35A پر کشمیر متحد ،جموں اور لداخ منقسم

ایک ایسے وقت میں جب آئین ہند کی دفعہ 35Aکو ختم کئے جانے کے خدشے کی وجہ سے ریاست جموںو کشمیر کی مسلم آبادیاں اپنے اضطراب کا بر ملا اظہار کررہی ہیں،ڈوگرہ اکثریتی جموں اور بودھ اکثریتی لداخ میں رائے عامہ منقسم نظر آرہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 35A، جس کی وجہ سے جموں وکشمیر میں پشتنی باشندوں کے حقوق اور خصوصی مراعات کے 91سالہ قدیم قانون کو تحفظ حاصل ہے ، ان دنوں خطرے سے دوچار ہے۔ اس قانون کے خلاف کئی عرضداشتیں عدالت عظمیٰ میں پیش کی گئی ہیں، جن میں 35Aکو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
در اصل جموں وکشمیر میں 1927ء ، جب اس ریاست میں مہاراجہ ہری سنگھ تخت نشین تھے ، میں ایک قانون (اسٹیٹ سبجیکٹ لائ) لاگو کیا گیا تھا، جس کے تحت ریاست سے باہر کے کسی بھی شخص کو یہاں زمین و دیگر جائدادیں خریدنے اور سرکاری نوکریاںحاصل کرنے کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب جموں وکشمیر ایک متحدہ ریاست تھی ، یعنی اس میں وہ خطے بھی شامل تھے ، جو آج پاکستان اور چین کی تحویل میں ہیں۔
1954 میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ریاستی عوام کو یہ یقین دلانے کے لئے کہ حکومت ہند اس ریاست کی ڈیموگرافی اور مسلم اکثریتی شناخت کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی ہے،کابینہ کی سفارش پر صدرجمہوریہ ہندراجندر پرشاد کے ایک حکمنامے کے ذریعے آئین ہند میں 35Aکی شق شامل کرائی تھی ۔اس قانون میں کی وجہ سے مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے 1927ء میں لاگو کئے گئے اسٹیٹ سبجیکٹ لاء کو تحفظ حاصل ہے۔ لیکن اب جبکہ آر ایس ایس کی پشت پناہی والی ایک رضاکار تنظیم ’’وی دی سٹیزنز‘‘ نے عدالت عظمیٰ میں 35Aکو چیلنج کیا ہے، جموں وکشمیر میں اضطراب پھیل گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں کیس کی اگلی تاریخ 27اگست مقررکردی ہے۔

 

 

 

مختصر الفاظ میں کہنا ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ نے آئین ہند کی دفعہ 35Aکو ختم کرنے کا فیصلہ سنایا تو اسکے ساتھ ہی ہندوستان کی کسی بھی ریاست کے باشندے کو جموں کشمیر کی شہریت حاصل ہوسکتی ہے۔ بیرون ریاست کے لوگ نہ صرف جموں کشمیر میں زمین اور دیگر جائدادیں خرید سکتے ہیں بلکہ انہیںپہلی بار یہاں کے سرکاری اداروں میں نوکریاں کرنے اور سکالر شپ سے استفادہ حاصل کرنے کا حق بھی ملے گا۔مودی سرکار نے سپریم کورٹ میں 35Aکا دفاع کرنے سے انکار کیا ہے، جس کی وجہ سے اس قانون کو مزید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
جموں وکشمیر کے تمام مسلم اکثریتی علاقوں میں لوگ 35Aکو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف متحد ہیں ۔ 5اور6اگست کو ’’مشترکہ مزاحمتی قیادت‘‘ ، جو تین رہنمائوں سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل ہے، کی اپیل پر وادی کشمیر میں ہمہ گیر ہڑتال کی گئی ۔ ہڑتال کا مقصد 35Aکو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ اسی روز جموں کے پیر پنچال اور چناب ویلی ، جو مسلم اکثریتی علاقے میں بھی مقامی مسلم انجمنوں کے کہنے پر 35Aکے حق میں ہڑتال کی گئی جبکہ لداخ صوبے کے شیعہ اکثریتی کرگل میں بھی مقامی تنظیموں کے کہنے پر ہڑتال کی گئی اور احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ اس طرح سے پوری ریاست کے مسلم اکثریتی علاقوں میں عوام نے 35Aکے حق میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا ۔
لیکن جموں کی ڈوگرہ اور لداخ کی بودھ آبادیاں اس معاملے پر کنفوژن کا شکار لگ رہی ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں کی رائے بٹی ہوئی ہے۔ ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے اس نمائندے نے اس ضمن میں جموں اور لداخ سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات سے بات کرکے ان کی آراء جاننے کی کوشش کی۔
جموں میں سیول سوسائٹی کے ایک سرکردہ لیڈر انل صوری کہتے ہیں:’میرے خیال سے دفعہ 35Aکو ختم کیا جانا چاہیے ۔ کیونکہ اسکے نتیجے میں بیرون ریاست سے سرمایہ دار طبقہ کو یہاں تجارتی ادارے قائم کرنے کا موقعہ ملے گا اور اسکے نتیجے میں ہماری اقتصادی حالت بہتر ہوگی اور روز گار کے مواقعہ بڑھیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا:’ اس طرح کے قوانین ، جو ریاست سے باہر کے لوگوں کو یہاں زمین اور جائدادیں خریدنے سے روک رہے ہیں،میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ان قوانین کی وجہ سے ریاست میں باہر کی انوسٹمنٹ کے امکانات ختم ہوگئے ہیں۔ہماری تین نسلیں باہر کے انوسٹمنٹ کے فوائد سے محروم رہی ہے۔ اب ہمیں اپنی نئی نسل کے بارے میں سوچنا ہوگا۔‘
جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر راکیش گپتا کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنے دیا جانا چاہیے۔ راکیش نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کو بتایا:’’اس طرح کے معاملات پر کھلے عام بحث چھیڑنے کے نتیجے میں سیاست دانوں کو اپنی دکانیں چمکانے کا موقعہ ملتا ہے۔ وہ ایسے معاملات پر لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں۔ میرے خیال سے اس معاملے کا فیصلہ کورٹ کو ہی کرنے دینا چاہیے۔ہمیں عدالتی نظام پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘
لیکن جموں میں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ 35Aکے ختم ہوجانے سے اس ریاست کے عوام کے مفادات کو زک پہنچے گا۔ بی جے پی کے راجیش گپتا نے اس معاملے میں اپنی پارٹی لائن سے ہٹ کر موقف اختیار کرلیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا :’’ دفعہ 35Aجموں کشمیر کے پشتنی باشندگان کے لئے فائدہ مند ہے۔اگر دفعہ 370 یا35Aکو ختم کیا جاتا ہے تو اسکے نتیجے میں اس ریاست اور بھارت کا الحاق متاثر ہوگا۔ جموں میں خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ باہر کے لوگوں کی آمد کے نتیجے میں یہ خطہ بری طرح متاثر ہوگا۔بہت سارے لوگوں کو ماننا ہے کہ اگر باہر کے لوگوں کو یہاں سیٹل ہوجانے کی اجازت ملی تو اسکے نتیجے میں اس خطے کی اقتصادی حالت اور روز گار پر مزید برے اثرات مرتب ہونگے۔‘‘ یہ بات قابل ذکر ہے کہ راجیش گپتا نے سال 2014میں بی جے پی جوائن کرلی ہے۔ ان کا یہ موقف بی جے پی کے موقف سے بالکل متصادم ہے۔

 

 

 

 

اسی طرح لداخ خطے میں بھی لوگوں کی رائے بٹی ہوئی ہے۔لداخ کے سرکردہ سیاستدان اور کانگریس کے رکن اسمبلی نواز رگزن جورا، جو کئی بار ریاست میں کابینہ درجہ کے وزیر بھی رہ چکے ہیں، نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر 35Aکو ختم کیا گیا تو اسکے نتیجے میں سب سے زیادہ لداخ خطہ ہی متاثر ہوگا۔ انہوں نے کہا: ’’لداخ دوسرا ہماچل پردیش بن جائے گا، جہاں سیاحتی شعبے سے منسلک زیادہ تر جائدادیں ممبئی اور گجرات کے تاجروں کی ہیں۔چونکہ لداخ بین الاقوامی شہر یافتہ خطہ ہے اسلئے باہر کے لوگ جوق در جوق آکر یہاں زمینیں اور جائدادیں خریدیں گے۔ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں ہمیں کچھ پیسے ملیں گے لیکن یہ اقتصادی ترقی ہماری شناخت کی قیمت پر ہوگی۔
جورا کا ماننا ہے کہ آئین ہند کی دفعہ 35Aدراصل جموں کشمیر کے باشندگان کی شناخت کی حفاظت کی ایک ضمانت ہے۔ اگر یہ دفعہ ختم ہوئی تو اس ریاست کے لوگوں ، جن میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں، کی شناخت ختم ہوجائے گی۔
تاہم لداخ خطے میں ہر کوئی نوانگ رگزن جورا کی طرح نہیں سوچتا ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ تھپسن چیوانگ نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا:’’اگر اس ریاست کے لوگوں کو بھارت بھر میں کہیں بھی زمین اور جائدادیں خریدنے کا حق حاصل ہے تو پھر باقی ریاستوں کے لوگوں کو یہاں یہ حق کیوں حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔باہر کے لوگوں کے یہاں آجانے سے اس ریاست میں ترقی اور خوشحالی آجائے گی۔‘‘
لیہہ کے نوبرا حلقہ انتخاب کے رکن اسمبلی ڈیلڈان نامگیال بھی ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ انہوں نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا،’’لداخ دنیا کے خوبصورت خطوں میں ایک ہے۔ لیکن یہاں کے لوگ غریب ہیں۔ اگر باہر سے لوگ یہاں انوسٹ کرنے آجاتے ہیں تو یہاں کے لوگوں کو خوب ترقی اور خوشحالی میسر آئے گی۔‘‘
تاہم لداخ کے کرگل خطے ، جہاں مسلم آبادی کی اکثریت ہے،میں لوگ دفعہ 35Aکو ختم کرنے کی سازشوںکے خلاف ہیں۔اس طرح سے اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مسلم اکثریتی ریاست میں مسلمانوں میں اس معاملے پر اتفاق رائے ہے اور وہ ہر صورت میں 35Aکا دفاع کرنا چاہتے ہیں ، جبکہ ریاست کے اُن خطوں ، جہاں غیر مسلم آبادیاں ہیں ، میں رائے عامہ منقسم ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *