نریندر مودی اور راہل گاندھی 2019انتخابات کے لیے کون کتنا تیار؟

2019 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کون جیتے گا، اس کی بساط بچھ چکی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو پورا یقین ہے کہ وہ انتخابات جیتیں گے ہی جیتیںگے۔ دوسری طرف، کانگریس صدر راہل گاندھی کسی بھی طرح نریندر مودی کو ان انتخابات میں ہرانا چاہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں پورے طور پر یہ یقین نہیں ہے کہ وہ 2019 کے انتخابات کے بعد وزیرا عظم بن ہی جائیںگے لیکن وہ سارے دائوں آزما لینا چاہتے ہیں۔
لوک سبھا کے مانسون سیشن میں نو کنفیڈنس موشن آیا۔نو کنفیڈنس لانے والی تیلگو دیشم پارٹی نے کافی اثر دار ڈھنگ سے اپنی تشویشات اور اندیشے لوک سبھا میں رکھا۔ لیکن سبھی کو انتظار تھا کہ کانگریس کی طرف سے راہل گاندھی کیا کہتے ہیں؟ راہل گاندھی نے تقریر کی۔ بی جے پی کے ایک مرکزی وزیر نے مجھے بتایا کہ راہل گاندھی کی تقریر کا جو پہلا حصہ تھا، اس نے بی جے پی اور اس کے پالیسی سازوں کو تھوڑی پریشانی میں ڈال دیا تھا۔ لیکن انٹرپشن کے بعد جب راہل گاندھی نے دوبارہ بولنا شروع کیا تو وہ مطمئن ہو گئے کہ راہل گاندھی ملک پر بہت اثر نہیں چھوڑ پائیںگے۔لیکن راہل گاندھی نے ملک پر یہ اثر چھوڑا کہ انہوں نے اس بیچ کافی کچھ سیکھا ہے اور ان میں ایک خود اعتمادی آئی ہے۔ حالانکہ اس خود اعتمادی کو تقریر کے بعد انہوں نے انتہائی خود اعتمادی میں بدل دیا۔
وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس گئے۔ انہیں توقع تھی کہ نریندر مودی انہیں دیکھ کر کھڑے ہو جائیںگے، لیکن مودی کھڑے نہیں ہوئے۔ راہل گاندھی نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ ان سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔ نریندر مودی انہیں دیکھتے رہ گئے۔ تب راہل گاندھی نے اچانک انہیں اپنے گلے سے لگانے کی کوشش کی اور ملک کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ نریندر مودی ان کے اوپر چاہے جتنے حملے کریں، ان کے دل میں مودی کے لئے کوئی عدم احترام کا جذبہ نہیں ہے۔ لیکن اپنی سیٹ پر آکر انہوں نے تمام سنجیدگی ختم کر دی۔ وہ بھول گئے کہ پورا پارلیمنٹ ہائوس کیمرے کی زد میں ہے اور چونکہ اس دن وہ بہت متوقع اسپیکروں میں بھی تھے، اس لئے کیمرہ ان کے اوپر ضرور فوکس کر رہاہوگا۔ انہوں نے جیوتی رادتیہ سندھیا کو آنکھ ماری اور مسکرائے۔ اس سے ملک میں یہ پیغام گیا کہ راہل گاندھی نے جو بھی کیا وہ سنجیدگی سے نہیں کیا، بلکہ یہ ان کی حکمت عملی تھی۔ راہل گاندھی کے آنکھ مارنے والے واقعہ نے بی جے پی کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا، جس نے سارے ملک میں راہل گاندھی کا مذاق بنا دیا۔
دوسری طرف جب وزیر اعظم نریندر مودی تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہوں نے راہل گاندی سے بھی زیادہ بچپنا دکھا دیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بننے کی اتنی جلدی ہے کہ انہوں نے مجھے اشارہ کرکے کہا کہ ’کھڑے ہو جائو، کھڑے ہوجائو‘۔ایسا راہل گاندھی نے نہیں کہا تھا، لیکن وزیر اعظم مودی نے ملک میں یہ چھاپ چھوڑی کہ ان میں بھی سنجیدگی کی انتہائی کمی ہے ۔لوک سبھا میں جو ملک کے لوگ دیکھ رہے تھے، انہوں نے اس سے الٹا بتانے کی کوشش کی۔
رافیل پر راہل کی غلطی
راہل گاندھی کو لے کر ملک کے نوجوانوں میں مایوسی اس لئے آئی کہ انہوں نے اپنی تقریر میں ان بنیادی ایشوز کو بالکل نہیں چھُوا جو ملک کے سامنے تھے یا 2014 کے انتخابات میں جن کا وعدہ نریندر مودی نے کیا تھا یا جیتنے کے بعد جنہیں انہوں نے لاگو کرنے کی بات کہی تھی۔ راہل گاندھی کو چاہئے تھا کہ وہ وزیر اعظم سے جواب مانگتے کہ جتنی بھی اسکیمیں لاگو ہوئی ہیں، ان کا حقیقی رپورٹ کارڈ کیا ہے۔
راہل گاندھی نے وہ ایشو اٹھائے جو بہت پہلے اٹھ چکے ہیں لیکن انہی کی غلطی سے وہ ایشو نہیں بن پائے۔ جیسے رافیل کا ایشو۔ رافیل کا ایشو ملک میں سب سے پہلے ’چوتھی دنیا ‘ نے اٹھایا تھا۔ کانگریس کے ہی لوگ راہل گاندھی کے پاس ’چوتھی دنیا ‘ کی وہ کاپی لے کر گئے تھے۔ اس میں سب سے بڑا خلاصہ تھا کہ رافیل ڈیل میں کیا کیا غلطیاں ہوئیں اور کہاں کہاں گڑبڑیاں ہوئیں۔ لیکن نہ راہل گاندھی نے اس وقت اس ایشو کو اٹھایااور نہ ہی کانگریس پارٹی کے کسی ترجمان نے ۔نرملا سیتا رمن نے لوک سبھا میں کہا کہ یو پی اے کے وقت ہوئے اس معاہدے میں طے تھا کہ اس ڈیل کو خفیہ رکھا جائے۔ دوسری طرف فرانس سرکار نے بھی اس بات سے انکار کر دیا کہ صدر نے راہل گاندھی سے اس طرح کی کوئی بات کہی تھی۔

 

 

نئی ورکنگ کمیٹی سے مایوس ہیں کانگریس کارکنان

 

 

اپنوں کو کنارہ کرتی کانگریس
اب سوال یہ ہے کہ راہل گاندھی ان انتخابات کے لئے کتنے تیار ہیں؟کانگریس صدر بننے کے تقریباً 7 مہینے بعد انہوں نے ورکنگ کمیٹی بنایا۔ اس ورکنگ کمیٹی میں 24 لوگ ایسے ہیں جنہیں ملک میں کانگریس کے کارکن بھی نہیں جانتے۔ انہیں بتانا پڑتا ہے کہ ہم نئی بنی ورکنگ کمیٹی کے ممبر ہیں۔ دوسری طرف راہل گاندھی نے ان سبھی لیڈروں اور ممبروں کے ذہن میں ڈر پیدا کر دیا ہے جنہوں نے کانگریس کو بنانے میں اپنی زندگی لگا دی۔ ایسی خبریں پھیلی ہیں کہ صرف 25 سے 30 سال کی عمر تک کے لوگوں کو راہل گاندھی لوک سبھا کا ٹکٹ دینے والے ہیں۔ ان کا کوئی بھروسہ پرانے لیڈروں پر نہیں ہے اور وہ خود قیادت کی ایک پوری نسل کو بدل دینا چاہتے ہیں۔
اس خبر نے کانگریس کے بہت سارے لوگوں کے ذہن میں حاشئے پر جانے کا ڈر پیدا کر دیا ہے۔ اس لئے کانگریس ایک ایسی جگہ آکھڑی ہوئی ہے جہاں اسے بی جے پی سے زیادہ اپنے لوگوں سے خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ راہل گاندھی کے صلاح کاروں میں 90 فیصد لوگ ایسے ہیں جنہیں سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ یہ بھی نہیں جانتے ہیں کہ کانگریس کے جن لیڈروں نے اپنی زندگی اس پارٹی کو بنانے میں لگا دی یا جن لوگوں کو وہ چن رہے ہیں، ان کا اپنے علاقے میں اثر ہے بھی یا نہیں ہے۔راہل گاندھی کے صلاح کاروں کو شاید یہ لگتا ہے کہ وہ جسے بھی کھڑا کریں گے، لوگ اسے لیڈر مان کر ووٹ دے دیںگے۔ اس لئے اس وقت غلام نبی آزاد جیسے لوگ بھی ذہنی پریشانی کے شکار ہیں کہ آگے آخر ہوگا کیا؟ دگ وجے سنگھ ایک کنارے پر کر دیئے گئے ہیں۔ ان کے ذہن میں کانگریس کے لئے جذبہ تو ہے لیکن کانگریس کے لئے کوئی اسکیم نہیں ہے۔ جو لیڈر سونیا گاندھی کے وقت کانگریس کو کھڑا کرنے میں جی جان لگاتے تھے، وہ سارے کے سارے اس وقت مایوس بیٹھے ہوئے ہیں۔
راہل گاندھی شاید سوچ رہے ہیں کہ 2019 میں وہ وزیر اعظم نہیں بنیں گے، لیکن ان کی ساری بساط 2024 کی ہے۔ اس لئے انہوں نے اشارہ دیا کہ اپوزیشن اتحاد کے لئے کسی کو بھی وزیر اعظم عہدہ کا امیدوار بنانے میں انہیں کوئی ہچک نہیں ہے اور وہ خود اس دوڑ سے باہر ہو سکتے ہیں۔
گوپال کرشن گاندھی ہوں گے پی ایم امیدوار
اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا مایاوتی، اکھلیش یادو، ممتا بنرجی یا چندر بابو نائیڈو جیسا کوئی نام اپوزیشن کے وزیر اعظم عہدہ کا امیدوار ہو سکتا ہے۔ میری حتمی جانکاری ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی راہل گاندھی وزیر اعظم عہدہ کے لئے امیدوار بنانے پر اپنی رضامندی نہیں دیں گے۔ ان کے دماغ میں وزیر اعظم عہدہ کے لئے ایک نیا نام ہے، وہ ہے گوپال کرشن گاندھی کا۔ راہل گاندھی کو لگتا ہے کہ وزیر اعظم ایسا ہونا چاہئے جو 2024 میں ان کے لئے جگہ خالی کر دے اور اس کے لئے انہوں نے گوپال کرشن گاندھی کے نام کا فیصلہ لیا ہے۔وہ اس بات پر زور دیں گے کہ تمام اپوزیشن گوپال کرشن گاندھی کے نام پر متحد ہو جائے۔ ایسا ہوگا یا نہیں ہوگا،یہ بعد کی بات ہے۔
دوسری طرف، وزیر اعظم نریندر مودی اس بار کسی بھی ایسے آدمی کو ٹکٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں، جس میں انہیں مستقبل کے شترودھن سنہا یا یشونت سنہا جیسا ہلکا سا باغی نظر آئے۔ پچھلے چار سالوں میں جس رکن پارلیمنٹ نے بھی اپنے غصے، غم اور درد کو لے کر اخباروں میں بیان دیا ہے، اس کا نام بی جے پی کی 2019 کی ممکنہ لسٹ سے غائب ہو گیا ہے۔ بلیا کے بھرت سنگھ، بیگو سرائے کے بھولا سنگھ جیسے 100اراکین پارلیمنٹ کو اس بار ٹکٹ نہیں ملے گا، جن کے بارے میں انٹیلی جینس بیورو نے رپورٹ دی ہے کہ وہ ناراض ہیں اور پارٹی کے موجودہ طریقہ کار کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ وزیر اعظم کے کہنے پر امیت شاہ نے ایک سروے کرایا ہے۔ چانکیہ نام کی ایجنسی نے ملک بھر میں کئے گئے اس سروے کے بعد سفارش کی ہے کہ کم سے کم 100 لوگوں کو اس بار ٹکٹ نہیں دینا چاہئے، نہیں تو وہ ہار جائیںگے۔ ان میں اکیلے اترپردیش سے 40 کے لگ بھگ نام ہیں، جنہیں بی جے پی ٹکٹ نہیں دینے جارہی ہے۔
سنگھ کے سائے سے آزاد ہے مودی کی بی جے پی
نریندر مودی پورے طور پر پارٹی کو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے سائے سے آزاد کراکر اپنی مٹھی میں کئے ہوئے ہیں۔ بی جے پی کے کسی بھی پروجیکٹ کا تو ان کے لئے کوئی مطلب ہے ہی نہیں۔اس کی دو مثالیں ہیں۔سودیشی جاگرن منچ اور بی جے پی کا کسان سنگٹھن یا ان کا مزدور سنگٹھن۔وہ لوگ کچھ بھی بولتے رہیں، سرکار پر ان کی بات کا یاان کی صلاح کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
سرکار پورے طور پر دیشی – بدیشی کمپنیوں کے اثر کے تحت کام کر رہی ہے۔ سودیشی جاگرن منچ چیختا چلاتا رہتا ہے لیکن سبھی اقتصادی پالیسیاں ہندوستانی ماحول کو دھیان میں رکھ کر نہیں بلکہ ورلڈ بینک اور امریکی پالیسیوں کو دھیان میںرکھ کر بنائی جارہی ہیں۔ اقتصادی صلاح کار اور نیتی آیوگ کے ممبرصورت حال کو جتنا بگاڑ سکتے ہیں، اتنا بگاڑنے کے بعد استعفیٰ دے کر آسانی سے امریکہ چلے جاتے ہیں اور انھیں وہاں ورلڈ بینک میںنوکری مل جاتی ہے۔ یہ بی جے پی پوری طرح سے نریندرمودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی ہے، جو راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے سائے سے پوری طرح آزاد ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے تین سال میںصور ت حال کو بدل دیا ہے۔ اب صرف کہنے کو بھارتیہ جنتا پارٹی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کی سیاسی شاخ ہے۔ ان کی سنگھ کے سینئر لوگوں کے ساتھ بھی بہت بات چیت نہیںہے۔ سنگھ کا کوئی بھی شخص وزیر اعظم مودی کی خواہش کے خلاف کچھ بھی کہنے کی ہمت نہیںکرتا۔ وزیر اعظم مودی سیاسی صلاح نہیں لیتے۔ سیاسی صلاح کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی کے سینئر وزیروں سے بھی ان کی بات چیت نہیںہوتی۔ صرف چند وزیر ایسے ہیں جن کے ساتھ وہ بات کرتے ہیں۔ وہ بھی ویز اعظم سے ایسی بات کرتے ہیں جو وزیر اعظم کوپسند ہوں۔
گھر میں بھی ڈرتے رہتے ہیں مودی سرکار کے وزیر
وزیر اعظم کے حکم سے یا بغیر ان کے کہے ہوئے بھی ، جتنے بھی مرکزی وزیر ہیں، ان سب کے دفتر سرولانس پر ہیں۔ اگر بات کرنی ہوتی ہے تو وہ دفتر سے باہر جاتے ہیں،اپنے گھر میںبھی وہ بات نہیںکرتے۔ موبائل آف کرکے ڈرائنگ روم میںچھوڑ دیتے ہیں او رپھر گھر سے باہر لان میںیا لان کے پیچھے جاکر اپنے ساتھیوںسے بات کرتے ہیں۔ یہ بات میںکافی ذمہ داری سے کہہ رہاہوں ۔ وزیر اس ڈر میں ہیں کہ آئی بی نے ان کے ڈرائنگ روم اور میٹنگ روم تک کو کسی نہ کسی طرح سے اپنے جاسوسی نیٹ ورک میںلے لیا ہے اور وہ سانس بھی لیتے ہیں تو اس کا پتہ وزیر اعظم مودی کو لگ جاتا ہے۔
ایک بڑ ے وزیر ہیںجو وزیر اعظم مودی کو لے کر اپنے دوستوں کے بیچ کبھی کچھ تبصرے کردیا کرتے ہیں۔ انھیں ایک دن کسی نے بلایا اور کہا کہ آپ کے خاندان کے سب سے نزدیکی شخص نے لندن میںفلیٹ لیا ہے اور اس کی رپورٹ وزیر اعظم کے پاس آئی ہے۔ اس فلیٹ سے جن دو لوگوںکے نام جڑے ہیں، وہ آپ کے سب سے نزدیکی ہیں، جن سے آپ کا خون کا رشتہ ہے۔ وزیر موصوف کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ جب انھوںنے کہا کہ اس کے لیے تو حوالہ کے ذریعہ پیسہ گیا ہے، لیگلی نہیںگیا ہے۔ یہ فلیٹ آپ کو منی لانڈرنگ کے کیس میںپھنسا سکتا ہے۔ لیکن جب تک اس کی فائل وزیر اعظم کے پاس ہے تب تک آپ مطمئن رہئے ۔ ان وزیر موصوف کی حالت خراب ہوگئی۔
دوسرا قصہ ایک دوسرے بڑے وزیر کا ہے، جن کے بارے میںمانا جاتا ہے کہ سنگھ انھیںبہت پسند کرتا ہے اور اگر کبھی وزیر اعظم مودی نے استعفیٰ دیا یا وزیر اعظم مودی کی جگہ کسی اور کو چننے کی بات آئی تو ان ہی کو سنگھ چنے گا۔ انھیںبھی کسی ایک اہم شخص نے کہا کہ آپ کو سب سے آسانی سے کنارے کیا جاسکتا ہے کیونکہ آپ کیا کیا کرتے ہیں، اس کی ساری جانکاری اور پورا کچا چٹھا وزیر اعظم کے پاس ہے۔ وہ وزیر موصوف بھی گھبرا گئے۔ ان دو وزیروں کے ساتھ ہوئے اس سلوک نے کابینہ کے باقی ممبروں کی ہوا خراب کردی۔
وزیر اعظم مودی کے پیغام دینے کا طریقہ بھی بہت مزے دار ہے۔ کشمیر میں جب سرکار سے حمایت واپسی کی بات آئی تو شاید فیصلہ صرف دو لوگوں نے کیا، جن میںایک خود وزیر اعظم مودی تھے اور دوسرے قومی سلامتی کے مشیر۔ امیت شاہ کو بھی اس کی صرف اطلاع دی گئی اور ان سے کہا گیا کہ وہ پریس کانفرنس کرکے اس کا اعلان کرادیں۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو تب پتہ چلا جب پریس کانفرنس میںہوئے اعلان کی خبر انھیںلگی۔ وہ اس وقت اپنے وزارت داخلہ کے دفتر میںتھے۔ وہ وہاںسے اٹھے اور اپنے گھر چلے گئے۔ وزارت داخلہ کے افسروں نے اسی وقت صاف کیا کہ وزیر داخلہ کو حمایت واپسی کی اطلاع دفتر میںملی اور وہ اپنے گھر چلے گئے ہیں۔
راہل بنام مودی نہیں،عوام بنام بی جے پی
وزیر اعظم مودی اس بات سے مطمئن ہیںکہ راہل گاندھی کے پاس وہ آرٹ نہیںہے جو انھیں ایشوز پر بولنے کے لیے مجبور کرے ۔ لیکن وہ تھوڑا جھجک ضرور رہے ہیںکیونکہ انھیںجتنی جانکاری ان کے خفیہ نظام سے مل رہی ہے، اس کے مطابق انھیںاس بار کافی محنت کرنی پڑے گی۔ لیکن ان کے لیے سب سے راحت کی بات یہی ہے کہ اپوزیشن کے پاس کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں ہے جو انھیںسیدھے کھڑے ہوکر ٹکر دے سکے۔ اپوزیشن میںجن لوگوںکا بول بالا ہے، ان میںسب سے سمجھدار ان دنوںاکھلیش یادو دکھائی دیتے ہیں، جنھوںنے اتر پردیش میںاپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ وہ کوئی بھی ایسا بیان نہیں دے رہے ہیں جو یہ اشارہ دے کہ ان میںاور بہوجن سماج پارٹی میںسیٹوں کے بٹوارے کو لے کر کوئی بھی اختلاف ہے۔
دوسری طرف تیجسوی یادو نے اس بھرم کو بہت جلدی توڑ دیا ہے کہ نتیش کمار اور بی جے پی کے بیچ بڑے اختلافات ابھر رہے ہیں۔ سیاست کا ایک بنیادی اصول انھیں سمجھ میںنہیںآیا کہ اگر کوئی بھی ایسا احساس بن رہا ہے جس سے ان کے مخالف خیمے میں پریشانی ہے تو اس پریشانی کا بھرم بنے رہنے دینا چاہیے۔ انھوںنے نتیش کمار کے خلاف بیان دے کر بی جے پی کو بے فکر کردیا کہ نتیش کمار کو بہار میںاپوزیشن اپنے ساتھ نہیںملانے جارہا ہے۔ کانگریس نے کچھ کوشش کی لیکن تیجسوی یادو نے ایک منٹ میں اس طرح کا بیان دے کر کہ ان کے لیے کوئی بھی جگہ مہا گٹھ بندھن میںنہیں ہے، بی جے پی کو بے فکر کردیا اور امیت شاہ کے چہرے پر مسکان لا دی۔ سیاسی پختگی صرف والدکے مسائل کی وجہ سے لیڈربن جانے سے نہیں آتی، اس کے لیے کافی تجربے کی ضرورت ہوتی ہے اور بہار میں لالو پرسادیادو اور تیجسوی یادو کے بیچ کا یہی فرق ہے۔
وزیر اعظم مودی کے ہاتھ میںجو دوسرے ہتھیار ہیں،وہ ہتھیار کس دن اپوزیشن کے اتحاد کو توڑ دیں گے، کہا نہیںجاسکتا۔ ابھی جو بساط بچھی ہے، اس بساط پر کھلاڑی کے روپ میںمودی تھوڑے زیادہ مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔ راہل گاندھی اور مودی کے بیچ ایک فرق اور ہے۔مودی چوبیس گھنٹے کی سیاست کر رہے ہیں لیکن ر اہل گاندھی سیاست کے نام پر جو کر رہے ہیں، وہ پارٹی میںبھی اعتماد نہیںپیدا کر رہا ہے۔ شاید اسی وجہ سے ملک میںراہل گاندھی بنام وزیر اعظم کی صورت حال نہیں بن رہی ہے بلکہ عوام بنام بی جے پی بن رہی ہے۔ اس کے پیچھے صرف ایک احساس ہے کہ جتنی تشہیر وزیر اعظم مودی نے اپنے وعدوںکی کی ہے کہ ہم نے یہ پورا کردیا او راس سے ملک کو جنت بن جانا چاہیے، وہ چاہے نوکریوںکا سوال ہو، چاہے صنعتوںکا سوال ہو، چاہے انفراسٹرکچر کا سوال ہو، لوگ جب اپنے آس پاس دیکھتے ہیں تو انھیں ان میں بہت دم نظر نہیںآتا ۔ شاید اسی وجہ سے عوام بنام بی جے پی کی صورت حال تو بن رہی ہے لیکن راہل گاندھی بنام مودی کی صورت حال نہیںبن رہی ہے۔

 

 

 

نئی ورکنگ کمیٹی سے مایوس ہیں کانگریس کارکنان

 

 

 

 

راہل کی اسٹریٹجک غلطیاں
راجستھان میںالیکشن ہے، پھر بھی کانگریس کی ورکنگ کمیٹی میںسچن پائلٹ نہیں لیے گئے۔ ان کے پیچھے ہوسکتا ہے راہل گاندھی کے اہم صلاح کار اشوک گہلوت کی رائے رہی ہو یا یہ پھر سمجھداری رہی ہو کہ اگر سچن پائلٹ کو ہم ورکنگ کمیٹی میںلیتے ہیں اور انھیںلیڈر بناتے ہیں تو میرا ووٹ کانگریس کو نہیںملے گا۔ دوسری طرف ، مدھیہ پردیش میںایک واقعہ بڑا چونکانے والا ہے۔ گجرات کے رکن پارلیمنٹ دلیپ باوریا کو مدھیہ پردیش کے لیے سپروائزر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ چار پانچ بار بھوپال ہو آئے ہیں لیکن انھوںنے ایک بار بھی دگ وجے سنگھ سے بات نہیںکی ۔ دگ وجے سنگھ نے ایک بار فون کیا کہ بیٹا جنگل میںآئے ہو تو جنگل کے راجا سے تو ملو، شیر سے تو ملو۔ دلیپ باوریا کو دگ وجے سنگھ کا یہ کہنا پسند نہیںآیا۔ انھوںنے کہا کہ آپ مجھے سر کہہ کر بات کیجئے۔ دگ وجے سنگھ چونک گئے۔ دونوںکی عمر میں30 سال کا فرق ہے۔ دگ وجے سنگھ کو سارا ملک جانتا ہے لیکن دلیپ باوریا کو گجرات کے لوگ بھی اتنا نہیںجانتے ہیں۔ اگر وہ کہیںکہ میں دلیپ باوریا ہوں تو کوئی انھیںشاید نمستے بھی نہ کرے۔ ان کی کوئی پہچان نہیںہے۔
راہل گاندھی نے جس ایروگینسی کو یا دوسرے لفظوں میںکہیںجس اہنکار کو اپنے آس پاس پال رکھا ہے،وہی اہنکار ان کی ٹیم میں اور ان کے ذریعہ کھڑے کیے جارہے نئے لوگوںتک پہنچ گیا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ یہی طریقہ ہے جس سے راہل گاندھی خوش ہوسکتے ہیں۔ مودی کے پاس بڑی عمر ہے۔ مودی اب اپنی پارٹی میںتقریباً سب سے سینئر ہیں،جو ان سے سینئر تھے، انھیں انھوںنے صفر کردیا ہے۔ لیکن راہل گاندھی چونکہ صدر ہیں او راپنے کو نوجوانوں کا نمائندہ مانتے ہیں،اس لیے وہ اپنے سینئروںکو نظرانداز کرنا اپنی شان سمجھتے ہیں۔
سونیا گاندھی کے دور میںصورت حال بالکل برعکس تھی۔ راہل گاندھی کے وقت میںصورت حال بالکل برعکس ہے۔ ان کی ملاقات اپنی پارٹی کے کارکنوں سے نہیںہوتی،وہ کسی حکمت عملی پر کسی سے بات نہیںکرتے ۔ یہ حالات کم سے کم 2019 کے الیکشن میںراہل گاندھی کو وزیر اعظم مودی کے سامنے تو نہیںکھڑا کرتے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ملک میں عوام بنام بی جے پی ہو جائے۔ ایسی حالت میںکانگریس کو بڑا فائدہ مل سکتا ہے کیونکہ سیاسی ہتھیار بی جے پی کے خلاف ابھی بھی سب سے بڑی کانگریس ہی ہے۔ ایک صور ت حال اور بن سکتی ہے کہ ہر ریاست میںوہاںکی علاقائی پارٹی بنام بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرے اور ان کے سامنے بہت ساری چھوٹی چھوٹی پارٹیاںکھڑی دکھائی دیں۔ حالات کچھ بھی ہوسکتے ہیں او رمزے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی صورت حال ابھی تک صاف نہیںہے۔ صورت صاف کرنے کے لیے جتنا فعال راہل گاندھی کو ہونا چاہیے، وہ ابھی اتنے فعال نہیں ہیں۔ انھیںجتنا اپنی پارٹی کے کار کنوںسے ملنا چاہیے ، وہ نہیں مل رہے ہیں۔ انھیںپارٹی کے سینئر لیڈروںسے صلاح لینا اپنی توہین لگتی ہے۔یہ چھوٹے چھوٹے مدعے ہیں جو کانگریس کے سامنے بڑی رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ ابھی بھی راہل گاندھی کے سامنے وقت ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو دور کریں اور کانگریس کو 2019 کے الیکشن کے لائق بنائیں۔ 2024 میںکیا ہوگا یہ مستقبل کے پردے میںہے۔ تب تک نئی قیادت بھی آسکتی ہے او رملک کی اقتصادی حالت میںکوئی بھی کچھ بھی گل کھلا سکتی ہے، نئے سیاسی چہرے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میںایسی کئی مثالیںہیں، جب نئے سیاسی چہرے پیدا ہوئے ہیں۔ ملک اسی کے ساتھ جائے گا جو ا س کے مسائل کو سمجھنے کا پیغام ملک کے لوگوں کو دے گا اور ان کا حل نکالنے کا کوئی نیا راستہ بتائے گا۔
کانگریس کی کمزور نبض :چدمبرم اور واڈرا
کانگریس کو ڈر ہے کہ بی جے پی رابرٹ واڈرا اور چدمبرم کو قانونی دائرے میںلے سکتی ہے۔ دوسری طرف بی جے پی پوری کوشش کررہی ہے کہ ابھی چدمبرم کو اور چار مہینے کے بعد رابرٹ واڈرا کو وہ قانونی شکنجے میںلے لے اور انھیںجیل بھیجے۔ دراصل، کانگریس کو چدمبرم پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ منطقی طریقے سے 2019 کی حکمت عملی بنا سکتے ہیں۔ رابرٹ واڈرا کو لے کر کانگریس خود شک میںہے اور اسے لگتا ہے کہ رابرٹ واڈرا کے کیے ہوئے کاموں کے بارے میں چار سال صرف بی جے پی سرکار نے اس لیے انتظار کیا تاکہ وہ الیکشن کے موقع پر کانگریس کی شبیہ دھندلی کرنے کی کامیاب کوشش کرسکے۔ پرینکا گاندھی کے پورے طور پر سامنے نہ آنے کے پیچھے ان کے شوہر رابرٹ واڈرا کے خلاف ممکنہ کارروائی ہے لیکن پرینکا گاندھی اس بار رائے بریلی سے الیکشن لڑیںگی۔ بی جے پی اپنے سارے مہرے بہت سوچ سمجھ کر چل رہی ہے۔ لیکن ابھی بھی کانگر یس کے پاس ایسے سیاستداں نہیںہیں جو ممکنہ پریشانیوں یا ممکنہ مصیبتوںکا اندازہ لگا سکیں اور اس کا سامنا کرنے کے لیے کامیاب حکمت عملی تلاش کرسکیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *