جمہوری اسرائیل بنا یہودی مملکت

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک متنازع قانون کو منظوری دے دی جس کے تحت اسرائیل کو یہودیوں کی ریاست قرار دیا گیا ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس قانون میں کہیں پر بھی جمہوریت یا مساوات کا ذکر نہیں ہے جس سے ملک کی 20 فیصد عرب آبادی کو خدشہ لاحق ہو گیا ہے کہ انھیں اسرائیل میں دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے گا۔قابل ذکر ہے کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد اس خطے سے عرب باشندوں کو باہر نکال دیا گیا تھا۔ لیکن بہت سے عرب یہاں ہی رہ گئے اور اب وہ اسرائیل کے شہری ہیں۔ 90 لاکھ کی اسرائیل کی آبادی میں عرب شہریوں کی تعداد تقریباً 18 لاکھ ہے۔یہ آبادی اس نئے قانون سے متاثر ہوگی۔
پارلیمان میں یہ غیر معمولی قانون 55 کے مقابلے میں 62 ووٹوں سے منظور کیا گیاہے۔ اس قانون کے بارے میں اسرائیل کے صدر نے چند دنوں قبل وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو اور ان کی جماعت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو صرف یہودیوں کا ملک قرار دینے سے نہ صرف جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہو گی بلکہ اس سے ملک کے مخالفین کو اسرائیل پر نکتہ چینی کرنے کا موقع مل جائے گا۔لیکن پار لیمن ٹ میں شدید مخالفت اور درجنوں ترامیم پیش کیے جانے کے باوجود نیا قانون محض 7 ووٹوں کی برتری سے منظور ہو گیا۔
اس نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ کہ اسرائیل یہودیوں کی تاریخی سرزمین ہے اور اس کی قومی خود ارادیت کا خصوصی حق صرف یہودیوں کے لیے مخصوص ہے۔اس میں ایسی بستیاں بسانے کی بات کہی گئی ہے جو صرف یہودیوں کے لیے مخصوص ہوں گی۔ اب صرف عبرانی سرکاری زبان ہے اور عربی زبان کو قومی زبان سے ہٹا کر صرف خصوصی درجہ دے گیا ہے۔اسی طرح غیر منقسم یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔ ملک کا قومی پرچم، یہودی مذہبی تہواروں اور یوم آزادی کو قومی علامت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔اس قانون سے پہلے اسرائیل بنیادی طور پر ایک سیکولر جمہوری ملک تھا جس میں آئینی طور پر سبھی شہریوں کو بلا مذہب و نسل برابر کے حقوق حاصل تھے۔مگر اس قانون کے بعد وہ جمہوری ملک نہیں رہے گا۔
بنیامن نتن یاہو نے اسے اسرائیل کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیا اور کہا کہ’ ہم نے اپنے وجود کے اصولوں کی بنیاد کو قانون میں نقش کر دیا ہے۔ اسرائیل اب اہل یہود کی مملکت ہے۔اس قانون پر اسرائیل کے عرب باشندوں سمیت پورے عالم اسلام میں بے چینی پائی جارہی ہے ۔ اسرائیل نے اپنے اس عمل سے یہ بتادیا ہے کہ وہ کوئی جمہوری ملک نہیں ہے۔ اب یہ بات امریکہ کو سوچنے کی ہے جو کہ پوری دنیا میں جمہوریت قائم کرنے کا ٹھیکہ دار بنا ہوا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کو اپنا سب سے قریبی دوست کیوں بنائے ہوا ہے جہاں کی پارلیمنٹ میں جمہوریت کی جگہ یہودی ملک ہونے کا بل پاس کیا گیا ہے۔

 

 

 

فلسطینی ارکان پارلیمنٹ نے اس قانون کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد ملک میں یہودیوں کی برتری مسلط کرنا اور فلسطینیوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا ہے۔ایک سینئر اسرائیلی عرب رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ ’یہ جمہوریت کا خاتمہ ہے اور اب سرکاری طور پر فسطائیت اور نسل پرستی کا آغاز ہو گیا ہے۔اس پر پوری دنیا کو سوچنے کی ضرور ت ہے ۔ اسرائیل کی موجودہ حکومت نے اپنے اس عمل سے بتادیا ہے کہ وہ جمہوریت کے خلاف ہے۔
اسرائیل میں اقلیتی عرب شہریوں کے حقوق کے قانونی مرکز العدالہ کے سربراہ حسن جبرین کا کہنا ہے کہ’یہودی مملکت کے قانون میں نسل پرستی کے ایسے بنیادی پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے جو نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس وقت 65 ایسے قوانین ہیں جنھیں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں اور مقبوضہ علاقوں کے فلسطینی باشندوں کے خلاف تفریق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکہ میں آباد یہودیوں کی با اثر انجمن امریکن جوئش کمیٹی نے نئے قانون پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کے بانیوں نے ایک ایسے اسرائیل کے قیام کی تمنا کی تھی جو نہ صرف یہودیوں کا ہو بلکہ جو جمہوری بھی ہو۔ یہ تصور نئے قانون سے خطرے میں پڑ گیا ہے۔
اس قانون سے اسرائیل – فلسطینی تنازعے نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ابھی تک فلسطینی غرب اردن اور غزہ میں اپنی مملکت کے قیام کے لیے کوشاں تھے۔ گذشتہ 70 برس سے وہ اپنی فلسطینی مملکت کے لیے نبرد آزما رہے۔ اب ان کی عالمی حمایت کمزور پڑ چکی ہے۔مملکت کے نئے قانون سے اسرائیل نے ملک کے اپنے فلسطینی شہریوں کے خلاف ایک محاذ کھول دیا ہے۔ اسرائیل پر اب کوئی دباؤ نہیں ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کو ایسی حمایت مل رہی ہے جو ماضی میں کبھی نہیں ملی۔عراق اور شام جیسے ممالک جو اسرائیل کے لیے کچھ حد تک پریشانی پیدا کر سکتے تھے وہ نیست و نابود ہو چکے ہیں۔ ایران بھی اب ایک تباہ کن ٹکراؤ کی گرفت میں ہے۔ اسرائیل نے ان حالات میں یہودی مملکت کاقانون منظور کیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر اسرائیل کی یہودی مملکت کے فلسطینی شہریوں پر پڑے گا۔
اسرائیل اور فلسطینیوں کے ٹکراؤ میں یہ ایک نئی صورتحال ہے۔ یہ آنے والے دنوں میں اسرائیلی فلسطینیوں کے لیے ایک نیا مسئلہ پیدا کرنے والی ہے۔ اس سے مشرق وسطیٰ کی پہلے سے ہی غیر متوازن اور نازک صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ فلسطینیوں اور جمہوریت پسندوں کو بہت صبر آزما حالات کا سامنا ہے۔اسرائیل کی جمہوری و سیکولر حیثیت میں تبدیلی سے ایک بڑا سوال یہ کھڑا ہوگیاہے کہ کیا اب تک یہاں مختلف مذہبی طبقات کو حاصل اپنے اپنے پرسنل لاء کو باقی رکھنے اور اس پر چلنے کا اختیار اب بھی حاصل رہے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *