آسام شہریت معاملہ :طریقہ کارپر فریقین کا موقف جاننے کے بعد ہی عدالت دیگی فیصلہ 

maulana-syed-arshad-madni
آج سپریم کورٹ میں جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ایف نریمن پر مشتمل دورکنی بینچ کے سامنے آسام این آرسی مقدمات کی سماعت ہوئی جمعیۃعلماء ہند ، آمسو، کی طرف سے سینئر وکیل اندراجے سنگھ اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید وکیل آف آن ریکارڈ فضیل ایوبی کے ساتھ میں آسام ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ مصطفی خدام حسین اور ایڈوکیٹ عبدالصمد پیش ہوئے ، بینچ نے این آرسی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جو طریقہ کار (SOP) کلیم اور آبجکشن کے لئے بھارت سرکار نے داخل کیا ہے اس سے متعلق مقدمہ میں شامل تمام فریقین اپنی رائے کااظہارکریں، قابل ذکر ہے کہ یہ طریقہ کار(SOP)حکومت ہند ، حکومت آسام ، سپریم کورٹ کے نامزدکرہ اسٹیٹ کوآڈینیٹر پرتیک ہزیلااور رجسٹرارجنرل آف انڈیا نے مل کر پیش کیا ہے ۔
کورٹ نے یہ وضاحت فرمائی کہ آل آسام اسٹوڈینٹ یونین اور آل آسام مائنورٹی اسٹوڈینٹ یونین اور جمعیۃعلماء ہند اور دیگر پٹیشنر ہی اپنے رائے کا اظہار کریں اور تمام لوگوں نے اس کو مان بھی لیا ، لہذا کورٹ نے یہ آڈر کیا کہ اس (SOP)سے متعلق تمام لوگ 25؍اگست تک اپنے اپنے حلف نامے کورٹ میں داخل کریں، ان حلف ناموں پر غورکرنے کہ بعدآئندہ 28؍اگست کو اس پر سنوائی ہوگی۔ جمعیۃعلماء ہند دیگر فریقین کے وکلاء کا یہ کہنا ہے کہ اس (SOP)کے ابتدائی مطالعہ کے بعد یہ چاراہم باتیں ہمارے سامنے آئی ہیں جن میں ہم ترمیم کی درخواست کریں گے۔ اول یہ کہ SOPمیں یہ لکھا ہوا ہے کہ این آرسی میں درخواست دینے کی آخری تاریخ 31؍اگست 2015 تھی لہذا ہرقسم کے شہریت سے متعلق ڈاکومینٹ 21؍اگست 2015کے ہی منظور ہونگے گویا کہ ایک نئی کٹ آف ڈیٹ تصورکرلی گئی ہے ، جس پر ہمیں تامل ہے ہم یہ چاہتے ہیں کہ جب ہماری سنوائی ہو تو اس تاریخ تک جو بھی قانونی دستاویز لوگوں کو میسر ہوں ان سب کو داخل کرنے کی اس کو اجازت حاصل ہو۔ دوسری چیز سٹیزن شپ ایکٹ 1955کا سیکشن 17کا یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص غلط بیانی سے کسی ملکی کو غیر ملکی کہتا ہے تو اس کے اوپر پچاس ہزار روپے کا جرمانہ یا پانچ سال کی سزاہے لیکن اس SOPمیں اس التزام کی منشاء کے خلاف یہ کہا گیا ہے کہ کوئی بھی آبجکشن کسی بھی شخص سے متعلق کوئی بھی کرسکتا ہے اور اگر اس کا آبجکشن جھوٹا پایا جائے گا تو اس کے اوپر کوئی جرمانہ عائد نہیں کیاجائے گا ،ہمارے وکلاء کا ایسا ماننا ہے کہ اس طریقہ کارکی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اپنی ذاتی دشمنی نکالنے کا ایک موقع مل جائے گا ، کیونکہ اگر اس کا دعویٰ سچا ہے تو وہ نہیں ڈرے گا اگر وہ دعویٰ جھوٹا کررہا ہے تو اس کیلے کوئی سزا نہیں ہوگی ، اس عمل کی وجہ سے پوری این آرسی کے عمل کا توازن بگڑ سکتاہے ، اس لئے وکلاء کاماننایہ ہے کہ سیکشن 17 جو سٹیزن شپ 1955کا ہے اس کو باقی رکھاجائے وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ قانونی امداد فراہم کرنے کیلئے N.S.Kمیں لیگل ایڈ کلینک کھولی جائے تاکہ غریب اور ان پڑھ لوگوں کی قانونی مددکی جاسکے پھر یہ کہ SOPمیں 14سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے جن کے نام نہیں شامل ہوئے ہیں ان کے لئے کچھ سہولتیں فراہم کی گئی ہیں وکلاء کا ماننا ہے کہ یہی سہولتیں 14سال کی جگہ 18سال کی عمر تک کردی جائیں مکمل مطالعہ کے بعد کچھ اور باتیں بھی سامنے آسکتی ہیں جن میں ترمیم کی درخواست کی جاسکتی ہے ، واضح ہوکہ پچھلی سماعت میں ان لوگوں کے لئے جن کا نام این آرسی میں نہیں ہے حکومت سے نیا طریقہ کار تیارکرنے کو کہا تھا اور یہ بھی ہدایت کی تھی کہ اس طریقہ کار کو نافذ کرنے سے پہلے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے چنانچہ اس کی بنیادپر ہی آج عدالت نے اپنا یہ فیصلہ دیا ہے کہ تمام فریقین اس پر اپنا موقف عدالت کے سامنے حلف نامہ کی شکل میں پیش کریں
جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی نے آج کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ آج بہت امید افزابات یہ ہوئی ہے کہ فاضل عدالت نے این آرسی سے متعلق طریقہ کار تمام فریقین کو اپنی بات رکھنے اور رائے کا اظہار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ آسام شہریت کے معاملہ کولیکر عدالت بے حد سنجیدہ ہے ، مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے وکلاء طریقہ کارکے مسودہ کا گہرائی سے مطالعہ کرکے عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھیں گے امید کی جانی چاہئے کہ فریقین کی طرف سے جو اعتراضات ہوں گے ان کے مطابق عدالت کی ہدیت پر طریقہ کار کے متن میں تبدیلی لائی جائے گی ، انہوں نے کہا کہ آسام شہریت کا معاملہ بے حد حساس اور اہمیت کا حامل ہے اس لئے ملک کے تمام انصاف پسند بالخصوص اقلتیں سپریم کورٹ کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے کیونکہ انہیں اس بات کا مکمل یقین ہے کہ عدالت کے فیصلہ سے متاثرین کو راحت ملے گی اور وہ حقیقی شہری ہوتے ہوئے بے وطن ہونے سے بچ جائیں گے ، واضح ہوکہ آج سماعت کے دوران جمعیۃعلماء صوبہ آسام کے صدرمولانا مشتاق عنفر اپنے رفقاء اور وکلاء کی ٹیم کے ساتھ عدالت میں موجودتھے ، انہوں نے بھی آج کی پیش رفت پر مسرت کا اظہا رکیا ہے ۔باور ہوکہ جمعیۃعلماء صوبہ آسام بھی اس معاملہ میں ابتداء ہی سے پورے اخلاص کے ساتھ سرگرم عمل ہے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *