آئینی حقوق کے حصول کی جنگ بھیک نہیں، بھاگیداری

دلت آندولنوں کی اہم تاریخوں میں13 فروری 1938 کی خاص اہمیت ہے۔ اسی دن ناسک ضلع کے منماڈ میںدلت ریلوے ملازمین کو مخاطب کرتے ہوئے بابا صاحب امبیڈکر نے اعلان کیا تھا، ’برہمنواد اور سرمایہ دارانہ نظام ہمارے دو سب سے بڑے دشمن ہیں۔‘ لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر انھوں نے دلت آندولنوں کو سماجی تکلیفوںکی مانند اقتصادی تکلیفوںکی روک تھام پر مرکوز نہ کرنے کے سبب افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:
’’ابھی تک دلت طبقے خاص طور سے سماجی تکلیفوں کی روک تھام کے لیے احتجاج کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی اقتصادی تکلیفوں کی روک تھام کا کام ہاتھ میں لیا ہی نہیں تھا۔ یہ پہلا موقع ہے، جب وہ اقتصادی تکلیفوں کی روک تھام کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ابھی تک وہ محض اچھوت کے طور پر اکٹھے ہوتے رہے ہیں لیکن آج آپ ملازمین کے طور پر اکٹھے ہورہے ہیں۔ یعنی اقتصادی تکلیفوں کی روک تھام کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ جن اقتصادی مسائل سے ہم نبرد آزما رہے ہیں، اپنے ان مسائل پر ہم سماجی مسائل جیسا زور دینے کے کام کو کافی طویل عرصے سے نظرانداز کرتے آئے ہیں اور اسی لیے مجھے خوشی ہے کہ آج ہم نسبتاً اچھوتوں سے زیادہ کارکنوں کے طور پر اکٹھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک نئی شروعات ہے اور میںان لوگوںکو مبارکباد دیتا ہوں، جنھوںنے ہمیںاقتصادی مدعوں پر بات چیت کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔‘‘

 

 

 

 

معاشی دقتوںکا تدارک
ظاہر ہے ڈاکٹر امبیڈکر نے بیسویںصدی سے پہلے ہی دلت آندولنوں کو اقتصادی تکالیف کی روک تھام پر مرکوز کرنے کا منشا ظاہر کردیا تھالیکن آٹھ دہائی پہلے ڈاکٹر امبیڈکر کے ذریعہ دلت آندولنوں کو سماجی کے بجائے اقتصادی تکلیفوں کی روک تھام پر مرکوز کرنے کا منشا ظاہر کیے جانے کے باوجود آج بھی دلت آندولن خاص طورسے سماجی تکلیفوں کی روک تھام پر مرکوز ہوتے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ 2 اپریل 2018 کو ایس سی /ایس ٹی ایکٹ کے سدھار کے مدعے پر نئی صدی میںدلتوںکا سب سے بڑا خودکار مؤثر آندولن منظم ہوگیا۔ ان سطور کے لکھے جانے کے دوران مودی سرکار نے شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب پر مظالم کی روک تھام قانون کو پرانی شکل میں لانے سے متعلق بل لوک سبھا میںپیش کردیا ہے۔ اگر سرکار نے ایسا نہیںکیاہوتا تو ملک شاید 9 اگست 2018 کو سماجی کلفتوں کی روک تھام پر ایک اور بڑے دلت آندولن کا گواہ بن جاتا۔
بہرحال سماجی کے ساتھ اقتصادی کلفتوں کی روک تھام پر بھی وقتاً فوقتاً چھوٹے موٹے آندولن منظم ہوئے لیکن 1960 کی دہائی کے لینڈ ریفارم مومنٹ کو اگر استثناء مان لیا جائے تو اقتصادی مدعوں سے جڑے تمام آندولن خاص طور سے نئی صدی کے ریزرویشن یعنی نوکریوں کے مدعے پر مرکوز رہے۔ اس سلسلے میںوقتاً فوقتاًپروموشن میںریزرویشن،پرائیویٹ سیکٹرمیںریزرویشن،عدلیہ میں ریزر ویشن وغیرہ کی مانگوں کو لے کر دلتوںکے احتجاج ہوتے رہے۔ دلت وسیع اقتصادی مدعوں کو لے کر کبھی میدان میںاترے ہی نہیں لیکن اب تک جو نہیں ہوا، وہ اب ہوا۔
نئی تحریک کی شروعات
8 اگست 2018 سے ودیا گوتم کی قیادت میںاکھل بھارتیہ امبیڈکر مہا سبھا کی طرف سے وسیع اقتصادی مانگوںکو لے کر’ بھیک نہیں بھاگیداری‘ نام کے ایک آر پار آندولن کا آغاز ہوا۔ اس آندولن سے لوگوںکو جوڑنے کے لیے ودیا گوتم کی طرف سے ’بھیک نہیں بھاگیداری ، دیش کی ہراینٹ میںچاہیے حصہ داری‘عنوان سے ایک پرچہ شائع کیا گیا ہے، جس میںاس کے ایجنڈے اور پلان ایکشن کی مفصل جانکاری دی گئی ہے۔ پرچے میںزور دے کر کہا گیا ہے کہ بھیک نہیں بھاگیداری کا آندولن 8 اگست 2018 سے شروع ہوکر موت یا جیت پر ہی ختم ہوگا۔ ‘‘ یہ آندولن کیوں؟ اس پر روشنی ڈالتے ہوئے پرچے میںکہا گیا ہے ، ’’بابا صاحب کے ذریعہ آئین میں دیے گئے حقوق سے ہم آج تک محروم ہیں اور بدقسمتی کی بات ہے کہ زیادہ تر حقوق کی تو سماج کو جانکاری ہی نہیں ہو پائی ہے۔ بہت سوچ سمجھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیںکہ اگر بابا صاحب کے دیے گئے آئینی حقوق ہمیںحاصل ہو جائیںتو کافی حد تک بہوجن سماج کے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ ایک ایک آئینی حق کو حاصل کرنے کے لیے پورے ملک کا بہوجن سماج متحد ہوکر آر پار کی لڑائی لڑے اور اس میںایک دن کی ریلی کرنے یا ایک روزہ دھرنا پردرشن کرنے سے کام چلنے والا نہیں ہے۔ اپنے حقوق کو محفوظ رکھنے اور ان کو بڑھانے کے لیے ضرورت ہے آر پار کے عوامی آندولن کی۔ بہت سارے دانشوروںاور ایس سی ، ایس ٹی، او بی سی تنظیموں سے بات چیت کرکے ہم نے ’بھیک نہیں بھاگیداری-دیش کی ہر اینٹ میںحصہ داری‘ کا آندولن شروع کیا ہے۔ کئی ریاستوں میںپد یاترائیں، آمرن انشن، دھرنا پردرشن کیے گئے۔ اب ملک کی الگ الگ ریاستوں میںآندولن نہ کرکے حکومت ہند کے خلاف آندولن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس آندولن کو ملک گیر بنایا جائے گا۔ ہندوستان کے سبھی ضلع ہیڈ کوارٹروں پر قومی آندولنوں کی حمایت میںکینڈل مارچ اور دھرنا پردرشن کیے جائیںگے۔ آندولن کئی نکات پر ہوگا۔‘‘
جن کئی مانگوںکو لے کر یہ آندولن شروع ہواہے، ان میں پہلا ہے اسپیشل کمپونینٹ پلان۔ اس میںکہا گیا ہے کہ ، ’ملک کے وسائل اور پراپرٹی میںسماج کو کسی بھی شکل میںحصہ داری حاصل نہیںہوپائی، یہ بات بابا صاحب کو پتہ تھی، تبھی انھوں نے پوری حصہ داری کی مانگ رکھی تھی۔ گاندھی جی کی بھوک ہڑتال کے چلتے سب کچھ الگ الگ ہوگیا۔ تعلیم، نوکری، سیاست میں پونہ پیکٹ سے ملے ریزرویشن کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی سطح زندگی بہتر کرنے کے لیے بجٹ میںحصہ داری کی مانگ طے ہوئی تھی، جس کو کافی بعد میںاسپیشل کمپونینٹ پلان کی شکل میںقانون بناکر پورا کیاگیا۔ اس میںقومی وریاستی سطح پر اس ریاست کی آبادی کے تناسب میں سرکار کے پلاننگ بجٹ میں حصہ داری دی گئی لیکن ہمارا حصہ نہیںدیا گیا۔

 

 

 

 

اسپیشل کمپونینٹ پلان کو ملے بجٹ
سبھی سرکاریں اس معاملے میں لاتعلقرہیں۔ ایسے میں سرکار اسپیشل کمپونینٹ پلان کا پورا بجٹ دستیاب کرانا یقینی بنائے اور ایس سی پی کو الگ محکمے کے ر وپ میںتیار کیا جائے اور ضلع سطح پر دفاتر کھلوائے جائیں۔ لیکن جو بات اس آندولن کو دلتوںکے اب تک کے دوسرے آندولنوںسے الگ کرتی ہے، وہ ہے اس کا پراپرٹی وسائل میںحصہ داری کا ایجنڈا۔
’بھیک نہیں بھاگیداری‘ عنوان کے تحت پرچے میں کہا ہے: ’’ ہمیںنہ زمین، نہ تجارت، نہ صنعت، کسی بھی وسائل میںحصہ داری نہیںملی۔ وسائل کے نام پر صرف ریزرویشن کے تحت سرکاری نوکری میںحصہ داری حاصل ہوئی، جن کو نوکری ملی، ان کی زندگی کی سطح میں سدھار ہوا، جن کو نوکری نہیںملی،ا ن کی زندگی سے بدحالی نہیںجاسکی۔ جب تک کسی بیٹے کو باپ کے پراپرٹی- وسائل میںحصہ نہیںمل جاتا، تب تک وہ بیٹا برابر کا بھائی نہیںہوسکتا۔ اسی طرح جس قوم کو قوم کی پراپرٹی – وسائل میںحصہ نہیںمل جاتا، وہ قوم ملک کی مین اسٹریم سے نہیں جڑ سکتی۔ ایسی قوم مجبور ہی بنی رہے گی۔‘‘
اسی لیے’ بھیک نہیں بھاگیداری ، دیش کی ہر اینٹ میںحصہ داری‘ آندولن کے تحت اس کی تجویز پہلے اتراکھنڈ سرکار کے سامنے رکھی گئی۔21 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ نے اس کو مانتے ہوئے تعمیرات،صفائی، مرمت،سپلائی، ڈسٹری بیوشن و الاٹمنٹ کے کاموںکے سبھی سرکاری ٹینڈروں میںحصہ داری دی اور ایس سی ، ایس ٹی سماج کے ٹھیکیداروں کو اسٹیٹس سرٹیفکٹ اور ای ایم ڈی کی ضرورت سے آزاد رکھا گیا۔ اب اسی بنیاد پر مرکزی سرکار سے اسے پورے ملک میںلاگو کرنے کے لیے ذیل تجویز سرکار کے سامنے بھیجی گئی ہے۔
سرکار کے سامنے جن علاقوںمیںایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی کے تعدادی تناسب میںحصہ داری کی تجویز رکھی گئی ہے، وہ ہیں سپلائی، ڈیلر شپ، تعمیرات، صفائی، مرمت، ڈسٹری بیوشن و الاٹمنٹ، سبھی طرح کی تقرریوں،نامزدگی، سبھی کمیشن و کارپوریشن کے عہدیداروں ، ریاست و مرکزی سرکار کی کابینہ ،معاہدے پر بھرتیاں وغیرہ۔
لمبی جدو جہد کاآغاز
مرکزی سرکار سے اپنی مانگوں کو منوانے کے لیے ایک خاص ایکشن پلان کے تحت 8 اگست سے یہ آندولن پورے ملک میںایک ساتھ شروع ہوا۔ پہلا مرحلہ 8 اگست سے 15 اگست تک اوردوسرا مرحلہ 16 اگست سے ، جو غیر معینہ مدت یعنی ودیا گوتم کے الفاظ میںجیت یا موت تک چلے گا۔ دونوں مرحلوں میںدو طرح کے لوگ شامل ہیں۔ ایک بھوک ہڑتال کر رہے ہیںتو دوسرے بھوک ہڑتال کرنے والوں کی حمایت میںان کے ساتھ بیٹھ رہے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھوک ہڑتالیوںکو اپنے آندولن کے لیے سرکاری جگہ کا استعمال ممنوع کرتے ہوئے ہدایت دی گئی ہے کہ آندولن کرنے والے علاقہ افسر کو مطلع کرکے اپنے سماج کے مندروں، بدھ وہاروں، امبیڈکر بھونوں یا سماج کے کسی آدمی کے بڑے گھر میںبیٹھ کر بھوک ہڑتال کریں گے۔ جو کام کاجی بھائی ہڑتال میںوقت نہیںدے سکتے، وہ بانہہ پر کالی پٹی باندھ کر اپنے کام پر جائیں۔ کسی بھی طرح کی نجی یا سرکاری پراپرٹی کی توڑ پھوڑ یا جام لگانے جیسا کام نہیںکرنا ہے۔ پوری طرح آئینی دائرے میںرہ کر کام کرنا ہے۔ پرچے کے آخر میںکہا گیا ہے ’یہ آندولن کسی پارٹی، تنظیم کے نہ حق میںہے نہ ہی مخالفت میں۔ یہ صرف اور صرف بابا صاحب کے دیے حقوق کی حفاظت اور ان کے کارواںکو بڑھانے کے لیے ہے۔
ایک ایسے دور میںجب کہ ملک کی ٹاپ کی 10 فیصد آبادی کا پراپرٹی- وسائل اور ’راج ستا‘ کے تمام اداروں پر 90 فیصد سے زیادہ قبضہ ہوچکا ہے۔ بہوجن سماج کو ایک ایسے آندولن کی ضرورت تھی، جس سے اسے پیسہ کمانے کے سبھی ذرائع سمیت ایڈمنسٹریشن میںتعدادی تناسب میںحصہ داری کا راستہ ہموار ہوسکے۔’بھیک نہیں بھاگیداری ‘آندولن اس ضرورت کو پورا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میںامید کرنی چاہیے کہ اس آندولن کو بہوجنوں کی بے مثال حمایت مل سکے گی۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ آندولن دلت آندولنوںکی تاریخ میںایک نیا باب جوڑنے میںکامیاب ہو سکے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *