۔ فصل اچھی نہیںہوئی تو برباد ہوئے، موسم کی مار ہوئی تو مارے گئے اور قرض میںڈوبے تو پھانسی لگالی۔
چھوٹے رقبے میںفصل اگانے کی جدو جہد کرنے کے بعد بھی کسانوںکو ان کی فصل کی واجب قیمت نہیںملتی۔ یہ اس’ کرشی پردھان‘ ملک کا کینسر ہے، جسے لیڈروں نے پال رکھا ہے۔ سرکار ہر فصل کے موسم میںکسانوں کا اناج خریدنے کا اعلان کرتی ہے، خریدری مراکز کھولتی ہے اور ان خریداری مراکز میںنوکر شاہ، ملازمین اور دلال مل کر بدعنوانی کی دکان کھول لیتے ہیں۔ کسانوں کا اناج کوالٹی کی بنیاد پر رجیکٹ کر دینے کا ڈر دکھا کر منمانی قیمت پر خریدا جاتا ہے اور اسی اناج سے بدعنوانی اپنی دولت کی سلطنت کھڑی کرتی ہے۔ کسان اونے پونے دام پر اپنا مال بیچ کر گھر لوٹ جاتا ہے۔ گیہوں اور دھان کی سرکاری خرید میںزبردست گھوٹالہ ہوتا ہے لیکن وہ سرکار کو دکھائی نہیںدیتا۔ آلو، ٹماٹر اور دوسری سبزیوں کو لے کر بھی کسان مرتا رہا ہے۔ آپ نے ابھی دیکھا ہی کسانوںنے اپنا آلو ، ٹماٹر سڑک پر پھینک دیا۔ اترپردیش کی علی گڑھ سے لے کر فرخ آباد تک کی پوری بیلٹ آلو پیداوار کے لیے نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میںمشہور ہے لیکن کسانوں کو آلو کی لاگت کی قیمت بھی نہیںمل پاتی۔ بازار میںآلتو فالتو دام پر آلو بیچ کر کسان کو لوٹنا پڑتا ہے یا سڑک پر آلو پھینک کر کسان گھر لوٹ جاتا ہے۔ آزادی کے 71 سال بعد بھی سرکار نے آلو اسٹوریج کا مناسب انتظام نہیںکیا اور کولڈ اسٹوریج میںآلو رکھنے کے لیے تاجر منمانا کرایہ وصول کرتے ہیں۔ کسان اتنے دباؤ میںآجاتا ہے کہ وہ کولڈ اسٹوریج میںہی اپنا آلو چھوڑ دیتا ہے۔ گنا کسانوںکی حالت کے بارے میںآپ نے اوپر جانا ہی ہے۔ دھنا سیٹھوںکی چینی ملوںپر کسانوں کے اربوں روپے باقی ہیں لیکن سرکار کو جھوٹ بولنے سے ہی فرصت نہیں ۔
یہ بھی عجیب المیہ ہے کہ فصل کسان بوتے ہیں لیکن بیج پیدا کرنے کا حق کارپوریٹ اور تجارتی گھرانوں کے پاس ہے۔ بیج کی پیداوار کے لیے سرکار ساری سہولتیں تجارتی گھرانوںکو ہی دیتی ہے۔ یہی سہولت کسانوں کو ملے تو کسان اپنے بیج کا پروڈکشن خود کرنے لگیں۔ کسانوں کو بازار سے مہنگا بیج خریدنا پڑتا ہے۔ کسان لگاتار یہ مانگ کررہے ہیں کہ بیج پیدا کرنے کا حق اور سہولتیں انھیںدی جائیں لیکن سرکار ایسا کیوںکرے؟ بیجوں کی تقسیم کا نظام بھی ٹھیک نہیںہے۔ بیج مہنگا ہونے کے باوجود اچھی کوالٹی کا نہیںہوتا، جس کا اثر زرعی مصنوعات پر پڑتا ہے۔ اعلیٰ سطح کا بیج اور ہائی بریڈ بیج کے نام پر کسانوںکو خوب ٹھگا بھی جاتا ہے۔ یہ کسانوںکی بدقسمتی ہی ہے کہ آزادی کی سات دہائیوںکے بعد بھی ملک میںآب پاشی کا مناسب انتظام نہیںہو پایا ہے۔ کسان خود اپنا موٹر پمپ لگاکر آب پاشی کرتے ہیں تو سرکار بجلی فیس بڑھا کر انھیں لوٹتی ہے اور استحصال کرتی ہے۔ کسان بارش کے بھروسے پر ہی کھیتی کرتا ہے۔ صرف اتر پردیش ہی کیا ملک کی تمام دوسری ریاستوں میںبھی آب پاشی نظام پر سرکاروں کا کوئی دھیان نہیں ہے۔ نہریں، رج بہے سب خشک ہوگئے ہیں۔ نہریں رج بہے ملبوں سے پٹ گئے لیکن صفائی نہیںہوئی۔ کاغذ پر صفائی ہو جاتی ہے اور سرکاری پیسہ وزیر سے لے کر افسر اور ملازمین کی جیب میںچلا جاتا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہی ایسی ریاست ہے جہاںآب پاشی نظام پر سرکاروں نے دھیان دیا ہے۔
پھلوں کو بازار تک پہنچانے کی بھاری دقت کا سامنا کسانوں کو ہر فصلی موسم کے بعد کرنا پڑتا ہے۔ زرعی مصنوعات کا بازار تک پہنچانے کے لیے پورے ٹرانسپورٹیشن کاانتظام آج تک نہیںکیا گیا۔ کسان خود اپنا پروڈکٹ کسی طرح مہنگاکرایہ دے کر بازار تک لاتا ہے اور وہاں اسے اپنے پروڈکٹ کی مناسب قیمت نہیںمل پاتی۔ جلدی خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کو لے کر کسان اور مار کھاتے ہیں۔ کسانوںکے لیے آفت یہ ہے کہ ایک بار کسی طرح اناج یا سبزیاں بازار تک پہنچا دیں تو واپس نہیںلائی جاسکتیں۔ اس سے پارپانے کے لیے کسان ہر بار اپنامال اونے پونے دام پر بیچ کر واپس لوٹ آتا ہے۔ بازار میںکسانوںکے رکنے کے لیے کہیںبھی کوئی ریسٹ ہاؤس آج تک نہیںبنایا گیا۔ کسانوںپر حاوی ساہوکاری اور مہاجنی کا متوازی نظام خون چوسنے کا کام کر رہا ہے۔ اس میں بینک بھی نئے ساہوکار کے روپ میںآگئے ہیں اور انتظامیہ کی مدد سے وہ کسانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ مہنگے بیج، مہنگا کھاد، مہنگی آب پاشی اور مہنگی تکنیکی ضرورتوں نے کسان کو قرض خور بنا کر رکھ دیا ہے۔ قرض دینے میںبینک کسانوںسے رشوت وصول کرتے ہیں تو سود خور، ساہوکار اور مہاجن کسانوں سے اونچا سود وصول کرتے ہیں۔ کسانوںکی بے تحاشا ہوئی خود کشی کے واقعات کی اصل وجہ یہی ہے۔
کسانوںکے رہنما بھی اتنے ہی بڑے قصوروار
ملک میںکسانوںکی حالت زار کے لیے کسانوں کے رہنما بھی کم قصوروار نہیں رہے ہیں۔ نام چھاپے بغیر آپ سمجھ لیںگے کہ اس ملک میںکون کون سے ’سونام دھنیہ ‘ لیڈر سیاست کی دکان میںکسانوں کے مسئلے بیچ بیچ کر اثر دار، خوش حال، مضبوط اور عظیم ہوتے گئے۔ کسانوںکے رہنما بننے والے لوگ بڑے بڑے لیڈر اور وزیر بنے لیکن بڑا بننے کے بعد ان لیڈروںنے کسانوںکے مسئلے چھوٹے کردیے۔ آپ سنتے اور بولتے ہیںکہ نکسلی تنظیموں کے لیڈر (کمانڈر) کیسے دولت مند ہوتے گئے۔ ان کے بچے مغربی ممالک میںعالی شان اسکول کالجوں میںپڑھتے ہیں یا بہترین نوکری کرتے ہیں۔ کشمیر کے علیحدگی پسند لیڈروں کا بھی یہی حال ہے۔ کسانوںکے رہنما لیڈروں کی لمبی جماعت کو بھی آپ ان ہی نکسلیوں اور علیحدگی پسندوںکی فہرست میں شامل کر سکتے ہیں۔ آندولنوں کے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ آپ جھانک کر دیکھیںتو کسانوںکے رہنما لیڈروںکی آج کی خوشحالیاں ان کے کردار کی کہانیاں کہتی ملیںگی۔ ان کی ہزاروں ایکڑ زمین اور کروڑوں اربوں روپے کی اقتصادی اوقات یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ اس ملک میںکسان متحد کیوں نہیں ہو پائے، کسانوں کے مسئلے کا حل آج تک کیوں نہیںنکلااور کسان آندولن آج تک فیل کیوںہوتے رہے؟
شیواجی رائے کا کوٹ
کیا سرکار بتائے گی کہ کسان کی سرکاری طور پر کم سے کم آمدنی کیا ہے؟ پھر آمدنی دوگنی کرنے کی دوغلی بات کیوںکرتی ہے؟ جب کسانوں کی آمدنی ہی مقرر نہیںہے تو سرکار یا پارٹی اسے دوگنی کیسے کردے گی؟ سرکار پہلے یہ تو بتائے کہ کسانوں کی آمدنی دراصل ہے کتنی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *