چینی مسلمانوں پر نئی پابندیاں شناخت کو سخت خطرہ

چین کے صوبہ سنکیانگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کے لئے روز بروز زمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔ ان پر بے جا الزامات اور مذہبی معاملوں میں رکاوٹوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ متعدد شماروں میں ’ چوتھی دنیا‘ نے بتایا ہے کہ کس طرح سے انہیں مساجد میں جانے سے روکا جاتا ہے، مسجد میں نماز پڑھنے والوں پر نظر رکھتی جاتی ہے، گھر میں قرآن رکھنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے ،مساجد میں گنبد بنانے سے روکا جاتا ہے، ان سے کہا جاتا ہے کہ اسلامی طرز کا گنبد بنانے کے بجائے چینی تہذیب کا مینارہ بنائیں، 55 سال سے کم عمر کے افراد کو داڑھی رکھنے سے روکا جاتا ہے، خواتین کو نیم برہنہ لباس پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ کوئی کمر سے نیچے قمیض پہن لے تو پولیس کے ذریعہ کتر دیا جاتا ہے، مزدوری کا کام کرنے والوں کو روزہ کی ممانعت کا حکم دیا گیا ہے۔غرضیکہ کئی ایسے احکام ہیں جو چینی حکومت کی طرف سے سنگیانگ کے مسلمانوں پر لاگو کیا گیا ہے۔ جب چین کے اس عمل پر دنیا بھر میں تنقید شروع ہوئی تو اب چین صفائی دے رہا ہے کہ یہاں سب کے ساتھ مساویانہ سلوک کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو پریشان و ہراساں کئے جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
جبکہ صورت حال یہ ہے کہ اپریل میں، سنکیانگ میں حکومت نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مہم کے تحت اویغر مسلمانوں پر متعدد نئی پابندیاں عائد کردی تھی۔ان پابندیوں کے بعد سے ہی چینی حکومت پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اویغراوغر مسلمانوں کو بلا کسی قصور کے حراست میں لے کر سلاخوں کے پیچھے ڈال دیتی ہے ۔اس خبر کے عام ہوتے ہی حکومت پریشان ہوئی اور اب وہ کہتی ہے کہ اویغر کمیونٹی کو مساوی شہری حقوق حاصل ہیں اور انہیں بلا قصور قید کئے جانے کی ملک کا قانون اجازت نہیں دیتا۔ مذہبی انتہاپسندی کے شکار افراد کی آبادکاری اور ان کی دوبارہ تعلیم و تربیت کے ذریعے مدد کے لئے حکومت بہت سے اقدامات کررہی ہے۔

 

 

 

جہاں تک چین میں سخت پابندیوں کی بات ہے تو اس سلسلہ میں چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے سرکار کا دفاع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اس علاقے کو’چین کا لیبیا‘ یا ’چین کا شام‘ بنانے سے بچا رہے ہیں۔اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ سنکیانگ میں سکیورٹی اس لیے ہے تاکہ حادثات سے بچا جائے اور لاتعداد افراد کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ میں اویغر کمیونٹی آباد ہے جس کا شمارملک کی مسلمان اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ صوبے میں ان کی آبادی 45 فیصد ہے۔ سرکاری طور پر سنکیانگ کا شمار تبت کی طرح خودمختار علاقے کے طور پر ہوتا ہے۔گذشتہ چند مہینوں سے یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ سنکیانگ میں مسلمان اویغر کیمونٹی کو حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ہیومن رائٹس واچ اور ایمنٹسی انٹرنیشل سمیت انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں نے اقوام متحدہ میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے جس کے مطابق حراست میں قید افراد سے زبردستی چین کے صدر شی جن پنگ سے وفاداری کا حلف لیا جا رہا ہے۔
چین کی حکومت اگر چہ ان کے ساتھ مساوی رویہ برتنے کا دعویٰ کرتی ہے مگر سنکیانگ کے اویغر مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔حالیہ برسوں میں علاقے میں خونی جھڑپیں بھی دیکھی گئی ہیں۔جبکہ اپنا بچائو کرتے ہوئے چین کی حکومت تشدد واقعات کا ذمہ دار مسلمان شدت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کو قرار دیتی ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شورش جابرانہ پالیسیوں کا ردعمل ہے۔ نئے اقدامات اویغر لوگوں کو شدت پسندی کی جانب مزید دھکیل سکتے ہیں۔
سنکیانگ میں اس طرح کی پابندیاں پہلے بھی نافذ تھی لیکن اب نھیں قانونی طور پر لاگو کر دیا گیا ہے۔اسی وجہ سے وہاں کے مسلمان بے چینی محسوس کررہے ہیں۔نئے قوانین کے مطابق درج ذیل اقدامات پر پابندی ہوگی:بچوں کو سرکاری سکول میں بھیجنے کی اجازت نہ دینا۔خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہ کرنا۔قانونی دستاویزات کو جان بوجھ کر ضائع کرنا۔صرف مذہبی طریقے کے مطابق شادی کرنا۔قوانین کے مطابق پورے جسم کے پردے بشمول چہرے کا نقاب کرنے والی خواتین عام پبلک مقامات جیسے ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں میں داخل ہونا ۔یہ پابندیاں سنکیانگ کے قانون سازوں نے منظور کیا ہے اور علاقے کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہیں۔اس سے قبل چینی حکام کی جانب سے اویغروں کو پاسپورٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کرنے جیسے اقدامات کئے جاچکے ہیں۔

 

 

 

برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق چین سرکاری طور پر مذہبی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں بڑھتی ہوئی مذ ہبیت اور تشدد کے خدشات سے پریشان ہو کر مسلمان اکثریت والے علاقوں میں سختیاں شروع کر دی گئی ہیں۔چین کی پارلیمنٹ کے ایک مشاورتی ادارے سے خطاب کرتے ہوئے چین کی اسلامک ایسوسی ایشن کے سربراہ یانگ فامنگ کا کہنا ہے کہ چین میں اسلام کی طویل اور درخشان تاریخ ہے۔ یانگ فامنگ کی تقریر کی تحریری کاپی جو چین کی سرکاری نیوز ایجنسی نے جاری کی، اس کے مطابق انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں اسلام کے حوالے سے جو مسائل سامنے آ رہے ہیں، ان سے صرف نظر کیا جانا ممکن نہیں ہے۔
ان مسائل کی نشاندھی کرتے ہوئے انھوں نے ملک میں تعمیر کی جانے والی مساجد کی مثال دی جن کی تعمیر میں ان کے مطابق آنکھیں بند کر کے غیر ملکی طرز تعمیر کو اپنایا جا رہا ہے اور یہ چین کے روایتی طرز تعمیر سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں میں حلال اور حرام کا تصور عام ہو رہا ہے اور سیکولر عقائد اور طرز زندگی میں مذہب کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔
یانگ نے کہا کہ کچھ لوگ ملک کے قوانین سے زیادہ مذہبی قواعد کو اہمیت دیتے ہیں ۔بہر کیف چین میں ہونے والے حالیہ تشدد کے واقعات کی ذمہ داری اسلامی شدت پسندوں پر ڈالا جاتا ہے۔اس سلسلے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ چین کی طرف سے اویغر کے علاقے میں آباد مسلمانوں پر بڑھتے ہوئے مذہبی اور ثقافتی جبر کا رد عمل ہے۔بہر کیف چین کی اویغر مسلمانوں پر گرچہ تشدد کا در کھلا ہوا ہے مگر وہاں کی حکومت اس تشدد کی خبروں کو چھپا کر رکھنا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان تمام کو بے بنیاد بتا رہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *