ایران، سعودی عرب اور اسرائیل سے چین کی دوستی کی حقیقت ؟

ایران، اسرائیل اور سعودی عرب عام طور پر بین الاقوامی تنازعات پر مخالف سمتوں پر ہوتے ہیں۔کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ کے ان سپر پاور ملکوں نے ایک دوسرے سے شکوک اور کڑواہٹ کا رویہ رکھا ہے اور ان کے درمیان تعلقات کبھی تو تلخ توبالکل ختم‘ ہی ہو جاتے ہیں۔دوسری طرف خطے کے دو بڑے شیعہ اور سنی مسلم ممالک ایران اور سعودی عرب خطے میں شام، یمن میں بھی اپنے اتحادیوں کی ذریعے پراکسی وار لڑ رہے ہیں اور دونوں ہی اسرائیل پر جس کے ساتھ ان میں سے کسی بھی ملک کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں ،تنقید کرتے رہتے ہیں۔اس کے باوجود ان تینوں ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے میں چین کامیاب رہا ہے اور ان ممالک کے درمیان تناؤ کا کوئی اثر اپنے اوپر پڑنے نہیں دیاہے۔
آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ چین ایک طرف اسرائیل سے دوستی قائم کرنے میں کامیاب تو دوسری طرف اسرائیل کے سخت حریف سعودی عرب اور ایران سے بھی اس کے تعلقات شیریں ہیں؟ اس کے پیچھے چین کی طویل مدتی پا لیسی کارفرما ہے ۔شروع شروع میں چین نے مشرق وسطی کی قوتوں تک پہنچنے کے لیے وسیع سٹراٹیجی اپنائی جو ان ممالک کے درمیان حالیہ سرکاری دوروں سے واضح ہے۔ چین اور ایران کے درمیان تعلقات 1979 کے اسلامی انقلاب کی وجہ سے مضبوط ہوئے، جب ایران بین الاقوامی برادری میں تنہا ہو گیا تھا تو اس کے بعد 1980-88 میں ایران عراق جنگ کے دوران چین ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم ملک تھا۔
جب 2000 کی دہائی میں امریکہ اور یوروپی یونین نے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی غرض سے اس پر پابندیوں میں اضافہ کیا تو اس وقت چین نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے اور دیگر ممالک کی جانب سے انکار کے باوجود اسے ان اشیا تک رسائی میں مدد فراہم کی۔اس کا اثر تھا کہ 2010 میں بھی جب چین نے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کی تائید کی تب بھی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات ٹھیک رہے۔ان تعلقات سے بیجنگ کو بھی فائدہ ہوا۔ ایرانی تیل درآمد کرنے کے ساتھ ساتھ چین نے اپنی مصنوعات اپنے شراکت دار کو بغیر کسی مقابلے کے برآمد کی۔امریکہ کی جانب سے اب جب کہ ایران اور6 عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری پروگرام سے نکلنے کا اعلان کر دیا گیا ہے ،اس صورتحال میں ایران اور چین کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

 

 

 

اب رہی بات چین اور سعودی عرب تعلقات کی تو مارچ 2017 میں سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا استقبال چینی صدر شی جن پنگ نے پرتپاک اور والہانہ انداز میں کیا تھا ،یہ اپنے آپ میں بہت کچھ کہانی بیان کرتاہے۔ دونوں سربراہوں کی ملاقاتوں کے ایجنڈے میں خام تیل تو سرفہرست تھا ہی،دونوں ملکوں نے قابل تجدید توانائی اور اسپیس کے شعبوں میں بھی تجارتی اور اقتصادی معاہدوں کا اعلان کیا۔عالمی امور کے تجزیہ کار ڈیوڈ اوالالو کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب کو اس بات کا یقین ہے کہ تیل کی قیمتیں عنقریب دوبارہ 100 ڈالر تک نہیں پہنچیں گی، لہٰذا اپنے اقتصادی اثاثوں کو تبدیل کرنے کا یہی موقع ہے۔خاص بات یہ ہے کہ چین میں سعودی تیل کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ مشرق وسطی میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لیے سعودی عرب میں انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔
جہاں تک چین اور اسرائیل کی بات ہے تو اسرائیل کے امریکہ کے ساتھ قریبی سیاسی تعلقات کے باوجود اس نے چین کے ساتھ بھی انتہائی تیزی سے اقتصادی تعلقات قائم کیے ہیں۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 25 بلین ڈالرز کا معاہدہ طے پایاہے۔ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صرف 2016 میں ہونے والی براہ راست سرمایہ کاری 16 بلین ڈالرز کی تھی۔اس کے علاوہ چین سے بڑی تعداد میں سیاح اسرائیل جا رہے ہیں۔ گذشتہ سال 2017 میں ایک لاکھ سے زائد چینی سیاح اسرائیل گئے جو کہ 2015 کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تعداد ہے۔واشنگٹن میں تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز کے اعلیٰ محقق ایلیئٹ ایڈ نے اپنے تازہ تجزیے میں لکھا ہے کہ ’دونوں ممالک شراکت داریوں کو اپنے خطوں سے باہر پھیلا رہے ہیں اور نئے مارکیٹوں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ چین خاص طور پر اسرائیل کے ہائی ٹیک شعبے کی جانب مائل ہوا ہے جبکہ اسرائیل چینی سرمایہ کاری کو قبول کر رہا ہے۔
یہاں پر ایک سوال بہت اہم ہے کہ آخر چین ان تین باہمی حریف ملکوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے میں کامیاب کیسے رہا؟ اس سلسلے میں امریکہ کی مشہور سیاسی تجزیہ کار ایمیلی ہاتھرون کا کہنا ہے کہ ’چین ہمیشہ سے ہی مشرق وسطی کے ممالک کے ساتھ مذہبی یا سیاسی نظریات میں پڑے بغیر مستحکم تعلقات کا خواہاں رہا ہے۔ اس نے اس منقسم خطے میں کسی ایک فریق کی حمایت نہیں کی۔ بیجنگ امریکہ جیسے دیگر ممالک کی طرح نظریات لاگو نہیں کرتا۔اس کے علاوہ چین امریکہ کی طرح دیگر ممالک کے لیے اپنی حمایت کو انسانی حقوق کی پالیسیوں کے ساتھ نہیں جوڑتا، چین کی اسی متوازن پالیسی نے اسے تین حریف ملکوں کے ساتھ رشتے بنائے رکھنے میں مدد کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *