معروضی صحافت کے علم بردار تھے مرحوم خورشید عالم:دانشوران

Alhikmah-Foundation
نئی دہلی:الحکمہ فاؤنڈیشن نے مرحوم خورشید عالم کی پہلی برسی کے موقع پر 5اگست کو ایک سمپوزیم معروضی صحافت کا مستقبل کے عنوان سے اپنے صدر دفتر واقع ذاکر نگر میں منعقد کیا۔ فاؤنڈیشن کے چیرمین ڈاکٹر ضیاالدین ندوی نے مرحوم خورشید سے اپنے دیرینہ تعلق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم طبیعتاً بہت ملنسار ، خوش اخلاق اور بذلہ سنج واقع ہوئے تھے۔ ڈاکٹر ندوی نے الحکمہ کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن گزشتہ ستائس برسوں سے سماج اور انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروف ہے۔ فاؤنڈیشن کا دائرہ عمل بشمول تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے نہایت وسیع ہے۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے چیرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے مرحوم خورشید عالم کو ایک بے باک اور فرض شناس صحافی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کے دل میں قوم کا درد تھا ۔ گو کہ مرحوم نے اپنے صحافتی سفر کا آ غاز اردو میڈیا سے کیا تھا تاہم کچھ عرصہ بعد ہندی میڈیا سے بھی وابستہ ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر خان نے مزید کہا کہ مرحوم خورشید عالم کو ارد و اور ہندی زبانوں میں یکساں دسترس حاصل تھی اور انہوں نے اپنے زور قلم سے صحافتی دنیا میں اپنا نام اور مقام بنا لیا تھا ۔ انہوں نے اپنی معروضی صحافت کے ذریعہ اپنے پیشہ کے ساتھ انصاف کیا ۔
مولانا عبدلحمید نعمانی نے اپنے ربع صدی پر محیط مرحوم خورشید عالم سے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم حتی الامکانٍ معروضی رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ جب بھی انہیں کوئی مسئلہ ستاتا وہ سیدھے میرے پاس دوڑے چلے آتے اور کچھ دیر اس پر مذاکرہ کرتے اور شاندار مضمون تحریر فرما دیتے۔ وہ ایک بے باک صحافی تھے جو حق بات کہنے سے کبھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ بدعنوان لوگوں کے خلاف لکھنے سے بھی وہ کبھی دور نہیں بھاگے۔
شوبھت یونیورسٹی کے چانسلر، کنور شیکھر وجیندرنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ گزشتہ دس برس سے انکے مرحوم خورشید عالم سے مراسم تھے۔ مرحوم ہمیشہ قوم اور ملت کی بہبود کے بارے مین فکرمند رہتے تھے۔ میری اور ان کی گفتگو کا محور اکثر صحافت میں معروضیت اور مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی ہوتا تھا۔ میرے ہی مشورہ سے انہوں نے تعلیم اور تعلیمی مسائل پر بھی لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مرحوم خورشید اپنا ایک اخبار بھی نکالنا چاہتے تھے بلکہ ا نہوں نے اسکا ٹائٹل بھی رجسٹر کرا لیا تھا مگر افسوس کہ وہ اپنے اس خواب کو شرمندہء تعبیر نہ کر سکے اور اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ سہ روزہ دعوت کے ایڈیٹر ، پرواز رحمانی کے مطابق مر حوم خورشید عالم ایک معروضی صحافی تھے۔ انکے اندر مسائل کو مختلف زاویوں سے تجزیہ کرنے کی خداداد صلاحیت تھی ۔ میں اپنے آپ کو کافی خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مجھے انکے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد کے چانسلر فیروز بخت احمد نے صدارتی کلمات میں مرحوم خورشید عالم کو ایک نڈر انویسٹیگیٹو صحافی بتلایا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم خورشید صاحب مجھے اکثر پی آئی بی، پریس کلب یا ذاکر نگر کی گلیوں میں ٹکراجاتے تھے اور ہمیشہ قوم کی پسماندگی اور تعلیم سے بیزاری پر گفتگو کرتے تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار سی بی ایس سی کی کتاب میں مولانا آزاد کا جائے پیدائش غلط درج ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنے صحافی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے میری توجہ اس طرف مبذول کرائی ۔ یہ انکے حاضر دماغ ، علمیت اور صلاحیت پر دال ہے۔
مرحوم خورشید عالم کے برادر خورد محمد ندیم ، انکی بیٹی ارم ، ڈاکٹر ادریس خان، صحافی عائشہ پروین، ملت ٹائمس کے مدیر شمس تبریز قاسمی اور سی سی آر یو ایم کے سابق ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر محمد خالد صدیقی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔ فاؤنڈیشن کے نائب چیرمین اور اِس سمپوزیم کے محرک و روحِ رواں آصف عمر نے پروگرام کی نظامت فرمائی۔ آخر میں فاؤنڈیشن کے سکرٹری ایس ایس احمد نے تمام مہانان گرامی اور سامعین کا شکریہ ادا کیا ۔ پروگرام کے اِختتام پر ثاقب یاسین نے مہمانوں کی ضیافت کا فریضہ انجام دیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *