ماہرین تعلیم کو نیا مجوزہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن منظور نہیں

ب سے مرکز میںاین ڈی اے کی حکومت بنی ہے ملک کے کئی اہم اداروں میں تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاںکبھی ادارے کا نام بدل کر تو کبھی اس ادارے کو کسی دوسرے ادارے میں ضم کرکے عمل میںآئی ہیں۔پہلے پلاننگ کمیشن کا نام بدل کر نیتی آیوگ رکھا گیا اور اس کے بہت سے فائدے گنائے گئے ۔ پھر نوٹ بندی کی گئی اور کئی کرنسی کو بند اور کئی کو نئی شکل میں سامنے لایا گیا۔سبب یہ بتایا گیا کہ بدعنوانی اور تسکری کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی۔مگر اب تک ان کے کوئی خاطر خواہ فائدے سامنے نہیں آئے ہیں ۔
تبدیلی کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے اور اب حکومت تعلیمی ادارے کے تعلق سے ایک اہم فیصلہ لینے جارہی ہے۔ حکومت یونیورسٹی گرانٹ کمیشن ( یو جی سی )کو ہٹا کر اس کی جگہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا ایکٹ (ایچ ای سی آئی)کو لے آرہی ہے ۔حکومت چاہتی ہے کہ یو جی سی اور اے آئی سی ٹی سی کو ہٹا کر ایک واحد ریگولیٹڑی کمیشن تشکیل دی جائے جس سے اعلیٰ تعلیم کے محکمے میں اصلاحات کو یقینی بنایا جاسکے۔
نئے کمیشن کی ذمہ داریاں
یہ کمیشن تمام یونیورسٹیوں اور اداروں کے لئے گائڈ کی طرح کام کرے گا۔اس کمیشن کے پاس کسی بھی یونیورسٹی یا تکنیکی ادارے کو عطیہ دینے کا اختیار نہیں ہوگا۔ البتہ یہ وزرات برائے فروغ انسانی وسائل کو سفارش کرے گا اور اس کی سفارش پر وزارت غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کرے گی کہ کس ادارے کو کیا اور کتنا گرانٹ دیا جاسکتا ہے۔ البتہ کمیشن کی ذمہ داریوں میں یہ ہوگا کہ وہ ملک میں نئے اداروں کو قائم کرے جہاں پر معیاری تعلیم طلباء کو دی جاسکے۔ ریسرچ اور تعلیم دونوں کے معیارات کو طے کرے۔ تمام یونیورسٹیز اور فنی تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے ۔
اس کی ذمہ داریوں میں اداروں کا اکیڈمک تجزیہ،اساتذہ کی ٹریننگ اور ایجوکیشنل ٹکنالوجی کو بڑھاوا دینے کے ساتھ تعلیمی معیارات کی اصلاحات پر زور دینا بھی شامل ہوگا۔ یو جی سی کی طرح یہ صرف مالی امداد کے لئے نہیں ہوگا، اس کا اہم مقصد تعلیمی معاملوں پر مرکوزہوگا ۔مجوزہ کمیشن میں 12 ممبر ہوںگے، جن کی تقرری مرکزی حکومت کرے گی۔ اس کے ممبروں میں ہائر ایجوکیشن، منسٹری آف اسکل ڈیولپمنٹ اور ڈپارٹمنٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی کے سکریٹریوں کے ساتھ اے آئی سی ٹی ای ( آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن اور این سی ٹی ای (نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن ) کے چیئرپرسن اور دوورکنگ چانسلر کو شامل کیا جائے گا۔
1952 میں حکومت ہند نے یونیورسٹیز اور تمام اعلی تعلیمی داروں کا انتظام سنبھالنے اور اس کیلئے فنڈ ریلیزکرنے کا اختیار یوجی سی کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ علی گرھ مسلم یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے اداروں کا نظام کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے لئے فنڈ ریلیز کیا جاسکے ۔1953 میں اس وقت کے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے اس کمیشن کاباضابطہ افتتاح کیا تھا۔تین سال بعد 1956 میں پارلیمنٹ کے ذریعہ قانون پاس کرکے اسے مستقل ایکٹ کی شکل دے دی گئی اور اب اسے یوجی سی ایکٹ 1956 کہاجاتاہے ۔تب سے اعلیٰ تعلیم مہیا کرانے والے اداروں اور یونیورسٹیوں کو کنٹرول کرنے سمیت گرانٹ دینے کا عمل یہی ادارہ کرتا چلا آرہا ہے ۔اب موجودہ حکومت یوجی سی ایکٹ 1956 کی جگہ ایچ ای سی ایکٹ 2018 لانا چاہتی ہے۔

 

 

 

چہار سو تنقیدیں
حکومت کے اس فیصلے پر ہر طرف سے تنقیدیں ہورہی ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اگریو جی سی کی جگہ تبدیل ہوکر ایچ ای سی آئی نافذ ہوجاتاہے تو ہندوستان کے اعلی تعلیمی نظام پر حکومت کا کنٹرول ہوگا اور حکومت اپنی مرضی سے یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا نظام چلانے کے لئے اپنی ذہنیت کے لوگوں کو مقرر کرے گی۔جبکہ ملک کے تعلیمی اداروں کے منتظمہ کو کسی مخصوص ذہنیت کا حامل ہونا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ خود بی جے پی سے منسلک طلباء یونین اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودھارتی پریشد) نے حکومت کے اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے اور مذکورہ ڈرافٹ میں کئی خامیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزارت فروغ انسانی وسائل کو لکھے پنے نوٹ میں کہا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ جلد بازی میں لیا گیا ہے۔اے بی وی پی کے نیشنل جنرل سکریٹری اشیش چوہان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماہرین تعلیم سے مشورہ کرنے کے بعد فیڈ بیک سے حکومت کو مطلع کردیا ہے ۔ شاید یہ پہلا موقع ہے کہ کانگریس حامی طلباء یونین این ایس یو آئی اور سنگھ حامی اے بی وی پی اس نکتے پر حکومت کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر متحد نظر آرہے ہیں۔
مختلف آراء
5جولائی کو ہندوستان کے معروف تھنک ٹینک ادارہ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز کے تحت نئی دہلی میں ایک مباحثے کا انعقاد کیا گیاتھا جس میں ماہرین تعلیم نے اندیشوں کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یوجی سی کی جگہ ایچ ای سی آئی کو لانے کی کوئی اہم اور بنیادی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ حکومت کی طرف سے یہ مسودہ 27 جون 2018 کو وزارت کے ویب سائٹ پر پیش کیا گیا ہے ۔اس پیش کئے گئے مسودہ میں کئی ساری کمیاںاور خامیاں نظر آرہی ہیں۔ جیسے اس مجوزہ کمیشن میں یونیورسٹیز کو فنڈ دینے کا اختیار نہیں ہے، جبکہ یوجی سی کے پاس فنڈ دینے کا اختیار تھا۔مجوزہ کمیشن میں صرف انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنے کا حق ہوگا۔ کہاگیاہے کہ وزرات سے یونیوسٹیز کو فنڈ جاری کیا جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کس بنیاد پر وزارات فنڈ ریلیز کرے گی، اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔
مباحثہ میں شرکاء نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ نئے کمیشن کے ممبران اور چیئر پرسن کا انتخاب کس بنیاد پر کیا جائے گا ؟کیا اہلیت طے کی جائے گی ؟اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے یعنی یہ بھی مشکوک ہے۔مجوزہ کمیشن سے پرائیوٹ سیکٹر کو بھی بڑھاواے ملے گاجس سے تعلیمی نظام کی صحت پر برا اثر پڑے گا اور تعلیم کا حصول مہنگا بھی ہوگا۔

 

 

ستیلا میریس کالج چنئی سے منسلک ماہر تعلیم اور معروف تھیٹر آرٹسٹ منگائی (وی پدما )کا اس سلسلہ میں کہنا ہے کہ یہ محض ماہرین تعلیم کی خود مختاریت کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے گلا گھونٹنے کی ایک ترکیب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی مرکزی ادارہ یا کمیٹی جو ہائر ایجوکیشن کی نگرانی کرتا ہے اس کو یہ حکومت اپنی کٹھ پتلی بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اداروں کی اس تبدیلی سے کوئی مدد ملے گی۔ چونکہ یوجی سی بھی حکومت کے ماتحت کام کرتی ہے اس لیے مجھے اس کی جگہ کسی اور ادارے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور اگر یہ کمیٹی ٹھیک سے کام نہیں کر رہی ہے تو اس کی ذمہ داری بھی خود حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔
ماہر تعلیم جئے پرکاش گاندھی کا کہنا ہے کہ آخر کیوں سیاست داں ان معاملات میں دخل دے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس طرح کے اقدام کرتی رہتی ہے اور کبھی بھی اس کو نافذ نہیں کرتی۔سیاست دانوں کو تعلیمی نظام سے متعلق فیصلہ لینے کے لیے اس پورے مرحلے میں شامل ہی نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی آزاد ادارے کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔انہوں نے اس کو سیاسی قدم بتاتے ہوئے کہا کہ ہمیں ماہرین تعلیم کا ایک ایسا گروپ چاہیے جو اس ملک کو آگے لے کر جائیں۔
یہاںپر ایک بات خاص طور پر ذکر کرنے کے قابل ہے کہ یو جی سی کی جگہ ایک الگ یونٹ کی تجویز کوئی نئی تجویز نہیں ہے ۔اس طرح کی تجویز 2009 میں پشپال کمیٹی نے بھی پیش کی تھی ۔اس وقت کانگریس کی حکومت تھی۔ لیکن جو پچھلی تجویز تھی اس کی ایک مضبوط بنیاد تھی ۔ اس میں حکومت کی طرف سے کسی بھی دخل اندازی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے نئی یونٹ کی سفارش کی گئی تھی۔ یشپال کمیٹی نے اپنی تجویز میں کہا تھا کہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم ٹکڑے ٹکڑے میں بٹ گئی ہے اور اس کے لیے مجموعی پالیسی کے نظریہ کی کمی ہے۔ قانون، آرٹس، میڈیکل، تکنیکی تعلیم، ٹیچر ٹریننگ، سب کے لیے الگ الگ ریگولیٹری بنے ہوئے ہیں اور وہ کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر تعلیم پر مجموعی طور پر مذاکرہ نہیں کرتے ہیںجبکہ تعلیم کو ایک مجموعی شکل میں ہونے کی ضرورت ہے۔ اس لیے الگ الگ پیشوں میں، مثلاً قانون یا میڈیکل یا آرٹس میں داخلہ لینے کی شرطیں ان سے منسلک ادارے کریں، لیکن مجموعی طور پر باہمی مباحثے ہوں۔ یشپال پیشہ ور تعلیم اور عام تعلیم میں تقسیم کے خلاف تھے۔ وہ آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسے اداروں پر بھی ایجوکیشن کے مختلف سیکٹروں کو اپنے دائرے میں لینے پر زور ڈالتے رہے۔ اسی نظریہ کی وجہ سے وہ یہ تجویز پیش کر رہے تھے کہ یو جی سی سمیت سبھی مختلف ریگولیٹری اداروں کی جگہ ایک وسیع نظریہ والے ریگولیٹری کی تشکیل کئے جانے کی ضرورت ہے ۔
خودمختاری کو لے کر یشپال کا نظریہ آج کی حکومت سے بالکل الگ تھا۔آج کی حکومت کہتی ہے کہ نیا کمیشن طے کرے گا کہ کب، کیسے، کس تناسب میں کس ادارہ کو کتنا اختیار دیا جائے۔ یشپال کا کہنا تھا کہ آزادی ہر تعلیمی ادارہ کا حق ہے، وہ کوئی انعام نہیں ہے جو حکومت اسے دینا طے کرے گی۔ یشپال اس کمیشن کو انتخابی کمیشن کی طرح حکومت سے پوری طرح آزاد رکھنا چاہتے تھے، اس میں وہ کسی بھی طرح حکومت کی موجودگی کے حق میں نہیں تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ تمام اداروں کو یہ اختیار ملنا چاہئے کہ وہ اپنے طور پر فیصلہ کریں ۔لیکن نئے کمیشن میں اداروں کی خود مختاری کو سلب کرنے کی منشا نظر آرہی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ناقدین کے تبصروں کا کس حد تک خیال رکھتی ہے اور یو جی سی کی جگہ ایچ ای سی آئی لانے میں کیا موقف اختیار کرتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *