اسلام تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف ہے: ڈاکٹر ابراہیم ذکریا موسیٰ

dr-ibrahim
نئی دہلی:’’اسلام تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف ہے اور نسلِ انسانی کے لیے امن کا ضامن ہے۔‘‘ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ابراہیم ذکریا موسیٰ ، صدر،سینٹر فار پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز،اسلامک یونی ورسٹی ،مالدیپ،نے اپنے توسیعی خطبے کے دوران کیا۔اس کا اہتمام آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے بعنوان ’’اسلام قیامِ امن کی طرف :انسانیت کے ساتھ‘ ‘کے تحت کیاتھا۔مہمان مقرر نے مزید فرمایا کہ بعض حلقوں میں تشدد پسندی کا جو مزاج پیدا ہو گیا ہے ،وہ اسلام کی روح کے منافی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کے سامنے اس کی صحیح تصویر پیش کی جائے۔پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر محمد اسحق،صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز اور ڈائریکٹر، ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز نے توسیعی خطبہ کے عنوان کی وضاحت کے بعدفرمایا کہ یہ موضوع موجودہ دور میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ دنیا امن و سلامتی کی تلاش میں ہے۔ امتِ مسلمہ کو اپنے مقصدِ وجود پر غور کرنا چاہیے اور مسلمانوں کوانتہائی حکمت و دانش مندی اور بصیرت کے ساتھ لوگوں کو دین کی صحیح تعلیمات سے واقف کرانا چاہیے۔اسلام دینِ رحمت ہے اور اسی میں انسانیت کی کام یابی پوشیدہ ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ دین کی صحیح تعلیم کی تحصیل اور اشاعت کی جائے۔
پروگرام کا آغاز مختار اشرف،ایم اے سال آخر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس پروگرام کے کوآرڈینیٹر جناب جنید حارث نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور مہمان مقرر کا تعارف کرایا،نیزرسمی اظہار تشکر بھی ادا کیا۔آخرمیں سوال وجواب بھی کیے گئے۔اس پروگرام میں شعبہ کے جملہ اساتذہ پروفیسر اقتدار محمد خاں،پروفیسر سید شاہد علی،ڈاکٹر مفتی مشتاق،ڈاکٹر محمد ارشد،ڈاکٹر خالد خان ،ڈاکٹر عمر فاروق،ڈاکٹر خورشید آفاق،اسامہ شعیب علیگ ،محمد
مسیح اللہ،ڈاکٹر جاویداختر ،محمد تحسین زماں،ریسرچ اسکالرس اور طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *