مدھیہ پردیش بی جے پی کا انتخابی سفر سرکاری خرچ پر

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان اپنی طویل مدت کار کے دوران بے حساب اعلانوں، ترقی کے لمبے چوڑے دعووں اور اشتہار بازی میں بہت آگے ثابت ہوئے ہیں۔ وہ ہمیشہ اعلان کے موڈ میںرہتے ہیں اور ان کی سرکار کے چمچماتے اشتہار ریاست کے ساتھ قومی سطح پر بھی کھلی جیب کے ساتھ نشر ہوتے ہیں، جس میںخاص طور سے شیوراج اور ان کی سرکارکی برانڈنگ کی جاتی ہے۔ اب اسمبلی انتخابات سے ٹھیک پہلے سی ایم شیوراج سنگھ کے ذریعہ ’جن آشیر واد یاترا‘ نکالی جارہی ہے۔ یہ پوری طرح سے ایک انتخابی مہم ہے، جسے سرکاری خرچ پر منعقد کیا جارہا ہے۔ حالانکہ بیچ میںبی جے پی کے ریاستی صدر کے ذریعہ کہا گیا تھا کہ اس یاترا کا خرچہ بی جے پی اٹھائے گی لیکن آخر کار اس کا بوجھ ریاست کے عوام کو ہی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس یاترا میں وسائل کے ساتھ ساتھ سرکاری مشینری کو جھوک دیا گیا ہے۔ ’جن آشیرواد یاترا‘ کے لیے جس رتھ کا استعمال کیا جارہا ہے، اس کی قیمت تقریباً ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ 55 دنوں تک چلنے والی یہ یاترا مدھیہ پردیش کے سبھی 230اسمبلی حلقوںمیںجائے گی۔ اس سے پہلے کے دو اسمبلی انتخاب سے پہلے بھی شیو راج اسی طرح کی جن آشیرواد یاترا نکال چکے ہیں۔
لمبے لمبے دعوے
’جن آشیرواد یاترا‘ شروع ہونے کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش کی سیاست میں کچھ دلچسپ لٹکے جھٹکے اور ردعمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایک طرف یاترا کے دوران شیوراج سنگھ چوہان مدھیہ پردیش کے شہروںکو امریکہ اور برطانیہ کے شہروں سے بھی اچھا بنا دینے کا شگوفہ پھینک رہے ہیں، وہیںدوسری طرف ریاستی کانگریس صدر کمل ناتھ نے بھگوان مہا کال کو ایک خط لکھا ہے ، جس میں انھوںنے لکھا ہے کہ ’’عوام کو ٹھگنے والے پھر سے آپ کے دربار میںآرہے ہیں، چھل پرپنچ کی تیاری ہے لیکن اب انھیںآشیرواد نہیں، ان کے کرموں اور دھوکوں کا پھل دو۔ آپ عوام کو آشیرواد دے کر عوام کو شیوراج سنگھ کی بدانتظامی سے نجات دلاؤ۔‘‘ کمل ناتھ نے اسے ’جن آشیرواد نہیں ، جبراً کا آشیرواد بتایا ہے۔ وہیں سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ نے بیان دیا ہے کہ ’’بھگوان رام کی جنگ کے وقت راون رتھ پر سوار تھا جبکہ بھگوان رام کی فوج پیدل تھی۔ اب شیو راج سنگھ ڈھائی کروڑ روپے کے رتھ پر سوار ہیںاور کانگریس کی فوج پیدل ہے۔‘‘ جن آشیرواد یاترا کے جواب میںکانگریس ’جن جاگرن یاترا‘ نکال رہی ہے، جسے کانگریس کے نائب صدر جیتو پٹواری شیوراج سنگھ چوہان کے پیچھے پیچھے چل کر شیو راج سرکار کے دعووں کی پول کھولیںگے۔
لیکن ان سب کے بیچ جن آشیرواد یاترا شروع ہونے کا دن مدھیہ پردیش کی اندرونی سیاست کے لیے بڑا دلچسپ ثابت ہوا ہے۔ 14 جولائی کو وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی جن آشیرواد یاترا کی شروعات مذہبی نگری اجین سے ہوئی تھی، جسے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس دوران امت شاہ نے اعلان کیا کہ اسمبلی انتخاب شیو راج سنگھ چوہان کے چہرے پرہی لڑا جائے گا اور اقتدار میںآنے پر سرکار بھی ان کی ہی قیادت میںبنے گی۔ اس کے بعد اگلے ہی دن اندور میںشیوراج سنگھ چوہان نے بھی کھلے طور پر اعلان کیا کہ میری ہی قیادت میںالیکشن لڑا جائے گا اور میںہی پھر وزیر اعلیٰ بنوں گا۔‘‘ غور طلب ہے کہ گزشتہ 4 مئی کو امت شاہ نے بھوپال میں منعقد کارکنوںکے اجلاس میںاعلان کیا تھا کہ اگلا الیکشن چہرہ نہیں تنظیم لڑے گی۔ اس کے بعد سے یہ تقریباً طے مانا جارہا تھا کہ الیکشن کے بعد اگر بی جے پی اقتدار میںلوٹتی ہے تو بی جے پی کی طرف سے وزیر اعلیٰ بدلنا طے ہے۔

 

 

 

 

 

امت شاہ کی کیلاش ورگیہ سے ملاقات
لیکن پیچ ابھی باقی ہے۔ جن آشیرواد یاترا کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد امت شاہ اپنی بیوی کے ساتھ کیلاش وجے ورگیہ سے ملنے اندور میںان کے گھر پہنچ گئے۔ کیلاش وجے ورگیہ مدھیہ پردیش میںامت شاہ کے فیوریٹ لیڈر مانے جاتے ہیں، جن کی شیوراج سنگھ سے رقابت جگ ظاہر ہے او رگاہے بگاہے ان کا نام وزیر اعلیٰ کے طور پر بھی اچھلتا رہتا ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے کیلاش وجے ورگیہ کا تیور بھی بدلا ہوا نظر آرہاہے۔ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے سی ایم کے عہدے کی دعویداری کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ آپ کے منہ کا سائز کیا ہے،میںلڈو کھلاؤں گا۔‘‘ ایسے میںامت شاہ کا اپنی بیوی کے ساتھ کیلاش وجے ورگیہ کے گھر جانے کے کئی معنی نکالے جارہے ہیں۔
دوسری طرف اسمبلی انتخاب کو دیکھتے ہوئے امت شاہ بھوپال میںڈیرا ڈالنے والے ہیں۔ بھوپال میںان کے لیے ایک گھر بھی ڈھونڈ لیا گیا ہے ،جو ان کا وار روم بنے گا اور جہاںسے وہ تینوں ریاستوںکے لیے حکمت عملی تیار کریںگے۔ ظاہر ہے کہ اسمبلی انتخاب کے دوران امت شاہ کے بھوپال میںرہنے سے شیو راج سنگھ چوہان کو فری ہینڈ نہیںملنے والا ہے۔ اب امت شاہ ہی سبھی حکمت عملی بنائیںگے بلکہ ان کے ہر کہے کو آخری فیصلہ مانا جائے گا،جسے سب کو مل کر نہ صرف نہ ماننا ہے بلکہ لاگو بھی کرنا ہوگا۔ ایسے میںیہ واضح ہے کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے مترادف بن چکے شیوراج سنگھ چوہان پہلے کی طرح اس ودھان سبھا کے دوران مدھیہ پردیش میںبی جے پی کے کل مختار نہیںرہنے والے ہیں اور نہ ہی ان کی ایک طرفہ چلنے والی ہے۔
مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت کے پندرہ سال پورے ہونے والے ہیں۔ سیانے لوگ زندگی اور سیاست دونوںمیںسولہویںسال میں سنبھل کر چلنے کی صلاح دیتے ہیں۔ پندرہ سال کے بعد حکومت مخالف لہر کا ہونا فطری ہے، جس کا ان دنوں برسراقتدار بی جے پی لیڈر ،وزیر اور رکن اسمبلی بہت آسانی سے محسوس کرپارہے ہیں۔ مشتعل عوام کے ذریعہ اراکین اسمبلی کے ساتھ دگج لیڈروں کو بیرنگ واپس بھیجنے کی خبر سامنے آئی ہے۔ ایسے میں پندرہ سال سے حکمراں رہی پارٹی کے وزیر اعلیٰ کو جو خود 13 سال سے لگاتار اس عہدے پر بنے ہوئے ہیں، اپنی سرکار کی کامیابیوں اور کئے گئے کاموں کو عوام کو بتانے کے لیے سرکاری پیسے سے یاترا نکالنی پڑے تو پھر سوال تو اٹھیںگے ہی۔ یہ ایک طریقے سے عوام کے پیسے کا بیجا استعمال ہے۔ بہتر ہوتا کہ اس یاترا میںخرچ کیے جانے والی رقم کا استعمال عوام کے مفاد میںکیا جاتا اور اگر کوئی یاترا نکالنی ہی تھی تو اس کا خرچہ پارٹی اٹھاتی۔ الیکشن سے ٹھیک پہلے سرکاری پیسے سے نکالی جارہی یاترا کا کوئی جواز نہیںہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *