…مودی سرکارنےمیہل چوکسی کوبھگانے میں مدد کی:کانگریس

randeep-surjewala
کانگریس نے جمعہ کومودی سرکارپرحملہ بولتے ہوئے الزام لگایاکہ انٹیگا کی طرف سے آئی چونکا دینے والی جانکاری سے صاف ہوتاہے کہ مودی سرکار کی مدد سے ہی میہول چوکسی کوبھگانے میں مدد ملی ہے۔میڈیا میں انٹیگا اتھارٹی کی طرف سے آئی جانکاری کے بعد پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔
بینکنگ گھوٹالے کے ملزم اورمفرور میہل چوکسی کوشہریت دینے پراینٹیگا حکومت نے صفائی دی ہے کہ حکومت ہندنے مفرو ر ڈائمنڈ کاروباری میہل چوکسی کوکلین چٹ دے دی تھی اس کے بعد ہی اسے شہریت دی گئی ہے۔ اینٹیگاکا کہنا ہے کہ ہندوستان سرکار سے چوکسی کے خلاف کوئی اطلاع نہیں تھی۔یہاں تک کہ سیبی نے بھی چوکسی کے نام پرمنظوری دی تھی۔ چوکسی کے پس منظر کی سختی سے جانچ کی گئی ، لیکن ا س کے خلاف کچھ نہیں ملاتھا۔کانگریس نے مودی حکومت پر لٹیروں کو بھگانے کا الزام لگاتے ہوئے سوال کیا کہ پنجاب نیشنل بینک میں 23 ہزار 484 کروڑ روپے کے گھپلے کے ملزم میہل چوکسی کے خلاف دھوکہ دہی کی کئی شکایات ہونے کے باوجود اس خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور اسے کس بنیاد پر ملک سے فرار ہونے دیا گیا۔
کانگریس کے مواصلات محکمہ کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجیوالا نے کہا کہ میہل چوکسی گزشتہ سال مئی میں ملک چھوڑ کر بیرون ملک بھاگ گیا تھا جبکہ اس کے خلاف اس سے پہلے کمپنی امور کی وزارت اورای ڈی سمیت کئی جگہ سنگین شکایات درج تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ایجنسیوں نے پکڑنے کے بجائے انہیں ملک سے باہر جانے دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ میہول چوکسی کے خلاف ایک نہیں کئی شکایتیں درج ہیں۔ اس کے خلاف سات مئی 2015 کو کمپنی امور کی وزارت میں سنگین دھوکہ دہی کی شکایت کی گئی۔ اسی طرح سے 26 جولائی 2016 کو وزیر اعظم کے دفتر میں میہل کے فراڈ کی شکایت پہنچی، جس میں شکایت کنندہ نے آگاہ کیا تھا کہ میہل بھی وجے مالیا کی طرح ملک سے بھاگ سکتا ہے، لہذا اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔
سرجیوالا نے کہا کہ میہل کے خلاف ممبئی پولیس، کمپنی امور کی وزارت، ای ڈی میں شکایات درج کی گئی تھیں۔ اس کے خلاف بدعنوانی کے معاملے میں سات مئی اور 26 مئی 2015، 20 جولائی اور 26 جولائی 2016 اور تین مئی 2017 کو شکایت درج کی گئی تھی۔سرجیوالا نے کہاکہ پہلے لوٹ کروانا اورپھرانہیں بھگانا مودی سرکار کی پالیسی بن گئی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *