فیملی لاء میں ریفارم کے لیے کون کتنا تیار؟

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جسٹس بی ایس چوہان کی سربراہی والا موجودہ لاء کمیشن 30 اگست کو اپنی مدت ختم ہونے سے قبل ’فیملی لاء ریفارم ‘ کے تعلق سے اپنی تفصیلی رپورٹ وزارت قانون کو سونپ دے گا۔ عیاں رہے کہ وزارت قانون نے جون 2016 میںاس سے یونیفارم سول کوڈ کے معاملے کی جانچ پڑتال کرکے رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے بعد لاء کمیشن نے اکتوبر 2016میں یونیفارم سول کوڈ کے تعلق سے سوالنامہ جاری کرکے سبھوںسے جواب طلب کیا تھا ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سلسلے میںوزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار ہی نہیںبلکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی یونیفارم سول کوڈ کے امکان کو سرے سے خارج کردیا تھا۔ بورڈ نے تو مذکورہ کمیشن کو ملک بھر سے تقریباً پانچ کروڑ مسلمانوںکی دستخط شدہ ایک یادداشت پیش کی تھی جس میںواضح طور پر کہا گیا تھا کہ مسلمان اپنے پرسنل لاء میںکوئی ترمیم و تبدیلی نہیںچاہتے ہیں۔
علاوہ ازیں بورڈ کے خصوصی وفد نے 21 مئی اور 31 جولائی 2018 کو لاء کمیشن کے چیئرمین کی دعوت پر ان سے ملاقات کی اور بات چیت میںاپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کمیشن سے صاف طور پر کہا کہ وہ’ ’حکومت ہند کو کوئی ایسی سفارش نہ کرے ، جس میںمسلم پرسنل لاء (تمام مسلکی اختلافات کے ساتھ) میںکسی ترمیم و تبدیلی کی بات کہی جائے۔‘‘ 31 جولائی کی ملاقات میں 12رکنی وفد کی قیادت کرتے ہوئے بورڈ کے نائب صدر اور جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری نے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کا ایک خط بھی چیئرمین کمیشن کو پیش کیا۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے وفد سے کمیشن کے چیئرمین نے 8 نکات پر بات چیت کی جو یہ ہیں: -1حضانت (کسٹڈی آف چلڈرن)،-2تنبیت کا مسئلہ (گود لینا) ، -3عورت کا نفقہ اور دادا کی میراث میںیتیم پوتے اور اس کی ماں کا حق،-4 وراثت میںعورت کا نصف حصہ،-5زندگی میںجائیداد کی تقسیم کا مسئلہ ، -6 جوائنٹ فیملی سسٹم پر اسلام کا نقطہ نظر، -7 ماڈل نکاح نامہ اور -8مختلف مسالک کی توضیح و تشریح میںفرق۔
واضح رہے کہ پہلی ملاقات میںکمیشن کے چیئرمین نے دوران گفتگو کہا تھا کہ سردست تو ملک میںیونیفارم سول کوڈ کی ضرورت نہیں ہے اور ایک تکثیری ملک میںابھی یہ سوال غیر ضروری ہے، البتہ مختلف مذاہب کے پرسنل لاء ز میںبعض ترمیمات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کسی پرسنل لاء میںکوئی چیز معقول اور بہتر ہوتو اسے دوسرے مذہب کے پرسنل لاء میںاختیار کیا جانا چاہیے اس پر بورڈ کے ذمہ داران نے چیئرمین پر اسی وقت یہ بات واضح کردی تھی کہ مسلم پرسنل لاء انسانوںکا وضع کردہ قانون نہیں ہے، لہٰذا اس میںترمیم و تنسیخ کا اختیار کسی مسلمان کو بھی حاصل نہیںہے اور دستوری طور پر ملک کی تکثیریت کے پیش نظر یہ مناسب بھی نہیںہے۔

 

 

دراصل اس کے بعد کمیشن نے یونیفارم سول کوڈ کے بجائے مختلف مذاہب کے پرسنل لاء ز میںبعض ترمیمات کے امکانات پر غورو خوض شروع کیا۔ 31 جولائی کو بورڈ کے وفد کی دوسری ملاقات اس سلسلے کی دوسری کڑی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کمیشن جس نے وزارت قانون کی ہدایت کی روشنی میں یونیفارم سول کوڈ کے امکانات تلاش کرنے سے اپنا کام شروع کیا تھا ، اب اس کا موقف ہے کہ مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ سبھی کے لیے ایک کوڈ کی شناخت ہو اور یکساں طریقہ کار اختیار کیا جائے بلکہ مختلف مذاہب میں فیملی لاء ز کے جنسی طور پر بھید بھاؤ یا عورت مخالف انداز کو درست کیا جائے اور اس ضمن میںجو کچھ بھی کیا جائے ،وہ قانون میںپہلے سے دستیاب نظیروں کے حوالے سے ہو۔ مثال کے طور پر کمیشن کا کہنا ہے کہ فقۂ جعفریہ کے تحت طلاق ہونے کی صورت میںدو برس سے زائد عمرکے بیٹے کو باپ اپنی تحویل میں لے سکتاہے جبکہ گیتا ہری ہرن بنام ریزرو بینک آف انڈیا معاملے میںسپریم کورٹ کا 1999 کا فیصلہ ہے کہ عورتیں اپنے بچوں کی مردوں کی مانند فطری گارجین ہیں۔ اسی طرح گود لینا جو کہ مسلم اور عیسائی پرسنل لاء کے تحت ممنوع یا محدود ہے، کے معاملے میںکمیشن 2014 کے شبنم ہاشمی بنام یونین آف انڈیا مقدمہ کے حوالے سے کہتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس تعلق سے فیصلہ سنایا تھاکہ گود لینے والے والدین کو مذہبی پس منظر کے امتیاز کے بغیر بچوںکوگود لینے کا اختیار ہے۔
اس میںکوئی شبہ نہیں ہے کہ لاء کمیشن نے تقریباً دو برس میںاپنے سوالنامہ کے جواب میں70ہزار افراد کی آراء وصول کی اور 50 مختلف الفکر گروپوں اور ماہرین سے بات چیت کی۔ ویسے یہ قابل ذکر ہے کہ لاء کمیشن کی اس رپورٹ میںنارتھ ایسٹرن علاقے، جموں و کشمیراور دیگر قبائلی علاقے شامل نہیں ہوں گے کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں آئین ہند کے پانچویں اور چھٹے شیڈول اور دفعہ 371 کے ذیلی سیکشن کے تحت اپنے مقامی یا قبائلی قوانین پر چلنے کی اجازت ہے۔
اب جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکا یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کے ساتھ یہ موقف بھی کھل کر سامنے آگیا ہے کہ یہ سول لاء ز میںاصلاح کی تجویز کے حق میںبھی نہیںہے، تب یہ دیکھنا ہے کہ لاء کمیشن اپنی رپورٹ میںمسلم پرسنل لاء کے تعلق سے کیا رخ اختیار کرتا ہے؟ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی نے کمیشن کے نام اپنی تحریر میںصاف طور پر کہا ہے کہ ’’بورڈ یہ مانتا ہے کہ اس ملک کے شہری مختلف مذاہب ، کلچرس اور رسم و رواج کو مانتے ہیں۔ اسی کے مطابق اپنی زندگیاںگزارتے ہیں۔ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ مذہبی اصولوں، رسم و رواج اور کلچر کے تعلق سے فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت کے حدود کار میںنہیں آتا ہے، لہٰذا مذکورہ ایشوز کو قانون سازی کے عمل کا حصہ نہیںبنانا چاہیے۔‘‘
دقت سب سے بڑی یہ ہے کہ معاملہ یونیفارم سول کوڈ کا ہو یا مختلف مذاہب کے پرسنل لاء میںتبدیلی و ترمیم کا، مسلم پرسنل لاء ز کے حاملین اور بورڈ کا جواب نفی میںہے۔ جہاںتک آئین کی بات ہے، وہ یونیفارم سول کوڈ کو رہنما اصولوں کے تحت گردانتا تو ہے مگر یہ بھی کہتا ہے ایسا تمام فریقین کو اعتماد میںلے کر ہی ہو۔ ظاہر سی بات ہے کہ لاء کمیشن سے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داروں کی بات چیت سے جو نتیجہ سامنے آیا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ یونیفارم سول کوڈ اور مسلم پرسنل لاء میںاصلاح دونوںکے لیے ہرگز تیار نہیںہیں۔ بہرحال اب انتظارہے لاء کمیشن کی رپورٹ کا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس الجھے ہوئے مسئلے میںکمیشن کیا رخ اختیار کرتا ہے؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *