کانوڑ یاترا میں ہنگامہ کے خوف سے گاؤں کی مسلم آبادی نقل مکانی پرمجبور

khelam-village

اترپردیش کے بریلی میں ساون کے مہینے میں مسلمان اس طرح خوف میں ہے کہ ایک گاؤں میں پوری بستی خالی ہوگئی ہے۔خوف کے باعث لوگ اپنے گھروں میں تالاڈال کربستی چھوڑکرچلے گئے ہیں۔گھروں میں صرف بزرگ ہی بچے ہیں۔بتایاجارہاہے کہ مسلمان اپنا روزگاراورگھرچھوڑکرچلے گئے ہیں۔مسلمانوں کوڈرہے کہ کانوڑیاترا میں کوئی بوال، ہنگامہ ہوتاہے کہ انتظامیہ انہیں جیل بھیج دے گاجس کے باعث کھیلم گاؤں کے تمام مسلم کنبہ گاؤں چھوڑکرچلے گئے ہیں۔وہیں گاؤں میں ساون کے مہینے میں نکلنے والی کانوڑیاتراکودیکھتے ہوئے کثیرتعدادمیں تعینات کردیاگیاہے۔

دراصل، گذشتہ سال ساون کے مہینے میں بریلی کے علی گنج تھانہ علاقے کے کھیلم گاؤں میں کانوڑیاتراکے راستے کولیکرفرقہ وارانہ تنازعہ ہوگیاتھا۔اس کے بعد انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دونوں گروپوں کے لوگوں کے خلاف سنگین دفعات میں مقدمہ درج کیاتھا۔بتایاجارہاہے کہ سال گذشتہ یکطرفہ مسلمانوں کے خلاف کارروائی ہوئی تھی۔اس بار ساون مہینے میں کوئی خرافات نہ ہو، اس کے چلتے 445لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔گاؤں کے لوگوں پرغنڈہ ایکٹ 107-16اورریڈکارڈ بھی جاری کئے گئے ہیں۔جس کا اثریہ ہواکہ کارروائی کے ڈرسے گاؤں کے رہنے والے مسلمان بستی چھوڑکرچلے گئے ہیں۔

 

 

 

پچھلے سال کے واقعے سے سبق لیتے ہوئے اس مرتبہ سخت الرٹ دیا تھا کہ کوئی شرارت نہیں ہونی چاہئے۔ مسلم اکثریتی اس گاؤں کے زیادہ گھرو ں میں تالا لٹکا ہوا ہے۔ لوگ کم اور پولیس کی وردی میں جوان زیادہ نظر آرہے ہیں۔پولیس کے ریڈ کارڈ نوٹس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے 150 سے زیادہ کنبہ اپنے۔ اپنے گھروں پر تالا لگاکر چلے گئے۔ انہیں ڈر ہے کہ گاؤں سے گزرنے والی کانوڑ یاترا میں اگر کچھ ہنگامہ ہوا تو الزام ان پر لگے گا۔ جمعرات کو یہاں بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں کانوڑ یاترا گزری۔ گاؤں کی گلیوں میں ہر جانب خاکی وردی میں پولیس کے جوان نظر آ رہے تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *