40 لاکھ آسامی باشندوں کی شہریت پر شک نہ کیا جائے:مفتی مکرم

mufti-mukarram-ahmed
شاہی امام مسجد فتحپوری دہلی مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد صاحب نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں فرمایا کہ مذہب اسلام میں حقوق کی حفاظت کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ حضور ؐ نے بلا امتیاز مذہب و ملت ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے۔ حضور نے فرمایا کہ ایک شخص نے پیاسے کتّے کو پانی پلایا وہ عمل بھی قبول ہوا اور اس شخص کی مغفرت ہوگئی، لہٰذا ہمیں بھی مذہب اسلام کی تعلیمات کو اپنانے اورانہیں عام کرنے کی ضرورت ہے۔ شاہی امام نے آسام میں این آرسی فہرست میں دھاندلیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فرقہ پرستوں کی سازش سے تعبیر کیا اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس فہرست کو درست کرایا جائے اور 40 لاکھ آسامی باشندوں کی شہریت پر شک نہ کیا جائے۔ آپ نے کہا جن غیر ذمہ دارافسران و کارکنان نے اسے تیار کیاہے ان کی بھی جواب دہی طے ہونی چاہیے اور آئندہ فرض شناس ذمہ دار کارکنان کی نگرانی میں اسے جلد از جلد درست کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ سابق صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے خاندان کے کچھ افراد کا نام بھی این آرسی سے خارج کردیا گیا جو مستقل آسامی باشندے ہیں۔ اس جیسی اور بھی مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہریوں کو غیر ملکی بتانا اور شہریت سے محروم کرنا غیر قانونی عمل ہے جو ہرگز کامیاب نہیں ہوگا، ایسی سازش کے خلاف ہم ہرگز خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔شاہی امام نے کہا کانوڑ یاتریوں کے ساتھ مسلم تنظیموں کی طرف سے تعاون ایک اچھا عمل ہے۔ مسافروں کی خدمت مذہب اسلام میں پسندیدہ عمل ہے اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوگا۔ مسلمانوں کی اس طرح کی لاکھوں مثالیں ہیں کہ انہوں نے بلا امتیاز مذہب ضرورت مندوں کے ساتھ تعاون کیا ہے جس کو فرقہ پرست بھلا نہیں سکیں گے۔ انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی نفرت اور فرقہ پرستی کی شدید مذمت کی اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
شاہی امام صاحب نے وزارت اقلیتی امور اور حج کمیٹی آف انڈیا سے پُرزور اپیل کی ہے کہ عازمین حج جو سعودی عرب میں پریشانی محسوس کر رہے ہیں اس کے تدارک کے لیے افسران کو ہدایت کی جائے کہ وہ حج ہاؤس سے باہر نکل کر عازمین کی قیام گاہوں پر جاکر ان کی ضرورتوں کو سنیں اور اس کا تدارک کریں۔ کارکنان کو خود جاکر سروے کرکے پریشانیوں کا تدارک کرنے کا حکم دیا جائے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *