71ویں یوم آزادی کے موقع پرفلم’گولڈ‘ کا سنہراگفٹ

FILM-GOLD
بالی ووڈ میں آج کل جہاں نئے چہروں کی انٹری ہورہی ہے اورانہیں خوب پذیرائی دی جارہی ہے ،وہیں چندپرانے چہرے ایسے بھی ہیں جن کی اداکاری کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے اور یہ ہیں ایکشن ہیرو اکشے کمار ۔یادرہے کہ اکشے کمارٹاپ کے اداکاروں میں سے ایک ہیں جو ٹوائلٹ اور پیڈمین جیسے سماجی مسائل پر مبنی کہانی کے ساتھ فلموں میں نظر آچکے ہیں۔اب وہ اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک بار پھر برطانوی سامراج پر مبنی فلم ’گولڈ‘ کے ساتھ15اگست کے موقع پر آرہے ہیں۔
گذشتہ دنوں بالی ووڈ کے ٹاپ ستاروں میں سے ایک اداکار اکشے کمار کی اسپورٹس ڈرامہ فلم ’گولڈ‘ کا ٹریلر جاری کردیا گیا ہے۔سپراسٹار اکشے کمار کی فلم ’گولڈ‘ کا ناظرین کو جس بے صبری سے انتظار تھاوہ اب ختم ہونے والا ہے۔اس فلم میں اکشے کمار کھلاڑی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کو سکھانے والے کوچ کے کردار میں نظر آئیں گے۔ ٹریلر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اکشے کمار کس طرح آزاد ہندوستان کی پہلی ہاکی ٹیم بنانے کے لیے شہر، شہر کا دورہ کرکے کھلاڑیوں کو کھیلنے کے لیے راضی کرتے ہیں۔فلم میں اکشے کمار نے بنگالی ہاکی کوچ تپن داس کا کردار ادا کیا ہے، جنہوں نے 1948 میں نہ صرف ہندوستان سرکار بلکہ اس وقت ہاکی کھیلنے والے کھلاڑیوں کو بھی جمع کرکے ہاکی کھیلنے اور برطانیہ کو ہرانے کے لیے پلان تیار کیا۔فلم کو ہندوستان کے علاوہ برطانیہ میں شوٹ کیا گیا ہے۔فلم کی کہانی آزاد ہندوستان کی پہلی ہاکی ٹیم کی ہے، جس نے 1948 میں برطانیہ میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں میں ماضی میں برطانیہ ہندوستان پر حکومت کرنے والے ملک کو ہرا کر گولڈ میڈل جیتا تھا۔
فلم میں برطانیہ کے مغل ہندو ستان کی کہانی ہے، جو آزادی کے ساتھ ہی ہاکی میں پہلا گولڈ اولمپک میڈل حاصل کرنا چاہتاہے۔ کس طرح ان سے سپنے بنتے ہیں، کس طرح بگڑتے ہیں، اسی کی کہانی ہے گولڈ۔ یہ دیکھنے کیلئے فلم ناظرین کوفلم کے ریلیز ہونے تک انتظارکرنا پڑے گا۔فلم ’گولڈ ‘ ایک طرح سے ایک ہاکی کھلاڑی کی ذاتی زندگی پرمبنی ہے۔ جنہوں نے آزادہندوستان کیلئے پہلا گولڈ میڈل حاصل کرکے ہندوستان کا نام فخرسے بلندکیا تھا۔اس فلم میں ہندوستان کیلئے پہلے گولڈ کا خواب دیکھنے والے ہاکی کھلاڑی کے سفرکو دکھا یا گیاہے۔گولڈ کے ذریعے ملک کیلئے گولڈ جیتنے کا خواب دیکھنے والی ٹیم کے سفرکوپیش کیا جائے گا۔1936سے شروع ہوئے اس سفر کوجیت مکمل کرنے کیلئے 12برس کا لمباعرصہ لگا تھا۔معلوم ہوکہ ، ہندوستان نے 12 اگست 1948میں اولمپک کے دوران ایک آزاد ملک کے طورپر اپنا پہلا گولڈ میڈل جیتا تھا۔ تاہم فلم کا زیادہ وقت برصغیر کی تقسیم کے بعد آزاد ہندوستان کے ابتدائی 2 سال کے وقت کے گرد گھومتا ہے۔فلم ’گولڈ‘ 1948میں ہوئے اولمپک میں آزاد ہندوستان کے پہلے گولڈ میڈل کے 70برسوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس یوم آزادی کے موقع پر ریلیز کی جارہی ہے۔
فلم ’گولڈ‘ 15اگست کو ریلیز ہوگی۔ فلم میں دکھایاجائے گا کہ کیسے ہم ہندوستانی برطانوی قومی ترانہ پر کھڑے ہوتے رہے اورگاتے رہے ، لیکن ایک شخص کے ضد نے 1948 کے لندن اولمپک میں برطانیہ کو ہندوستانی قومی ترانہ پر کھڑے ہونے کیلئے مجبور کردیا۔ گولڈ فلم میں ہندوستانی ہاکی ٹیم کے لندن اولمپک کے سفرکودکھایا گیاہے جب ہندوستانی ٹیم نے کئی مشکلوں کا سامنا کرتے ہوئے انگریزوں کوشکست دیکر گولڈ میڈل جیتاتھا۔
ہندوستانی ٹیم آزادی سے پہلے اولمپک میں تین گولڈ میڈل جیت چکی تھی، لیکن آزادی کے بعد یہ پہلا میڈل تھا جب ہندوستانی ٹیم کسی بڑے ایونٹ میں حصہ لے رہی تھی۔ اس دوران سبھی کی نظریں ہندوستانی ہاکی ٹیم تھی۔ ہاکی ہی ایک ایسا کھیل تھا جو پہلے بھی ہندوستان کوگولڈ دلا چکاتھا۔ لیکن اس بار یہ اتناآسان نہیں تھا۔
1947میں ہندوستان کی تقسیم ہوچکی تھی اورکئی کھلاڑی پاکستان چلے گئے تھے۔ وہیں میجردھیان چند نے بھی ریٹائرمنٹ لے لیاتھا۔ ایسے میں اولمپک کمیٹی نے ہندوستان -پاکستان کوتجویزدی کہ وہ ایک مشترکہ ٹیم بھیجے۔ لیکن، دونوں ملکوں نے یہ تجویز کوخارج کردیا۔
1948پر اولمپک ایک نظر
تقسیم وطن کے بعد1948میں اولمپک کیلئے پہلی ہندوستانی ہاکی ٹیم بنی۔ اس بڑے ایونٹ کیلئے کشن لال کوہندوستانی ہاکی ٹیم کا کپتان بنایاگیا تھا، جبکہ کے ڈی سنگھ بابوکونائب کپتان مقرر کیا گیا تھا۔ یہ ٹیم بالکل نئی تھی، اسلئے ٹیم مینجمنٹ کو ہندوستان سے امیدکم ہی تھی۔ہندوستانی ٹیم کا پہلا میچ آسٹریلیا کے ساتھ کھیلا گیا اورہندوستان نے سب کو غلط ثابت کرتے ہوئے 8-0سے روندڈالا۔ اس کے بعد اگلے ہی میچ میں ہندو ستان نے ارجینٹینا کو 9-1سے کراری شکست دے دی۔اس کے بعد ہندو ستانی ٹیم نے اسپین کو 2-0سے شکست دے کر سیمی فائنل میں انٹری کی۔گروپ اسٹیج پر ہندوستانی ٹیم کے اس شاندارکارکردگی نے گولڈ کا دعویدار بنادیا۔
آخری چار میں ہندوستانی ٹیم کا مقابلہ ہالینڈ سے تھا اورہندوستان نے اس میچ میں 2-0سے جیت درج کرکے سیمی فائنل کا ٹکٹ کٹوالیا۔ وہیں دوسرے سیمی فائنل میں برطانیہ نے پاکستان کوشکست دے کرفائنل میں جگہ بنالی۔ اب گولڈ کیلئے سخت ٹکر ہندوستان اوربرطانیہ کے بیچ تھا۔ 200سالوں تک ہندوستان پرراج کرنے والے انگریزوں سے بدلہ لینے کیلئے ہندوستانی ٹیم اتری تھی۔ فائنل میں ہندوستانی ٹیم نے برطانیہ کو 4-0سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا۔ یہ ہندوستانی ٹیم کا اولمپک میں لگاتار چوتھی ہاکی گولڈ تھا ، لیکن آزاد ہندوستان کا یہ پہلا گولڈ تھا۔خاص بات یہ تھی کہ فائنل میچ میں گھاس میں پھسلن کے چلتے ہندوستانی ٹیم کے کئی کھلاڑی ننگے پیر کھیلے تھے۔
مونی رائے کی فلمی کریئرکی شروعات
ٹی وی اداکارہ مونی رائے فلم ’گولڈ‘ سے اپنے فلمی کرےئرکی شروعات کررہی ہیں۔فلم میں امیت سادھ، کنال کپور اورونیت کمارسنگھ جیسے ستارے بھی اہم کردار میں نظرآئیں گے۔فلم میں اکشے کمار کی بیوی کا کردار نبھانے والی اداکارہ مونی راؤ کی جھلک کو بھی دکھایا گیا ہے، جو پہلے تو اپنے بنگالی شوہر کو بنگالی زبان میں یہ کام کرنے کے لیے ڈانٹتی ہیں، تاہم بعد میں وہ ان کی ہمت بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہوجاتی ہیں۔پروڈیوسر رتیش سدھوانی کی اس فلم کی ہدایات ریما کاگتی نے دی ہیں، جنہوں نے اس سے قبل تلاش اور ہنی مون جیسی فلموں کی بھی ہدایات دی ہیں۔
اکشے کمارکی فلم ’گولڈ‘ 15اگست 2018کوریلیزہونے والی ہے۔ 71ویں یوم آزادی کے موقع پرفلم’گولڈ‘ کا سنہراگفٹ ہے۔ غور طلب ہے کہ گذشتہ دوبرسوں سے اکشے کمار یوم آزادی کے موقع پر فلم لیکر آتے ہیں اورفلم سپرہٹ ہوجاتی ہے۔ ’رستم‘ اور’ ٹوائلٹ ایک پریم کتھا‘ دونوں ہی فلموں کوناظرین نے خوب پسند کیا تھا اور دونوں فلمیں 100 کروڑ روپے کے کلب میں شامل ہوئی تھی۔لہٰذا فلم ’گولڈ‘ سے بھی ایسی ہی امیدکی جارہی ہیں۔اکشے کمار اس فلم کے ساتھ پہلی بار فرحان اختر اوررتیش سدھوانی کے ساتھ جڑے ہیں۔ بہر کیف جہاں دیش بھکتی اوراکشے کمارہوں تو وہ فلم تو باکس آفس پرکمال ضروری کرے گی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *