بعض ٹی وی چینلوں پر ’عورت مخالف اسلام مذہب ‘ کا بھوت سوار

اگر آپ مسلمان ہیں تو خطرناک ہوسکتا ہے ٹی وی چینل پر ہندو راشٹر پر بحث میں حصہ لینا۔
بطور ایک مصنف اور تھیٹر ورکر میں لگاتار مذہبی شدت پسندی ،چیریٹی ،نیشنلزم، مذہب پر مبنی ذاتی قانونوںکے نام پر ،خواتین کو ہراساں کرنے اور دلتوں کے خلاف تشدد کی پُر زور مخالفت کرتاآیا ہوں۔اس کے لئے مجھے متعدد بار نشانہ بنایا گیا، نا زیبا لفظوں سے نوازا گیا۔ گالی گلوچ اور دھمکیاں دی گئیں اور میرا مذاق اڑایا گیا۔ میں نے ہندوتو کی اس پالیسی کو لگاتار بے نقاب کیا ہے جس کے مطابق ملک میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو شہری حقوق سے محروم کئے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ میں نے بلند آواز میں بتایا ہے کہ ہندوتو کی اس سیاست کامنصوبہ ملک کے لاء اینڈ آرڈر کو منوسمرتی کے مطابق ڈھالنا ہے، جس میں ہندو خواتین اور شودروں ؍ دلتوں کی حیثیت جانوروں سے بھی کم کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ہندوتوادی پیادے جس طرح سے عام مسلمانوں کو ’ حرامی ، کٹو ا، پاکستانی ، بلاتکاری ، عرب شیخوں کی ناجائز اولاد، آئی اے ایس کے ایجنٹ، ہندو مخالف، نمک حرام وغیرہ کہتے رہتے ہیں، مجھے بھی انہوں نے یہی عزت لگاتار بخشی اور یہاں تک مانگ کی کہ ’اسے فوراً ملک سے نکال باہر کر دیا جانا چاہئے ‘۔ اس طرح میرے تئیں نفرت ظاہر کرتے ہوئے وہ اسلام اور اسکے پیغمبر کے بارے میں بھی بے حد بھدی اور بے شرم زبان جس کو لکھنا مشکل ہے، کا استعمال کرنے سے نہیں چکتے۔
عجیب و غریب صورتحال
مزیدار بات یہ ہے کہ جب میں پاکستان اور بنگلہ دیش میں عورتوں اور وہاں اقلیتوں کے ہراساں کئے جانے کے خلاف لکھتا ہوں، اسلامی سامراجوں میں قبائلی پسماندگی ، بربریت وہاں قائم تانا شاہی،تین طلاق ،تعدد ازدواج اور مسلم عورتوں کو ستانے اور انہیں دبانے اور ہراساں کئے جانے کی خاطر شریعہ کو ایک اوزار کی شکل میں استعمال کرنے کی بابت لکھتا ہوں تو مجھے مسلم مخالف، یہودی ایجنٹ، آر ایس ایس کا دلال اور کیا نہیں کہا جاتا ہے۔ مجھ سے یہاں تک کہا جاتا ہے کہ میرا نام شمس الاسلام (اسلام کا سورج ) کی جگہ دشمن ِ اسلام ہونا چاہئے ، مجھے اپنا نام بدل لینا چاہئے ۔
اس قسم کی ملامت بے حد تکلیف دہ ہے ۔ باوجود اس کے مجھے اس بات کو لے کر ایک قسم کا اطمینان بھی ہے کہ اگر ہندو -مسلم دونوں طرح کے شدت پسند مجھ پر حملہ کررہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں صحیح راستے پر ہوں۔ وہ لوگ جو چھپ کر نامعلوم پہچان کے ساتھ مجھ پر حملے کررہے ہیں، بزدل اور ڈرپوک ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو کہ جس کی حکومت ہوتی ہے ، اس کے مطابق پالا بدل لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ پولرائزیشن کی پالیسی اور ہوا کے رخ کے ساتھ بہنے لگتے ہیں۔
ہندوستانی میڈیا، خاص طور سے الکٹرانک میڈیا حال کے دنوں میں کس قدر ہندوتوادی راشٹرواد کی تشہیر کا ذریعہ بن چکا ہے ، جگ ظاہر ہے۔ میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا ہے، ہندوتوادی تنظیموں کے بارے میں جب میں نے کچھ کہا یا بتایا، میری کہی باتوں کو اس طرح سے ترمیم کرکے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا کہ میں نے جو کہا، اس کی جگہ کچھ اور بلکہ میرے کہے کے برعکس تشہیر کردی گئی۔ میں یہاں اس کی ایک مثال دینا چاہوں گا۔ ایک مشہور ٹی وی چینل نے گاندھی جی کے قتل پر ایک اسٹوری کی۔ بائٹ کے دوران مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے گاندھی کے قاتل کس تنظیم سے متعلق تھے، اس بارے میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کے نظریہ کی بابت بتایا۔ پٹیل اس وقت ملک کے وزیر داخلہ تھے۔ گاندھی جی کے قتل کے فوراً بعد پٹیل قاتلوں کی سیاسی شناخت ، قاتل کس تنظیم سے منسلک تھے، اس بارے میں واضح نہیں تھے۔حالانکہ نومبر 1948 تک آتے سردار نے آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا کو اس قتل کے لئے ذمہ دار پا یا تھا۔ قتل کے فوراً بعد 27 فروری 1948 کے لیٹر میں سردار نے نہرو سے کہا کہ آر ایس ایس اس قتل کی سازش میں ملوث نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم (نہرو )کو اسی خط میں یہ بھی بتایا کہ آر ایس ایس جیسی خفیہ تنظیم کے معاملے میں جس میں کوئی ریکارڈ ، رجسٹر وغیرہ نہیں ہے، مستند جانکاری حاصل کرنا کہ مذکورہ شخص مخصوص تنظیم کا سرگرم کارکن ہے یا نہیں ، بے حد مشکل ہے۔
اس اسٹوری کے اسپانسر ؍ اینکر شری نواسن جین نے میرے ذریعہ ذکر کئے گئے سردار کے خط کا صرف وہ حصہ ہی لیا جس میں کہا گیا تھا کہ’ آر ایس ایس قتل میں ملوث نہیں تھا‘، سردار کے خط کے اس حصے کو چھوڑ دیاجس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’ آر ایس ایس جیسی خفیہ تنظیم ‘ کے ممبر کے بارے میں مستند جانکاری حاصل کرنا مشکل تھا۔ اس طرح جین نے اپنے کنکلوزن کو ثابت کرنے کے لئے میرے بائٹ کو استعمال کیا کہ گاندھی جی کے قتل میں کسی ہندوتوادی تنظیم کے ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔

 

 

 

 

 

ٹی وی اسٹوڈیو کی حالت
بدقسمتی سے ٹی وی اسٹوڈیو کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔ وہاں بھی کچھ ویسی ہی ذہنیت دیکھی جاسکتی ہے، جس طرح سے سڑکوں پر جنونی بھیڑ کے ذریعہ لنچنگ کے حادثات ہو رہے ہیں، ’مکت پریس ‘ کے نام پر ایک یا دو مستثنیات ہی بچے ہیں ۔چینل پر لائیو چرچائوں کے دوران جو کوئی بھی ہندوتو کے بارے میں ان کے پلاٹ اور جھوٹ کی مخالف کرتا ہے ،اسے ملک مخالف، ہندو مخالف اور پاکستانی قرار دے دیا جاتاہے۔ آپ اگر چینل کی ان چرچائوں میں شامل ہیں اور آپ کے نام سے آپ کی مسلم پہچان ظاہر ہوتی ہے اور آپ ہندوتو پلاٹ اور جھوٹ کو چیلنج دیتے ہیں تو آپ کے ساتھ سر عام بدسلوکی ہوگی۔ عار دلانے اور لعنت وملامت کی بوچھار شروع کر دی جائے گی۔ مائک پر اور مائک کے باہر دھمکیاں دی جائیں گی۔
جولائی (2018)کے دوسرے ہفتہ کے آخر کی بات ہے ،ایک ٹی وی پر 45 منٹ کی ایک لائیو ڈیبیٹ رکھی گئی تھی۔ موضوع تھا ’ ہندوستان کو ہندو راشٹر ہونا چاہئے یا سیکولر ‘۔ اس بحث میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ بحث کا پس منظر تھا کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کا ایک ریمارک،جس میں تھرور نے کہا تھا کہ اگر مودی 2019 میں اقتدار میں آئے تو ہندوستان ہندو پاکستان بن جائے گا۔ دیگر پینلسٹوں میں بی جے پی ترجمان سمبت پاترا ، آزاد تجزیہ کار کے بطور پروفیسر کپل کمار اور کانگریس نمائندہ پریم چند مشرا تھے۔
ہندو راشٹر پر بحث شروع ہوئی۔ اس کے پہلے ہی پروفیسر نے اعلان کیا کہ ان مسلمانوں کے بارے میں چرچا کرنا ضروری ہے جوتین طلاق، حلالہ اور پانچ شادی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ سمبت اس کورس میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہندو اور ہندوستان سمانارتھی ہیں اور بنیادی خطرہ کانگریس ہے جو مسلم سیاست کررہی ہے۔ انہوں نے ماضی میں مسلمانوں کے ذریعہ ہندوئوں کے ہراساں کئے جانے کے بارے میں بات کی۔ میں نے اینکر سے پوچھا کہ ہم کس موضوع پر چرچا کررہے ہیں لیکن سمبت اور پروفیسر بے روک ٹوک اپنی بات کہتے رہے۔
میں نے پوچھا کہ انہوں نے پانچ ہزار سال کی ہندوستانی ثقافت کے دور میں ظلم و بربریت کی وضاحت کرنے کے لئے صرف مسلم دور کا انتخاب کیوں کیا؟ اور اگر مسلم ادوار کے جرائم کے لئے سبھی ہندوستانی مسلم ذمہ دار تھے تو ماتا سیتا کے اغوا اور دروپدی کے چیر ہرن کے لئے کون ذمہ دار تھے اور آج کس سے بدلا لیا جانا چاہئے ؟سمبت اور پروفیسر دونوں مجھ پر برس پڑے،چلاتے ہوئے کہنے لگے میں ہندو دھرم اور ماتا سیتا کی توہین کررہا ہوں۔ ہمارے قابل اینکر نے مجھ سے بہت پرانی تاریخ میں نہیں جانے کے لئے کہا۔ سمبت اور پروفیسر نے ایجنڈا طے کر دیا تھاکہ ہندو راشٹر پر بحث نہ ہوکر مسلمانوں کے مظالم پر چرچا ہوگی۔

 

 

 

 

 

اس بحث میں مجھے زانی، آئی اے ایس ایجنٹ اور پاکستان حامی بتا دیا گیا۔ کانگریس کے مسلم حمایتی شبیہ پر زور دینے لئے سمبت نے 2014 کی ایک پریس کلپنگ پیش کی۔اس میں لکھا تھا کہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن کو یہ شکایت موصول ہوئی تھی کہ راہل گاندھی نے اعلان کیا تھاکہ 2014 کے انتخابات میں اگر مودی اقتدار میں آئے تو ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام ہوگا۔ کلپنگ کو اس طرح پیش کیا گیا گویا کہ الیکشن کمیشن نے اس پر نوٹس لے کر راہل گاندھی کو جھڑکی دی تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس من گڑھت الزام پر کانگریس نمائندہ اپنا اعتراض ظاہر کرتے لیکن وہ مضحکہ خیز ڈھنگ سے بس مسکراتے رہے۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور سمبت سے پوچھ لیا کہ الیکشن کمیشن نے اس الزام پر نوٹس لیا تھا یا نہیں ؟
میرے سیدھے سے سوال کا جواب دینے کے بجائے سمبت نے اعلان کر دیا کہ راہل کا بچائو کرنے کے لئے کانگریس کی طرف سے چیک کے ذریعہ سے مجھے پیسے دیئے گئے ہیں۔ اپنے مسخرے والے طرز میں انہوں نے یہ الزام پانچ بار دوہرایا۔ کانگریس نمائندہ بس مسکراتا رہا۔ اینکر نے بھی اسے ہلکے میں لے کر نظر انداز کرنے کا ہی رویہ اپنایا۔ اس دوران پروفیسر مائک پر مجھے توہین کرتے رہے اور اسے یہاں کیوں بلایا ہے، چلاتے ہوئے اپنی جگہ سے باہر ہو گئے( لیکن اسٹوڈیو میں میں ہی اسٹاف کے لئے رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گئے ) وہ مانگ کررہے تھے کہ ہندو راشٹر پر میری بات سننے کے بجائے ،مجھ سے تین طلاق ، حلالہ اور پانچ بار شادی (تعداد 4 سے بڑھ کر 5 کیسے ہو گئی،کوئی نہیں جانتا )کرنے کی اجازت کے بارے میں پوچھا جانا چاہئے ۔ بریک کے دوران اسٹوڈیو میں جب ہم بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے مجھے ’ماں اور بہن ‘ لگا کر گالیوں سے نوازا۔ اینکر جس سے موضوع پر بامعنی بحث کے لئے رہنمائی کی امید کی جاتی تھی، ہندو راشٹر کا سائڈ مضبوط کرنے والے سمبت اور کانگریس کے نمائندہ ، ان سب کے باوجود خاموش رہے۔ اس وقت بھی اینکر نے پروفیسر صاحب کو اسٹوڈیو چھوڑنے کے لئے نہیں کہا۔
ابھی اور بدتر ہونا باقی تھا۔ ہندو راشٹر پر چرچا کرانے کے بجائے اینکر نے اچانک اعلان کیا کہ’شمس الاسلام میں نے پروفیسر کپل کمار سے اس بابت آپ کے جواب کا وعدہ کیا ہے کہ مسلمان مسلم عورتوں کے برابر حقوق کیوں نہیں دیتے ہیں‘، انہوں نے آگے کہا کہ مسلم ایک راشٹر ایک قانون نہیں چاہتے ہیں۔ تین طلاق ، حلالہ اور تعدد ازدواج کا چلن جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ سبھی مسلم ایک طرح کے نہیں ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا، سبھی اسے مانیں گے۔ لیکن اینکر زور دے کر میرے بارے میں کہتے رہے کہ میں بھی ان مسلمانوں میں سے ہوں،جو ان سبھی خاتون مخالف رواجوں کے حامی ہیں۔ اینکر نے اس طرز عمل کے بارے میں میرا ذاتی خیال جاننا چاہے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ایسی سبھی چیزوں میں یقین نہیں کرتاہوں۔ اس بحث کا اختتام پروفیسر کپل کمار کے لئے اینکر کے اس جملے کے ساتھ ہوا کہ ’کپل سر آپ کو ایک حد تک مطمئن ہونا چاہئے کہ آپ کے سوال کا جواب (شمس الاسلام سے ) مل گیا۔ ہندوستان کو’ ہندو راشٹر‘ میں تبدیل کرنے کے آر ایس ایس کے ایجنڈے والی بنیادی بحث اس طرح ’عورت مخالف اسلام مذہب ‘ کی چرچا پر ختم ہوئی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *