پڑوسی ممالک سے شیریں تعلقات مضبوط ہندوستان کے لیے لازمی

سب سے پہلے اس سوال کو لیتے ہیں کہ کسی ملک کا پڑوسی اتنا اہم کیوں ہوتا ہے؟ایک سفارتکار کی حیثیت سے میں جہاں بھی گیا یا جہاں بھی میں نے اپنی سروسز دی، ہر ملک میں ’نیور فرسٹ ‘(پڑوسی پہلے ) کی بات دوہرائی جاتی ہے۔ ہم خود بھی’ نیور فرسٹ ‘ کی بات کہتے ہیں۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ ہر ایک ملک ایسا کیوں کہتا ہے؟اس کے تین اسباب ہیں۔ پہلا اگر ہمیں یکسوں ہو کر اپنی اقتصادی ترقی کے اوپر دھیان مرکوز کرنا ہے تو اس کے لئے ہمیں ایک پاکیزہ رشتوں والا اور پُرامن پڑوسی ملک چاہئے۔ پروسی ملک اگر پُرامن نہیں ہوگا تو اقتصادی ترقی ممکن نہیں ہے۔ دوسرا ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک جس کا علاقہ اور آبادی بھی بڑی ہے، وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایک بڑا کردار نبھائے۔ حالانکہ ہم اس سمت میں آگے بڑھے ہیں، لیکن ایک دن آئے گا جب دنیا ہماری طرف دیکھے گی۔ لیکن جب تک آس پاس کے علاقوں میں امن نہیں ہوگا، تب تک ہم عالمی سطح پر کوئی بڑا کردار نہیں نبھا سکتے ۔
پڑوسی کی آگ پہلے بجھائیے
پڑوس میں آگ لگی ہو تو ہم دنیا کی آگ بجھانے نہیں جائیںگے۔ پہلے ہمیں اپنے آس پاس کی آگ کو ہی بجھانا ہوگا۔ ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے مسائل ہیں۔یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن حالیہ دنوں میں ہمارے تعلقات اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ٹھیک نہیں رہے ہیں۔ مثال کے طور پر نیپال کو لیتے ہیں، جہاں موجودہ وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے اپنی انتخابی مہم کو ہندوستان مخالف نعرے کے اوپر مبنی رکھا، پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں، لائن آف کنٹرول پر صورت حال کافی نازک ہے، مالدیپ کے ساتھ مشکلیں ہیں، شری لنکا کے ساتھ ہمارے مسائل ہیں، وہاں چینی مداخلت بڑھی ہے۔ اس لئے اس وقت ہمارے رشتے ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ بہت اچھے نہیں مانے جاسکتے ہیں۔
1947 میں ملک آزاد ہوا۔ وہ ایک مشکل وقت تھا ،ملک کی تقسیم ہوئی ۔سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کو بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔تقسیم کے بعد ،دو ایشو ابھر کر سامنے آئے تھے، ایک پالیسی سازوں کا اور دوسرا لوگوں کا جذباتی رد عمل ۔ پالیسی ساز اس بات کو جانتے تھے کہ ہندوستان کے حکمرانوں نے لمبے وقت تک جنوبی ایشیا کی پالیسی پر غلبہ بنائے رکھا تھا۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اس خطہ میں باہری مداخلت نہ ہو۔ وہ جانتے تھے کہ ہمیں اس خطہ میں باہری مداخلت نہیں ہونے دینا ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے تھے کہ سب سے بڑے ملک ہونے کے ناطے ہمیں اس خطہ میں یہ بھی یقینی کرنا ہے کہ سبھی ملک آپس میں ہم آہنگی سے رہیں۔ اس لئے انہوں نے باہری طاقتوں کے داخلے اور مداخلت کو مسترد کرنے کی کوشش کی۔ اسی کے ساتھ لوگوں کا ایک جذباتی رد عمل بھی تھا اور وہ تقسیم کو ختم کرنا چاہتے تھے اور پھر سے ایک بڑے ہندوستان کا خواب دیکھ رہے تھے۔ باوجود ان سب کے ، باہری مداخلت بہت تیزی سے اس خطے میں ہونے لگی۔
پاکستان نے مغربی ملکوں کے ساتھ سمجھوتے کئے جس کی وجہ سے سرد جنگ ہمارے دروازے تک آگئی۔ پھر اس علاقے میں اقوام متحدہ کی مداخلت ہوئی۔ مغربی بلاک اور یو ایس ایس آر کی بھی مداخلت ہوئی اور اب چینی بھی اس علاقے میں سرگرم کردار میں نظر آنے لگے ہیں۔ہم روزانہ اخباروں میں پڑھتے ہیں، اپنے اسٹریٹجک معاملوں کے جانکاروں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ چینی ہمارے علاقے میں سرمایہ کاری کررہے ہیں، وہ اس کے ساتھ ہی دفاعی سمجھوتے بھی کررہے ہیں۔ یہ ایسے معاملے ہیں جس کے لئے ہندوستان کو کچھ کرنا ہوگا۔ باہری طاقتوں کو اس خطہ سے باہر رکھنے کی ہماری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ لہٰذا اس کے لئے ہمیں کوئی اور راستہ اپنانا ہوگا۔

 

 

 

 

 

علاقائی امن اہم ہے
تقسیم کو ختم کرنے کا دوسرا طریقہ سابق وزیرا عظم اٹل بہاری باجپئی نے دیا تھا ۔وہ فروری 1999 میں لاہور گئے تھے۔ میں اس وقت پاکستان میں ڈپٹی ہائی کمشنر تھا۔ میں ان کے دورے میں شامل تھا۔ اس دورے میں وہ مینارِ پاکستان بھی گئے تھے۔ یہ پاکستان کا سمبل ہے،جہاں پر پاکستان کی تجویز پاس کی گئی تھی۔ انہوں نے ویزیٹرس بک میں لکھا کہ وہ پاکستان کے لوگوں کی بھلائی چاہتے ہیں اور ہندوستان ایک مضبوط اور بہترین پاکستان کی توقع کرتا ہے۔ ایک دن پہلے انہوں نے گورنر ہائوس میں منعقد ایک بڑے سوِک ریسپشن میں کہا تھا کہ تقسیم سے دونوں طرف کے لوگوں کو مشکلیں آئیں جس کا درد ہم آج بھی محسوس کرتے ہیں لیکن یہ ایسی یادیں ہیں جسے ہمیںبھولنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ اس علاقے کا مستقبل اس علاقے کے ملکوں کی آپس میں مل جل کر کام کرنے سے ہی جڑا ہے۔ ان کی تقریر سے ایک بڑی امید پیدا ہوئی تھی، جو پاکستان کے ذریعہ کارگل گھس پیٹھ کی وجہ سے ماند پڑ گئی۔
بہر حال واجپئی جی نے اس وقت ایک مشورہ دیاتھا ۔ ہم ہندوستان کی ایک بڑی معیشت کا استعمال کرکے اپنے پڑوس کی چھوٹی معیشتوں سے بہتر کاروبار ی رشتہ قائم کر سکتے ہیں ،تاکہ دونوںکو فائدہ ہو۔ ہم ایک بڑی اقتصادیات ہونے کے ناطے اعتدال پسند رخ دکھا سکتے ہیں ۔دوسری بات یہ کہ ہم لوگ چینی گھس پیٹھ کے بارے میں چیخ چلا کر رہے ہیں کہ چین کو اس علاقے میں نہیں آنا چاہئے لیکن اس کے لئے ہمیں ایک متبادل دینا ہوگا۔ اگر ہم اس خطے کے لئے کوئی متبادل نہیں دیں گے تو ہمارے چیخنے چلانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس خطے کے ملکوں کو کچھ ایسی پیشکش کرنی چاہئے کہ انہیں کسی دیگر کی طرف منہ نہ تاکنا پڑے۔ اٹل جی کے بعد، منموہن سنگھ نے اس مشورہ کو آگے بڑھایا۔انہوں نے اس خطہ کے لئے ایک ویژن دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطہ کے سبھی ملک ایک ساتھ کام کرتے ہوئے غریبی سے خوشحالی کی طرف آگے بڑھیں۔ ہمیں ایک ساتھ مل کر اپنی ترقی کے لئے اور ایک دوسرے کی ترقی کے لئے کام کرنا چاہئے۔
پچھلے کچھ سالوں میں میں نے محسوس کیا ہے کہ ہم عالمی سطح پر اپنے بڑے کردار پر زیادہ فوکس کررہے ہیں، بجائے علاقائی سطح پر دھیان دینے کے ۔ بیشک ایک دن ہم عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا لیں گے لیکن اسی کے ساتھ ہم اپنے علاقائی توازن کو گنوا سکتے ہیں۔ اگر ہم بڑے کردار کے لئے کوشاں ہیں،تب بھی ایک پرامن علاقائی صورتحال کی تعمیر بھی اتنا ہی اہم ہے ۔ہمیں اس کے لئے بھی کام کرنا چاہئے ۔
طاقت کے استعمال میں احتیاط ضروری
دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے 16-17 سالوں میں پاکستان کے ساتھ ہمارے رشتے بے حد خراب رہے ہیں۔یہ ایسا مسئلہ تھا کہ ہمارا جنوبی ایشیائی ایجنڈا پاکستان پر مرکوز ہو گیااور ہم پاکستان اسپانسرڈ دہشت گردی کو کائونٹر کرنے میں لگے رہے۔ ایک اہم تصور ہے ،طاقت کا تصور۔یہ نہ صرف ہمارے پڑوسیوں کے تئیں سوچ ، رشتے میں بلکہ ہماری خارجہ پالیسی میں بھی شامل ہوگئی ہے۔الگ الگ ملکوں کے پاس مختلف ایشوز سے نمٹنے کے لئے الگ الگ ہتھیار ہوتے ہیں۔ لہٰذا طاقت کا استعمال اور دھمکی وغیرہ دینا اس میں شامل ہے۔ لیکن اگر طاقت کا استعمال بغیر سوچے سمجھے کیا جائے گا تو اس کے غیر متوقع نتائج آسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر پاکستان کے ساتھ ہمارے رشتے اتار چڑھائو والے ہیں۔ موجودہ چکر جنوری 2013 سے شروع ہوتا ہے ۔2012 میں رشتوں میں کڑواہٹ کم ہو گئی تھی۔ تب ہم نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی شروعات کی تھی ۔ لائن آف کنٹرول پر اور کشمیر میں حادثات کی تعداد ناقابل یقین ہو گئی تھی،جو 1989 کے بعد سب سے کم تھی۔ لیکن ایک طبقہ ایسا ہے جو اس ایشو کے تئیں زیادہ سخت رخ چاہتاہے۔ جنوری 2013 میں ہمارے دو فوجی پاکستان کے طرف سے آئے حملہ آوروں کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ ان کی لاش کو مسخ کردیا گیا ۔ظاہر ہے، اس سے کسی کو بھی غصہ آئے گا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ نے کہا کہ ہم اس کا جواب دیں گے لیکن اپنے طریقے سے۔ لیکن اور زیادہ سخت رد عمل کے لئے آواز اٹھتی رہی کہ تشدد اور ڈائیلاگ ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور ہر پاکستانی سرگرمی کے خلاف ایک مضبوط رد عمل ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کو صاف صاف دکھائی دے کہ سرکار اس پر سخت ہے۔ بات چیت کا عمل معطل ہو گیا۔ لیکن پھر سے اگست میں جب نواز شریف کی سرکار اقتدار میں آئی تو بات چیت کی سمت میں قدم بڑھے۔ لیکن اس کے بعد ہمارے پانچ فوجیوں کو شہید کر دیا گیا اور بات چیت آگے نہیں جاسکی۔ اس کے بعد ہماری نئی سرکار آئی اور رشتوں کو متوازن کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پٹھان کوٹ حملے کے بعد سرکار نے سخت رخ اختیار کرلیا۔
اس کے بعد 2003 کا سیز فائر لگ بھگ ختم ہو گیا۔ دونوں طرف حادثات کی تعداد بڑھنے لگی۔ مجھے لگتا ہے کہ پاکستان کی طرف حادثات کی تعداد زیادہ رہی۔ ایک بار پھر سیز فائر کی صورت حال نسبتاً نارمل ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ صورت حال بنی رہے گی ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس صورت حال سے نمٹنے کے لئے بہت سارے طریقے ہیں، لیکن ہمیں ان کا استعمال محتاط طریقے سے کرنا ہوگا۔اگر ہم بغیر احتیاط کے کسی ایک ہی طریقے کا استعمال کرتے رہیں گے تو اس کے نقصان ہو سکتے ہیں۔
پاک فوج کا ایجنڈا
پاکستان کے لئے ہماری پالیسی کیا ہے؟ہم کہتے ہیں کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ ایسا کہنا پُرکشش تو لگتا ہے کیونکہ پاکستان جو کر رہا ہے، اس کا یہ فطری رد عمل ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے اور اگر ہم اسے نظر انداز بھی کرتے ہیں تب بھی وہ ہمارے لئے مشکلیں پیدا کرسکتاہے۔ اس لئے اس بات پر کہ بات چیت اور تشدد ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، ایک ڈپلومیٹ کے طور پر میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا ا س سے پاکستان کے ساتھ ہمارے پیچیدہ مسائل کا حل ہو پائے گا؟میرا جواب یہ ہے کہ اس سے پیچیدہ مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔
میں بتاتاہوں کیوں؟جہاں تک ہندوستان کے ساتھ تعلقات کا سوال ہے تو اس معاملے میں پاکستان ایک اکائی نہیں ہے۔ پاکستانی اسٹیٹ سسٹم کو تین حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ پہلا: ان کی فوج ہے جہاں سے دہشت گردی کو حمایت ملتی ہے۔ کچھ سیاست داں ہیں جو فوج کی حکومت سے مستفید ہوتے ہیں۔پاکستان پر فوج نے لمبے وقت تک براہ راست حکومت کی ہے۔ تمام امن کی کوششوںکے باوجود یہ سبھی لوگ ہندوستان کو اپنا دائمی دشمن سمجھتے ہیں۔
پاکستانی فوج اور دفاعی نظام کا کشمیر پر ایک مشکوک ایجنڈا ہے۔ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ جب وہ اس ایجنڈا کو آگے نہیں لے جاپاتے ہیں تو کشمیر پر بات چیت کا بہانہ بنا کر کہ کشمیر پر بات چیت ہونی چاہئے ،یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے اسٹیک ہولڈر ہیں۔پاکستان کے دفاعی نظام نے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ انہوں نے دہشت گردی کی حمایت بند کر دی ہے یا اسے بند کرنے کا ان کا کوئی ارادہ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ پاکستان نے جموں و کشمیر میں ہندوستانی فوج کو الجھانے کے لئے اور ہندوستان کونقصان پہنچانے کے لئے دہشت گردی کوایک سستے ہتھیار کی طرح استعمال کیا ہے۔ انہوں نے ایک سیاسی چال کے تحت دہشت گردی کی شدت کم کردی ہو لیکن اس طرح کے کوئی اشارے نہیں ہیں کہ انہوں نے اس کے ختم کرنے کا ارادہ کر لیاہے۔دراصل ہندوستان کا خوف دکھانا پاکستانی فوج کے مفاد میں شامل ہے۔ کیونکہ پاکستانی سیاست میں ان کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ صرف یہی پاکستان کے نظریہ اور اس کی سرحدوں کو تحفظ دے سکتے ہیں۔ جب کوئی ایسے دعوے کرتا ہے تو اسے اپنے دعوے کو پختہ کرنے کے لئے کسی باہری خطرے کو دکھانا پڑتاہے۔ لہٰذا ہندوستان کا خوف دکھانا پاکستانی فوج کے مفاد میںشامل ہے۔
بھاری معیشت ایک فائدہ مند موقع ہے
دوسری طرف پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ان کے اپنے حق میں ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے اچھے اور مضبوط تعلقات نہیں ہوںگے تب تک وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس طبقے میں وہاںکی بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈر بھی شامل ہیں۔ یہ ایسے لیڈر ہیں جو فوج کے بجائے انتخابی سیاست کے ذریعہ سے اقتدار حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ جب ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات بحال ہو جائیںگے تو پھر وہاں کی سیاست میں فوج کا رول بھی کم ہو جائے گا۔کیونکہ وہ پھر ہندوستان کا خوف نہیں دکھا پائیں گے۔
جہاں تک پاکستان میں کارو بار اور صنعت کا سوال ہے تو جب میں وہاں تھا تو مجھے پاکستان کے ہرایک چیمبر آف کامرس سے دعوت ملی۔یہاں تک کہ پنجاب سے بھی جہاں ہندوستان مخالف جذبات سب سے زیادہ ہیں۔ ایسا اس لئے تھا کیونکہ وہ ہندوستان کی بھاری معیشت کو ایک فائدہ مند موقع کی طرح دیکھتے ہیں۔ اس کا ذکر میں نے شروع میں کیا ہے کہ کیسے کاروبار کے ذریعہ سے ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات بنا سکتے ہیں۔ پاکستان جہاں عام طور پر ہندوستان مخالف جذبات پائے جاتے ہیں وہاں بھی ایک بڑا طبقہ ہے جو ہندوستان کی بھاری معیشت سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچتا ہے۔
جہاں تک پاکستان کے عام لوگوں کا سوال ہے تو دنیا کے کسی بھی ملک کے لوگوں کی طرح وہ اپنے روزانہ کے مسائل سے جوجھتے ہیں۔ یہ اپنے روزگار، اپنی تعلیم، صحت اور روزانہ کی ضرورتوں کو لے کر فکر مند رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب عالمی ایشو پر کوئی ان سے سوال کرے گا تو ان کا جواب وہی ہوگا جو ان کے ملک کا رخ ہوگا۔ بالکل اسی طرح سے جیسا ہمارا ہوتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صبح شام ، سوتے جاگتے ہندوستان کے خلاف آگ اگلتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ 2008 اور 2013 کے انتخابات میں یہاں ہندوستان کوئی ایشو نہیں تھا۔ حالانکہ اس بار ہندوستان ایشو تھا کیونکہ ایک تو ہندوستان کے ساتھ ان کے تعلقات پہلے کچھ برسوں میں کشیدہ تھے اور دوسرے سبھی پارٹیوں نے کشمیر اور ہندوستان کے ساتھ رشتوں کی بات اٹھائی تھی لیکن جہاںتک عام لوگوں کا سوال ہے تو ان کے ووٹوں کا فیصلہ ہندوستان کی بنیاد پر نہیں بلکہ روزی روٹی کے سوال پر ہوا ہے۔ بہر حال تنائو بڑھ جاتا ہے اور جب دونوں طرف سے بیان بازی تیز ہو جاتی ہے تو پاکستان میں لوگ فوج کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور فوج کو اپنا مسیحا سمجھنے لگتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک چیز ہے جس کا ہمیں نوٹس لینا چاہئے ۔
احتیاط سے دیں سخت پیغام
پاکستان میں ایک بڑا طبقہ ہے جو ہندوستان کے ساتھ مضبوط تعلقات کا طرفدار ہے۔یہ بات صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ہمارے سبھی پڑوسی ملکوں پر لاگو ہوتی ہے۔ اگر میں اس کو اور نارمل طریقے سے کہوں تو صرف پاکستان ہی نہیں، ہرایک ملک میں مفاد پرست عناصر ہوتے ہیں۔ ہمارے پڑوس میں بھی چاہے وہ بنگلہ دیش ہو، نیپال ہو، مالدیپ ہو، سری لنکا ہو ،ہر جگہ اس طرح کے عناصر موجود ہیں جو اپنے ملک کے ساتھ ہندوستان کے رشتے خراب کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے وقت بوقت سخت پیغام بھیجنا ضروری ہو جاتا ہے لیکن اگر یہ پیغام اس طرح سے دیا جائے جس کی وجہ سے پوری آبادی الجھن میں پڑ جائے تو اسے اپنے مفاد کے باجود زیادہ نقصان ہوتاہے۔
جس طرح پاکستان کے ساتھ تنائو کی حالت میں وہاں فوج اہم بن جاتی ہے ، اسی طرح نیپال کو جو ہم نے ٹرانزٹ دے رکھا ہے ، اس انٹرپشن کا معاملہ ہے۔ نیپال نے ایک آئین بنایاجس میں انہوں نے اپنی آبادی کے ایک طبقہ کو کچھ اختیارات نہیں دیئے جو ہمیں ٹھیک نہیں لگے۔ ہندوستان کے راستے جو سامان نیپال جاتا تھا اس میں رکاوٹ آئی۔ ہماری سوچ یہ تھی کہ یہ رکاوٹ وہاں کے حالات کی وجہ سے آئی، لیکن نیپال میں یہ خیال بن گیا کہ ہندوستان نے یہ بلاکیڈ لگائے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے تھے کہ ان لیڈروں کو جنہوں نے ایسا آئین بنایا جس میں سبھی طبقوں کے لوگوں کو مساوی اختیار نہیں دیاگہا لیکن جو پیغام گیا وہ یہ تھا کہ ہندوستان کی بلاکیڈ کے سبب پورے ملک کو تکلیف اٹھانی پڑی۔ لہٰذا یہ دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ ہر ملک میں صرف ایسے لوگ نہیں ہیں جو ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں بلکہ ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں اور ہندوستان کے ساتھ مضبوط رشتے چاہتے ہیں۔

 

 

 

 

 

بات چیت جاری رہنی چاہئے
پاکستان کے ایشو پر واپس لوٹتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان سے بات چیت کا سوال ہے تو اس سے میرا مطلب کوئی خاص ٹیکسٹ نہیں ہے اور نہ ہی قومی دفاعی صلاح کار ( این ایس اے ) کبھی کبھی بات کر لیں یا اپنے ڈپلومیٹک مشن ایک دوسرے ملک سے بات کر لیں۔ میرے دماغ میں 8ٹریک بات چیت ہے جسے ہم نے شروع کیا تھا۔ اس وقت سوچ یہ تھی کہ کشمیر پر بات چیت ہو جو پاکستانی چاہتے تھے، دہشت گردی کا ایشو بھی شامل ہو۔ کل ملاکر اس بات چیت میں 8 ایشو زتھے جس میں سی بی ایم، جموں و کشمیر ، سیاچن ، تُل بُل نیوی گیشن پروجیکٹ ، اقتصادی تعلق، عام لوگوں میں تبادلہ خیال وغیرہ شامل تھے۔ اس لئے جب میں بات چیت کی بات کرتا ہوں تو اسی بات چیت کی بات کرتا ہوں ۔
دراصل جب بھی ہم نے پاکستان کے ساتھ بات چیت کی شروعات کی ہے تو اس بات چیت کی بنیاد یہی ایشوز رہے ہیں۔ بات چیت پر ہماری مایوسی اس لئے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اپنا رویہ بدلے اور ہمارے ساتھ مہذب طریقے سے پیش آئے، دہشت گردی پر کنٹرول کرے، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ مستقبل قریب میں ایسا کچھ ہونے والا ہے، کیونکہ ان کے اپنے کچھ اندرونی معاملے ہی ایسے ہیںجن کی وجہ سے پاکستانی سوچ میں بدلائو آنے میں کافی وقت لگے گا۔
اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہمیں پاکستان یا کسی دیگر پڑوسی کے ساتھ ویسے ہی ڈیل کرنا چاہئے جیسے وہ ہیں۔ ہمیں ان میں بدلائو آنے تک انتظار نہیں کرنا چاہئے ۔ بات چیت میں ایسی کوئی گنجائش نہیں ہے جو ہمارے تئیں پاکستان کی سوچ کو یکدم سے بدل دے۔ بات چیت کا ایک محدود کردار ہے جس سے ہم اپنے رشتوں کو تھوڑا کنٹرول کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ تنائو، جیساکہ پچھلے کچھ سالوں میں دِکھا ہے، ہمیں اپنی اقتصادی ترقی کی پٹری سے کہیں بھٹکا نہ دے یا اس وجہ سے جو چین ابھی جارحانہ تیور میں ہے، اس سے بھی ڈیل کرنے میں ہم بھٹک سکتے ہیں۔ بات چیت جاری رکھنے سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ ہم پاکستان کے اس طبقے سے جڑے رہیں گے جوہندوستان کے ساتھ بہتر رشتے چاہتاہے۔ پاکستان کے لیڈرجو اپنے بل پر اقتدار حاصل کرسکتے ہیں، وہاں کا الیٹ کلاس ، کارو باری طبقہ، پاکستان میں انتہا پسند سرگرمیوں کا جواب ہندوستان کے اعتدال پسند رخ میں تلاش کرتا ہے۔ بات چیت سے ہمیں یہ بھی فائدہ ہوگا کہ کاروبار بڑھے گا، لوگوں کا ایک دوسرے سے ربط بڑھے گا(یہی چیز پاکستانی فوج نہیں چاہتی ہے) ۔یہ کچھ ایشوز ہیں جنہیں ہمیں پاکستان کے ساتھ رشتوں کے معاملے میں دھیان میںرکھنا چاہئے ۔
ہم نے پانی کا صحیح استعمال نہیں کیا
پاکستان کے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے جن دوسرے طریقوں کی بات آتی ہے، ان میں سے پہلا پانی ہے۔ سندھو آبی معاہدے کے تحت انہیں تین مغربی ندیاں سندھو ، جھیلم اور چیناب ملیں اور تین ندیاں راوی، ستلج اور ویاس ہمارے حصے میں آئیں۔ لیکن مغربی ندیوں کے استعمال کے کچھ اختیارات ہندوستان کو ملے۔ اگر ہم پاکستان کو پانی نہیں دینا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں اس پانی کو ہندوستان کے دوسرے حصے میں بھیجنے کا بندوبست کرنا ہوگا۔ ہم پانی روک کر اپنے ہی علاقے کو سیلاب زدہ نہیں کرسکتے۔ ہندوستان کے میدانی علاقوں میں پانی کی ضرورت ہے اور یہ ندیاں اونچائی سے آتی ہیں۔ لہٰذا میدانی علاقوں میں وہاں سے پانی لانے کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہوگا، جس کے لئے بہت وسائل چاہئے اور اس میں کافی وقت بھی لگے گا۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ہم نے اپنے حصے کے پانی کا بھی استعمال نہیں کیا ہے۔
سندھو آبی معاہدہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ مغربی ندیوں کے اوپر ہم باندھ بناکر 3.6 ملین کیوبک فٹ پانی جمع کر سکیں۔ ہم نے ایسا کوئی اسٹوریج نہیں بنایا اور نہ ہی ہائیڈرو الیکٹرک صلاحیت کی ٹیپنگ کی ۔میرے حساب سے پانی روکنے کے بجائے ( جو پالیسی کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے)ہمیں اپنے حصے کے پانی کا بہترین استعمال کرنے پر دھیان دینا چاہئے۔ 2016 میں سرکار نے یہ اشارہ دیا تھا کہ اس پانی کا استعمال کرنے کی سمت میں کچھ قدم اٹھائے جائیںگے۔
کارو بار جاری رہنا چاہئے
ایک دیگر مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ ہر طرح کے کاروباری رشتے روک دیئے جائیں۔ پاکستان کے ساتھ ہمارا کاروبار 2.5 بلین ڈالر کا ہے۔ اس میں سے تقریباٍ 2 بلین ڈالر ہندوستان پاکستان کو ایکسپورٹ کرتا ہے اور باقی کا وہاں سے امپورٹ کرتاہے۔ اگر یہ کاروبار روک دیا جاتاہے تو ہمیں جپسم ، ڈرائی فروٹس اور کیمیکلس جو ہم پاکستان سے مانگتے ہیں تو انہیں دیگر ملکوں سے مانگنا پڑے گا جو کافی خرچیلا ہوگا۔
یہ کہنا تو آسان ہے کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ کاروبار بند کر دینا چاہئے لیکن ان کا کیا ہوگا، جن کی روزی روٹی اس کاروبار سے جڑی ہوئی ہے، کیونکہ اس کاروبار میں ہمارا حصہ 2 بلین ڈالر کا ہے۔ یہ مانگ بھی اٹھتی ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کر دیاجائے اور اس کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ مجھے خوشی ہے کہ اس سمت میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں دوسری بار شامل کیا ہے۔ اس قواعد میں ہمیں یہ بھی دھیان میں رکھنا ہوگا کہ دوسرے ملک اپنے مفاد کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہی پاکستان کے ساتھ ڈیل کریںگے۔ کوئی ضروری نہیں ہے کہ وہ ہندوستان کے حق کے مطابق ہی کام کریں۔ لہٰذا یہ کام ہمیں خود ہی کرنا ہے۔
روایتی جنگ جوکھم بھری ہو گئی ہے
اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اصل اقتدار کے مرکز میں جو بیٹھے ہیں، یعنی فوج، اس سے بات کرو۔ میرا ماننا ہے کہ اگر رشتے کو کسی طرح سے مینیج کرنا ہے ، تشدد روکنا ہے، امن بنائے رکھنا ہے تب تو ٹھیک ہے۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے رشتے بالکل ہی ٹھیک ہوں تو یہ نہیں ہونے والا ہے کیونکہ ہندوستان مخالف جذبات کو زندہ رکھنا پاکستانی فوج کا سب سے بڑا مفاد ہے۔ اس لئے اس متبادل کی کچھ حدیں ہیں۔ تعلقات ٹھیک رکھنے کے لئے ہر ایک اسٹیک ہولڈر سے بات کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت نے روایتی جنگ میں ہماری سبقت کو بہت ہی جوکھم بھرا بنا دیا ہے۔ ہماری فوج میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ ان کے کسی بھی حملے یا جرات کا جواب دوگنی طاقت سے دے سکتے ہیں لیکن روایتی جنگ ،جوہری صلاحیت کی وجہ سے بہت ہی جوکھم بھری ہوگئی ہے۔
ایسے میں ہمیں کون سی پالیسی اپنانی چاہئے؟جہاں تک پڑوسی ملکوں کا سوال ہے تو اس سلسلے میں میں دو باتیں کہوں گا، جن کا تعلق میری مذکورہ بالا باتوں سے ہے۔ پاکستان اور نیپال میں موجود ہندوستان مخالف عناصر کے باوجود ،ان ملکوں سے شیریں رشتے بنانا ہمارے حق میں ہے۔ اس لئے اس سلسلے میں کوششیں ہوتی رہنی چاہئے کیونکہ ہم عالمی سطح پر ایک بڑا کردار تلاش کررہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم اپنی بھاری معیشت کا سہارا اپنے پڑوسیوں کو دے کر آپسی فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ طاقت یا سخت رخ سے حاصل نہیں کیا جاسکتاہے۔ تیسری بات یہ کہ ہمیں ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال کرنا چاہئے احتیاط کے ساتھ ۔اگر ہم اپنے پڑوسی کو سخت پیغام دینا چاہتے ہیں تو اس طرح سے دیا جانا چاہئے کہ وہ اسی طبقے تک پہنچے ، جس کے لئے پیغام ہے۔
ہماری پاک پالیسی غصے پر مبنی نہ ہو
پاکستان سے ہندوستان کے رشتوں کے بارے میں کہنا چاہوں گا کہ ہماری پالیسی غصے پر مبنی نہیں ہونی چاہئے ۔پاکستان یقینی طور پر ہندوستان کو غصہ دلانے کا کام اکثر کرتارہتاہے لیکن ہماری پاکستان پالیسی غصے کے بجائے سوچ سمجھ کر بنائی جانی چاہئے۔ غیر ملکی پالیسی پر عوامی طور پر بات کرنا جمہوریت میں عام بات ہے لیکن مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب یہ ٹی وی مباحثے کا موضوع بن جاتاہے، جس میں پاکستان کے خلاف صرف اور صرف طاقت کے استعمال کی صلاح دی جاتی ہے۔ اس طرح کی چیزوں کے لئے ایک منطقی غیر ملکی پالیسی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
کل ملا کر پاکستان کے بارے میں یہ کہا جاسکتاہے کہ پاکستان کی حکومت نظام بدلنے نہیں جارہی ہے۔ فوج کی پکڑ سرکار پر برقرار رہے گی ، جیساکہ ہم نے پاکستان میں حال ہی میں منعقد ہوئے انتخابات میں دیکھا کہ کیسے فوج پر انتخاب کو متاثر کرنے کا الزام لگا۔ فوج کا ایجنڈا نہیں بدلنے والا ہے۔پاکستان میں فوج حکومت کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن 2008 اور 2013 کے انتخابات (اور2013 میں میں پاکستان میں ہندوستان کا ہائی کمشنر تھا ) کے بعد پاکستانیوں اور دنیا کو توقع کی ایک کرن دکھائی دی تھی۔یہ انتخابات دھاندلی سے پاک انتخابات تھے اور ایسا لگا تھا کہ فوج کے نمایاں ہونے میں کمی آئی ہے اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوںگی لیکن وہ اب ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ انتخابات میں فوج نے انتخاب کو متاثر کیا اور عمران خاں کواقتدار میں لا بیٹھایا ۔ انہوں نے اپنی پارٹی کو 1996 میں قائم کیا تھا اور ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت پر فوج کا غلبہ جوں کا توں برقرار ہے ۔ ہمارے پاس متبادل موجود ہے ۔وقت بوقت ہم انہیں احساس دلاتے رہیں کہ وہ دہشت گردی کو تحفظ دیںگے تو ہم بھی انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ابھی ہم نے کھلے عام اسٹرائیک کیا۔ اس بار فرق یہ تھا کہ اس اسٹرائیک کا اعلان کیا گیا۔ پہلے جو ہوتا تھا ،وہ چپ چاپ ہوتا تھا۔ اس بار جو ہوا ہے ، اس کا عوامی اعلان کیا گیا اور ایک فرق یہ بھی رہا کہ اس بار ایک ساتھ کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ۔یہ اسٹرائیک ٹھیک تھا۔ لیکن میرے خیال میں اسے اس لئے عوامی کیا گیا کہ پبلک اوپنین کو مینیج کرنا تھا۔ ہم نے جب اس کا اعلان کیا تو پاکستان نے اسے خارج کردیا۔ ہمارے یہاں اس کی بہت تشہیر ہو رہی تھی۔ اس سے پاکستانیوں پر دبائو بڑھا لیکن میرا ماننا ہے کہ پیغام وہیں تک جانا چاہئے،جہاں تک جانا مناسب ہے۔ لہٰذا میں کہوں گا کہ پاکستان کے ساتھ جو پالیسی بنے، اس میں بات چیت کے ساتھ ساتھ بغیر شور و شرابے کے طاقت کے استعمال کا متبادل بھی کھلا رکھا جانا چاہئے۔ اس سے بھی اہم یہ ہے کہ ہمیں ایک غیر ملکی پالیسی کے مسئلے پر ملک کے اندر عام اتفاق رائے کی تشکیل پر زور دینا چاہئے۔ کیونکہ عام اتفاق رائے کے بغیر اہم خارجہ پالیسی سے متعلق ایشو زکا پالیٹی سائزیشن ہو جاتا ہے۔

 

 

 

 

 

خارجہ پالیسی بے سمت ہوتی جارہی ہے

کہاوت ہے کہ پڑوسی اچھا ہو تو آپ کی ترقی دوگنی ہو جاتی ہے ۔یہ جتنا کسی فرد ، خاندان کے تعلق سے صحیح ہے،اتنا ہی یا اس سے بھی کئی گنا زیادہ کسی ملک کے بارے میں صحیح ہے۔ ہمارے قدیم گرنتھوں میں بھی پڑوسی ملکوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کے سلسلے میں سمت و ہدایت ملتی ہیں۔پڑوسی ریاستوں کے ساتھ تعلقات اور ان ریاستوں کی درجہ بندی مہابھارت میں بھی ملتی ہے۔ مہابھارت کے دور میں ریاستوں کو دوست، دشمن ، غیر جانبدار اور ثالثی یعنی چار طرح کی ریاستوں میں بانٹا گیا ہے۔ دشمنی ،دوستی ، غیر جانبداریت اور ثالثی سے چار طرح کے رشتوں کی تشریح مہابھارت میں ملتی ہے۔
پڑوسی ملکوں یا ریاستوں کے ساتھ تعلقات اور مضبوط دوستی بنائے رکھنا اتنا ضروری تھا کہ سیاسی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لئے شادی کے ذریعہ سے خاندانی تعلقات جوڑے گئے۔ یونانی راجکماری کا ساتواہن شاہی خاندان کے ساتھ ازدواجی رشتے، شکو کا ہندوستانی شاہی نسل میں ازدواجی رشتے تاریخ کے صفحات میں درج ہیں۔ تاریخ میں وِمبیسار کا لچھوی کی راجکماری چیلینا سے شادی، کوشل ہارنے کے بعد وہاں کے نریش پرسین جت کا اپنی بیٹی وزیرہ کا اجات شترو سے شادی ، سیلیوکس کے چندر گپت موریہ کی بیٹی کی شادی ، یہ سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ قدیم دور سے ہی عالمی روابط کتنے اہم تھے اور اس وقت کے راجا اپنی ریاست کے امن چین اور مضبوطی کے لئے کتنا حساس تھے۔
ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے غیر ملکی پالیسی کے سلسلے میں پنچ شیل کو آگے بڑھایا جس میں ایک دوسرے کی علاقائی مضبوطی اور حاکمیت کا احترام ، متفقہ پابندی ، ایک دوسرے کے اندرونی معاملے میں مداخلت نہ کرنا، مساوات اور پڑوسی ملکوں کے ساتھ پرامن باہمی وجود کو اہمیت دی گئی۔
نان الائنڈ ہندوستان کی خارجہ پالیسیاں ، دوسرا پڑائو رہی ہیں، ملک میں امریکہ ، برطانیہ اور روس جیسے ملکوں کو مسترد کر کے نئے آزاد ملکوں کے گروپ کے ذریعہ اپنے مفاد کو دھیاں رکھتے ہوئے آپسی مفاد کی طرف ترقی کو آگے بڑھایا گیا۔ ہندوستان کا اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر رشتے اور مضبوط تعلقات کے پیچھے ناوابستہ تحریک میں ہندوستان کی قیادت کا بڑا کردار رہا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو بے مقصد اور بے سمت بنائے جانے کی وجہ سے ہندوستان کے اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ بنے مضبوط رشتے میں درار آنے لگی ہے۔(مضمون نگار راجیہ سبھا کے رکن ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *