ڈاکٹرثروت خان کی کتاب ’نقدثروت ‘پر مذاکرہ 

muzakrah
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شام شہریاراں کے تحت معروف تخلیق کارڈاکٹرثروت خان کی کتاب’ نقدثروت‘ پر مذاکرے کاانعقاد کیا گیا ۔اس پروگرام کی صدارت مہاتما گاندھی نیشنل ہندی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلراور ہندی کے معروف ادیب وناقد وی این راے نے کی ۔اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں انہوں نے کہا کہ میں ثروت خان کو مبارک باد دیتاہوں۔ان کا ناول اندھیرا پگ بہت معروف ہوا اور ایک اہم موضوع کی طرف ناول نے پوری ادبی دنیا کی توجہ مبذول کرائی ۔اندھیراپگ کے ذریعہ سے ہی میں ان سے متعارف ہواتھا۔ ثروت خان تخلیق سے تنقید کی طرف بھی آئیں اور یہ تنقیدپربھی اچھا کام کررہی ہیں ۔اس بات پر میں بہت خوش ہوں کہ ثروت خان نے تمام مقررین کی باتیں سنیں اور اس پر عمل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ۔ان کایہ تحمل بتاتا ہے کہ یہ تنقید کی دنیا میں بھی دور تک سفر کریں گی ۔
مہمان ذی وقار کے طور پر پروگرام میں موجود الٰہ آباد یونیورسٹی کے استاذ پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ کو مبارک باد پیش کرتاہوں کہ یہ بہت اچھی کتابوں پر مذاکرے منعقد کراتے ہیں۔ تنقید کا زبردست المیہ یہ ہے کہ نقاد معاصر تخلیقی ادب پر غور نہیں کرتے نہ پڑھنے کی زحمت کرتے ہیں۔میں بھی ثروت کو بنیادی طور پر تخلیق کار مانتاہوں۔ نسائی ادب کا مطلب یہ ہے کہ وہ ادب جو عورتیں لکھ رہی ہیں۔ سماج بدل رہاہے سب کچھ بدل رہاہے تانیثیت بھی بدل رہی ہے۔ نسائی تنقید کے ذریعے ادب لکھنے والی پرانی خواتین کو بھی دیکھنا چاہیے۔ تانیثی تنقید تنقید کی ایک قسم ہے، ایک زاویہ تنقید ہے، عورت ومرد دونوں کے تال میل سے دنیا آگے بڑھتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے حریف نہیں حلیف ہیں۔ یہ کتاب سنجیدہ بحث کو کتنا آگے بڑھائے گی یہ وقت طے کرے گا۔
ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ ثروت بنیادی طورپرتخلیق کار ہیں، جس سنگلاخ زمین سے ثروت تعلق رکھتی ہیں، وہاں سے آٹھ کر یہاں تک پہنچنا قابل ستائش ہے۔ ثروت کی تنقیدی تحریروں کو تخلیقی تنقیدکانام دینا چاہیے ۔ مجھے لگتاہے کہ ثروت کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے پربھی زور دینا چاہیے۔
صدرشعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ ثروت خان کا پورا ادبی سفر دو دہائیوں پر مشتمل ہے۔یہ اکیسویں صدی کی تخلیق کار ہیں اور بہت جلد ادبی دنیا میں اپنا مقام حاصل کیاہے۔ڈاکٹر ثروت خان کا یہ دوسرا تنقیدی مجموعہ ہے، ثروت ادب پر بہت گہری باتیں کرتی ہیں اور بہت غور وفکر کیساتھ لکھتی ہیں۔میں دعاکرتاہوں کہ ثروت خان کی اگلی کتاب اس سے بھی بہتر آئے۔
ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ ثروت خان کے اسلوب کا میں مداح ہوں۔ لیکن اپنی تنقید میں ثروت تھیوریز پہلے قائم کرتی ہیں، بعد میں مضمون لکھتی ہیں،جو قرین قیاس نہیں ہے۔ یہ مان لینا کہ عورتوں کے ساتھ عصبیت ہی ہوتی ہے، درست نہیں ہے۔ ویسے تو اس دور میں کسی نہ کسی طور پر سب کے ساتھ عصبیت ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تخلیق نگار ثروت خان تنقید نگار ثروت سے بہت آگے ہیں۔پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ میں ثروت خان کی صلاحیتوں سے واقف ہوں۔ ثروت نے کافی اچھے مضامین لکھے ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ ثروت نے تنقید بھی کی ہے۔لیکن ان کی تخلیقات کا اثر ادبی حلقوں پر زیادہ ہے ۔اس طرف انہیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ اردو میں بحیثیت ناقد خواتین کم ہیں۔ ایسے میں ثروت خان کے دو تنقیدی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں روشن خیالی کی جوسطح تھی۔ اس سے ہم پیچھے ہوگئے ہیں ۔ اس اکیسویں صدی میں رشید جہاں،عصمت جیسی روشن خیال نہیں پائی جاتی ہیں۔ آج روشن خیالی کٹہرے میں کھڑی کردی گئی ہے۔ جدید ٹکنالوجی کا نقصان چہار سو پھیلاہواہے۔ تانیثیت کا بنیادی مقصد ایسے معاشرے کی تشکیل ہے۔ جہاں مساوات ہو، کسی بنیاد پر عصبیت نہ ہو۔ اس کتاب میں تانیثیت کے انہی بنیادوں اصولوں پر گفتگو کی گئی ہے۔
پروفیسر خواجہ اکرام نے کہا کہ نقد ثروت کے کئی مضامین قابل گفتگو ہیں۔ فن خطاطی پر جومضمون ہے، وہ قابل تعریف مضمون ہے۔ عربی، اردو اورفارسی نے فن خطاطی کو بہت آگے تک پہنچایاہے۔ اردو میں اب تک ڈیکوریٹو فاونٹ کی کمی ہے، اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ خطاط کو ہمارے معاشرے میں عزت ملنی چاہیے۔مجھے لگتا ہے کہ ثروت کو تحفظات سے پرہیز کرنا چاہیے اور تنقید میں بھی اپنے مخصوص انداز کے مطابق کام لیناچاہیے ۔اس موقع پرڈاکٹر عذرا نقوی نے ثروت خان کی کتاب نقد ثروت پر منظوم کلام پیش کیا۔
کتاب نقد ثروت کی مصنفہ ڈاکٹر ثروت خان نے کہاکہ مجھے چیلنج قبول کرنا اچھا لگتا ہے۔ آپ حضرات جو کچھ کہہ رہے ہیں انہی باتوں کو پیش نظر رکھ کرمیں آگے بڑھنے کی کوشش کروں گی۔میرے لیے دلی اور غالب انسٹی ٹیوٹ آنابڑے اعزاز کی بات ہے میں علمی روشنی لے کر جارہی ہوں۔آپ سب کا بہت شکریہ کہ آپ نے میری کتاب کو اس لائق سمجھا اور اس پر مذاکرہ منعقدکیا اور گفتگو کی ۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کایہ جلسہ جو شام شہر یاراں کے نام سے مشہور ہے وہ اب ہماری ادبی اور تہذیبی زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ہم نے صرف شام شہریاراں کے موقع پر پچاس سے زیادہ اہم کتابوں کے مذاکرے کا انعقاد کیا ہے۔ مجھے بے انتہا خوشی ہورہی کہ آج ہم ڈاکٹر ثروت خان کی اہم تنقیدی کتاب ’نقد ثروت‘پر گفتگو کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ڈاکٹر ثروت خان تخلیق کار ہیں ،تنقیدنگار ہیں اور میں ان کی تنظیمی صلاحیتوں سے بھی متاثر ہوں ۔ان کی اس کتاب پر میں دل کی گہرائیوں سے انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ڈاکٹر رضاحیدر نے بین الاقوامی نسائی ادبی تنظیم اورخاص طورپر اس تنظیم کی صدر ڈاکٹر نگار عظیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جلسہ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس جلسہ کی نظامت نوجوان نقاد ڈاکٹر ابوظہیرربانی نے کی ۔اس مذاکرے میں دہلی کی تمام جامعات کے اساتذہ اور معززین شہر موجودتھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *