جموں وکشمیر میں لگائے جائیں گے 43 لاکھ بچوں کو خسرہ روبیلا کے ٹیکے

Unicef
سری نگر؍ جموں: وزارت صحت و خاندانی بہبود حکومت ہند، ڈائریکٹریٹ فیملی ویلفیر اینڈ ایمونائزیشن، عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اشتراک سے خسرہ روبیلا جیسی مہلک بیماری کی حساسیت کے بارے میں نیشنل وصوبائی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو جانکاری دینے اور یکم ستمبر سے یہاں شروع ہونے والی خسرہ روبیلا مہم کو کامیاب بنانے کے لئے سری نگر اور جموں میں الگ الگ ورکشاپوں کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر پردیپ ہلدر ڈپٹی کمشنر ایمونائزیشن حکومت ہند نے ٹیکہ کاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بچوں کے مستقبل اور زندگی کو محفوظ کرنے کے لئے ٹیکہ کاری ایک سستا و با اثر طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل ٹیکہ کاری کے بغیر اس کا فائدہ سب کو نہیں مل سکتا اس لئے ہر بچے تک ٹیکے کو پہنچانا ہوگا۔ سرکار نے گزشتہ سال تیزی سے پھیلنے والی بیماری خسرہ روبیلا سے بچوں کو بچانے کیلئے مہم شروع کی تھی۔ اس مہم کے دوران خسرہ روبیلا کا ٹیکہ 9 ماہ سے پندرہ سال کے بچوں کو مفت فراہم کیا جائے گا۔ 17 ریاستوں میں یہ مہم کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ بہ ظاہر یہ بیماری ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن اس کی وجہ سے جسم کا دفاعی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی بیماری جسم میں داخل ہو سکتی ہے۔ خسرہ روبیلا سے اگر کوئی حاملہ عورت متاثر ہو جائے تو اس کے نتائج بہت خراب ہوتے ہیں۔ پیدا ہونے والا بچہ پیدائش سے دل کا مریض، دماغی طور پر کمزور یا پھر اندھا، بہرہ ہو سکتا ہے۔ اس کا وائرس 9 ماہ سے پندرہ سال تک کے بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ خسرہ روبیلا سے بچنے کے لئے سو فیصد کوریج ہونا ضروری ہے۔
سری نگر میں ڈائریکٹر فیملی ویلفیر ایم سی ایچ اینڈ امیونائزیشن جموں وکشمیر ڈاکٹر سمیر مٹو نے ایم آر مہم کو ریاست میں کامیاب بنانے کے لئے کی جانے والی تیاریوں سے میڈیا کو واقف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 9 ماہ سے 15 سال تک کے 22 اضلاع میں43,33,540 بچے ہیں جن کو خسرہ روبیلا ٹیکہ مہم میں کور کیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 80 فیصد بچوں کو اسکوں میں ہی ٹیکہ دیا جائے گا۔ مہم میں پرائیویٹ اسکولوں کی بھاگیداری کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ 20 فیصد بچوں کو آنگن واڑی مراکز، ہیلتھ سینٹروں اور الگ سے سیشن کرکے کور کی جائے گا۔ مہم کو کامیاب بنانے کے لئے سرکار کے 12 ڈپارٹمنٹ مل کر کام کریں گے۔یونیسیف کی کمیونیکیشن آفیسرسونیاسرکار نے کہا کہ میڈیا ہمارا لمبے عرصے سے پارٹنر ہے۔ اس نے پولیو کے خلاف لڑائی میں اہم رول ادا کیاہے۔ 2014 میں ملک کو پولیو سے نجات مل گئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مہم میں بھی میڈیا بیماری سے بچوں کی زندگی کے تحفظ میں اپنی حصہ داری کو یقینی بنائے گا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیملی ویلفیر جموں ڈاکٹر ایل ڈی بھگت کے مطابق اس مہم میں ریاست کے 16000 اسکول حصہ لیں گے۔ ان میں 12340 سرکاری، 2738 نجی، سینٹرل اسکول اور مدارس شامل ہیں۔
ورکشاپ میں ریاستی امیونائزیشن آفیسر ڈاکٹر قاضی ہارون، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر سری نیواسن، ڈاکٹر روندر پال سنگھ، ڈاکٹر نیہا جلالی ڈپٹی ڈائریکٹر دوردرشن اینڈ ریڈیو کشمیر، ڈاکٹر سنجے ترکی سی ایم او جموں، سیما چودھری ایس ایم او سری نگر، راہی ریاض احمد چیرمین ہیلتھ اینڈ ہائی جین کونسل اور پرائیویٹ اسکول ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری اجے گپتا، بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر شامل رہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *