فطری ذہانت سے مصنوعی ذہانت کا سفر ہے بہت دلچسپ

دنیا انسان کی فطری ذہانت یا انٹیلی جنس سے بخوبی واقف ہے۔ یہ وہ ذہانت ہے جو کہ تمام مخلوقات میں انوکھی ہے۔ اس نے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں اور مختلف شعبوں میںبڑی بڑی ایجادات اور تخلیقات کی ہیں ۔ مگر کمپیوٹر کے دور میںآرٹیفیشیئل انٹیلی جنس کی اصطلاح بالکل نئی اور انوکھی ہے۔ اس کا اچانک تذکرہ ہورہا ہے اور یہ موضوع بحث بن گئی ہے۔
آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس کو اردو میںمصنوعی ذہانت کہا جاسکتا ہے۔ اس کا ذکر پہلی مرتبہ اس وقت سناگیا جب متحدہ عرب امارات میںاس کی مخصوص وزارت کی تشکیل ہوئی اور اس کی ذمہ داری عمر سلطان الاولامہ کو دی گئی۔
یہ سوال فطری ہے کہ آخر آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس ہے کیا؟ کمپیوٹر کے دور میںنئی نئی تخلیقات اور ایجادات جو ہورہی ہیں اور ان سے جو نیا نیا ویژن وجود میںآرہا ہے، دراصل انھیںہی آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس کہا جارہا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس پر خصوصی توجہ سے کسی بھی ملک کے اندر تخلیقی صلاحیت کو ابھار کر اسے ترقی یافتہ بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ آرٹیفیشیل انٹیلی جنس مشہور سائنس داں سرآرتھر چارلس کلارک میں بھی دیکھی گئی تھی جنہوں نے اپنے ویژن کا استعمال کرکے دنیا کو آرٹیفیشئل سیٹلائٹ دیا جو کہ بعد میں ٹی وی،سوشل میڈیا اور اس سے منسلک ذرائع کے وجود میں آنے اور پھر بنی نوع انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے کا محرک بنی۔ کلارک کا یہ کارنامہ دنیا کے چند اہم ترین سائنسی کارناموں میں شمار ہوتا ہے جس نے دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کا یہ تجربہ اب دونوں ممالک آپس میںمل کر کریںگے۔ اس سلسلے میں27 جولائی کو ہندوستان کی انویسٹ انڈیا اورمتحدہ عرب امارات کی وزارت برائے آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس(مصنوعی ذہانت) کے باہمی تعاون کیلئے میمو(میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ) پردستخط ہونے سے ہندوستان اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان روابط وتعلقات کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا ۔ میموپردستخط انویسٹ انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اورسی ای او دیپک باگلا اورمتحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت برائے آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس عمرسلطان الاولامہ نے نئی دہلی میں واقع مشہورفائیواسٹارہوٹل اوبرائے میں منعقد ایک خصوصی تقریب میں کئے ۔

 

 

 

 

اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے کامرس، صنعت وسول ایویئشن سریش پربھو نے توقع کی کہ اس سے دونوں ملکوں کواس مخصوص شعبہ میں بھی ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا جبکہ دیگرشعبوں میں پہلے سے گہرے تعلقات وروابط برقرار ہیں۔ انہو ںنے یہ بھی کہاکہ متحدہ عرب امارات کی یہ وزارت دراصل ویژن فراہم کرنے والی وزارت ہے جس کی اسے ہی نہیں بلکہ سبھی کوضرورت ہے۔
متحدہ عرب امارات کے وزیرمملکت عمرسلطان الاولامہ نے کہاکہ کسی بھی ملک کی تخلیقی اورترقی کرنے کی صلاحیت کا دارومدار اس پرہوتاہے کہ وہ کس طرح آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس کواختیار کرتا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ آئندہ برسوں میں ڈاٹا اورپروسیسنگ ایجادات اورتجارتی ترقی کیلئے بنیادی عناصر ہوں گے اورزیادہ مؤثر وعمدہ سروس ڈیلیوری سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی بھی بنیں گے۔
انویسٹ انڈیا کے دیپک باگلا نے اظہارخیال کیاکہ دنیامیں سب سے تیزپھیلتا ہوا مارکیٹ معیشت والا ملک ہندوستان اپنے انسانی سرمایہ اور ایجادات ونئے آئیڈیاز اورمتحدہ عرب امارات اپنے کٹنگ ایج تکنیکوں کے گڑھ کے طورپر آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس کے میدان میں فطری شراکت دار ہیں۔انہوں نے امیدکی کہ آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس ہماری زندگی میں بڑاہی اہم کردار اداکرنے جارہاہے اور یہ شراکت داری صرف ہندوستان اورمتحدہ عرب امارات کے شہریوں کیلئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیاکیلئے حل پیش کرے گی۔توقع ہے کہ ہندوستان اورمتحدہ عرب امارات کی اس آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس میں شراکت داری سے آئندہ دہائی میں 20بلین امریکی ڈالر کے برابرمالی فائدہ ہوگا۔

 

 

 

 

اس موقع پر موجود نئی دہلی میں متحدہ عرب امارات کے کمرشیئل ایٹیچی اورمنسٹرپلینی پوٹینشیئری احمد سلطان الفلاحی نے فرمایاکہ اس معاہدہ سے دونوں ملکوں کومزیدقریب ہونے کا موقع ملے گا۔
عیاں رہے کہ اس مخصوص، اہم وغیرمعمولی شعبہ میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ میں متحدہ عرب امارات کی وزارت عظمیٰ (پی ایم او) میں ریسرچ انالسٹ (تحقیقی تجزیہ نگار) محترمہ ریم بگّاش کی خصوصی دلچسپی کودخل ہے۔انہو ںنے ’چوتھی دنیا‘ سے کہاکہ اس معاہدہ سے دونوں ملکوں کوانوویشن اورترقی میں بے انتہافائدہ ہوگا ۔یہ دریافت کرنے پرکہ آرٹیفیشیئل انٹیلی جنس آخر ہے کیا اوران کے ملک نے پوری دنیا میں تنہااس تعلق سے مخصوص وزارت آخر کیوں بنائی ہے، انہوں نے کہاکہ تخلیقی صلاحیتوںاورویژن کوابھارنے کیلئے یہ قدم اٹھایاگیاہے۔ان کا صاف طور پر یہ خیال ہے کہ کمپیوٹر کے اس دور میں تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے زبردست مواقع ہیں اور جب ایسا ہوگا تو پھر مالی طور پر اس ملک کو فائدہ بھی ہوگا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ ایک مسلم ملک متحدہ عرب امارات نے آرٹیفیشیل انٹیلی جنس میں خصوصی دلچسپی لے کر ہندوستان کے انویسٹ انڈیا سے معاہدہ کیا اور پھر دونوں ملک باہمی تعاون سے اس کا ز کو آگے بڑھا ئیںگے اور پھر دنیا کے دوسرے ممالک کے لئے یہ نظیر بنے گا۔ اس طرح سے فطری ذہانت سے آرٹیفیشئل ذہانت کا یہ سفر بہت ہی دلچسپ ہے۔ خالق کائنات نے جو فطری ذہانت دی ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ آرٹیفیشئل ذہانت کو فروغ دیا جائے اور دنیا میں انٹیلی جنٹ انقلاب بپا کیا جائے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *