ایئرپورٹ پرمسلم خاتون سے بدسلوکی، کپڑے اتارکرچیک کیا گیاسینیٹری پیڈ

zainab
امریکہ میں ایک مسلم خاتون کے ساتھ عجیب وغریب بدسلوکی کا معاملہ سامنے آیاہے ۔امریکی شہر واشنگٹن میں ایئرپورٹ حکام نے 27 سالہ مسلمان لڑکی کی تضحیک کرتے ہوئے اسکریننگ کے دوران ان سے اپنے خصوصی ایام میں استعمال کیے جانے والے پیڈز دکھانے کا مطالبہ کیا، جس کی وجہ سے انہیں سخت ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
امریکہ میں ایک ایئرپورٹ کے ملازمین نے مسلم خاتون کی جانچ کے دوران اسے سینیٹری پیڈ دکھانے کیلئے مجبور کیا۔ 27سالہ مسلم خاتون زینب مرچنٹ کوسیکوریٹی جانچ کے دوران جم تلاشی لی گئی اوراسے پرائیویٹ سامان تک دکھانے کیلئے کہاگیا۔ معاملے سامنے آنے پر پرامریکہ اعلیٰ افسران میں ہڑکمپ مچ گیا۔زینب مرچنٹ نامی خاتون زیڈ آر اسٹوڈیوز کی سی ای اوہیں۔ یہ سیاسی وثقافتی سے متعلق ایک ملٹی میڈیا سائٹ ہے۔حالانکہ زینب مرچنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں ستمبر2016کے بعد سے کئی بار یوایس ایئرپورٹ پرسخت اورقابل اعتراض جانچ کا سامنا کرنا پڑاہے لیکن اس بار توساری حدیں پارہوگئی ہیں۔
ویب پورٹل پتریکاڈاٹ کام کے مطابق،زینب مرچنٹ نے میڈیا سے بات چیت میں کہاکہ ’’امریکہ میں مسلم شہری ہونے کے ناتے آپ کوکئی بار سخت چھان بین کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یوز(استعمال) کیا ہوا سینیٹری پیڈ دکھانے کیلئے انہوں نے کبھی نہیں سنا۔لیکن اس بار توایئرپورٹ پر ٹی ایس اے نے وہ پیڈ بھی دکھانے کیلئے کہا‘‘۔ زینب کا دعویٰ ہے کہ سیکڑوں لوگوں کی مجمع سے انہیں اس جانچ کیلئے کہاگیا اورپرائیویٹ روم میں لے جاکر ان کی تلاشی لی گئی۔
ویب پورٹل پتریکاڈاٹ کام کے مطابق،زینب نے اپنے اوپنین میں لکھاہے کہ ’جب میں ایئرپورٹ پرپہنچی تواس طرح کی سخت جانچ کیلئے پوری طرح سے تیارتھیں کیونکہ ہربار میری سخت جانچ کی جاتی ہے لیکن اس بار جوہوا مجھے اس کی امیدنہیں تھی۔‘ انہوں نے کہاکہ ’میں نے ٹی ایس اے افسروں کوبتایاکہ میں پریرےئڈ(ماہواری) سے ہوں اورمیں نے پیڈ پہنچا ہواہے۔ لیکن مجھے اسے ثابت کرنے کوکہاگیا‘‘۔ زینب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد انہیں اپنا پینٹ اورانڈرویئر اتارکر دکھانے کیلئے کہاگیا۔
27سالہ زینب کے ایک امریکی اخبار میں اس معاملے پر رائے لکھنے کے بعد ہڑکمپ مچ گیاہے۔ یہی نہیں، یہ معاملہ امریکہ کے سوشل میڈیا میں بھی جم کراچھلا ہے۔ ہاورڈ سے گریجویٹ 27سالہ زینب مرچنٹ زیڈ آراسٹوڈیوزکی سی ای او ہیں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ شایدزینب کا نام فیڈرل واچ لسٹ میں شامل ہے تبھی ان کی اس طرح سخت نگرانی کی جارہی ہے۔ اس پرزینب نے کہاکہ وہ ہوم لینڈ سیکوریٹی تک یہ جاننے کیلئے گئیں کہ ان کا نام فیڈرل واچ لسٹ میں کیوں ہے لیکن انہیں اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔ بتادیں کہ یوایس فیڈرل واچ لسٹ میں شامل لوگوں پرہروقت نظررکھی جاتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *