عمر خالد بال بال بچے اب لڑی جارہی ہے خوف سے آزادی کی لڑائی

خوف سے آزادی ہر شہری کا حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس حق کو عمل میں لائے۔مگر موجودہ حکومت کے دور میں ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ خوف سے آزادی کا خواب سجانے والے مزید خوف کے زنجیروں میں جکڑتے جارہے ہیں۔یہ خلاصہ ہے ان تمام مقررین کی تقریروں کا جو گزشتہ دنوں (13 اگست 2018کو)کانسٹی ٹیوشن کلب میں یونائٹیڈ اگینسٹ ہیٹ کے تحت ’’ خوف سے آزادی ‘‘کے عنوان سے ایک سمینار منعقد کیا گیا۔اس پروگرام میں ملک کی موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالی گئی اور ہجومی تشدد کے متاثرین کو اپنی سرگرزشت سنانے کا موقع دیا گیا ۔
پروگرام شروع ہونے سے پہلے ایک ایسا واقعہ پیش آگیا جس نے مقررین کی باتوں کو تقویت پہنچائی اور یہ ثابت کردیا کہ واقعی ملک میں خوف کا ماحول ہے اور حق کی آواز اٹھانے والوںکی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ ہوا یہ کہ جے این یو کے ایک طالب علم عمر خالدجن پر ملک مخالف ہونے کا مقدمہ چل رہا ہے ، اس پروگرام میں شرکت کے لئے آئے ۔ ابھی پروگرام شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا، وہ اپنے کچھ ساتھیوں بنو جیوتسنا، شارق حسین اورخالد سیفی وغیرہ کے ساتھ احاطہ کے باہر مین گیٹ کے قریب چائے پینے گئے ۔ اسی دوران کچھ لوگ جن کی تعداد 10-15 بتائی جاتی ہے،ان میں سے ایک شخص جو سفید قمیض پہن رکھا تھا،اس نے عمر خالد سے دھکا مکی شروع کردی ۔عمر خالد لڑکھڑا کے نیچے گرگئے ۔اسی دوران اس نے اپنی پستول نکال کر گولی چلا دی۔ خوش قسمتی سے گولی کسی کو نہیں لگی۔ وہاں پر کھڑے ہوئے اس کے ساتھیوں اور دیگر لوگوں نے اسے پکڑنا چاہا۔مگر وہ خود کو لوگوں میں گھِرا ہوا دیکھ کر وہاں سے بھاگا اور بھاگتے ہوئے اپنی پستول سے دوسری گولی چلا دی۔ اس گولی سے بھی کوئی زخمی نہیں ہوا۔البتہ ہڑبڑاہٹ میں پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ، وہ پستول چھوڑ کر اس ہائی سیکورٹی ژون میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
اس سمینار ’’ خوف سے آزادی ‘‘کے جس وقت شروع ہونے کا وقت مقرر تھا ، اسی وقت کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک دوسرے ہال ’’مائولنکر ہال‘‘ میں بی جے پی کی ورکر میٹنگ ہورہی تھی۔ اس میں شرکت کے لئے بی جے پی کارکن بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے، لہٰذا شبہ یہ کیا جارہا ہے کہ بی جے پی کے کسی کارکن نے ہی اس سانحہ کو انجام دیا ہے اور یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ گولی چلانے کاہدف صرف پروگرام کو منتشر کرنا تھا۔ کیونکہ حکومت ایسے پروگراموں کو اپنے خلاف سمجھتی ہے۔یہ باتیں سمینار کے کنوینر واثق ندیم نے بھی کہی۔ لیکن سامعین اور مقررین کے حوصلے کی داد دینی ہوگی کہ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود پروگرام اپنے وقت پر شروع ہوا اور تمام مقررین نے کھل کر باتیں کیں۔

 

 

 

 

پروگرام میں ملک کے مشہور وکیل پرشانت بھوشن نے بڑی قیمتی باتیں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب فاشسٹ طاقتیں بولنے اور سوال پوچھنے کا حق سلب کرلیتی ہیں تو جمہوریت دم توڑنے لگتی ہے۔ آج ہمارے ملک کی یہی صورت حال بنی ہوئی ہے۔ ہر اس آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو حکومت کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں ’’ ٹرمپ کے دور میں امریکہ میں جمہوریت‘‘ پر ایک کتاب شائع ہوئی ہے۔ اس میں اگرچہ بحث ٹرمپ کے طریقہ حکومت کے بارے میںکی گئی ہے لیکن جمہوریت کے خاتمے کی جو علامتیں بتائی گئی ہیں ،وہ تمام علامتیں ہندوستان کی موجودہ صورت حال پر فٹ بیٹھ رہی ہیں۔ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جب برسراقتدار رہنما اور حکمراں جذباتی اور اشتعال انگیز زبانیں بولنے لگیں تو جمہوریت کی جڑ کمزور پڑنا شروع ہوجاتی ہے۔ آج ہمارے ملک میں حکمراں پارٹی کے اراکین جس طرح کی زبان کا استعمال کررہے ہیں ،اس سے صاف ہوجاتا ہے کہ یہ علامت ہمارے یہاں موجود ہے۔
فاشزم طاقتوں کا دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ملک میں اپنا ایک دشمن تلاش کرتے ہیں اور پھر اس سے ڈرا کر سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہیں۔تاریخ بتاتی ہے کہ جرمنی میں ہٹلر نے یہی طریقہ کار اپنا یا اور یہودیوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن مشہور کرکے جمہوریت کے نام پر جمہوریت کے ساتھ جو ننگا ناچ کیا ،وہ سب کو معلوم ہے۔ ہمارے ملک میں بھی یہ طاقتیں مسلمانوں اور دلتوں کو اپنا دشمن سمجھتی ہیں۔لہٰذا مسلمانوں کو غدار وطن اور دلتوں کو نکسلائٹ کہہ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ سب محض اس لئے ہورہا ہے کہ حکمراں جماعت کو پتہ ہے کہ یہ دونوں طبقہ اس کے ساتھ نہیں ہے جس کا خمیازہ اسے 2019 میں بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔لہٰذا انہیں اتنا ڈرا دو کہ یہ مخالف سمت میں جانے کی ہمت ہی نہ کرپائیں۔ یہ جمہوریت کو کمزور ہونے کی دوسری علامت ہے۔
ایک علامت یہ ہے کہ ملک کے اپوزیشن کو ٹارگٹ کیا جائے۔ اس کے بیان اور طریقہ کار کو ملک مخالف بتا کر بدنام کرنے کی کوشش کی جائے ۔ہماری سرکار نے پہلے تو یہ کوشش کی کہ پارلیمنٹ میں کوئی اپوزیشن ہو ہی نہیں۔جب عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ کیا تو اب اس کی پالیسی کو ملک مخالف اور اس کے لیڈروں کو نامناسب القاب سے جوڑ کر بدنام کرنے کی کوشش کی جانے لگی ہے۔
ایک علامت یہ بھی ہے کہ ملک کے میڈیا کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ تاکہ جھوٹ کو پھیلانے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو اور میڈیا کے ذریعہ پروپیگندہ کرکے اپنی کوتاہیوں کو پردہ میں رکھا جائے۔آج میڈیا پر کس طرح سے شکنجہ کسا جارہا ہے ، اس کی مثال اے بی پی نیوز کے حالیہ واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جس کے سینئر اسٹاف پنیہ پرسون باجپئی سمیت متعدد سینئر صحافیوں کو محض اس لئے نوکری سے نکال دیا کہ انہوں نے حکومت پر جائز تنقید اور وزیر اعظم مودی کو ذمہ دار نہ بنایا جائے جیسی اپیل کو ٹھکرادیا۔
جمہوریت کو ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ووٹنگ سسٹم کو بدل دیا جائے۔ووٹنگ کی اصلی شکل یہ ہوتی ہے کہ امیدوار کی پالیسی ،اس کی کارکردگی اور نظریہ کی بنیاد پر ووٹ ملے۔ مگر آج صورت حال یہ بنی ہوئی ہے کہ جو امیدوار زیادہ سے زیادہ پیسے خرچ کرکے جتنا زیادہ دِکھتا ہے ، اتنا ہی زیادہ ووٹ حاصل کرتا ہے ۔چنانچہ بہت سے ایسے امیدوار الیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ خرچ کے معیار کی پرواہ کئے بغیر بے تحاشہ پیسے خرچ کرتے ہیں اور دولت کی طاقت کے بل پر جیت کر ایوان تک پہنچ بھی جاتے ہیں۔ظاہر ہے ایسے اراکین عوام کے مخلص نمائندے نہیں ہوسکتے ہیں۔ ایسے نمائندے جمہوریت کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ہمیں ان فاشسٹ طاقتوں کو ملک کی جمہوریت کو تباہ ہونے سے پہلے روکنا ہوگا۔

 

 

 

سمینار میں سابق آئی پی ایس، ایس آر داراپوری نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ ملک کس طرح سے دہشت کے سائے میں گھِرتا چلا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نفرت اور دہشت پھیلانے کا کام سابقہ حکومتوں میں بھی ہوا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں اس کا گراف اچانک اتنا بڑھ کیسے گیا؟ اگر غور کریں تو بات بہت پیچیدہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے سربراہ اس وقت وزیراعظم مودی ہیں۔ مودی کے پیچھے گجرات کا 2002 کا واقعہ ہے جس میں ہزاروں انسانوں کی اموات کا درد چھپا ہوا ہے۔اسی طرح ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے سربراہ بی جے پی کے فائر برانڈ لیڈر یوگی آدتیہ ناتھ ہیں۔ان کے اندر کی کہانی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ریاست میں ہر ضلع کے پولیس ذمہ دار کو ٹارگٹ دے رکھا ہے کہ کس ضلع سے کتنے لوگوں کو دہشت گردی کے نام پر مارناہے ، کتنے کو گھٹنے کے نیچے گولی مارنی ہے اور کتنے کو جیل میں بند رکھنا ہے اور مقدمہ چلانا ہے۔ان تمام معاملوں میں خاص طور پر مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔جب اس طرح کی سوچ کے رہنما ہمارے ملک اور ریاست کی قیادت کریں گے تو اس کا لازمی اثر پڑے گا کہ جو شر پسند عناصر ہیں ،وہ سر ابھارنا شروع کردیں گے۔ یہ عناصر گرچہ سابقہ حکومتوں میں بھی تھے مگر ان پر کارروائی ہوتی تھی،لہٰذ ایہ دبے ہوئے تھے،مگر موجودہ حکومت انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا یہ کھلے عام دہشت ونفرت پھیلارہے ہیں۔
پروگرام میں سابق ایم پی علی انور انصاری بھی تھے۔ انہوں نے ایک بڑی اہم بات بتائی کہ آج جابجا ماب لنچنگ کے واقعات ہوتے ہیں۔ ان میں ایک دو کو چھوڑ کر جتنے بھی ہوئے ہیں، اس کے شکار یا تو مسلمان ہیں یا پھر دلت ۔اس لئے ماب لنچنگ کو مسلم ایشو کہنا غلط ہے ۔اس کی وجہ سے جتنا مسلمان مظلوم ہوا ہے اتنا ہی غیر مسلم بھی۔ دوسری بات یہ کہ جس طرح سے ان متاثرین کو مخصوص گروہ کے ذریعہ نشانہ بنایا جاتا ہے، ماب لنچنگ کہنا ہی غلط ہے ۔ ماب لنچنگ میں جب ایک ہجوم کسی پر حملہ کرتا ہے تو کچھ لوگ متاثرین کو بچانے والے بھی ہوتے ہیں لیکن اس وقت جو صورت حال بنی ہوئی ہے ، وہ یہ ہے کہ موقع واردات پر ہر فرد صرف تشدد کرتا ہے ، ظلم کرتا ہے اور نازیبا الفاظ بولتا ہے۔ان میں سے کوئی بھی بچانے والا نہیں ہوتا۔یہ ایک منظم سازش کے تحت کیا جارہا ہے ۔ہم نے بہار سے بنگال کے راستے پر دیکھا ہے کہ جا بجا سرکاری چنگیاں وصول کی جاتی ہیں۔ لیکن اب ایک نئی صورت حال یہ پید اہوگئی ہے کہ ان سرکاری چنگیوں کے علاوہ جا بجا گئو رکشکوں کے پوائنٹس بنے ہوئے ہیں۔ ان پائنٹس پر انہیں ہر گاڑی سے جن پر جانور لدے ہوئے ہوں، مقررہ رقم دینی پڑتی ہے ۔ جس نے دے دیا ،ٹھیک،ورنہ گئو کشی کے نام پر جانوروں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور لے جانے والے کی لنچنگ کردی جاتی ہے۔گویا کہ لوٹ پاٹ مچانے کا ایک نیا طریقہ ایجاد کرلیا گیا ہے۔

 

 

 

پروگرام میں جماعت اسلامی ہند کے جنرل سکریٹری محمد سلیم انجینئر بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ہجوم اس وقت تک زیادتیوں سے باز نہیں آسکتا جب تک کہ حکومت کی طرف سے اس کو روکنے کیلئے پیش رفت نہ ہو، موجودہ حکومت اس سلسلہ میں پیش رفت کرنے کے بجائے شہہ دیتی ہے۔ایسے وقت میں خوف کے ماحول سے باہر نکلنے کے لئے عوام کو خود آگے آنا پڑے گا۔ پروفیسر منوج جھا ایم نے کہا کہ لنچنگ کرنے والے ہجوم حکومت سے شہہ پاکر بے گناہوں کا خون پی رہے ہیں،ا نہیں خون کا چسکا لگ چکا ہے ۔یہی ہجوم کل اپنی سرپرست حکومت کے خون کا پیاسا بن جائے گا۔ ماب لنچنگ صرف یہ نہیں ہے کہ کسی کا خون کردیا جائے بلکہ بے بسی اور لاچاری میں جینے پر مجبور کرنا بھی لنچنگ ہی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ بے بسی اس سرکار نے دی ہے ۔
ڈاکٹر کفیل بھی ان مقررین میں سے تھے جنہیں اترپردیش حکومت کی ناانصافیوں کی وجہ سے 8 ماہ تک جیل میں رہنا پڑا۔ دراصل گورکھپور اسپتال میں 42 بچوں کو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔ اس کا الزام ان پر ڈالا گیا۔ حالانکہ بعد میں یہ رپورٹ آئی کہ انہوں نے ان بچوں کی جان بچانے کے لئے بہت کوشش کی۔ قید کے دوران ان کے گھر والوں کو ریاستی پولیس نے بہت پریشان کیا۔ ان کے بھائی کو گولی ماری گئی،انہوں نے بچوں کی اموات کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کوتاہیاں حکومت سے ہوئیں مگر اس کا الزام ان پر ڈالا گیا ۔کیونکہ ان کا تعلق اقلیتی طبقہ سے تھا۔
پروگرام تین سیشن میںتھا۔ پہلے سیشن میں متاثرین کو دوسرے سیشن میں مقررین کو اور تیسرے سیشن میں متاثرین میں جنید کی ماں،علیم الدین کی ماں و بیوی وغیرہ کے علاوہ رام گڑھ سے دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہوئے شاداب ،، میوات سے قاسم رکبر کے بڑے بھائی اکبر اور والد سلمان،جموں آصفہ کیس میں چشم دید گواہ کے بھائی نے پولیس کے ذریعہ ہراساں اور اذیت رسانی کی مختصر روداد سنائی ۔پروگرام میں پروفیسر اپوروانند کے علاوہ متعدد دانشوران، علمی شخصیات اور سیاست دانوں نے شرکت کیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *