مدھیہ پردیش انتخابات ابھررہی ہے نوجوان آدیواسی تنظیم

اگر سب کچھ نارمل رہا تو تین مہینے بعد مدھیہ پردیش میں انتخابات ہونے ہیں لیکن ادھر پہلی بار دونوں اہم پارٹیوں سے الگ ریاست کے آدیواسی طبقہ میں آزادانہ طور سے سیاسی سگبگاہٹ چل رہی ہے ۔’گونڈوانا گن تنتر پارٹی‘ تو پہلے سے ہی تھی جس کا کانگریس کو اقتدار سے باہر کرنے میں اہم رول مانا جاتا ہے۔ اب جیاس ’’ جے آدیواسی یوا شکتی ‘‘ جیسی تنظیم بھی میدان میں آ چکی ہے جو نظریات کی سطح پر زیادہ شارپ ہے اور جس کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔جیاس کی سرگرمی دونوں پارٹیوں کو بے چین کر رہی ہے۔ ڈیڑھ سال پہلے آدیواسیوں کے عہدیداروں کی مانگ کے ساتھ شروع ہوئی یہ تنظیم آج ’اب کی بار آدیواسی سرکار ‘‘ کے نعرے کے ساتھ 80 سیٹوں پر انتخابات کی تیاری کررہی ہے۔ جیاس کے ذریعہ نکالی جارہی ’’ آدیواسی آدھیکار سنرکشن یاترا‘‘میں امڈ رہی بھیڑ اس بات کا اشارہ ہے کہ بہت ہی کم وقت میں یہ تنظیم ریاست کے آدیواسی سماج میں اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہی ہے۔ جیاس نے لمبے وقت سے مدھیہ پردیش کی سیاست میں اپنا وجود تلاش رہے آدیواسی سماج کوزبان دینے کا کام کیا ہے۔ آج اس چیلنج کو کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیاں محسوس کر پا رہی ہیں۔ شاید اسی لئے جیاس کے قومی سرپرست ڈاکٹر ہیرا لال الاوا کہہ رہے ہیں کہ آج آدیواسیوں کو ووٹ بینک سمجھنے والوں کے خواب میں بھی اب ہم دِکھنے لگے ہیں۔ آدیواسی ووٹروں کو سادھنے کے لئے آج دونوں ہی پارٹیوں کو نئے سرے سے پالیسی بنانی پڑ رہی ہے۔ شیو راج اپنے پرانے ہتھیار ’’ اعلانات ‘‘ کو آزما رہے ہیں تو وہیں کانگریس آدیواسی علاقوں میں اپنی سرگرمی اور گٹھ بندھن کے سہارے اپنے پرانے ووٹ بینک کو واپس حاصل کرنا چاہتی ہے۔
آدیواسی آبادی
مدھیہ پردیش میں آدیواسی آبادی 21 فیصد سے زیادہ ہے۔ اسمبلی کی 230 سیٹوں میں سے 47سیٹیں آدیواسی طبقہ کے لئے ریزرو ہے۔ اس کے علاوہ قریب 30 سیٹیں ایسی مانی جاتی ہیں جہاں کافی تعداد آدیواسیوںکی آبادی ہے۔ 2013 کے اسمبلی انتخابات میں آدیواسیوں کے لئے ریزرو 47سیٹوں میں بی جے پی کو 32 اور کانگریس کو 15 سیٹیں ملی تھیں۔دراصل مدھیہ پردیش میں آدیواسیوں کو کانگریس کا روایتی ووٹر مانا جاتاہے لیکن 2003کے بعد سے اس صورت حال میں بدلائو آنا شروع ہو گیا جب آدیواسیوں کے لئے ریزرو 41 سیٹوں میں کانگریس کو محض 2سیٹیں ہی حاصل ہوئی تھیں۔ جبکہ بی جے پی نے 34 سیٹوں پر قبضہ جما لیا تھا۔ 2003 کے انتخابات میں پہلی بار ’گونڈوانا گن تنتر پارٹی‘ نے بھی اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی تھی جو کانگریس کے اقتدار سے باہر ہونے میں ایک اہم وجہ ہے۔
موجود وقت میں دونوں ہی پارٹیوں کے پاس کوئی ایسا آدیواسی لیڈر نہیں ہے جس کی پوری ریاست میں عوامی مقبولیت ہو ۔ جمنا دیوی کے جانے کے بعد سے کانگریس میں بااثر آدیواسی قیادت نہیں ابھر پائی ہے ۔پچھلے انتخاب میں کانگریس نے کانتی لال بھوریا کو ریاستی کانگریس کمیٹی کا صدر بنایا تھا لیکن وہ اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہے، خود کانتی لال بھوریا کے پارلیمانی حلقے جھابوا میں ہی کانگریس سبھی ریزرو سیٹیں ہار گئی تھی۔
ویسے بی جے پی میں فگن سنگھ کولستے ، وجے شاہ، اوم پرکاش دُھروے اور رنجنا بگھیل جیسے لیڈر ضرور ہیں لیکن ان کا بڑا اثر دیکھنے کو نہیں ملتاہے، ادھر آدیواسی علاقوں میں بی جے پی لیڈروں میں لگاتار اختلاف کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں جس میں مودی سرکار کے سابق وزیر فگن سنگھ کولستے اور شیوراج سرکا رمیں وزیر اوم پرکاش دھورے شامل ہیں۔ ایسے میں جیاس کے چیلنج نے بی جے پی کی بے چینی کو بڑھا دیا ہے اور کانگریس بھی محتاط نظر آرہی ہے۔
2013 میں ڈاکٹر ہیرا لال الاوا کے ذریعہ جے آدیواسی یو شکتی (جیاس ) کی تشکیل ہوئی تھی جس کے بعد اس نے بہت تیزی سے اپنے اثر کو قائم کیا ہے۔ پچھلے سال ہوئے طلباء یونین انتخابات میں جیاس نے اے بی وی پی اور این ایس یو آئی کو بہت پیچھے چھوڑتے ہوئے جھابوا، بڑوانی اور علی راج پور جیسے آدیواسی اکثریتی اضلاع میں 162 سیٹوں پر جیت درج کی تھی۔ آج مغربی مدھیہ پردیش کے آدیواسی اکثریتی اضلاع علی راج پور ، دھار، بڑوانی اور رتن لام میں جیاس کی موجودگی لگاتار ہے ۔یہ علاقہ یہاں بی جے پی اور سنگھ پریوار کا گڑھ مانا جاتا تھا۔
دراصلجیاس کا نظریہ آر ایس ایس کی سوچ کے خلاف ہے۔یہ خود کو ہندو نہیں مانتے ہیں اور انہیں آدیواسیوں کو ونواسی کہنے پر بھی اعتراض ہے۔ خود کو ہندوئوں سے الگ ماننے والی یہ تنظیم آدیواسیوں کی روایتی ثقافت کے تحفظ اور ان کے حقوق کے نام پر آدیواسیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے میں لگی ہے۔ یہ تنظیم آدیواسیوں کی روایتی پہچان ، ثقافتی تحفظ اور ان کے حقوق کے ایشوز کو خاص طورپر اٹھاتی ہے۔

 

 

 

جیاس کی مانگیں
٭پانچویں شیڈول کے سبھی پروویژنوں کو پوری طرح سے لاگو کیا جائے ٭ون ادھیکار قانون 2006 کے سبھی پروویژنوں کو سختی سے لاگو کیا جائے٭جنگل میں رہنے والے آدیواسیوں کو مستقل پٹا دیا جائے٭ٹرائبل سب پلان کے پیسے شیڈول سیکٹروں کے مسائل کو دور کرنے میں خرچ ہوں۔’’جیاس ‘‘ کا بنیادی زور پانچویں شیڈول کے سبھی پروویژنوں کو لاگو کرانے میں ہے۔ دراصل ہندوستان کے پانچویں شیڈول کی دفعہ 244(1) کے تحت آدیواسیوں کو خصوصی اختیار دیئے گئے ہیں جنہیں سرکاروں نے لاگو نہیں کیا ہے۔
مدھیہ پردیش میں آدیواسی کی حالت خراب ہے، بچوں کی اموات اور قلت غذائی سب سے زیادہ آدیواسی اکثریتی اضلاع میںدیکھنے کو ملتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سرکار کی پالیسیوں کے سبب آدیواسی سماج اپنے روایتی وسائل سے لگاتار دور ہوتا گیا ، ڈیولپمنٹ پروجیکٹس کی وجہ سے وہ نقل مکانی کا درد جھیلنے کو مجبور ہوئے اور اس کے بدلے میں انہیں ڈیولپمنٹ کا فائدہ بھی نہیں ملا۔وہ لگاتار غریبی اور بھوک کے دلدل میں پھنستے چلے گئے ۔ ہندوستانی سرکار کے ذریعہ جاری رپورٹ آف دی ہائی لیبل کمیٹی آن سوشیو اکانومک ، ہیلتھ اینڈ ایجوکیشنل اسٹیٹس آف ٹرائبل کمیونیٹی 2014 کے مطابق قومی سطح پر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات 129 ہے، وہیں ریاست میں یہ اوسط 175 ہے۔ آدیواسی طبقے میں ٹیکا کرن کی حالت افسوسناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں 12سے 13 ماہ کے بچوں کے ٹیکا کرن کا اوسط 45.5 ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں یہ اوسط 24.6 ہے۔ ظاہر ہے سرکاروں کے ذریعہ لگاتار کی گئی نظر اندازی کے سبب ہی آج آدیواسی سماج غریبی اور قلت غذائی کی جکڑ میں ہے۔
دوسری طرف حالت یہ ہے کہ پچھلے چار سالوں کے دوران مدھیہ پردیش سرکار آدیواسیوں کی فلاح کے لئے الاٹ بجٹ میں سے 4800 کروڑ روپے خرچ ہی نہیں کر پائی ہے۔ 2015 میں کیگ کے ذریعہ جاری رپورٹ میں بھی آدیواسی اکثریتی علاقوں کی اسکیموں کے ختم کرنے کو لے کر سوال اٹھائے گئے تھے۔مذکورہ صورت حال نے جیاس تنظیموں کے لئے زمین تیار کرنے کا کام کیا ہے۔ اسی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیاس اب آدیواسی اکثریتی اسمبلی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کی تیاری میں ہے۔ اس کے لئے وہ آدیواسی گروپس کے بیچ اتحاد کی بات کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر الاوا کہتے ہیں کہ جیاس ایکسپریس کا طوفانی کارواں اب نہیں رکنے والاہے۔ ہم نے بدلائو کے لئے بغاوت کی ہے اور کسی بھی قیمت پر بدلائو لاکر رہیں گے۔ جیاس نے 29جولائی سے ’آدیواسی ادھیکار یاترا‘ شروع کی ہے جس میں بڑی تعداد میں آدیواسی طبقے کے لوگ جڑ بھی رہے ہیں۔ ظاہر ہے اب جیاس کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا ہے۔ آنے والے وقت میں اگر وہ اپنے اس رفتار کو بنائے رکھنے میں کامیاب رہے تو مدھیہ پدیش کی سیاست میںایک بڑا بدلائو دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

 

 

 

 

الجھن میں کانگریس اور بی جے پی
آدیواسی اکثریتی اضلاع میں جیاس کے لگاتار بڑھ رہے اثر کو دیکھتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی دونوں کے پالیسی ساز الجھن میں ہیں۔ حالت سدھارنے کے لئے بی جے پی پورا زور لگا رہی ہے۔ اس کے لئے شیو راج سرکار نے 9اگست’ آدیواسی دیوس‘ کو’ آدیواسی سمان دیوس‘ کی شکل میں منایا ہے جس کے تحت آدیواسی علاقوں میں بڑی سطح پر پروگرام ہوئے ہیں۔ اس موقع پر دھار میں منعقد ایک پروگرام میں خود وزیر اعلیٰ نے کئی سارے اعلانات کئے ہیں جن میں ریاست کے کل بجٹ کا 24فیصد آدیواسیوں پر ہی خرچ کرنے، آدیواسی سماج کے لوگوں پر چھوٹے موٹے معاملوں کے جو کیس ہیں انہیں واپس لینے، جن آدیواسیوں کا دسمبر 2006 سے پہلے تک جنگل کی زمین پر قبضہ ہے انہیں سرکار نے جن ادھیکار پٹا ددینے، جن جاتی ادھیکار سبھا کی تشکیل کرنے جیسے اعلانات کئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے جیاس پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ بھولے بھالے آدیواسیوں کو بہکا رہے ہیں لیکن ان کے بہکاوے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بی جے پی کے ذریعہ جیاس کے عہدیداروں کو پارٹی میں شال ہونے کا آفر بھی دیا جاچکا ہے جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔ ڈاکٹر ہیرا لال الاوا نے صاف طور پر کہا ہے کہ بی جے پی میں کسی بھی قیمت پر شامل نہیں ہوںگے ۔کیونکہ بی جے پی دھرم کرم کی سیاست کرتی ہے، ان کا نظریہ ہی الگ ہے ،وہ آدیواسیوں کو اجاڑنے میں لگے ہیں۔ وہیں کانگریس بھی آدیواسیوں کو اپنے خیمے میں واپس لانے کے لئے پالیسی بنا رہی ہے۔ اس بارے میں کارگزار صدر بالا بچن نے ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ کو ایک رپورٹ سونپی ہے جس میں پارٹی سے گزشتہ انتخابات سے دور ہوئے اس ووٹ بینک کو واپس لانے کے بارے میں سجھائو دیئے ہیں۔ کانگریس کا زور آدیواسی سیٹوں پر ووٹوں کی تقسیم کو روکنے کی ہے۔ اس کے لئے وہ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنا چاہتی ہے۔ اگر کانگریس گونڈوانا پارٹی اور جیاس کو اپنے ساتھ جوڑنے میں کا میاب رہی تو اس سے بی جے پی کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں۔ حالانکہ یہ آسان بھی نہیں ہے۔ کانگریس لمبے وقت سے ’گونڈوالا گن تنتر پارٹی‘ سے سمجھوتہ کرنا چاہتی ہے لیکن ابھی تک بات بن نہیں پائی ہے۔ الٹے ’گونڈوانا گن تنتر پارٹی‘ نے شرط رکھ دی ہے کہ ان کا سپورٹ کانگریس کو تبھی ملے گا جب اس کا سی ایم امیدوار آدیواسی ہو۔ کل ملا کر کانگریس کے لئے گٹھ بندھن کی راہیں اتنی آسان بھی نہیں ہے جتنا وہ مان کر چل رہی تھی۔ آنے والے وقت میں مدھیہ پردیش کی سیاست میں آدیواسی بیداری کی یہ ابھار نئے سمیکرنوں کو جنم دے سکتی ہے اور اس کا اثر آئندہ اسمبلی انتخابات پر پڑنا طے ہے۔ بس یہ دیکھنا باقی ہے کہ بی جے پی اور کانگریس میں سے اس کا فائدہ کون اٹھا پاتی ہے یا پھر ان دونوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ریاست کی سیاست میں کوئی تیسرا محاذابھرتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *