ڈونالڈ ٹرمپ کا آئی کیو ٹیسٹ؟

حال ہی میںڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک اسٹیبل جینئس ہیں۔ جب ہم نے پہلی بار ان کا یہ اعلان سنا تو سوچا کہ ان کا مطلب ہے کہ وہ گھوڑوں کے اصطبل میںکام کرنے میںماہر ہیں۔ سنجیدگی سے سوچنے پر ہمیںمعلوم ہوا کہ ٹرمپ یہ کہنا چاہتے ہیںکہ وہ چٹان جیسے مستحکم اور اعلیٰ آئی کیو والے شخص ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصہ سے ٹرمپ اپنے آئی کیوپر زور دیتے رہے ہیں۔ ہم نے پچھلے سال اکتوبر کے اپنے ہفنگٹن پوسٹ کے بلاگ ’ٹرمپ کے آئی کیو کا متبادل نقطہ نظر‘ میںصدر کے آئی کیو پر اپنے خیالات کااظہار کیا تھا۔
اپنی تازہ ترین خود تشخیص کو دیکھتے ہوئے ہم نے محسوس کیا کہ اس بلاگ کو پھر سے قارئین کے سامنے رکھنے کا یہ اچھا وقت ہے۔ پیش ہے مذکورہ بلاگ کا ایڈیٹیڈ اور اپڈیٹیڈ ورزن۔
’جب ریکس ٹلرسن سکریٹری آف اسٹیٹ تھے تو ایک تفصیلی رپورٹ شائع ہوئی، اس رپورٹ میںٹلرسن نے صدر ٹرمپ کو بے وقوف کہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے فوربس سے بات چیت میںان خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ یہ فیک نیوز ہے ۔ لیکن اگر انھوںنے ایسا کہا تو مجھے لگتا ہے کہ ہم دونوں کے آئی کیو ٹیسٹ کا مقابلہ کرنا چاہیے او رمیںآپ کو بتا سکتا ہوںکہ کون جیتنے والا ہے۔
صدر کے آئی کیو کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے فوری طور پر یقین کیا کہ ٹرمپ کا مطلب یہاںٹلرسن ہوگا اور وہ سکریٹری آف اسٹیٹ کی بصیرت کی تعریف کر رہے تھے اور وہ سالوںسے اپنے بہترین آئی کیو پر بیان دیتے رہے ہیں۔
2013میںٹرمپ نے ٹویٹ کیا تھا کہ ان کا آئی کیو براک اوباما اور جارج ڈبلیو بش کی آئی کیو سے کافی بہتر ہے۔ اسی سال، انھوںنے ٹویٹ کیاکہ سبھی ناکام اور نفرت کرنے والے لوگوںسے معافی کے ساتھ یہ کہنا چاہتا ہوںکہ میری آئی کیو سب سے اچھی ہے اور آپ سبھی اسے جانتے ہیں۔ برائے مہربانی اس کی وجہ سے خود کو بے وقوف یا غیر محفوظ محسوس نہ کریں، اس میں آپ کی غلطی نہیں ہے۔
اپنی صدر کی امیدواری کے دوران قدامت پسند کالم نویس جارج وِل اور کرل روو، جو جارج ڈبلیو بش کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ریپبلیکن پارٹی کے صلاح کار تھے، کی تنقیدوںکا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا،’ میری آئی کیو کافی اونچی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میںنے بہتر کالج میںپڑھائی کی ہے اور میرا سب کچھ بہتر ہے۔‘
ٹلرسن پر تبصرے کے بعد بھی اپنے بہترین آئی کیو پر ٹرمپ کا بڑبولا پن جاری رہا۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ ان کا تعلق پی ٹی برنم اسکول آف سیلف پروموشن اور ڈبیلو سی فیلڈ کے مشورے پر پوری طرح سے اعتماد کرتا ہے۔ فیلڈ کا کہنا ہے کہ آپ کچھ لوگوںکو کبھی کبھی بے وقوف بنا سکتے ہیں اور یہ ایک قابل قدر زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے۔
یہ بتاتے چلیںکہ ہم نہ تو ٹرمپ کی بے وقوفی سے متاثر ہوئے اور نہ ہی ان کے بہترین آئی کیو سے۔ لیکن جب ان کے آئی کیو کے دعوے پر غور کرنا شروع کیا تو پایا کہ شاید ہم ان کے دعووں کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ وہ آئی کیو کو انٹیلی جنس کوٹیئنٹ کے معنی میںنہیں بلکہ کسی دیگر معنی میں لے رہے ہیں۔

 

 

 

ہم نے آئی کیو کے متبادل نقطہ نظر اور ان کے ممکنہ مطلب پر غور کیا جو ٹرمپ کے بہترین آئی کیو اسکور سے میل کھاتا ہو او رجس کے مطابق امریکہ کا کوئی بھی صدر ٹرمپ کے آئی کیو کا مقابلہ نہ کر سکتا ہو۔ ہم نے آئی کیو کے یہ مطلب نکالے ۔ انکامپپٹینس (نااہلی) کوٹیئنٹ، اگنورینس (جہالت) کوٹیئنٹ، اررشنالٹی (غیر منطقی)، انسلٹنگ (توہین) کوٹیئنٹ اور انسفریبل (ناقابل برداشت) کوٹیئنٹ
آئیے آئی کیو کے ان معیاروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
انکامپیٹینس (نااہلی) کوٹیئنٹ: شہریوں کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ صدر نے اپنے کاموں اور اپنی زبان سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صدر کے عہدے کے لیے موزوں ہیں۔ ان میںصدر بننے کے لیے لازمی مہارت، صلاحیت، تجربہ اور سب سے بڑھ کر ٹیمپرامنٹ کا فقدان ہے۔ مثال کے طور پر ہیلسنکی پلمیٹ (ہیلسنکی میںٹرمپ – پتن چوٹی کانفرنس) کو سامنے رکھا جاسکتا ہے۔
اگنورینس (جہالت) کوٹیئنٹ: ٹرمپ کو یہی نہیںمعلوم کہ کیا نہیںجانتے اور یہ سب کو معلوم ہے کہ وہ سرکار اور سرکار کی پالیسیوں کے بارے میںجانکاری نہیںرکھتے ۔ ان کا یہ ماننا کہ ہیلتھ سروسز پیچیدہ ہیں او ریہ سمجھ کہ ٹی وی نیٹ ورک لائسنس پر چلتے ہیں، ان کی عظیم ناسمجھی کو اجاگر کرتا ہے۔
اررشنالٹی ( غیر منطقی) کوٹیئنٹ: کبھی کبھی غیر منطقی ہوجانا انسانی فطرت میںشامل ہے۔ ٹرمپ اس معاملے میںتقریباً سبھی سے آگے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ میکسکو کے ساتھ سرحد پر بن رہی دیوار کا خرچ میکسکو اٹھائے گا اور ان کے محض ٹویٹ سے وہ اس کے لیے تیار ہو جائے گا۔
انسلٹنگ (توہین) کوٹیئنٹ: اپنے ریپبلیکن صدر امیدواری کے حریفوں کا مذاق اڑاکر اور صدر کے طور پر کانگریس مںریپبلیکن قیادت کی مذمت کرکے انھوںنے اس شعبے میںسربلندی حاصل کرلی ہے۔ اپنی توہین کرنے کی صلاحیت کو ٹرمپ حال ہی میںبین الاقوامی سطح پر لے کر گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ناٹو پر اپنے کے بیان کو دیکھ سکتے ہیں۔
انسفریبل (ناقابل برداشت) کوٹیئنٹ: اپنے حامیوںپر ٹرمپ کی پکڑ ابھی بھی مضبوط ہے۔ لیکن شہریوںکے ایک بڑے طبقہ کے لیے ان کی سیلف کنسیٹ اور انتہائی تکبر پریشان کن ہوگیا ہے۔
ان سبھی معیاروں پر ڈونالڈ ٹرمپ کا کوئی مقابلہ نہیںہے۔ انھیںجیتنا پسند ہے لیکن خدشہ یہ ہے کہ یہ جیت پسند آئے گی یا نہیں۔
منسا (آئی کیو ناپنے کا بین الاقوامی ادارہ) نے ٹرمپ اور ٹلرسن کے آئی کیو ٹیسٹ کے لیے اپنی خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ٹرمپ نے اس پیشکش کو قبول نہیںکیا۔ ایسا اس لیے کہ یہ ٹیسٹ ان کی عقل یا اس کی کمی کے بارے میںسچائی ظاہر کردیتا، بالکل ایسے ہی جیسے ان کے ٹیکسوں کو جاری کرنے سے ان کی مالیاتی پینترے بازی کا اندازہ ہو جائے گا۔
ہم نے اس مضمون کی شروعات مزاحیہ انداز میںکی ہے۔ جب ہم تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں تولگتا ہے کہ ہمارے اوپر وہ مذاق ہوسکتا ہے۔ وہ مذاق فی الحال وہائٹ ہاؤس میں ہے، وہ امریکہ کے صدر ہیں۔ ہمارے صدر۔ ان کو لے کر کسی کے کیا خیالات ہیں اور کوئی آئی کیو کی کیسے وضاحت کرتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیںپڑتا۔ ہم نے نومبر 2017 میںیہ باتیںکہیںتھیںاور آج جولائی 2018 میںان باتوں پر قائم ہیں۔
ٹرمپ نے حال ہی میںایک ٹویٹ پوسٹ کیا تھا، جس میںانھوںنے کہا تھا کہ جو ان کی تنقید کرتے ہیں، وہ ٹرمپ ڈرینجمنٹ سنڈروم سے متاثر ہیں۔ اس لفظ کی ایجاد ان لوگوںکے لیے کی گئی جو ٹرمپ کو ناپسند کرنے کی وجہ سے تقریباً پاگل ہو گئے ہیں اور نتیجتاً ایسے ردعمل دے رہے ہیں جو غیر معقول ہیں۔

 

 

اس وضاحت کا دائرہ بہت تنگ ہے۔ کیونکہ سچائی کہنی چاہیے (اور کبھی کبھی ضرور کہنی چاہیے)، بھلے ہی ہم پوسٹ ٹروتھ کے ٹرمپ دور میں ہی کیو ں نہ جی رہے ہوں۔ دراصل پورا ملک ٹرمپ ڈرینجمنٹ سنڈروم میںمبتلا ہے۔
ٹرمپ کے پرستار ان کی ہر متبادل حقیقت پر اس حالت میںبھی بھروسہ کرلیتے ہیں جب اس کے برعکس حقائق موجود ہوں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹر مپ سے نفرت کرنے والے لوگ اتنے بے چین ہوگئے ہیںکہ وہ صرف ان سے ہی نفرت نہیںکرتے ہیں بلکہ ان کی ہرچیز سے نفرت کرتے ہیں۔
ہم فی الحال ٹرمپ ڈرینجمنٹ کے امریکہ میںرہتے ہیں۔ یہ بیماری ہم سب کو متاثر کرتی ہے۔ اس ذہنی بیماری کے کیریئر اور ٹرانسمیٹر خود ڈونالڈ ٹرمپ ہیں ۔ یہ بیماری انھیں سچائی سننے، دیکھنے یا بولنے میں قاصر بناتی ہے۔ وہ ایسی دنیا میںرہتے ہیںجو حقیقت کے بجائے ان کے دماغ کی سوچ پر مبنی ہے۔
امریکہ میںٹرمپ ڈرینجمنٹ کی سچائی ہی نہیں بلکہ اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ یہ نتیجے ہیں، امریکی جمہوریت کو بگاڑنا، شہریوںکو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا، امریکہ کے تاریخی او رمضبوط اتحادیوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنا اور عالمی سطح پر امریکہ کی پوزیشن میںکمی آنا۔
یہ تحفہ ہمیںاس اسٹیبل جینئس نے دیا ہے۔ ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ انھوںنے ہمیںکیا دیا ہوتا، اگر وہ اَن اسٹیبل جینئس ہوتے۔ ہمیںاس کے بارے میںسوچنا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *