راجیوگاندھی کے قاتلوں کورہانہیں کیاجاسکتا:مرکزی سرکار

rajiv-gandhi
راجیوگاندھی قتل معاملے میں مرکزی سرکارنے 7قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کی ہے۔مرکزنے سپریم کورٹ میں داخل رپورٹ میں کہاہے کہ وہ تمل ناڈوسرکار کے ساتوں قصورواروں کی رہائی سے رضامند نہیں ہے۔مرکزی سرکارنے سپریم کورٹ میں کہاہے کہ وہ راجیوگاندھی قتل معاملے کے سات قصورواروں کورہاکرنے کے تمل ناڈوسرکارکی تجویزکی حمایت نہیں کرتی ہے،کیونکہ ان مجرموں کی سزاکی معافی سے خطرناک روایت کی شروعات ہوگی اوراس کے ’بین الاقوامی نتیجے ‘ برآمدہوں گے۔جسٹس رنجن گوگوئی ، جسٹس نوین سنہا اورجسٹس کے ایم جوزف کی تین رکنی بنچ نے وزارت داخلہ کے ذریعے اس سے متعلق دائردستاویزدیکھنے کے بعد آج معاملے کی سماعت ملتوی کردی۔
عدالت عظمیٰ نے 23جنوری کومرکزی سرکارسے کہاتھاکہ تمل ناڈو کے 2016کے خط پرتین مہینے کے اندرفیصلے لے۔ریاستی سرکارراجیوگاندھی قتل کے سات قصوروارں کی سزامعاف کرکے ان کی رہائی کرنے کے فیصلے پرمرکزسے رضامندی چاہتی ہے۔ریاستی سرکارنے اس متعلق میں 2مارچ2016کومرکزی سرکارکوخط لکھاتھا۔
خیال رہے کہ تمل ناڈو کی ریاستی حکومت اس بات کی کوشش کرتی رہی ہیں کہطویلعرصہ گزر جانے کے بعد ان قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا جائے لیکن سپریم کورٹ اس کے خلاف ہے۔عدالت نے 2014 میں مرکزی حکومت کی ایک درخواست کی بنیاد پر کہا تھا کہ ان قیدیوں کو آزاد کرنا انصاف کے سبھی تقاضوں کے خلاف ہو گا۔اس وقت مرکز میں منموہن سنگھ کی حکومت تھی اور حکومت نے ان قیدیوں کی رہائی کی مخالفت کی تھی۔خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو 21 مئی سنہ 1991 میں جنوبی ہند کے سری پیرمبدور میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *