اپنی برتری کی ہی جنگ لڑ رہے ہیں دگ وجے

سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس میںچاہے انچاہے دشمن بھی ضرورت بن جاتے ہیں۔ الیکشن کے دہانے پر کھڑے مدھیہ پردیش میںان دنوں کچھ ایسا ہی نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس میںدو کٹر حریف ایک دوسرے کو نشانہ بنا کر اپنی پوزیشن ٹھیک کر رہے ہیں۔ شیو راج سنگھ اور دگ وجے سنگھ کے بیچ عداوت کسی سے چھپی نہیں ہے لیکن آج حالات ایسے بن گئے ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ جہاںشیو راج سنگھ کو ایک بار پھر مدھیہ پردیش کے اقتدار میںواپس لوٹنا ہے، وہیں دگ وجے سنگھ کی حیثیت اپنی ہی پارٹی میں لگاتار کمزور ہو ئی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ پارٹی میںان کے پاس مدھیہ پردیش انتخابات کے لیے بنائی گئی کوآرڈینیشن کمیٹی کے چیئرمین کے علاوہ کوئی عہدہ نہیںبچا ہے۔ پارٹی ہائی کمان سے بھی ان کی دوری بنتی نظر آرہی ہے۔ ایسے میںانھیںبھی اپنی اعلیٰ کمان کو یہ دکھانا ہے کہ مدھیہ پردیش میںابھی بھی ان کی زمینی پکڑ قائم ہے۔

 

 

 

 

چوہان بنام دگ وجے
وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان دگ وجے سنگھ کو اس طرح سے نشانے پر لے رہے ہیں جیسے کمل ناتھ اور جیوترادتیہ سندھیا کا کوئی وجود ہی نہ ہو اور ان کا مقابلہ اکیلے دگ وجے سنگھ سے ہے۔ جہاںکہیں بھی موقع ملتا ہے ، وہ بھرپور انداز میںدگ وجے سنگھ کی تنقید کرنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف دگ وجے سنگھ بھی شیوراج سنگھ کے ذریعہ چھوڑ ے گئے ہر تیر کو خالی واپس جانے نہیں دیتے ہیں بلکہ اس کی سواری کرکے خود کی طاقت اور زمینی پکڑ کا احساس کرانے کا کوئی موقع نہیںچھوڑ رہے ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مدھیہ پردیش میںسیاست کی میدانی پچ پر یہ دونوںہی بلے بازی کرتے ہوئے نظرآرہے ہیں اور شاید دونوںہی یہی چاہتے بھی ہیں۔
جب شیوراج سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا کہ ’’کئی باردگ وجے سنگھ کے یہ قدم مجھے غداری کے لگتے ہیں‘‘ تو دگ وجے سنگھ اس پر ضرورت سے زیادہ جارح نظر آئے اور پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنی گرفتاری دینے بھوپال میںواقع ٹی ٹی نگر تھانے پہنچ گئے، جہاں پولیس نے انھیںگرفتار کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ ان کے خلاف غداری کا کوئی ثبوت نہیںہے۔ یہ بہت صاف طور پر کانگریس کا نہیں بلکہ دگ وجے سنگھ کی طاقت کا مظاہرہ تھا جس میںبہت ہی شارٹ نوٹس پر بھوپال میںہزاروں دگ وجے سنگھ کے حامی کارکنوں کی بھیڑ اکٹھی ہوگئی۔ ماہرین مانتے ہیںکہ دگ وجے سنگھ کا یہ طاقت کا مظاہرہ شیوراج سنگھ سے زیادہ کانگریس اعلیٰ کمان کے لیے تھا۔ اس پورے ایپی سوڈ کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس سے ریاستی کانگریس کے بڑے لیڈروں کی دوری رہی۔ شیوراج سنگھ کے بیان پر کمل ناتھ اور جیوترادتیہ سندھیا دونوں کا ہی کوئی ردعمل سامنے نہیںآیا ۔ حالانکہ کمل ناتھ نے دگ وجے سنگھ کو پی سی سے روانہ ضرور کیا لیکن وہ ان کے ساتھ تھانے تک نہیںگئے۔
ظاہر ہے شیوراج سنگھ کے الزام اور اس پر دگ وجے سنگھ کا ردعمل دونوں ہی پوری طرح سے سیاسی تھے اور دونوںکی منشا اپنے اپنے سیاسی مفاد سادھنے کی تھی۔ شیو راج سنگھ اپنے اس بیان کے ذریعہ یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ مقابلہ ان کے اور دگی راجہ کے بیچ ہے جبکہ دگ وجے سنگھ کی منشا تھانے پر مظاہرے کے ذریعہ ہائی کمان اور کانگریس کے دوسر ے خیموں کو اپنی طاقت دکھانے کی تھی۔
غدار کہے جانے کا تنازع ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہواتھا کہ شیوراج سنگھ چوہان نے دگ وجے سنگھ پر ایک بار پھر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ’’اسامہ بن لادن کو ’اسامہ جی‘ کہنے والے یہ لوگ خود سوچ لیںکہ کون محب وطن ہے اور کون دہشت گرد۔‘‘ اسی کڑی میںشیوراج سرکار کے ذریعہ سابق وزیروںکے سرکاری بنگلے خالی کرانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد بھی دگ وجے سنگھ کو چھوڑ کر باقی کے تین سابق تین وزیروں کیلاش جوشی، اوما بھارتی اور بابولال گور کو وہی بنگلے پھر سے الاٹ کردیے ہیں، اس کو لے کر سیاست گرما گئی ہے اور کانگریس نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ کانگریس سوال اٹھا رہی ہے اور اس معاملے میںسپریم کورٹ میںعرضی داخل کرنے والی ہے۔

 

 

 

اصل وجہ
ظاہر ہے کہ شیو راج کے نشانے پر دگ وجے سنگھ ہی ہیں، جنھیںپندرہ سال پہلے اوما بھارتی نے مسٹر بنٹادھار کا تمغہ دے کر مدھیہ پردیش کے اقتدار سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ اب بی جے پی ایک بار پھر دگ وجے سنگھ کی دس سالہ مدت کار کو سامنے رکھ کر مدھیہ پردیش میںچوتھی بار اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت بی جے پی کے ذریعہ دگ وجے سنگھ سرکار اور شیوراج سر کار کی مدت کار کا موازنہ کرتے ہوئے اشتہار چھپوائے جارہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان پوری ریاست میںگھوم گھوم کر کہہ رہے ہیںکہ ’’دگ وجے نے اپنی دس سالہ حکومت میں ریاست کو بدحال کردیا تھا۔ ہم نے اسے ترقی یافتہ بنایا ہے۔ اب ہم ریاست کو خوش حال بنائیںگے۔ ‘‘
دگ وجے سنگھ کو نشانہ بناکر انھیںمقابلے میںلانے کی بی جے پی کی حکمت عملی ایک طرح سے اپنے لیے آسان حریف کا انتخاب کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک طرح سے کانگریس کی سجی سجائی بساط کو پلٹنا بھی ہے۔ دراصل کانگریس اعلیٰ کمان نے لمبی ماتھا پچی کے بعد کمل ناتھ اور جیوترادتیہ سندھیا کو ریاستی صدر اور انتخابی کمیٹی کا چیئرمین بنایا تھا، جس سے دونوںفرنٹ پر رہ کر شیوراج کو چیلنج پیش کریں اور دگ وجے سنگھ کارکنوںکے بیچ جاکر انھیںمتحد کرنے کا کام کریں لیکن شیوراج اس قلعہ بندی کو توڑنا چاہتے ہیں اور ایسی صورت بنا دینا چاہتے ہیں ، جس میںان کا مقابلہ کمل ناتھ اور سندھیا کے بجائے دگ وجے سنگھ سے ہوتا دکھائی دے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے غداری والے بیان پر ان کی طرف سے کوئی صفائی نہیںدی گئی ، اس کے برعکس وہ دگ وجے کو لگاتار نشانے پر لیتے ہوئے بیان دیتے جارہے ہیں اور اب بنگلہ نہ دے کر انھوںنے پوری کانگریس کو مجبور کردیا ہے کہ وہ دگ وجے سنگھ کا بچاؤ کرے۔
دگ وجے سنگھ کو اس خصوصی توجہ کی سخت ضرورت تھی۔ ریاستوںکا چارج ان سے پہلے ہی لے لیا گیا ہے۔ حال ہی میںوہ کانگریس ورکنگ کمیٹی سے بھی بے دخل کر دیے گئے ہیں۔ اب مرکزی سیاست میںوہ پوری طرح سے حاشیہ پر ہیں۔ شایداس صورت حال کو انھوں نے پہلے سے ہی بھانپ لیاتھا۔ اسی لیے پچھلے قریب ایک سال سے انھوںنے اپنا فوکس مدھیہ پردیش پر کرلیا ہے، جہاں انھوںنے خود کو ایک بار پھر تیزی سے مضبوط کیا ہے۔ اپنی مشہور نجی نرمدا پریکرما کے دوران انھوںنے ریاست میں اپنے پرانے رابطوںکو ایک بار پھر تازہ کیا ہے۔اس کے بعد ان کا ارادہ ایک سیاسی یاترا کرنے کا تھا لیکن شاید پار ٹی کی طرف سے انھیںاس کی اجازت نہیںملی۔بہر حال ان دنوں وہ ریاست میںگھوم گھوم کر کانگریس کارکنوںکے ساتھ ’’سنگت میںپنگت‘‘ کے تحت ان سے سیدھا رابطہ قائم کر رہے ہیں، جس کا مقصد گٹ بازی کو ختم کیا جاسکے۔ حال میںمدھیہ پردیش میںکانگریس کی طرف سے دگ وجے سنگھ ہی ایسے لیڈر ہیں جن کی پوری ریاست میںپکڑ ہے اور ریاست کی کانگریس تنظیم میںہر جگہ ان کے لوگ ہیں، جنھیںان دنوںوہ لگاتار مضبوط کیے جارہے ہیں۔ ریاستی کانگریس میںان کی سطح کے ایک وہی لیڈر ہیںجو اس طرح سے لگاتار سرگرم ہیں۔
گزشتہ دنوں دگ وجے سنگھ نے ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ناراض چل رہے ارون یادو کو نصیحت دیتے ہوئے کہاتھا کہ’’سیاست میںصبر رکھیں،جو شخص صبر نہیںرکھ سکتا، وہ سیاست میںآگے نہیںآسکتا۔ حالانکہ برا تو لگتا ہے لیکن سیاست میںیہ لڑائی لامتناہی ہے۔ کانگریس سمندر ہے۔ اس میں اپنا راستہ خود نکالنا پڑتا ہے۔‘‘ ظاہر ہے دگ وجے بھی خود اپنا راستہ نکال رہے ہیں، جس سے وہ حاشیہ سے باہر آسکیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *