بہار میں شیو سینا کی موجودگی این ڈی اے کے لیے کتنی خطرناک؟

سیاست میںکبھی کبھی چھوٹا کھلاڑی بھی بڑا کھیل کر دیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کھیل کا پتہ انتخابی نتیجوں کے بعد لگتا ہے اور اس وقت بڑے کھلاڑیوںکو لگتا ہے کہ کاش اس چھوٹے کھلاڑی کو ساتھ کر لیا ہوتا تو آج نتیجے کچھ اور ہوتے۔ ہم یہاں بات کر رہے ہیں ریاست بہار میں شیو سیناکی بڑھتی طاقت کی، جس نے 2014کے لوک سبھا انتخابات اور 2015 کے اسمبلی انتخابات میںکئی سیاسی دھرندروں کے کھیل کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ ادھر تین چار سالوں میںشیو سینانے اپنی طاقت میںلگاتار اضافہ کیا ہے۔ ضلعی سطح پر تنظیم کو مضبوط کرنے کی بات ہو یا پھر بوتھ کے لیول پر اپنے سینکوں کو تعینات کرنے کی، ان کاموںمیںپارٹی جم کر اپنا پسینہ بہارہی ہے۔ یہ شیو سینا کی بڑھی ہوئی طاقت کا ہی دم ہے کہ مہاراشٹر کی اس پار ٹی نے بہار کی 25 لوک سبھا سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا من بنا لیا ہے۔ دس سے زیادہ سیٹوں پر شیو سینا نے اپنے امیدواروں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ شیو سینا کے ریاستی چیف کوشلیندر شرما دعویٰ کرتے ہیںکہ 2019 کے لوک سبھا اور 2020 کی ودھان سبھا کی جنگ میںلوگوںکو پتہ چل جائے گا کہ زمین پر شیو سینکوں کی طاقت کیا ہے۔ پچھلے لوک سبھا اور ودھان سبھا انتخابات میںتو پارٹی نے صرف جھانکی دکھائی تھی لیکن اب آگے کے انتخابات میںریاست اور ملک کے لیڈروں کو ہماری اصلی طاقت کا احساس ہوجائے گا۔
شیو سینا کی بڑھتی قوت
شیوسینا کی ریاست میں بڑھ رہی طاقت کو سمجھنے کے لیے پچھلے لوک سبھا ااور ودھان سبھا انتخابات کے کچھ اعداد و شمار کو دیکھنا اور سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میںشیو سینا نے پانچ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے ۔ مدھوبنی سے ریتا کماری، دربھنگہ سے کیدار کیسو،اجیار پور سے جتندر رائے، مونگیر سے اشوک سنگھ اور مظفر پور سے اشوک جھا۔ مدھوبنی میںبی جے پی کے حکم دیو نارائن یادو نے آر جے ڈی کے عبدالباری صدیقی کو صرف 20,535 ووٹوںسے ہرایا۔ یہاںشیو سینا کی امیدوار ریتا کماری کو 28,000 ووٹ ملے تھے۔ مونگیر میںایل جے پی کی وینادیوی نے جے ڈی یو کے للن سنگھ کو ایک لاکھ نو ہزار ووٹوں سے ہرایا اور یہاں شیو سینا کے اشوک سنگھ کو 49,000 ووٹ ملے۔ دربھنگہ میں کیدار کیشو کو 22,000، اجیار پور میںجتندر رائے کو 11,000 اور مظفر پور میںاشوک جھا کو تقریباً 20 ہزار ووٹ ملے تھے۔ لیکن اگلے ہی سال ریاست میں ہوئے اسمبلی انتخابات میںاپنی بڑھی ہوئی طاقت سے متعارف کراتے ہوئے شیو سینا نے لگ بھگ دو درجن اسمبلی حلقوں میںکئی دگجوںکا کھیل بگاڑ دیا۔ لوکہا اسمبلی حلقے میں شیو سیناکے امیدوار منوج کمار بہاری نے 14,455 ووٹ لاکر بی جے پی کے پرمود کمار پریہ درشی کا کھیل بگاڑ دیاتھا۔ پرمود کمار پریہ درشی کو 56,138 ووٹ ملے اور وہ جے ڈی یو کے لکشمیشور رائے سے 23,833 ووٹوںسے ہار گئے۔ اسی طرح لکھی سرائے میںشیو سینا کے رام کمار منڈل نے 11,551ووٹ حاصل کرکے جے ڈی یو کے رامانند منڈل کو ہارکا ذائقہ چکھنے کو مجبور کردیا۔یہاں بی جے پی کے وجے سنہا 6,556 ووٹوں سے جیتے۔ موروا میںبی جے پی کے سریش رائے کو شیو سینا کے انل شرما نے کافی نقصان پہنچایا۔ سریش رائے کو 40,390 ووٹ ملے جبکہ انل شرما کو 9,380، یہاںجے ڈی یو کے ودیا ساگر نشاد 18,816 ووٹوںسے جیتے۔ گروا میںبی جے پی کے راجیو نندن نے جے ڈی یو کے رام چندر پرساد کو 6,515 ووٹوںسے ہرایا۔ یہاںغورکرنے والی بات یہ ہے کہ شیو سینا کے اودے ورما کو اس سیٹ کے لیے 8007 ووٹ ملے۔

 

 

 

جھانکی نہیںجنگ
اسی طرح دینارا میںشیو سینا کو 4265 ووٹ ملے اور یہاں جے ڈی یو اور بی جے پی میںجیت کا فرق 2691 ووٹ رہا۔ بی جے پی اور جے ڈی یو دونوں کے لیے یہ سیٹ وقار والی تھی۔ جے ڈی یو کے راجپوت چہرہ اور وزیر جے کمار سنگھ یہاں بی جے پی کے دگج راجندر سنگھ سے ٹکرارہے تھے۔ چرچا تھی کہ اگر بی جے پی گٹھ بندھن کی سرکار بنتی تو راجندر سنگھ سی ایم بھی ہوسکتے تھے۔ راجندر سنگھ کو جیت دلانے کے لیے جھارکھنڈ سے بھی کارکنوںکی ایک بڑی فوج مہینوں تک دینارا میںگھومتی رہی لیکن شیو سینا نے یہاں 4265 ووٹ لے کر بی جے پی اور راجندر سنگھ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پٹنہ صاحب سے بی جے پی کے دگج لیڈر نند کشور یادو کسی طرح جیتے۔ انھیں2792 ووٹوںسے جیت حاصل ہوئی۔ اس سیٹ پر شیو سینا کے امیدوار نندو کمار کو 1694 ووٹ ملے۔ حیا گھاٹ، کمہرار، گووند گنج، ٹیکاری، بوچہاں او رامور میںبھی شیوسینا تیسرے مقام پر رہی۔ ریاستی چیف کوشلیندر شرماکی مانیںتواس بار جھانکی نہیںہوگی بلکہ صحیح معنوں میںجنگ ہوگی۔ شرما کہتے ہیںکہ پچھلی بار پارٹی 15 سیٹوں پر تیسرے مقام پر رہی اور ان میں13 سیٹیںایسی تھیںجہاں جے ڈی یو نے الیکشن نہیںلڑا تھا۔ اس لیے جے ڈی یو اور دوسری پارٹی کے لوگ یہ افواہ پھیلانے بند کردیںکہ ملتا جلتا انتخابی نشان ہونے کی وجہ سے شیو سیناکے امیدواروںکو ووٹ مل جاتا ہے۔ کوشلیندر شرما کہتے ہیںکہ پولرائزیشن کی پالیسی نے ریاست کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ بھوک اور غریبی نے ایسے پاؤں پسارے ہیں کہ اب یہ کہا نہیںجا سکتا کہ بہار کے ہر گھر میںروز چولہا جلتا ہے یا نہیں۔ شیو سینا اس ریاست کی مکمل ترقی چاہتی ہے نہ کہ کسی کا پولرائزیشن۔ 2019 کے الیکشن میںلوگوںکو شیو سینا کی طاقت کا احساس ہو جائے گا۔ اسمبلی سطح پر بھی پارٹی نے اپنی مہم شروع کردی ہے اور شیو سینا پوری طاقت سے بہار اسمبلی انتخابات لڑنے جارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *