حاجیوں کی عرفات میں آمد

arafat
عازمین حج اتوار کا دن مِنی میں گزارنے کے بعد آج پیر کے روز حج کا رکن اعظم ادا کرنے کے لیے عرفات پہنچ رہے ہیں۔ سعودی عرب میں حج کے فرائض کی ادا ئیگی کے ساتھ لاکھوں عازمین نے خراب موسم کے دوران حج کا آغاز کیا۔پانچ دنوں تک حج کے ارکان ادا کئے جائیں گے ۔میڈیارپوٹس کے مطابق پوری دنیا سے 25لاکھ سے زائد عازمین یہاں پہنچے ہیں۔دنیا بھر سے آئے 25 لاکھ سے زائد عازمین حج کل دن بھر اور آج کی رات منی میں گزارنے اور وہاں ذکر واذکار میں مصروف رہنے کے بعد آج پیر کو بعد نماز فجر لبیک اللھم لبیک کے ورد کے ساتھ حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ کے لئے میدان عرفات کے لئے روانہ ہو گئے اور روانگی کا یہ سلسلہ دوپہر تک جاری رہے گا۔ رواں برس بھی متعلقہ ادارے حج سیزن کے دوران سکیورٹی، صحت اور انتظامی امور سے متعلق خدمات انجام دینے میں شب و روز مصروفِ عمل ہیں تا کہ حجاج کرام مکمل امن ، سکون اور سلامتی کے ساتھ سہولت سے اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
بارش اور طوفان کے کے اندیشے کے پیش نظر عازمین اپنے کیمپوں میں ہیں۔ اگرچہ خراب موسم کے باوجود حج کے ارکان پر ادا کئے جائیں گے۔سعودی عرب کے وزیر صحت کے مطابق کسی بھی طرح کی وبا پھیلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سعودی وزارت صحت نے عرفات کے مختلف حصوں میں چار ہسپتال تیار کیے ہیں جن کی گنجائش 600 بستروں پر مشتمل ہے۔ ان کے علاوہ 46 طبّی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ گْردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے ڈائیلیسز کی 49 مشینیں تقسیم کی گئی ہیں۔
عرفات میں 150 طبّی ٹیمیں، 33 ایمرجنسی مراکز اور 26 سے زیادہ کیئر پوائنٹس صحت سے متعلق خدمات کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں 355 اہل کاروں کو مختص کیا گیا ہے۔ ان میں 19 ڈاکٹر، 9 اسپیشلسٹ، 100 رضاکار اور 11 نگرانوں کے علاوہ تکنیکی اور انتظامی عملہ شامل ہے۔
ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ہندستانیوں سمیت دنیا بھر سے آئے تمام عازمین حج آج پورا دن میدان عرفات میں گزاریں گے اور مسجد نمرہ میں ہونے والی ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کریں گے۔ عازمین یہاں میدان عرفات میں گڑگڑا کر بارگاہ الہی میں اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں گے۔ یہاں حج کا خطبہ بھی دیا جائے گا۔
سورج غروب ہونے کے بعد تمام عازمین حج مغرب کی نماز پڑھے بغیر عرفات سے مزدلفہ کی طرف کوچ کریں گے اور مزدلفہ پہنچ کر وہاں مغرب اور عشا کی نماز ایک ساتھ پڑھیں گے۔ مزدلفہ کی پہاڑیوں میں کھلے آسمان کے نیچے وہ رات گزاریں گے اور یہیں سے وہ کنکریاں اکٹھا کریں گے۔ منگل کی صبح فجر کی نماز کے بعد عازمین کا یہ قافلہ واپس منی روانہ ہو جائے گا جہاں پہلے دن کی رمی جمرات ادا کی جائے گی یعنی بڑے شیطان کو علامتی طور پر کنکریاں ماری جائیں گی۔ رمی جمرات کا یہ رکن اگلے دو دنوں تک مزید جاری رہے گا۔ منگل کو بڑے شیطان کو کنکری مارنے کے بعد عازمین سر حلق کرائیں گے اور قربانی کریں گے۔ اس کے بعد احرام کھول دیں گے۔ پھر وہ خانہ کعبہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کریں گے۔
وزارت داخلہ نے دہشت گردانہ حملے نیز دیگر خطرات کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔عرفات آنے والے تمام راستوں اور اندرونی سڑکوں پر ٹریفک پولیس اور سکیورٹی اہل کاروں کے یونٹس پھیل چکے ہیں تا کہ حجاج کرام کی نقل و حرکت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *