لنچنگ نے اب بڑی شکل اختیار کر لی ہے

اب بھی جنھیںلگتا ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت اپنا کام ٹھیک سے کر رہی ہے تو مجھے افسوس ہے کہ وہ حقیقت دیکھنا نہیںچاہتے یا وہ اتنے کمٹیڈ ہے کہ اپنی آئیڈیا لوجی کو لے کر ہر بات کو جھٹلانے میںلگے ہیں۔ آج صحافت کا حال اتنا خراب ہو گیا ہے کہ کیا کہا جائے۔’ لنچنگ‘ ایک نیا لفظ ہندوستان میںشروع ہو گیا ہے۔ لنچنگ کیا ہے؟ گئو کشی کا آپ کو شک ہو کسی پر تو آپ پکڑ کر اس آدمی کو مار دیںگے۔ گئو رکشا بی جے پی کا من پسند موضوع ہے۔ اس لیے پولیس ڈری ہوئی ہے ۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ پولیس اسٹیٹ کے انڈر میںہے۔ جو اسٹیٹ کا سی ایم ہوتا ہے، اس سے پولیس ڈر کر رہتی ہے۔ لنچنگ نے اب بڑی شکل اختیار کر لی ہے۔
سب جگہ بی جے پی کی سرکار چل رہی ہے۔ وہاںپر پولیس خود فرقہ پرست ہے۔ ممبئی فسادات پر شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ آئی تھی۔ اس میں صاف ہے کہ پولیس خود کمیونل ہے۔ اب چونکانے والے اعداد وشمار آئے ہیں کہ لنچنگ کے نام پر ڈھائی سو مرڈر ہوگئے۔ لنچنگ کو لے کر این ڈی ٹی وی نے باقاعدہ اسٹنگ آپریشن دکھایا ، پھر بھی پولیس رپورٹ در ج نہیںکر رہی ہے۔ آج صحافی حکومت کے خلاف اپنی رائے دیں تو حکومت چھوڑے گی نہیں۔ حکومت کے فیور میںجو ہے،اس کا مطلب ہی نہیںہے۔ آپ نے صحافت کو زیرو کردیا ہے۔ ایک مشن، سنکلپ سب زیرو ہوگیا۔ اخبار میںکچھ چھاپ دیا، اشتہار چھاپ دیا، بیچ دو اخبار، یہ ایک دھندہ ہے، جیسے مودی جی کا فیوریٹ ہے، پکوڑی بیچنے کا کام۔
1945 کی عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد دنیا میںجتنے آئین بنے ہیں، ان میں سے صرف ہندوستان کا آئین ہی صحیح چل رہا ہے۔ باقی سبھی ملکوںنے تجربہ کرکے چھوڑ دیا۔ ہندوستان کا آئین اتنا مضبوط ہے کہ یہ سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ 1975 میںجب اندرا گاندھی نے اپنی کرسی ہلتی دیکھی تو ایمرجنسی نافذ کرکے سب کو جیل میںڈال دیا، سینسر شپ کردیا، پریس بند کردیا،جمہوریت کو ختم کردیا۔ اب ایسا ہی کچھ تمغہ نریندر مودی جی لے کر جائیںگے۔ وہ پوری شدت اور سنجیدگی سے کوشش میںلگے ہوئے ہیں۔
ہماری جمہوریت اور آئین جب جب بھی ڈگمگایا، تب تب کسی نہ کسی نے اسے بچا لیا۔ کبھی کورٹ نے، کبھی اخبار نے، کبھی پبلک پریشر نے۔ لیکن اب جو ہو رہا ہے، بیتے ساڑھے چار سال سے خطرناک صورت حال آگئی ہے۔ اے بی پی نیوز کے رپورٹر نے نریندر مودی کی پول کھول دی۔ نریندر مودی نے ایک بار چھتیس گڑھ کے کسانوںسے لائیو بات چیت کی۔ چھتیس گڑھ کی ایک کسان چندر منی سے انھوںنے پوچھا کہ تمہاری آمدنی میںکتنا فائدہ ہوا ہے؟ تو اس نے کہا، آمدنی دوگنی ہوگئی ہے۔ اس کے بعد جب اے بی پی کا رپورٹر اس گاؤںمیں گیا ۔ اس سے چندر منی نے کہا کہ دو ایکڑ کھیت ہے، اس میںآمدنی ڈبل ہونے کا سوال ہی نہیںہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آپ نے وزیر اعظم کو ایسا کیوںبتایا، چندر منی نے کہا کہ ایک افسر آئے تھے،انھوںنے کہا کہ ایسے بولنا ہے تو بول دیا۔ اے بی پی نے یہ سب دکھا دیا۔ یہ کیسے برداشت ہوگا۔ آپ نے راجا کو بتا دیا کہ آپ کو لوگ بول رہے ہیں کہ آپ اچھے ہیں لیکن ننگے ہیں۔

 

 

 

 

پنیہ پرسون واجپئی کو کہا گیا کہ کچھ بھی کرو لیکن مودی جی کا نام نہیں لو۔ اس نے کسان سے پوچھاتو راہل گاندھی کا نام کیسے لے گا، مودی جی کا ہی نام لینا پڑے گا۔ انھوںنے اے بی پی چھوڑ دیا۔ یہ خطرناک صورت حال ہے۔ یہی فاشزم ہوتا ہے۔ حالانکہ میںسوشل میڈیا کو ذمہ دار نہیںسمجھتا ہوں لیکن اے بی پی کا نام اگلے دن سے ہوگیا امت بھائی پرنام۔ یہ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں آپ؟ پچھلے ہفتے ہری شنکر ویاس نے ایک کالم میںلکھ دیا تھا کہ اندرا گاندھی کے پا س بھی ایک ایسا آدمی تھا یشپال کپور جو یہ سب کام کرتا تھا لیکن اندر اگاندھی نے اسے پارٹی پریسیڈنٹ نہیںبنایا تھا۔ اتنی ان میںتہذیب تھی۔ آج تو اڈوانی جی، مرلی منوہر جوشی جی، بڑے بڑے لوگوںکو کھڑا ہونا پڑتا ہے، اگر امت شاہ کمرے میں آتے ہیں ۔ میںنے پہلے بھی کہا ہے اور پھر کہتا ہوںکہ مودی جی نے سب سے زیادہ نقصان بی جے پی کا کیا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان آر ایس ایس کے سنسکاروں کا کیا ہے۔ آر ایس ایس کیا منہ دکھائے گا۔ آج آر ایس ایس کو بھی سرکار کا لالچ ہوگیا ہے۔
میںسرمایہ داری کے خلاف ہوں۔ سر مایہ کی کیا طاقت ہے،مجھے معلوم ہے۔ سرمایہ اگر آپ کے پاس ہے تو آپ کے پاس تمام سہولتیں ہیں، گاڑی، بنگلہ، موٹر، کھانا پینا، سب کی سہولت ہے۔ لیکن سرمایہ کی کیا حد ہے، وہ بھی مجھے معلوم ہے۔ جس کے پاس سرمایہ ہے، وہ اپنا سب کچھ ٹھیک کر ہی لے گا لیکن غریب کے آنسو سرمایہ نہیںپونچھ سکتاہے۔ ایک حد کے آگے سرمایہ کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہندوستان جیسی رنگ برنگی بغیہ دنیا میںکہیںنہیںہے۔ آپ کو ایک موقع ملا وزیر اعظم ہونے کا لیکن آپ نے اس بغیہ کو سنوارنے کا موقع گنوادیا، کیوں؟ کیونکہ آپ چھٹ بھئیے پن میںپڑ گئے۔ ہندوستان میںکروڑوں کی تعداد میں لوگ ہیں جو روز گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ آپ الیکشن کے وقت میگھالیہ یا گووا میںنہیںبولیںگے کہ گائے کا گوشت مت کھاؤ۔ آپ لوگ اقتدر کے بھوکے ہیں۔ آپ نے دکھادیا ساڑھے چار سال میںکہ اقتدار کے غلط استعمال کے ذریعہ غلط طریقے سے پیسہ اکٹھا کرکے اس کے اثر سے کیسے لوگوںکی قسمت کا سودا کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس میںتو دم ہی نہیں ہے آپ کے سامنے۔
مجھے معلوم ہوا کہ بوتھ مینجمنٹ کے لیے پورے ملک میں23 لاکھ والینٹیئر کھڑے کیے جارہے ہیں لیکن 23 لاکھ وفادار لوگ تو آپ کے یہاںہیں ہی نہیں۔ پیسہ ہے اور آپ اس کا غلط استعمال کریںگے۔ پیسے بانٹیںگے۔ وہی کریںگے جس کے ذریعہ گوا میںراتوںرات سرکار بنائی، منی پور میںبنائی۔ یہ کانگریس کی روایت ہے۔ کانگریس کو تو خوش ہونا چاہیے کہ دیکھو ہماری ہی ترکیب یہ اپنا رہے ہیں۔ یہ کانگریس کی اچھائیوںکی کاپی نہیںکر پائے۔ وزیر اعظم کے طور پر جواہر لعل نہرو نے لوک سبھا میںبار بار معافی مانگی ہے کہ یہاںغلطی ہوگئی، ممبر غصہ ہیں تو معافی مانگتا ہوں۔ یہ لوک سبھا میںآتے ہی نہیںہیں،معافی مانگنا تو دور کی بات ہے۔

 

 

 

 

اپوزیشن والا آپ سے گلے مل لیا تو آپ سٹپٹا گئے کہ وہ گلے کیسے مل لیا۔ کیوں بھائی، آپ اچھوت ہیں یا اس کو اچھوت گنتے ہیں۔ آپ میںتو جمہوری سنسکار ہی نہیںہیں۔ دراصل یہ آئین کانگریسیوںنے بنایا ہے، یہ آر ایس ایس کے مزاج کا نہیںہے۔ آپ کی جو ذہنیت ہے کہ دنیا ایسی ہونی چاہیے ، اس کے برعکس ہے یہ آئین۔
آپ کہتے ہیںکہ دلت سماج کو ساتھ میںرکھو۔ دلت سماج اتنا الگ کیوںہوتا، اگر آپ کے لوگ ٹھیک رہتے۔ چلیے دیر آئے درست آئے۔ مجھے کوئی دقت نہیں ہے۔ میںتو اصلی آئین کا ماننے والا ہوں۔ ہر جگہ بیلنس ہے۔ اس کو بھی آپ بگاڑ رہے ہیں۔ عوام کے ساتھ آپ نے کھلواڑ کیا ساڑھے چار سال میں۔ امت شاہ کا ٹویٹ آیا کہ بی جے پی اس بار 360 سیٹیںجیتے گی۔ اس کا مطلب ای وی ایم کا کام پکا ہوگیا ہے۔ کتنی شرم کی بات ہے۔ آپ کو 282 سیٹیںملیں، اس وقت مودی جی کی مقبولیت عروج پر تھی۔ اب تو اس سے نیچے ہی آنا پڑے گا نہ آپ کو۔ اگر آپ کو 283 سیٹیںبھی ملیںگی تو بھی سمجھئے کہ الیکشن بوگس ہے۔ ملک الیکشن کو رجیکٹ کر دے گا۔ زمبابوے کی طرح صورت حال ہو جائے گی۔ عوام بولیںگے کہ اب الیکشن کا کوئی مطلب نہیں۔ اپنا – اپنا کام کرو۔

فوٹو: لنچنگ کا تازہ فوٹو

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *