سخت مصیبت میں پی ڈی پی

اندرونی خلفشار سے دوچار پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی )کو ٹوٹ پھوٹ سے بچانے کے لئے محبوبہ مفتی متحرک ہوچکی ہیں۔ ذرائع نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ 21جولائی کو سرینگر میں پارٹی میٹنگ میں محبوبہ مفتی کا لب و لہجہ اس حد تک نرم اور دھیما تھا کہ پارٹی کے وہ اراکین بھی قیادت پر تنقید کرتے اور چیختے چلاتے نظر آئے ، جو عام حالات میں پارٹی میٹنگوں میں بھیگی بلی کے مصداق بنے رہتے ہیں۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ میں پارٹی قیادت پر ’’خاندانی راج ‘‘ چلانے کا الزام چھایا رہا اور خود محبوبہ مفتی اور انکے قریبی ساتھی ممبران کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔پی ڈی پی کے باغی ممبران میں شامل چاراراکین اسمبلی عمران رضا انصاری ، جاوید بیگ اور محمد عباس انصاری کے علاوہ قانون سا کونسل کا رکن یاسر ریشی نے میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ۔ جبکہ پی ڈی پی کے بانی لیڈران میں شامل رکن پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ بھی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔
اس میٹنگ میںپی ڈی پی کے ممبران اسمبلی اور دیگر اراکین نے پارٹی قیادت پر کس قدر دبائو ڈالا ہے ، اُس کا اندازہ اُ س بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف دو دن بعدپارٹی کے نائب صدر سرتاج مدنی ، جورشتے میں محبوبہ مفتی کے ماما لگتے ہیں، کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا پڑا۔تازہ اطلاعات کے مطابق محبوبہ مفتی نے پارٹی کے دیگر عہدیداروں سے بھی استعفے طلب کئے ہیں تاکہ پارٹی کے 19ویں یوم تاسیس، جو 28جولائی کو منایا جارہا ہے، کے بعد پارٹی کا اندرونی ڈھانچہ از سر نو تعمیر کیا جائے گا۔
محبوبہ کا بی جے پی پر الزام
اس بیچ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں ایک ٹی وی انٹریو کے دوران انکشاف کیا کہ نئی دہلی پی ڈی پی کو توڑنے کے لئے قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کا استعمال کررہی ہے۔ محبوبہ کا کہنا ہے کہ ان کے کئی پارٹی ممبران اسمبلی کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر وہ پارٹی کو نہیں چھوڑیں گے تو اُن کے خلاف (بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت) این آئی اے کی تحقیق شروع کرائی جائے گی۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی محبوبہ مفتی نے نئی دہلی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پی ڈی پی کو توڑنے کی کوشش کررہی ہے۔بلکہ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر نئی دہلی نے پی ڈی پی توڑی تو اسکے نتیجے میں کشمیریوں کا جمہوریت پر بچا کچھا اعتماد بھی ختم ہوجائے گا اور یہاں سید صلاح الدین اور یٰسین ملک جیسے مزید لوگ پیدا ہوجائیں گے۔حالانکہ مبصرین کی اکثریت محبوبہ مفتی کے ان دونوں بیانات کو انکی فریسٹریشن سے تعبیر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ در اصل یک لخت اقتدار کھوجانے کے نتیجے میں محبوبہ مفتی حواس باختہ ہوگئی ہیں کیونکہ اقتدار ختم ہوجانے کے ساتھ ہی ان کی پارٹی بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور اگر یہ پارٹی ٹوٹ گئی تو محبوبہ مفتی بلکہ مفتی خانوادے کا سیاسی کیریئر اسکے ساتھ ہی ختم ہوجائے گا۔
دوسری جانب پی ڈی پی کے باغی لیڈروں کا اصرار ہے کہ مفتی خانوادے کا سیاسی کیریئر پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔ معروف شیعہ لیڈر اور پی ڈی پی کے رکن اسمبلی عمران رضا انصاری ،جنہوں نے سب سے پہلے پی ڈی پی کی لیڈر شپ پر پارٹی کے اندر ’’خاندانی راج ‘‘ چلانے کا الزام عائد کیا ، نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک گفتگو میں کہاکہ ’’ پی ڈی پی کے بیشتر ممبران اسمبلی پارٹی کے اندر خاندانی راج سے اکتا گئے ہیں۔ ہم نے یہ حتمی فیصلہ کرلیا ہے کہ اس پارٹی کو ایک مخصوص خاندان( مفتی خانوادے) سے نجات دلا کر ہی دم لیں گے۔ہم نے بہت سہہ لیا ہے ۔ اب یہ سلسلہ ختم ہوجانا چاہیے۔‘‘عمران رضا انصاری کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی ،پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے بجائے ’’پریوار ڈیموکریٹک پارٹی ( پی ڈی پی ) ‘‘ میں تبدیل ہوچکی ہے۔وہ سب سے زیادہ اس بات پر نالاں نظر آتے ہیں کہ حکومت کے دوران وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے انہیں ان کا ( انصاری کا) من پسند قلمدان دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا تھاکہ انکے پاس تجربہ نہیں ہے لیکن مفتی محمد سعید کی وفات کے بعد محبوبہ مفتی نے اپنے چھوٹے بھائی تصدق مفتی ، جو ممبئی میں کام کرتا تھا، کو بلا کر پارٹی میں شامل کیا اورانہیں ریاست کا وزیر سیاحت بنادیا۔انصاری نے کہا، ’’مجھ سے کہا گیا کہ میرے پاس زیادہ تجربہ نہیں ہے، اسلئے مجھے کوئی اچھا وزارتی قلمدان نہیں دیا جاسکتا لیکن دوسری جانب تصدق مفتی ، جنہیں سیاست کا الف اور با کا بھی پتہ نہیں، کو وزارت سیاحت کی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔
پارٹی کے ایک اور باغی ممبر اسمبلی محمد عباس وانی نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایاکہ ’’2014ء میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی سرکار بننے کے بعد نہ صرف حکومت بلکہ پارٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق سارے فیصلے چند مٹھی بھر لوگ ہی لیتے رہے۔پارٹی میں ہمارا دم گھٹ گیا تھا۔‘‘

 

 

 

 

مشکل میں پی ڈی پی
پی ڈی پی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی دو لخت ہوجانے کے لئے تیار ہے۔ بی جے پی پر پہلے ہی الزامات عائد ہوتے رہے ہیں کہ وہ نہ صرف پی ڈی پی بلکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس جیسی جماعتوں سے بھی ممبران اسمبلی کو اکٹھا کرکے ان پر مشتمل ایک ’’تھرڈ فورس‘‘ قائم کرنا چاہتی ہے ، تاکہ اس تھرڈ فورس کی حمایت سے بی جے پی ریاست میں ایک نئی حکومت قائم کرسکے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریاستی گورنر نے پی ڈی پی ۔ بی جے پی سرکار گر جانے کے بعد اسمبلی کو تحلیل کرنے کے بجائے اسے معطل رکھا۔ یعنی نئے جوڑ توڑ کے نتیجے میں اسی اسمبلی میں ایک نئی حکومت قائم کی جاسکتی ہے۔ اگر اس اسمبلی پر مشتمل نئی حکومت نہ بھی بن جاتی ہے بلکہ نئے انتخابات کئے جائیں گے تب بھی وادی میں پی ڈی پی ، کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے اراکین اسمبلی پر مشتمل ’’تھرڈ فورس‘‘ کے قیام سے بی جے پی کو آئندہ انتخابات میں یہ فائدہ ہوگا کہ وادی کی ساری اسمبلی نشستیں بٹ جائیں گی اور ممکنہ طور پر جموں میں بی جے پی کو سیٹوں کی اکثریت مل جائے گی اور اس طرح سے بی جے پی پہلی بار ریاست میں سب سے بڑی پارٹی کے بطور ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔
اس لئے مبصرین کو یقین ہے کہ پی ڈی پی کا دو لخت ہوجانا یقینی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اس لحاظ سے پارٹی کے لئے المیہ ہوگا کہ یہ اپنے وجود کے20 سال بھی پورے نہیں کرپائے گی۔ 28جولائی کو پی ڈی پی اپنا یوم تاسیس منارہی ہے۔ لیکن آج پی ڈی پی جتنی کمزورنظر آرہی ہے ، اتنی کمزور اس سے پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ آج حالت یہ ہے کہ جنوبی کشمیر کو 2014 الیکشن سے قبل پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا تھا، میں آج پی ڈی پی کے ممبران اسمبلی جانے سے خوف محسوس کررہے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں 2014اسمبلی الیکشن میں پی ڈی پی کو 11سیٹیں ملی تھیں ۔ لیکن اب وادی کے اس خطے میںپارٹی کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آتا ہے۔ محبوبہ مفتی کی سربراہی میںپی ڈی پی ۔ بی جے پی کی تین سالہ مخلوط سرکار میں وادی میں انسانی حقوق کی جو بے دریغ پامالیاں دیکھنے کو ملی ہیں، اُن میں زیادہ تر جنوبی کشمیر میں ہی رونما ہوئیں۔پارٹی کے بانی لیڈر رہ چکے طارق حمید قرہ نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات میں چیت میں کہاکہ ’’ پی ڈی پی کی سیاسی موت اُسی دن ہوگئی تھی ،جب اس نے 2014 کے الیکشن کے بعد بی جے پی کے ساتھ ملکر حکومت بنالی ۔کیونکہ ہم نے لوگوں سے یہ کہہ کر ووٹ لئے تھے کہ اگر اس ریاست کو بی جے پی کی جارحیت سے بچانا ہے تو ہمیں ( پی ڈی پی ) کو ووٹ دیں۔ لوگوں نے ہمیں ووٹ دیا اور ہم ریاست کی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرکر آئے لیکن پی ڈی پی نے اس عوامی مینڈیٹ کے ساتھ دھوکہ کرکے اسی بی جے پی کے ساتھ ملکر حکومت بنائی ، جس کے خلاف لوگوں نے ہمیں کامیاب بنایا تھا۔‘‘ طارق حمید قرہ نے پی ڈی پی سال 2016 میں چھوڑ دی ۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ڈی پی نے عوام کے ساتھ دغا کی۔
سیاست چونکہ امکانات کا کھیل ہے ۔ اسلئے یہ بات وثوق سے تو نہیں کہی جاسکتی ہے کہ پی ڈی پی کا سیاسی کرئیر ختم ہوگیا ہے لیکن یہ بات عیاں ہے کہ اس پارٹی کو آج خوفناک چیلنچوں کا سامنا ہے۔محبوبہ مفتی کاجموں وکشمیر میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے دور دور تک کوئی امکانات نہیں ہے ۔ لیکن اگر وہ اس نازک موڑ پر اپنی پارٹی کو ہی ٹوٹنے سے بچا پائیں گی تو یہ ان کا ایک بڑا کارنامہ ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *