مہاراشٹر: شیو سینا نے اٹھایا مسلم ریزرویشن کا ایشو

مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا معاملہ مہاراشٹر میں ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اس مرتبہ اس معاملے کو بحث میں لانے والے والے کوئی مسلم لیڈر ، تنظیم یا پارٹی نہیں بلکہ مہاراشٹر کی شیو سینا ہے جس کے صدر ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی ریاستی حکومت سے پوچھا ہے کہ جون 2014 میں کانگریس نے ریاست میں مسلمانوں کی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے تعلیم اور ملازمت میں پانچ فیصد ریزرویشن اور مراٹھا کے لئے 16فیصد ریزرویشن دینے کی قرار داد پاس کیا تھا ۔اس قرار داد پر 14 نومبر 2014 کو بمبئی ہائی کورٹ نے مراٹھا کے لئے ریزرویشن اور مسلمانوں کی نوکری میں ریزرویشن پر اسٹے لگا دیا تھا لیکن مسلمانوں کے لئے تعلیم میں پانچ فیصد ریزرویشن کو برقرار رکھا تھا، اس فیصلے کو مہاراشٹر اسمبلی میں مسترد کیوں کیا گیا؟۔
ادھو ٹھاکرے کی اس صاف گوئی اور حق بیانی پر ہر طرف سے ستائش ہورہی ہے ۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم )نے شیو سینا کے اس موقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے دیوندر فڑنویس کی سرکار کے رویے کی مذمت کی ہے۔مجلس کے ایم ایل اے امتیاز جلیل کا کہنا ہے کہ شیو سینا کا یہ موقف ایک مثبت ڈیولپمنٹ ہے جو کہ بی جے پی کے لئے ایک اشارہ ہے کہ وہ آنے والے الیکشن میں مسلمانوں کے عتاب سے بچنے کی راہ تلاش کریں ۔خاص طورپر بی جے پی کے وہ لیڈر جو مسلمانوں کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں مسلم طبقے کے بہت سے نوجوان جو تعلیمی میدان میں پچھڑ جانے کی وجہ سے مشقت بھرا کام کرنے پر مجبور ہیں، ریزرویشن ملنے کی صورت میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرکے خوشحال زندگی جی سکتے ہیں۔
ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے بعد بی جے پی کی مسلمانوں کے خلاف حکمت عملی صاف نظر آنے لگی ہے۔ پہلے حکومت نے مہاراشٹر میں گائے،بیل،بچھڑوں کے گوشت پر مکمل پابندی عائدکی اوراب ریاست میں رہنے والے مسلمانوں پر تعلیم اور ملازمتوں کے دروازے بھی بند کر دیئے۔دراصل جہاں بھی بی جے پی کی حکومت ہے وہاں مسلمانوں کو پسماندہ بنا کر رکھنے کی کوشش جاری ہے ۔مہاراشٹر حکومت نے تومسلمان سمیت دیگر تمام اقلیتوں کے معاملات میں گویا کہ آنھیں بند کرلی ہے ۔
وزیر اعظم کے 15 نکاتی پروگرام کے تحت جو ادارے قائم ہوئے ہیں، ان کے متعلق حکو مت مہاراشٹر کا رویہ متعصبانہ ہے۔مثال کے طور پر اس 15 نکاتی اسکیم کے نفاذ کے لئے ایک اہم ادارہ مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن ہے۔ اس ادارہ کا مقصد اقلیتی طبقات کے افراد کو کاروبار ،تعلیم کے لئے قرض فراہم کرناہے مگر جب سے یہاں بی جے پی سرکار قائم ہوئی ہے فعال افسران کے فقدان کی وجہ سے یہ ادارہ بحران اور تعطل کا شکار ہے۔

 

 

 

 

اگر مہاراشٹر اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن جس کو سول عدالت کا درجہ حاصل ہے، کو لیا جائے تو اس کی حالت بھی ابتر بنی ہوئی ہے۔ اس میں دس ممبروں کی جگہ عرصہ سے خالی ہے ، اس پر کسی کی تقرری نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے کام جاج سست رفتار ہے۔ کمیشن کا سالانہ بجٹ ایک کروڑ روپے ہے۔ کمیشن کی نگرانی میں کئی اسکیمیں نافذ کی جاتی ہیں۔خاص طور پرکمیشن اقلیتوں کی شکایت کی سماعت کرتا ہے اور سرکاری محکموں کو ان شکایات پر ہدایات جاری کرتاہے۔مگر ممبران کے نہ ہونے کے سبب یہ تمام کام ٹھپ پڑے ہوئے ہیں۔
اسی طرح مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کے تحت ایک لاکھ ایکڑ وقف املاک ہیں۔یہ ادارہ انتہائی خراب حالت میں ہے۔مگر حکومت کی دلچسپی اس ادارے کی سدھار میں کم سے کم دکھائی دے رہی ہے اور اسی وجہ سے وقف بورڈ کے حالات سدھر نہیں رہے ہیں۔وقف لینڈ مافیا پورے طور پر سرگرم ہیں اور یہی مافیا وقف میں کسی مضبوط ایماندار آفیسر کی تقرری نہیں ہونے دیتے ہیں ۔یہاں عرصہ سے سی ای او کا عہدہ خالی رہا ۔بتایا جاتا ہے کہ اس تقرری میں یہی وقف زمین مافیا گروپ رکاوٹ بنا ہوا رہا۔
مسلمانوں کی تعلیمی تشنگی بجھانے کے لئے 1975 میں مہاراشٹر اسٹیٹ میں اردو اکیڈمی کی تشکیل ہوئی تھی۔ تب اس کے ممبران کی تعداد 12 تھی۔لیکن دھیرے دھیرے یہ ملازمین کم ہوتے چلے گئے۔ جو بھی ریٹائر ہوئے ان کی جگہ کسی نئے اردو داں کو نہیں لایا گیا۔ اردو اکیڈمی میں گنتی بھر اسٹاف باقی رہ گئے ہیں۔ یہ اسٹاف بھی ما ئنارٹی ویلفیئر ڈپارٹمنٹ ، جی اے اور دیگر محکموں سے سرکاری ملازمین کواردو اکیڈمی میں ٹرانسفر کرکے فراہم کیا گیاہے۔ اردو اکیڈمی کی جو بری حالت ہے اس سے بھی حکمراں لاتعلق ہیں۔نتیجتاً یہ ادارہ آج زبوں حالی کا شکار بنا ہوا ہے۔
ظاہر ہے جب کسی ریاست میں کسی مخصوص طبقے کو تعلیم و معاش میں پیچھے رکھنے کی سازش کی جارہی ہو اور وہ طبقہ پیچھے رہ گیا ہو تو اس میں جرائم کا اوسط بڑھ جاتا ہے ۔غالباً یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر کی جیلوں میں دیگر طبقوں کی بہ نسبت مسلمان قیدی کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں ہر تین میں سے ایک مسلمان جیل میں قید ہے۔اس رپورٹ سے ریاست کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا رویہ روا رکھتی ہے۔
ریاست مہاراشٹر کے اقلیتی کمیشن کے ایک سروے کے مطابق ریاست مہاراشٹر میں دس اعشاریہ چھ فیصد مسلمان آباد ہیں اوران میں ہر تیسرا مسلمان جیلوں میں قید ہے ۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان قیدیوں میںسے بیشتر کی مالی حالت اتنی کمزور ہے کہ وہ ضمانت کی رقم جمع کرکے رہا ہونے کی گنجائش نہیں رکھتے ہیں۔ اس بات کا اعتراف مہاراشٹر کے سابق ڈی جی پی سنجیودیال کرچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں کی اقتصادی کمزور ضمانت پر رہا ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
یہ تمام صورت حال صرف اس لئے پید اہورہی ہے کہ مسلمان تعلیم اور اقتصادیات دونوں میں دیگر طبقوں سے بہت پیچھے ہیں۔ اس کی شہادت سچر کمیٹی روپرٹ نے تو پہلے ہی تھی اور اسی کمزوری کو بنیاد بنا کر بمبئی ہائی کورٹ نے انہیں تعلیم میں پانچ فیصد ریزرویشن دینے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے بعدریاست مہاراشٹر میں پھر ایک کمیٹی سابق آئی اے ایس آفیسر محمود الرحمن کی قیادت میں ’محمود الرحمن کمیٹی ‘ قائم کی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی رپورٹ سابق وزیر اعلیٰ ولاس رائو دیشمکھ کے دور میں حکومت کو پیش کردی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ریاست کے مسلمان دوسرے مذاہب کے لوگوں کے مقابلے میں ہر معاملے میں پیچھے ہیں۔

 

 

 

 

 

کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کا تعلیمی تناسب بہت کم ہے اور مہارشٹر میں ان کی اقتصادی حالت ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں تشویشناک ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مہاراشٹر میں ممبئی، بھیونڈی، ناسک اور مالیگاؤں میں 56 سے57 فیصد مسلمان ہی تعلیم یافتہ ہیں۔ پرائمری کی سطح تک تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والی مسلمانوں کی تعداد کالج پہنچنے تک 20 فیصد کم ہو جاتی ہے۔رپورٹ میں ایک اہم بات یہ بتائی گئی ہے کہ تعلیم کے بارے میں اب مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی ہے لیکن معاشی کمزوری اور دیگر سماجی مسائل کی وجہ سے وہ اعلی تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں جبکہ مقابلے کے اس دور میں ترقی کے لیے اعلی تعلیم کی ضرورت ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اردو میڈیم کے اکثر اسکولوں میں چھتیں ٹپکتی ہیں اور کئی جگہ بچے کھلے آسمان کے نیچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔رپورٹ میں مدارس کا بھی ذکر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے مسلمانوں کو’مین سٹریم‘ یا مرکزی دھارے میں لانے کے لیے مدارس کا نصاب تبدیل کرنا ضروری ہے یعنی ان میں ایسے مضامین شامل کیے جائیں جنہیں پڑھنے کے بعد طلباء کو ملازمت حاصل کرنے یا اعلی تعلیم کے حصول کے لیے کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
رپورٹ میں مسلمانوں کو اعلی تعلیم دلانے اور ان کے لیے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، آئی آئی ٹی اور دیگر تکنیکی کورسز کے لیے خصوصی انتظامات کی تجویز پیش کی گئی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پولیس محکمہ میں مسلمانوں کا فیصد کم ہوتا جا رہا ہے اس لیے انہیں مراٹھی کی تعلیم دلائی جائے۔
کمیشن کی رپورٹ میں ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،وہ یہ کہ ممبئی میں بننے والی بیشتر عمارتوں میں عام طور سے مسلمانوں کو مکانات نہیں دیے جاتے ہیں۔اس لیے ان کا اچھی کالونیوں میں حصہ مقرر کیا جائے۔ ان کی اقتصادی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے بھیونڈی اور مالیگائوں جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں پاور لوم صنعت کو ترقی دینے لئے لئے ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ کھولنے کی طرف بھی توجہ دی جائے۔اس رپورٹ کو پیش ہوئے عرصہ بیت گئے مگر کسی بھی سرکار نے اس کو لاگو نہیں کیا۔ بی جے پی کی سرکار مرکز میں تو ’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس ‘ کے نعرے کے ساتھ آئی ہے ، مگر وہ نعرے بس نعرے ہی بن کر رہ گئے۔ کیونکہ یہ پسماندگی مسلمانوں میں ہے اور بی جے پی مسلمان کو شاید ایسا ہی دیکھنا چاہتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *