جمعیۃ علماء ہند(م) کی جانب سے کیرالہ سیلاب متاثرین میں ریلیف کٹس تقسیم 

mahmood-madani
کیرالہ میں صدی کے سب سے زیادہ تباہ کن سیلاب متاثرین کے لیے جمعےۃعلماء ہند نے وسیع پیمانے پر ریلیف و بازآبادکاری کا کام شروع کردیا ہے۔جمعےۃ کے راحتی کاموں کا جائزہ لینے اور متاثرین کا دکھ بانٹنے کے لیے جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی اتوار کی شام کیرالہ پہنچے۔ مولانامدنی نے آج صبح کایم کلم کے تباہ حال علاقے کا دورہ کیا اور اپنے ہاتھوں سے متاثرین کے درمیان ریلیف کٹس تقسیم کیے۔اس موقع پرانھوں نے جمعےۃعلماء ہند اور اس کی یونٹوں کی طرف سے سردست کیرالہ کے لیے ایک کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان کیا،نیز کرناٹک کے ساحلی ضلع کورگ سیلاب متاثرین کے لیے علیحدہ15؍لاکھ روپیے جاری کیا ۔ ریلیف وراحت اور مرحلہ وار بازآبادکاری کے طور طریقوں کو منظم کرنے کے لیے مولانا مدنی کی سرپرستی میں سوموار کی صبح جامعہ حسنیہ کایم کلم میں ایک مشاورتی نشست بھی منعقد ہوئی جس میں جمعےۃ کی طرف سے کیرالہ میں ریلیف کمیٹیوں کے ذمہ داران، کیرالہ کے علمائے مدارس و مساجد بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔میٹنگ میں گھروں کی صفائی و مرمت، الیکٹرک و پلمبنگ ورک ، دوہزار گھروں میں ضروری ضروری استعمال کے سامان اور برتن وغیرہ کی تقسیم سے متعلق فیصلے کیے گئے ۔ میٹنگ میں ابتدائی مرحلے میں پانچ سو مکانات کی تعمیر کا خاکہ بھی پیش کیا گیا ۔اس میٹنگ میں ایک ریلیف کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس کے کنوینر مولانا سفیان نامزد ہوئے ۔
مولانا محمود مدنی نے سیلاب زدہ علاقے کے دورہ کے بعد کہا کہ کیرالہ میں مسلسل بارش او رندی کی طغیانی نے جو حالات پیدا کیے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں، لوگوں کی زندگیاں اجڑ گئی ہیں ، ایسی صورت حال ہے کہ کیرالہ میں دوبارہ زندگی کی آبادکاری ایک مشکل کام ہے ۔مولانا مدنی نے جمعےۃ علماء ہند کے کارکنان کی ستائش کی جو نہ صرف لوگوں تک ا شیائے خوردنی پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرر ہے ہیں بلکہ کشتیوں کے ذریعہ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات بالخصوص مساجد اور مدرسوں میں ٹھہرانے میں کامیاب ہوئے ۔مولانا مدنی نے اس موقع پرمتاثرین سے ملاقات کرکے صبر وشکر کی تلقین کی اور کہا کہ جو اس قیامت خیز سیلاب سے بچ گئے ان کو اللہ کا شکر اداکرنا چاہیے اورجنھوں نے اپنے اعزا و اقربا کو کھود یا وہ تقدیر الہی پرصابر ہوں۔ مولانا مدنی نے ملک بھر کے اہل خیر حضرات سے بھی اپیل کی کہ وہ متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن دست تعاون بڑھائیں ، انھوں نے حدیث پاک ’’ الخلق عیال اللہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمعےۃعلماء ہند بلاتکلیف مصبیت زدوں کی مدد کرتی ہے ۔چاہے ملک کے کسی گوشے میں کسی انسان کے ساتھ تکلیف ہو ہم اللہ کی رضا کے لیے ان کی مدد کرتے ہیں ۔
مولانا مدنی کے ہمراہ دورہ پر گئے جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتایا کہ ریاست کیرالا میں ریلیف کے 3 زون بنائے گئے ہیں:(۱)ساوتھ زون کا مرکز جامعہ حسنیہ کایم کلم کو بنایا گیا ہے،جس کے ذمہ دار مولانا سفیان اور مولانا سہیل ہیں۔(۲)سنٹرل زون کا مرکزجامعہ کوثریہ آلوا( یر ناکولم ڈسٹرکٹ )کو بنایاگیا ہے جس کے ذمہ دار مولانا ابراہیم ، مولانا ز کریا، افضل سیٹھ ہیں (۳) نارتھ زون کے ذمہ دارمولانا مصعب اور مولانا مجیب ہیں۔انھوں نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں بازآبادکاری کے لیے پلمبر، کارپینٹر اور الیکٹریشن کی ضرورت ہے ۔جس کی بھرپائی کے لیے کل تک کرناٹک سے 100،تامل ناڈو سے 50اور بہار سے 50 رضا کار پہنچ رہے ہیں۔
مولانا محمود مدنی کے ساتھ وفد میں جمعےۃ علماء کرناٹک ، جمعےۃ علماء تامل ناڈو اور کیرالہ کے ذمہ دار حضرات بھی شریک تھے ، کرناٹک سے مولانا مفتی افتخار احمد صدر جمعےۃ علماء کرناٹک ، مولانا شمس الدین بجلی ناظم اعلی، حافظ سید عاصم عبداللہ ، تنویر احمد شریف ،تفہیم اللہ معروف تامل ناڈو سے مولانا خطیب احمد سعید باقوی ناظم اعلی جمعےۃ علما ء کرناٹک ، مولانا صہیب، رفیق جلال، مولانا احمد عذیروغیرہ شریک تھے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *