دیگر نارتھ ایسٹ ریاستیں بھی متاثر

30جولائی کو آسام میں جاری این آر سی کا بڑا اثر شمال مشرق کی دیگر ریاستوں میں بھی دیکھنے کو ملا۔ یہ ایشو سیاسی ہو سکتا ہے لیکن شمال مشرق کی دیگر ریاستویں کے لوگوں کا اس سے جذباتی لگائو دکھائی دے رہاہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ آسام کی طرز پر باقی ریاستوں میں بھی این آر سی لاگو ہو تاکہ باہری لوگوں کو الگ کیا جا سکے ۔ ایسا اس لئے کہ ان کی زمین باہر سے آئے لوگ ہتھیانہ سکیں۔شمال مشرق کے سرحدی ریاستوں میں باہر سے آئے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وہاں کی زیادہ تر سرکاریں بی جے پی کی ہیں۔ سرکار کی منشا کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن مقامی لوگوں کو این آر سی زیادہ پسند آرہا ہے۔
ویسے بھی باہر سے آئے لوگوں کو روکنے کے لئے شمال مشرق کی ریاستوں ارونا چل پردیش، ناگالینڈ اور میزروم میں بنگال ایسٹرن فرنٹیئر ریگولیشن ، 1983 کے تحت اینر لائن پرمٹ لاگو ہے۔ منی پور اور میگھالیہ میں بھی اینر لائن پرمٹ کو لے کر لڑائی جاری ہے۔ ہندوستان کے سرحدی ملکوں کے قریب ہونے کی وجہ سے شمال مشرق میں باہری بنام مقامی کے بیچ ہمیشہ ٹکرائو رہا ہے۔ اب آسام سرکا ر کے ذریعہ این آر سی مسودہ لائے جانے سے شمال مشرق کی باقی ریاستوں میں بھی کافی ہلچل مچ گئی۔ دیکھتے ہیں، این آر سی مسودہ شائع ہونے کے بعد دیگر ریاستوں میں اس کا کیا اثر ہورہا ہے؟
منی پور: آسام میں این آر سی مسودہ شائع ہونے کے بعد منی پور میں الگ الگ سماجی تنظیموں کے ذریعہ مانگ اٹھ رہی ہے کہ آسام کے طرز پر منی پور میں بھی این آر سی لاگو ہو۔ ’ایتھنو ہیریٹیج کونسل‘ (ہیریکون ) نے کہا کہ ریاستی سرکار، آسام کی طرح این آر سی اپڈیٹ کرکے اسٹیٹ پوپولیشن کمیشن بناکر فوری اثر سے ریاست میں این آر سی لاگو کریں۔ ہیریکون کے نائب صدر ایل سناجا اوبا میتے نے کہا کہ منی پور کے ہندوستان میں ملنے کے بعد ریاست میں غیر قانونی گھس پیٹھ روکنے کے لئے لوگوں نے کئی کوششیں کیں۔ کئی سالوں سے وقت بوقت سرکاروں سے اپیل کرتے رہے۔ اسٹوڈنٹس موومنٹ کی وجہ سے 22 جولائی 1980 کو منی پور اسٹوڈنٹس کو آرڈینیٹنگ کمیٹی اور ریاستی سرکار کے بیچ باہری لوگوں کی گھس پیٹھ کو روکنے کے لئے ایک سمجھوتہ ہوا تھا۔ بدقسمتی سے ان 38برسوں کے بعد بھی ریاستی سرکار نے اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ ہیریکون کے نائب صدر نے کہا کہ آسام کے این آر سی مسودے میں شامل نہیں کئے گئے 40 لاکھ لوگ کہاں جائیںگے؟بیشک آسام کی پڑوسی شمال مشرق کی ریاستوں میں ہی آئیںگے۔ اس صورت حال میں ریاستی سرکار کو چوکنارہنا چاہئے۔ ساتھ ہی سماجی تنظیموں کو بھی اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے حکم پرآسام سے لگے ہوئے منی پور کے علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس الائنس آف منی پور (ڈیسام ) کے صدر ایڈیسن نے کہا کہ 23فروی 2017 کو ریاست میں این آر سی اپڈیٹ کرانے کے لئے ایک اشتہار وزیر اعلیٰ کو سونپا گیا تھا۔ بدقسمتی سے اب تک سرکار کی طرف سے کوئی حتمیت نہیں دی گئی۔

 

 

 

 

ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایل ایم کھوتے نے کہا کہ آسام سے لگے ہوئے منی پور کا ضلع جیری بام میں سیکورٹی سسٹم بڑھا دیا گیا ہے۔ گواہاٹی ناگالینڈ ہوتے ہوئے منی پور آرہے نیشنل ہائی وے 39 اور ریاست کے سرحد ی سیناپتی ضلع کے مائو گیٹ میں بھی سیکورٹی اور سخت کر دی گئی ہے۔ باہر سے آئے لوگوں کی جانچ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ سرحدی ندی جیری اور براک میں بھی منی پور پولیس کے جوان کشتی کے ذریعہ پہرہ دے رہے ہیں۔ جیر یبام ایس پی ایم مووی نے کہاکہ جیریبام ریلوے اسٹیشن سے 12 کلو میٹر دور بھنگائی چونگ پائو اسٹیشن سے 300 باہری لوگوں کو جانچ کرکے واپس بھیجا گیا ہے۔ ان کے پاس کافی ثبوت کے کاغذات نہیں تھے۔
ارونا چل پردیس: آسام میں این آر سی مسودہ شائع ہونے کے بعد آل ارونا چل پردیش اسٹوڈنٹس یونین ( اے اے پسو ) نے بھی خبردار کیا ہے کہ 15 دنوں کے اندر غیر قانونی گھس پیٹھ کرنے والے ارونا چل پردیش چھوڑ کر چلے جائیں۔ اس تنظیم کو خوف ہے کہ آسام کے این آر سی مسودہ کے بعد پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ارونا چل پردیش میں گھس پیٹھ کرسکتی ہے۔ ویسے بھی شمال مشرق کی سبھی ریاستوں میں اس مسودے کے بعد بڑی تعداد میں آنے والے گھس پیٹھوں سے محتاط کردیا گیاہے۔ اس اسٹوڈنٹس یونین نے سرحدی علاقے سے 1400 غیر قانونی تارکین وطن کو باہر نکالا اور 1700 گھس پیٹھیوں کو حراست میں لیا۔ ارونا چل پردیش آسام کے ساتھ 804 کلو میٹر کی سرحد سے لگا ہوا ہے۔ اس لئے بھاری مقدار میں گھس پیٹھ ہونے کے امکانات پیدا ہورہے ہیں۔اسی وجہ سے آل ارونا چل پردیش اسٹوڈنٹس یونین نے کہا کہ 15دنوں کے اندر جو بھی لوگ غیر قانونی طریقے سے یہاں آئے ہیں،وہ ریاست چھوڑ کر چلے جائیں اور جن کے پاس مکمل ثبوت یااینر لائن پرمٹ سے متعلق کاغذات نہیں ہیں،وہ جلد سے جلد اپنے کاغذات حاصل کرلیں۔ اے ایپسو کے صدر توبوم دائی نے کہاکہ آپریشن کلین ڈرائیو شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے، تاکہ غیر قانونی گھس پیٹھیوں کو ریاست سے نکالا جاسکے۔ اس ڈرائیو کی قیادت آل ارونا چل پردیش یااسٹوڈنٹس یونین کریںگے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ریاست کے سبھی لوگ اور اسٹوڈنٹس یونین بھی اس کام میں اپنا تعاون دیں۔ ساتھ میں ریاستی سرکا ر سے بھی اپیل کی کہ ریاست میں غیرقانونی تارکین وطن کی گھس پیٹھ سے بچنے کے لئے سرکار تیجو، پاسی گھاٹ، بینڈر دیوا، روئنگ وغیرہ جگہوں پر زیادہ چوکی بناکر نظر رکھے۔

 

 

 

میگھالیہ: میگھالیہ میں بھی آسام کے این آر سی مسودہ پیش ہونے کے بعد آسام سرحد پر اپنی سیکورٹی بڑھا دی گئی ۔ ضلع افسروں نے حکم جاری کیا ہے کہ آسام سے انٹری کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن پر جانچ کرے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ پریسٹون تنسونگ نے امکان ظاہر کیا کہ این آر سی لسٹ سے باہر نکلنے والے لوگ میگھالے میں داخل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے آگے کہا کہ ریاست کے سرحدی علاقوں میں انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس کی سخت نگرانی کا انتظام کردیا گیا ہے ، تاکہ غیر قانونی تارکین ریاست میں داخل نہ ہو سکیں۔ ریاست میں 22 ایسی جگہیں سیکورٹی دستوں کی نگرانی میں بنائی گئی ہیں جن سے لوگوں کی آمدو رفت ہوتی ہے۔ خاسی اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) نے ایک تجویز وزیر اعلیٰ کانراڈ سنگما کو بھیجی ہے کہ آسام کے طرز پر ریاست میں بھی این آر سی کا عمل ہو۔ یونین کی طرف سے تجویز میں یہ ذکر کیاگیا ہے کہ ریاست میں این آر سی کی لسٹ جلد ہی نکالی جانی چاہئے ، تاکہ غیر قانونی گھس پیٹھیوں کوریاست سے باہر کیا جاسکے اور اس کی بنیاد کٹ آف سال 1971 ہونا چاہئے ۔ اس طرح کے عمل سے ریاست کے حقیقی باشندوں کی پہچان کرنے میں مدد ملے گی ۔ حالانکہ کے ایس یو نے کہا کہ ریاست کے اصلی باشندوں کی بہتری کے لئے سبھی کو ساتھ مل کر چرچا کرنی چاہئے۔
ترپورا : تریپورا میں بھی این آر سی کی مانگ اٹھ رہی ہے۔ اس مہم میں سب سے آگے آدیواسی پارٹی ان ڈیزنس پارٹی آف تریپورا ( آئی این پی ٹی ) ہے۔ ان کی مانگ ہے بنگلہ دیشی تارکین کو شناخت کرنا ، نکال دینا اور اینر لائن پرمٹ لاگو کروانا، تاکہ ٹرائیول آٹونومس کائونسل سیکٹر میں باہری گھس پیٹھیوں کو روک سکے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ این آر سی لاگو کرانے کے لئے پوری ریاست میں تحریک کھڑی کریں گے۔ لیکن ریاست میں بی جے پی سرکار اب تک واضح رخ نہیں اپنا رہی ہے۔ پارٹی کے نائب صدر اننت دیو ورما نے کہا کہ ہم پہلے بھی این آر سی ریاست میں لاگو کرانے کے لئے مانگ کر چکے ہیں لیکن اب تک ریاست میں این آر سی کو لے کر کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا ہے۔ این آر سی کا ایشو آتے ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ ولپو دیو کی جائے پیدائش بھی چرچا میں آنے لگی۔ لوگوں کا سوال تھا کہ کیا ولپو دیو کی جائے پیدائش بنگلہ دیش میں ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *