اب گرم ہوا 35A کا مسئلہ

ؓوادی کشمیر میں ایک بار پھر اضطراب پیدا ہوگیا ہے۔ تمام سیاسی اور سماجی حلقوں کو خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ سپریم کورٹ آئین ہند کی دفعہ35Aکو ختم کرنے کا فیصلہ سنا سکتی ہے ، جس کے نتیجے میں ریاست جموں وکشمیر کے پشتنی باشندوں کو حاصل خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے ۔ جموں وکشمیر سے باہر کے لوگ آکر اس ریاست میں زمینیں اور جائدادیں خرید سکتیں ہیں اور یہاں بس سکتے ہیں۔ ریاست سے باہر کے لوگ پہلی بار ریاست میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکتے ہیں ۔یہ ایک بھیانک تبدیلی ہوسکتی ہے اور اسکے نتیجے میں محض چند سالوں کے اندر اندر ریاست جموں وکشمیر کے پستنی باشندے اقلیت میں بدل سکتے ہیں۔
آئین ہند کی دفعہ 35Aکیا ہے؟
جموںوکشمیر میں 1927 میںیہاں کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک قانون لاگو کیا ،جس کے تحت جموں وکشمیر سے باہر کا کوئی بھی شخص نہ ہی یہاں زمین اور دیگر جائدادیں خرید سکتا ہے اور نہ ہی کسی سرکاری محکمہ میں ملازمت کرسکتا ہے۔یہ وہ دور تھا، جب جموں وکشمیر متحدہ ہندوستان کا حصہ نہیںتھا ، بلکہ ایک خودمختار مملکت کی حیثیت رکھتا تھا اور اس میں وہ خطے بھی شامل تھے ، جو آج چین اور پاکستان کی تحویل میں ہیں۔ تب سے اس ریاست میں یہ قانون لاگو ہے اور اسکو عام طور سے ’اسٹیٹ سبجیکٹ قانو ن‘ کہا جاتا ہے۔
1947 میں جموں وکشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ ہوا تو اسکے چند سال بعد 1954 میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ریاستی عوام کو یہ یقین دلانے کے لئے کہ نئی دہلی اس ریاست کا مسلم اکثریتی کردار ختم نہیں کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی اس ریاست کی ڈیموگرافی تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے آئین میں دفعہ35Aکی شق شامل کروائی ۔اسکے بعد ہندوستانی قانون کے تحت بھی اس ریاست میں کوئی بھی غیر ریاستی شخص نہ زمین خرید سکتا ہے اور نہ کوئی دوسری جائداد۔ اس قانون کے تحت کسی بھی غیر ریاستی شخص کو یہاں کے سرکاری محکموں میں نوکری نہیں مل سکتی۔ کوئی بھی غیر ریاستی شخص یہاں کے پنچایتی یا اسمبلی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق نہیں رکھتا ۔ مختصر الفاظ میں کہنا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 35Aدر اصل جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت و اختیار فراہم کرتی ہے۔ یہ دفعہ ختم ہوئی تو اس ریاست کی نہ کوئی خصوصی حیثیت رہے گی اور نہ اسے کوئی خصوصی اختیارات حاصل ہوںگے ۔

 

 

 

معاملہ عدالت عظمیٰ میںکیسے پہنچا؟
سال 2014ء میں آر ایس ایس کی پشت پناہی والی ایک رضا کار تنظیم ’’ وی دی پیپل ‘‘نے عدالت عظمیٰ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست پیش کرتے ہوئے آئین ہند کی دفعہ 35Aکو ختم کرنے کی اپیل کی ۔ عدالت نے درخواست شنوائی کے لئے منظور کرلی ۔ کچھ عرصہ کے دوران مزید کئی لوگوں نے انفرادی سطح پر اسی طرح کی درخواستیں عدالت میں جمع کروائیں اور عدالت عظمی نے اس ساری یکساں نوعیت کی درخواستوں کو ایک ہی کیس کے ساتھ نتھی کرلیا۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر آئین کی کسی شق کو کوئی فرد یا گروہ عدالت میں چیلنج کرتا ہے تو اسکا دفاع کرنے کی ذمہ داری مرکزی سرکارکی ہوتی ہے۔
عام حالات میں مرکزی سرکار ایسے معاملوں میں ایک بیان حلفی دائر کرتے ہوئے عدالت کو بتاتی ہے کہ آئین کی جس شق کو چیلنج کیا گیا ہے، وہ دراصل عوام کے مفاد میں ہے ۔ پس مرکزی سرکار کا موقف سنتے ہی عدالت چیلنج کی درخواست کو مسترد کرتی ہے۔ لیکن 35Aکے بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ مودی سرکار اسکا دفاع کرنے اور عدالت عظمیٰ میں بیان حلفی پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہے، جس کے نتیجے میں یہ خدشہ لاحق ہوا ہے ، کہ در اصل حکومت آئین کی اس دفعہ کو ختم کرنے کے حق میں ہے۔
مودی سرکار کیا چاہتی ہے ؟
ویسے بھی جموں وکشمیر کو حاصل آئینی خود اختیاری کو ختم کرنا بی جے پی کا روز اول سے ہی مشن رہا ہے۔ پارٹی کے انتخابی منشور میں درج اہم باتوں میں اس ریاست کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والی آئین کی دفعہ 370کو ختم کرنے کا عزم بھی شامل ہے۔دفعہ 370کو ختم کرنا چونکہ نئی دہلی کیلئے ایک بہت بڑا رسک ثابت ہوسکتا ہے اس لئے مودی سرکار نے تاحال اس ضمن میں کوئی بھی اقدام کرنے سے گریز کیا ہے۔ لیکن جہاں تک 35Aکو ختم کرنا کا سوال ہے ، مودی سرکار یہ کام عدالت کے ذریعے کرنا چاہتی ہے تاکہ ’’نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا‘‘ کے مصداق مودی سرکار براہ راست ذمہ دار بھی نہ ٹھہرائی جائے اور اسے اسکا کریڈ بھی حاصل ہو۔ چونکہ لوک سبھا کے انتخابات آنے والے ہیں اور بی جے ی کے پاس رائے دہندگان کو لبھانے کے لئے کوئی خاص ہتھیار نہیں ہے ، اس لئے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو چوٹ پہنچانے کے نام پر ووٹ بٹورنے کی کوشش کی جائے گی ۔

 

 

 

جموں وکشمیر میں سیاسی اور عوامی سطح پر ردعمل
30جولائی کو سرینگر میںوادی تاجروں ، صنعت کاروں ، سیاحتی شعبے سے وابستہ لوگوں اور کئی سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں کہا ، ’’ دفعہ 35Aریاستی عوام کے لئے موت اور زندگی کا معاملہ ہے۔ ہم آئین کی اس دفعہ کی حفاظت کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہاد یں گے ۔‘‘ یہ پریس کانفرنس 27مختلف تنظیموں اور یونینز نے متحدہو کر آرگنائز کی تھی ۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ( کے سی سی آئی ) کے ایک لیڈر ڈاکٹر مبین شاہ اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررس فیڈریشن ( کے ٹی ایم ایف ) کے سربراہ حاجی محمد یٰسین پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اگر دفعہ 35Aکے ساتھ کسی قسم کی کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو وادی میں ہمہ گیری ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی ۔پریس کانفرنس میں حاجی یٰسین خان نے کہا ،’’ ہم 35Aکی حفاظت کے لئے اپنے کاروبار اور روز گارکی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔‘‘
سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل ’’مشترکہ مزاحمتی فورم ‘‘نے 35Aکو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف 5اور6اگست کو وادی بند کی کال دی۔ کشمیری تاجروں اور صنعت کاروں نے اس کال کی حمایت کی۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف علاحدگی پسند اور سول سوسائٹی کی جانب سے دفعہ 35Aکو ختم کرنے کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ ماننے والی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی جماعتیں بھی اس معاملے میں کشمیری علاحدگی پسندوں اور تاجروں وسول سوسائٹی ہم خیال ہیں۔ان جماعتوں کے لیڈران گزشتہ دو سال سے حکومت ہند کو متنبہ کرتے آئے ہیں کہ وہ 35Aکے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی کوشش نہ کرے ۔ محبوبہ مفتی نے گزشتہ سال ، جب وہ ریاست کی وزیر اعلیٰ تھیں ، نے ایک سخت بیان میں کہا تھا کہ 35Aکو ختم کیا گیا تو اس ریاست میں ہندوستان کا جھنڈا تھامنے کے لئے کوئی نہیں ہوگا۔
ریاست کے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کی نئی دہلی کی کوشش اسکی آخری اور سب سے بھیانک غلطی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اسکے بعد سرینگر اور دلی کے درمیان خلیج اتنی گہری ہوگی کہ اسے پاٹنا ممکن ہی نہ ہوگا۔
عیاں رہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں کو یہ یقین دلانے کیلئے کہ نئی دہلی نہ ہی جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنا چاہتی ہے اور نہ اس ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو زک پہنچا نا چاہتی ہے ، کے لئے 1954 میں ایک صدارتی حکم نامے کے تحت آئین ہند میںدفعہ35Aکی شق شامل کروائی تھی ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *