این آر سی : سرکار کی نیت میں کھوٹ

آسام میں 30 جولائی کو این آر سی (نیشنل رجسٹر آف سٹیزنس)کا دوسرا اور آخری مسودہ جاری ہوا ہے، جس میں 40 لاکھ لوگوںکے نام شامل نہیں کئے گئے ہیں۔ الگ الگ نقطہ نظر سے یہ تعداد کم یا زیادہ مانی جاسکتی ہے۔ اگر یہ تمام لوگ غیر ملکی گھس پیٹھئے قرار دیئے جاتے ہیں تو یہ یقینی طور پر بڑی تعداد کہی جائے گی۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ بڑی تعداد میں دوسری ریاستوں سے آئے ہوئے لوگوں کے نام لسٹ سے غائب ہیں اور این آر سی کے پروسیس پر بھی سنگین سوال اٹھ رہے ہیں۔ادھر ادھر سیاست کے گِدھوں کے لئے یہ ایک سنہرا موقع ہے جب وہ ان اعدادو شمار کو ہتھیار بنا کر نفرت کا ماحول تیار کرنے میںمصروف ہوگئے ہیں۔دوسری ریاستوں کے ایسے لاکھوں شہری ہیں جو ضروری کاغذ جمع نہیں کر پانے یا ملازموں کی لاپرواہی یا نسل پرستی کی ذہنیت کی وجہ سے لسٹ سے خارج ہوگئے ہیں۔ ایسے لاکھوں ہندوستانی لوگوں کو غیر قانونی غیر ملکی شہری ماننا ان کو اپنے ہی ملک میں بنیادی اختیارات سے محروم کرنا ہوگا۔ کچھ سیاسی پارٹیاں یہی غلطی کررہی ہیں جس کا سنگین خمیازہ ملک کو مستقبل میں ادا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
’ودیاپتی چیتنا سمیتی ‘ گواہاٹی کے جوائنٹ سکریٹری ستیندرکمار جھا نے اس نمائندہ کو بتایا کہ میں مدھوبنی ضلع بہار کا رہنے والا ہوں۔میں نے این آر سی فارم میں 1968 کے والد کے نام سے زمین کا دستاویز ، فوج سے ریٹائر اپنے سسر کا دستاویز، ان کے والد کا 1963 کی زمین کا دستاویز لیجیسی ڈیٹا کے طور پر جمع کروایا ۔ پھر بھی این آر سی مسودے میں ہمارا نام نہیں آیا ۔میرے تین بچے ہیں جن کی پیدائش آسام میں ہی ہوئی ہے۔ ان کی پیدائش سرٹیفکیٹ، مستقل رہائش سرٹیفکیٹس،دسویں و بارہویں کے سرٹیفکیٹس پیش کئے ۔ان کے نام بھی نہیں آئے۔اب یہ پتہ نہیں چل پارہا ہے کہ ہم ووٹر شناختی کارڈ ، پین کارڈ، آدھار کارڈ، بینک پاس بک وغیرہ جمع کرنے کے بعد بھی مسودے سے کیوں باہر ہو گئے ہیں؟

 

 

 

 

رشوت بھی مانگی گئی
اسی طرح آسام کے ڈگ بوئی نگر میں دہائیوں سے رہنے والی مصنفہ نوتن پانڈے نے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے ’آج آسام میں این آر سی ریلیز کیا گیا۔ ہم لوگوں کا نام نہیں ہے۔ آسام میں ہم جیسے لوگوں سے جو آسام ریاست کے باہر کی ریاست سے ہیں،ان سے بھی ہمارے ہندوستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ مانگا گیا تھا، جس میں 1970 کے پہلے ہندوستان میں رہنے کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہئے۔ ہم نے اپنے والد کی زمین کی رسید جو کہ 1970 کے پہلے کٹوائی گئی تھی اور والد کی بیٹی ہونے کے سرٹیفکیٹ کا کاغذ جمع کیا۔ آگے کہانی کچھ اس طرح ہے: ایک دن چار آدمی ہمارے گھر آئے، کہا کہ ہم این آر سی کے کاغذ کی جانچ کے لئے آئے ہیں۔ ہم نے اپنا اور اپنے شوہرسونند کے جمع کئے گئے کاغذات کی اسکین کاپی لاکر انہیں دکھائی۔باتیںآسامی زبان میں ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔
اصلی کاغذ نہیں ہے کیا؟
نہیں۔
یہاں تو اصلی دینا ہوگا۔
نہیں ہم اصلی تو نہیں لاسکے۔بہار سے منگوائے ہیں اور جوائنٹ پراپرٹی کا اصلی دستاویز کوئی کیسے بھیج سکتا ہے ؟
کوئی بات نہیں ہم کچھ کر دیںگے۔
پھر ہم نے پوچھا۔۔۔۔۔۔آپ کا تعارف؟
ان میں سے ایک آدمی نے سب کا تعارف کرایا۔۔۔۔۔ہم دو آدمی تینسوکیا سے ہیں، وہاں ٹیچر ہیں، یہ ڈگ بوئی ٹائون کمیٹی سے ہیں اور یہ سرکاری ملازم ہیں۔
ایک بار پھر سے سب نے ہمارے پیپرس کو دیکھا اور اٹھ کر کھڑے ہوگئے،(ان میں سے تین بیٹھ کر پیپر چیک کر رہے تھے اور ایک کھڑا تھا)۔ اب جو اب تک کھڑا آدمی تھا وہ آرام سے بیٹھ گیا اور بقیہ تین گاڑی کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے۔
اس چوتھے آدمی نے بڑے ہی شائستہ انداز سے کہا۔۔۔ کچھ دے دیجئے ،کام ہو جائے گا۔
اب ہمارے چونکنے کی باری تھی۔۔۔۔۔۔مطلب؟
یہی کچھ چائے پانی کے لئے ۔ہم نے انہیں چار باتیں سنائی چائے پانی کے بدلے اور سمجھ گئے کہ این آر سی میں ہمارا نام اب شامل نہیں ہونے والا، خوراک جو نہیں دیا۔اس کے بعد جب بھی چیک کیا، لکھا ہواملا ’جانچ کے لئے بھیجا گیاہے‘ اور آج فائنل لسٹ میں بھی ہمارا نام نہیں آیا۔اب سوال کئی ہیں(1)60برس کی عمر میں پیدائش سے لے کر نسلوں سے ہندوستان میں رہنے کے بعد بھی، ہندوستانی ہونے کا سرٹیفکیٹ آسام میں دینا ہوگا؟(2)بہار کا کاغذ منظور نہیں ؟(3)کیا چائے پانی کے لئے پیسہ دینے پر ہمارا کاغذجانچ سے نجات پاجاتا؟(4)بہار میں کس دفتر والے کو فرصت ہے کہ آسام سے بھیجے گئے کاغذ کی، وہ بھی اتنا پرانا، جانچ کرے ؟(5)سب سے دُکھ کی بات یہ ہے کہ چیکنگ میں آئے سبھی لوگ باوقار عہدے سے خاص طور پر دو لوگ ٹیچر تھے اور ہمارے ملک کے ٹیچر اگر ایسے ہیں تو آگے تو اللہ ہی مالک ہے۔
تنظیم یا سرکار بھلے ہی اس طرح کی یقین دہانی کرارہی ہیں،لیکن سرکار اپنی طرف سے بھاری تعداد میں سیکورٹی دستوں کو تعینات کر کے خوف اور اندیشوں کا ماحول تیار کر چکی ہے۔ جب پہلے مسودے کا اجرا کیا گیا ، اس وقت بھی بڑی تعداد میں سیکورٹی دستوں کو تعینات کیا گیا اور اس بار بھی ویسا ہی کیا گیا۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ سرکار کی نیت میں کھوٹ ہے۔ خیر ایجنسیوں کی مدد سے سرکار آسانی سے زمینی سچائی کا اندازہ لگا سکتی ہے۔جس وقت تشدد کا بالکل امکان نہیں ہو، اس وقت چاروں طرف سیکورٹی دستوں کو تعینات کرنے کا مطلب عام لوگوں کے ذہن میں دہشت پیدا کرنا ہی ہوسکتاہے۔

 

 

 

 

اہم کام کو جلدی میں نمٹانے کی کوشش
این آر سی کو تیار کرنے کے پورے عمل کو لے کر میڈیا میں سوال کھڑے کئے جاتے رہے ہیں۔اتنے اہم کام کو جس جلدی میں نمٹانے کی کوشش کی گئی ہے اور دستاویزوں کو لے کر جو طریقہ کار اختیار کیا ہے، اس کی وجہ سے متعدد غریب لوگ لسٹ میں درج ہونے سے محروم رہ گئے ہیں۔ ویسے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ لسٹ سے محروم لوگوں کو اپنی شہریت کو ثابت کرنے کے لئے 30اگست سے 30 ستمبر 2018 تک ایک مہینے کا وقت دیا جائے گا لیکن دستاویزوں کو لے کر اپنے ملک میں سرکاری نظام کے اندر جس طرح کی بدعنوانی موجود ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ وقت کافی نہیں ہے اور پورا امکان ہے کہ کم وقت میں بہت سارے لوگ ایسے دستاویز جمع کرنے میں ناکام ہوںگے اور پھر ان کے ساتھ پناہ گزینوں جیسا سلوک شروع ہو جائے گا۔ ابھی سرکار کہہ رہی ہے کہ مسودے میں جن لوگوں کے نام نہیں آئے ہیں، وہ سبھی غیر ملکی گھس پیٹھئے نہیں ہیں۔غیر ملکیوں کی تعداد کا فیصلہ آخری لسٹ کے جاری ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔اس کا مطلب ہے کہ آخری لسٹ میں یہ تعداد 40 لاکھ سے گھٹ سکتی ہے ۔ آخری لسٹ کے جاری ہونے کے بعد بھی محروم ہندوستانی شہری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاکر اپنی شہریت کو ثابت کرسکتے ہیں۔
آسام کے باہر این آر سی کے مسودے کے شائع ہونے کے بعد فرقہ وارانہ طاقتوں نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔ادھر ممتا بنرجی جیسی لیڈر اور متعدد دانشوران بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ایک ہی جھٹکے میں 40 لاکھ لوگوں کی شہریت چھین لی گئی ہے۔ دوسری طرف این آر سی ذمہ داران اور آسام کی تمام عوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مسودے میں جن کے نام نہیں آئے ہیں، وہ سارے لوگ غیر ملکی نہیں ہیں۔ان کو اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع دیا جارہا ہے۔ان تنظیموں کی دلیل ہے کہ مسودے کے جاری کرنے کے بعد آسام میں کسی طرح کا تشدد نہیں ہوا ہے۔ لسٹ سے باہر کئے گئے لوگوں کو ڈِٹینشن کیمپوں میں قیدی نہیں بنایا گیاہے، نہ ہی ان کے ساتھ کسی طرح کی مارپیٹ کی گئی ہے، سبھی پہلے کی طرح فطری زندگی گزار رہے ہیں۔ آسام میں تنظیموں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ریاست کے باہر کے کچھ لیڈر اور صحافی آسام کے مسلمانوں کے مقابلے روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ کررہے ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ قانونی طورپر ہر آدمی کو ہندوستانی شہری ثابت کرنے کے لئے کافی وقت دیا جائے گا۔ اس سے پہلے کسی بھی آدمی کو غیر ملکی گھس پیٹھ کرنے والے بتاکر ریاست سے باہر کھدیڑے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ باہری طاقتیں بے وجہ لوگوں کے بیچ خوف اور تشویش کا ماحول تیار کررہی ہیں۔ ابھی تک کسی بھی آدمی کے ساتھ کوئی ناموافق واقعہ نہیں ہوا ہے اور جن کے نام مسودے میں نہیں آئے ہیں، ان کو پورا یقین ہے کہ آگے کی سرگرمی میں وہ اپنی شہریت کو ثابت کر پائیںگے۔ ایسے بہت سارے خاندان ہیں جن کے کچھ ممبروں کے نام لسٹ میں آئے ہیں اور کچھ ممبروں کے نام چھوٹ گئے ہیں۔ ایسا ملازموں کی لاپرواہی اور جلد بازی کی وجہ سے ہوا ہے۔
افسانوی اعدادو شمار
سیاسی محققین کا ماننا ہے کہ غلطیوں کو سدھارنے کے بعد جب این آر سی کی آخری لسٹ جاری ہوگی تب اس سے خارج کئے گئے غیر ملکیوں کی تعداد بے حد کم ہوگی۔ اب تک ووٹ بینک کی سیاست کرنے والے غیر ملکیوں کے اعدادو شمار بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ آسام تحریک کے وقت بھی لیفٹسٹ نظریہ کے حاملین نے کہا تھاکہ غیر ملکیوں کے افسانوی اعدادوشمار شائع کرکے عوامی جذبات کو بھڑکانے کا کھیل کھیلا جا رہاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکیوں کا ایشو مفاد پرست لیڈروں نے اپنے فائدے کے لئے اچھالا تھا۔ ان نظریات والوں کی باتیں صحیح تھیں۔این آر سی مسودے کے اجرا سے ان کی بات کی تصدیق ہو رہی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ۔این آر سی کے اسٹیٹ کورڈینیٹر پرتیک ہاجیلا نے تیز مخالفت کے درمیان مسودے سے باہر ہوئے لوگوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ نئے دستاویز کے ساتھ اپنے نام کو شامل کرنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اب تک دستاویزوں کو بدلنے کی سہولت نہیں دی گئی تھی،لیکن دعویٰ کرتے وقت لوگ اپنی شہریت کے نئے ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے سرکار سے اس مہینے کے وسط تک 30 اگست سے 28 ستمبر 2018 تک چلنے والے کلیم و آبجیکشن کے عملی طریقے کو پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
رجسٹرار جنرل آف انڈیا شیلیش نے میڈیا کو بتایا ہے کہ 30 دسمبر 2017 کو شائع این آر سی کے پہلے مسودے میں شامل جن 1.50 لاکھ لوگوں کے نام دوسرے اور آخری مسودے سے کاٹے گئے ہیں، ان کو ڈاک کے ذریعہ الگ سے اطلاع بھیجی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح وقت پر ان لوگوں کو محتاط کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین برسوں سے آسام کے لوگوں نے دو طرح کے دستاویز جمع کروائے ہیں۔ پہلا 1971 سے پہلے ان کے آباء و اجداد کی آسام میں موجودگی اور دوسری نسل کے ساتھ ان کا رشتہ ثابت کرنے والے دستاویز۔
ہاجیلا نے کہا کہ کل 3.29 کروڑ درخواست دہندوں نے کل 6.6 کروڑ دستاویز جمع کروائے تھے۔ اتنے بڑے پیمانے پر دستاویزوں کی جانچ کرنا انتہائی مشکل کام تھا۔ ان میں 93فیصد لوگوں نے لیجیسی ڈیٹا کے طور پر 1951 کے این آر سی رجسٹر یا 1971 سے پہلے کی ووٹنگ لسٹ کی کاپی کو پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سبھی دستاویزوں کی توثیق متعلقہ محکموں سے کروائی گئی، جن میں اسکول، یونیورسٹی ، فوج، ریلوے وغیرہ اہم تھے۔ 75 ہزار افسروں سے ان دستاویزوں کی توثیق کروائی گئی۔ 5.5 لاکھ دستاویز ایسے تھے جن کو تصدیق کے لئے دوسری ریاستوں میں بھیجا گیا۔
گھس پیٹھئے بنام ہندوستانی
شولیس نے کہا ہے کہ مسودے سے باہر لوگوں کو گھس پٹھ کرنے والے کہہ کر پکارنا صحیح نہیں ہے۔سبھی لوگوں کو اپنی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کا پورا وقت دیا جائے گا۔ جب تک کوئی آدمی غیر ملکی ثابت نہیں ہو جاتا تب تک اسے گھس پیٹھی کہنا غیر مناسب ہوگا۔ ہر آدمی کو اپنے دستاویزوں کو پیش کرنے اور شواہد کے طور پر گواہوں کو بھی ساتھ لانے کا پورا موقع دیا جائے گا۔ جب تک ٹریبونل کسی آدمی کو غیر ملکی اعلان نہیں کر تا، تب تک اس آدمی کے کسی بھی اختیار کی توہین نہیں کی جائے گی۔ جو لوگ دعوی اور اعتراض کے عمل سے مطمئن نہیں ہوںگے، ان کے پاس غیر ملکی ٹریبونل کے سامنے اپیل کرنے کا متبادل کھلا رہے گا۔ شیلیش نے یہ بھی کہا کہ آخری لسٹ شائع کرنے کا کوئی وقت ابھی مقرر نہیں کیا گیاہے۔ 31 دسمبر 2018 کی تاریخ صرف انتظامی نقطہ نظر سے مقرر کی گئی ہے۔
پچھلے چار دہائیوں سے اسی غیر ملکی گھس پیٹھ کے ایشو پر سیاست کی روٹی سینکی جاتی رہی ہے اور جذبات کو اکساکر فائدہ حاصل کرنے کا کھیل کھیلا جاتا رہا ہے۔ سخت ذات پات کے پیروکاروں نے ہر غریب مسلمان کے اوپر گھس پٹھی ہونے کا ٹھپہ لگا رکھا ہے اور اسی نفرت کے سہارے وہ عوامی جذبات کو اکسانے کا کھیل کھیلتے رہے ہیں۔ اگر خالص این آر سی کا جاری کرنا ممکن ہوتا ہے تو ایسے بے شمار غریب لسانی اقلیتوں کو بے خوف ماحول میں جینے کا موقع مل سکے گا۔
کیا ہے آسام معاہدہ
آسام معاہدہ 1985 میں معاہدہ کیا گیا تھا۔ یہ معاہدہ اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی اور آسام آندولن کے لیڈر پرفل موہنتا کے بیچ ہوا تھا۔ اس معاہدے میں سرکار نے بھروسہ دیا تھا کہ سرکار اس بات کو لے کر کافی فکر مند ہے کہ کیسے آسام میں غیر ملکی شہریوں کے مسائل کا حل کیاجائے۔ اس کے بعد سرکار نے ایک لسٹ تیار کی، تاکہ آسام میں غیر ملکی شہریوں کے مسائل کا حل کیا جا سکے۔ اس اکارڈ کے مطابق وہ تمام لوگ جو یکم جنوری 1966 سے پہلے آسام میں آئے ہیں ،انہیں ہندوستان کی شہریت دی جائے گی لیکن جو لوگ یکم جنوری 1966اور 24مارچ کے بیچ آسام میں آئے ہیں، ان کے ایشو کو فارنرس ایکٹ 1946 اور فارنرس آرڈر 1964 کے تحت سلجھایا جائے گا۔ 1971 کے بعد آئے لوگوں کے لئے نظم یہ ہوگا کہ جو لوگ یکم جنوری 1966 سے 24 مارچ 1971 کے بیچ آسام میں آئے ہیں، ان کے نام کو انتخابی عمل سے باہر کیا جائے گا اور وہ اگلے 10سال تک نہ صرف شہریت سے محروم رہیں گے بلکہ انہیں انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ساتھ ہی اس معاہدے میں ان لوگوں کے مسائل کا حل کیا گیا جو 24مارچ 1971 کے بعد آسام میں آئے تھے۔جو غیر ملکی آسام میں 25 مارچ 1971 کے بعد آئے ہیں، ان کی پہچان کی جائے گی اور ان کے نام کو ہٹایا جائیگا، ساتھ ہی ایسے لوگوں کو ہندوستان سے باہر کئے جانے کیلئے قدم اٹھائے جائیںگے۔ اس معاہدے کے دستخط ہونے کے بعد مانا جارہا تھا کہ آسام میں چل رہا احتجاج ختم ہو جائے گا لیکن آج بھی اس معاہدے میں کئی ایسی باتیں ہیں جنہیں آج تک لاگو نہیں کیا گیاہے ۔جس کی وجہ سے یہ ایشو آج بھی لگاتار پہلے کی طرح بنا ہوا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ تک کا نام نہیں این آر سی میں
آسام کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ سیدہ تیمور پچھلے کچھ سالوں سے آسٹریلیا میں رہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مایوس کن ہے کہ ان کا نام لسٹ میں نہیں ہے۔ سابق صدر جمہوریہ فخر الدین علی احمد کے رشتہ دار تو وقت پر این آر سی کے لئے درخواست ہی نہیں دے سکے تھے۔ اس لئے فخرالدین علی کے پوتے ساجد علی احمد کا نام بھی این آر سی سے باہر ہے۔ برپیٹا ضلع کے کایا کوچی علاقے میں رہنے والے مشہور شاعر اور سرکاری اسکول میں ٹیچر شفیع الدین احمد (36)کانام مسودے میں شامل نہیں ہے۔ ان کے دو بیٹوں کو بھی لسٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔ احمد کے دادا جی کے والد 1952 میں ریاست کی پہلی اسمبلی میں تاراباڑی سیٹ سے ایم ایل اے چنے گئے تھے۔ آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین کی مرکزی کمیٹی کی ممبر معصومہ بیگم (25) کا نام بھی این آر سی سے باہر ہے۔ بچوں کی فلاح کی کارکن اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس سے گریجویشن کرنے والی 26 سال کی ایشانی چودھری کا نام بھی این آر سی میں شامل نہیں ہے۔وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ این آر سی میں نام نہیں ہونے کی وجہ سے کہیں ان کا جینوا دورہ تو کھٹائی میں نہیں پڑ جائے۔ اودال گوڑی ضلع کے ایک ٹیچر اور آسامی اخباروں میں پابندی سے کالم لکھنے والے مصابرالحق کا نام بھی این آر سی سے باہر ہے۔ اسی طرح، براک وادی علاقے میں کچھار کے ایم ایل اے دلیپ پال کی بیوی ارچنا پال اور کانگریس کے سابق ایم ایل اے عطاء الرحمن کے نام بھی این آر سی میں شامل نہیں ہیں۔

 

 

 

 

پرفل موہنتاکو منظور نہیں مجوزہ شہریت بل
جس وقت ملک بھر میں این آر سی پر چرچا زوروں پر تھی، اسی دوران 6 اگست کو آسام کے سابق وزیر اعلیٰ پرفل کمار مہنتا سٹیزن شپ امنڈمنٹ بل کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کررہے تھے۔ ’آسام آندولن سنگرامی منچ ‘کے ذریعہ منعقد اس احتجاج میں سٹیزن شپ امنڈمنٹ بل 2016 کو واپس لینے اور آسام سمجھوتے کو لاگو کرنے کی مانگ کی گئی۔ بل کے خلاف نعرے لکھے تخت ہاتھ میں لئے سنگرامی منچ کے ممبروں نے یک سُر میں کہا کہ جب تک یہ بل واپس نہیں لیا جاتا، سنگرامی منچ اس کے خلاف آواز اٹھاتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آسام شمال مشرق کا ایک اہم حصہ ہے اور پورے شمال مشرق میں امن بنا رہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آسام کے لوگوں کو ان کے حقوق اور اختیار ات ملیں۔ پڑوسی ملکوں میں گھس پیٹھ کے ذریعہ آسام میں آکربسے لوگ آج بنیادی آسامیوں کے لئے رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ سرکار پارلیمنٹ میں جو سٹیزن شپ امنڈمنٹ بل لانے جارہی ہے، وہ بنیادی آسامیوں کو ان کے حقوق سے بالآخر محروم کردے گا۔ اس بل کے خلاف چرچا کو لے کر 7 اگست کو آسام آندولن سنگرامی منچ نے دہلی کے پریس کلب میں ایک سمینار کا انعقاد کیا، جس میں آسام سے جڑے کئی لوگوں نے حصہ لیا۔ اس سیمنار میں آسام گن پریشد کے صدر پرفل موہنتا ، سینئر صحافی شیکھر گپتا اور ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر سے نیٹ ورک 18 کے سابق ایڈیٹر گورو چودھری نے بات چیت کی۔ آسام کے سیاسی و سماجی پس منظر کی تشریح کرتے ہوئے پرفل مہنتا نے آسام سمجھوتے اور سٹیزن شپ بل کو لے کر تفصیل سے اپنی بات رکھی۔
دراصل سٹیزن شپ امنڈمنٹ بل 2016 کے وسط سے سرکار ایک طرح سے غیر قانونی گھس پیٹھ کرنے والے کی تشریح بدلنے کی سمت میں کام کررہی ہے۔ 15جولائی 2016 کو لوک سبھا میں پیش ہوئے اس بل کے ذریعہ سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں ترمیم کیا جانا ہے۔اس بل کے پاس ہو جانے کے بعد پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے گھس پیٹھ کر کے آئے ان سبھی ہندو، سکھ، بودھ ،جین ، پارسی اور عیسائیوں کو ہندوستان کی شہریت مل جائے گی جو پچھلے 6 سال یااس سے زیادہ سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔
پرفل مہنتا نے اس ایشو پر ’’چوتھی دنیا‘‘سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے ہمیں دھوکہ دیاہے۔ 2016 کے اسمبلی انتخابات میں جب ہم نے بی جے پی کی حمایت کا فیصلہ کیا، تو اس وقت ہم سے کہا گیا تھا کہ مرکزی سرکار آسام کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرے گی۔ اس وقت کہیں بھی ایسی بات نہیں تھی کہ بی جے پی کے تحت مرکزی سرکار سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں ترمیم کرے گی لیکن الیکشن گزرنے اور آسام میں سرکار بننے کے بعد ہی اس سمت میں کوشش ہونے لگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل ایک طرح سے بنگلہ زبان کو منظوری دے دے گا، جس کے سبب بنگلہ دیش سے گھس پیٹھ کر کے آسام میں آکربسے لوگ بڑے پیمانے پر مستفید ہوں گے اوراس سے آسامیوں کے لئے ایک بڑا نقصان ہوگا۔ ہم لوگ شروع سے اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر اب بھی سرکار سٹیزن شپ امنڈمنٹ بل کو واپس نہیں لیتی ہے ، تو ہمارے پاس سرکار سے حمایت لینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ پنچایت الیکشن میں بھی اکیلے ہی اتریں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم کسی بھی طرح سے آسام کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے۔

 

 

 

 

دیگر نارتھ ایسٹ ریاستیں بھی متاثر
30جولائی کو آسام میں جاری این آر سی کا بڑا اثر شمال مشرق کی دیگر ریاستوں میں بھی دیکھنے کو ملا۔ یہ ایشو سیاسی ہو سکتا ہے لیکن شمال مشرق کی دیگر ریاستویں کے لوگوں کا اس سے جذباتی لگائو دکھائی دے رہاہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ آسام کی طرز پر باقی ریاستوں میں بھی این آر سی لاگو ہو تاکہ باہری لوگوں کو الگ کیا جا سکے ۔ ایسا اس لئے کہ ان کی زمین باہر سے آئے لوگ ہتھیانہ سکیں۔شمال مشرق کے سرحدی ریاستوں میں باہر سے آئے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ وہاں کی زیادہ تر سرکاریں بی جے پی کی ہیں۔ سرکار کی منشا کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن مقامی لوگوں کو این آر سی زیادہ پسند آرہا ہے۔
ویسے بھی باہر سے آئے لوگوں کو روکنے کے لئے شمال مشرق کی ریاستوں ارونا چل پردیش، ناگالینڈ اور میزروم میں بنگال ایسٹرن فرنٹیئر ریگولیشن ، 1983 کے تحت اینر لائن پرمٹ لاگو ہے۔ منی پور اور میگھالیہ میں بھی اینر لائن پرمٹ کو لے کر لڑائی جاری ہے۔ ہندوستان کے سرحدی ملکوں کے قریب ہونے کی وجہ سے شمال مشرق میں باہری بنام مقامی کے بیچ ہمیشہ ٹکرائو رہا ہے۔ اب آسام سرکا ر کے ذریعہ این آر سی مسودہ لائے جانے سے شمال مشرق کی باقی ریاستوں میں بھی کافی ہلچل مچ گئی۔ دیکھتے ہیں، این آر سی مسودہ شائع ہونے کے بعد دیگر ریاستوں میں اس کا کیا اثر ہورہا ہے؟
منی پور: آسام میں این آر سی مسودہ شائع ہونے کے بعد منی پور میں الگ الگ سماجی تنظیموں کے ذریعہ مانگ اٹھ رہی ہے کہ آسام کے طرز پر منی پور میں بھی این آر سی لاگو ہو۔ ’ایتھنو ہیریٹیج کونسل‘ (ہیریکون ) نے کہا کہ ریاستی سرکار، آسام کی طرح این آر سی اپڈیٹ کرکے اسٹیٹ پوپولیشن کمیشن بناکر فوری اثر سے ریاست میں این آر سی لاگو کریں۔ ہیریکون کے نائب صدر ایل سناجا اوبا میتے نے کہا کہ منی پور کے ہندوستان میں ملنے کے بعد ریاست میں غیر قانونی گھس پیٹھ روکنے کے لئے لوگوں نے کئی کوششیں کیں۔ کئی سالوں سے وقت بوقت سرکاروں سے اپیل کرتے رہے۔ اسٹوڈنٹس موومنٹ کی وجہ سے 22 جولائی 1980 کو منی پور اسٹوڈنٹس کو آرڈینیٹنگ کمیٹی اور ریاستی سرکار کے بیچ باہری لوگوں کی گھس پیٹھ کو روکنے کے لئے ایک سمجھوتہ ہوا تھا۔ بدقسمتی سے ان 38برسوں کے بعد بھی ریاستی سرکار نے اس کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ ہیریکون کے نائب صدر نے کہا کہ آسام کے این آر سی مسودے میں شامل نہیں کئے گئے 40 لاکھ لوگ کہاں جائیںگے؟بیشک آسام کی پڑوسی شمال مشرق کی ریاستوں میں ہی آئیںگے۔ اس صورت حال میں ریاستی سرکار کو چوکنارہنا چاہئے۔ ساتھ ہی سماجی تنظیموں کو بھی اس کی ذمہ داری لینی چاہئے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے حکم پرآسام سے لگے ہوئے منی پور کے علاقوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس الائنس آف منی پور (ڈیسام ) کے صدر ایڈیسن نے کہا کہ 23فروی 2017 کو ریاست میں این آر سی اپڈیٹ کرانے کے لئے ایک اشتہار وزیر اعلیٰ کو سونپا گیا تھا۔ بدقسمتی سے اب تک سرکار کی طرف سے کوئی حتمیت نہیں دی گئی۔
ریاست کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایل ایم کھوتے نے کہا کہ آسام سے لگے ہوئے منی پور کا ضلع جیری بام میں سیکورٹی سسٹم بڑھا دیا گیا ہے۔ گواہاٹی ناگالینڈ ہوتے ہوئے منی پور آرہے نیشنل ہائی وے 39 اور ریاست کے سرحد ی سیناپتی ضلع کے مائو گیٹ میں بھی سیکورٹی اور سخت کر دی گئی ہے۔ باہر سے آئے لوگوں کی جانچ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ سرحدی ندی جیری اور براک میں بھی منی پور پولیس کے جوان کشتی کے ذریعہ پہرہ دے رہے ہیں۔ جیر یبام ایس پی ایم مووی نے کہاکہ جیریبام ریلوے اسٹیشن سے 12 کلو میٹر دور بھنگائی چونگ پائو اسٹیشن سے 300 باہری لوگوں کو جانچ کرکے واپس بھیجا گیا ہے۔ ان کے پاس کافی ثبوت کے کاغذات نہیں تھے۔
ارونا چل پردیس: آسام میں این آر سی مسودہ شائع ہونے کے بعد آل ارونا چل پردیش اسٹوڈنٹس یونین ( اے اے پسو ) نے بھی خبردار کیا ہے کہ 15 دنوں کے اندر غیر قانونی گھس پیٹھ کرنے والے ارونا چل پردیش چھوڑ کر چلے جائیں۔ اس تنظیم کو خوف ہے کہ آسام کے این آر سی مسودہ کے بعد پناہ گزینوں کی بڑی تعداد ارونا چل پردیش میں گھس پیٹھ کرسکتی ہے۔ ویسے بھی شمال مشرق کی سبھی ریاستوں میں اس مسودے کے بعد بڑی تعداد میں آنے والے گھس پیٹھوں سے محتاط کردیا گیاہے۔ اس اسٹوڈنٹس یونین نے سرحدی علاقے سے 1400 غیر قانونی تارکین وطن کو باہر نکالا اور 1700 گھس پیٹھیوں کو حراست میں لیا۔ ارونا چل پردیش آسام کے ساتھ 804 کلو میٹر کی سرحد سے لگا ہوا ہے۔ اس لئے بھاری مقدار میں گھس پیٹھ ہونے کے امکانات پیدا ہورہے ہیں۔اسی وجہ سے آل ارونا چل پردیش اسٹوڈنٹس یونین نے کہا کہ 15دنوں کے اندر جو بھی لوگ غیر قانونی طریقے سے یہاں آئے ہیں،وہ ریاست چھوڑ کر چلے جائیں اور جن کے پاس مکمل ثبوت یااینر لائن پرمٹ سے متعلق کاغذات نہیں ہیں،وہ جلد سے جلد اپنے کاغذات حاصل کرلیں۔ اے ایپسو کے صدر توبوم دائی نے کہاکہ آپریشن کلین ڈرائیو شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے، تاکہ غیر قانونی گھس پیٹھیوں کو ریاست سے نکالا جاسکے۔ اس ڈرائیو کی قیادت آل ارونا چل پردیش یااسٹوڈنٹس یونین کریںگے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ریاست کے سبھی لوگ اور اسٹوڈنٹس یونین بھی اس کام میں اپنا تعاون دیں۔ ساتھ میں ریاستی سرکا ر سے بھی اپیل کی کہ ریاست میں غیرقانونی تارکین وطن کی گھس پیٹھ سے بچنے کے لئے سرکار تیجو، پاسی گھاٹ، بینڈر دیوا، روئنگ وغیرہ جگہوں پر زیادہ چوکی بناکر نظر رکھے۔
میگھالیہ: میگھالیہ میں بھی آسام کے این آر سی مسودہ پیش ہونے کے بعد آسام سرحد پر اپنی سیکورٹی بڑھا دی گئی ۔ ضلع افسروں نے حکم جاری کیا ہے کہ آسام سے انٹری کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن پر جانچ کرے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ پریسٹون تنسونگ نے امکان ظاہر کیا کہ این آر سی لسٹ سے باہر نکلنے والے لوگ میگھالے میں داخل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے آگے کہا کہ ریاست کے سرحدی علاقوں میں انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس کی سخت نگرانی کا انتظام کردیا گیا ہے ، تاکہ غیر قانونی تارکین ریاست میں داخل نہ ہو سکیں۔ ریاست میں 22 ایسی جگہیں سیکورٹی دستوں کی نگرانی میں بنائی گئی ہیں جن سے لوگوں کی آمدو رفت ہوتی ہے۔ خاسی اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) نے ایک تجویز وزیر اعلیٰ کانراڈ سنگما کو بھیجی ہے کہ آسام کے طرز پر ریاست میں بھی این آر سی کا عمل ہو۔ یونین کی طرف سے تجویز میں یہ ذکر کیاگیا ہے کہ ریاست میں این آر سی کی لسٹ جلد ہی نکالی جانی چاہئے ، تاکہ غیر قانونی گھس پیٹھیوں کوریاست سے باہر کیا جاسکے اور اس کی بنیاد کٹ آف سال 1971 ہونا چاہئے ۔ اس طرح کے عمل سے ریاست کے حقیقی باشندوں کی پہچان کرنے میں مدد ملے گی ۔ حالانکہ کے ایس یو نے کہا کہ ریاست کے اصلی باشندوں کی بہتری کے لئے سبھی کو ساتھ مل کر چرچا کرنی چاہئے۔
ترپورا : تریپورا میں بھی این آر سی کی مانگ اٹھ رہی ہے۔ اس مہم میں سب سے آگے آدیواسی پارٹی ان ڈیزنس پارٹی آف تریپورا ( آئی این پی ٹی ) ہے۔ ان کی مانگ ہے بنگلہ دیشی تارکین کو شناخت کرنا ، نکال دینا اور اینر لائن پرمٹ لاگو کروانا، تاکہ ٹرائیول آٹونومس کائونسل سیکٹر میں باہری گھس پیٹھیوں کو روک سکے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ این آر سی لاگو کرانے کے لئے پوری ریاست میں تحریک کھڑی کریں گے۔ لیکن ریاست میں بی جے پی سرکار اب تک واضح رخ نہیں اپنا رہی ہے۔ پارٹی کے نائب صدر اننت دیو ورما نے کہا کہ ہم پہلے بھی این آر سی ریاست میں لاگو کرانے کے لئے مانگ کر چکے ہیں لیکن اب تک ریاست میں این آر سی کو لے کر کوئی ٹھوس کام نہیں کیا گیا ہے۔ این آر سی کا ایشو آتے ہی ریاست کے وزیر اعلیٰ ولپو دیو کی جائے پیدائش بھی چرچا میں آنے لگی۔ لوگوں کا سوال تھا کہ کیا ولپو دیو کی جائے پیدائش بنگلہ دیش میں ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *