پاکستان میں نئی حکومت کو درپیش چیلنجز

پاکستان کی سیاست نے ایک نئی کروٹ لی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کو پہلی مرتبہ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع ملا ہے ۔مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پارٹی سربراہ عمران خان پاکستان میں مختلف الانواع مسائل کا مقابلہ کیسے کرپائیں گے؟
نئی حکومت کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جن میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، انتہا پسندی اور کئی دہائیوں سے سول حکومت اور فوج کے مابین جاری تناؤ جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔ حکومت بنانے کے فوری بعد انہیں کئی مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ ان فیصلوں میںدہشت گردی کے تعلق سے نئی حکومت کو بہت ہی سوچ سمجھ کر ٹھوس قدم اٹھانا پڑے گا جس میں اب تک کی حکومتیں تقریبا ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف پاکستانی سیکورٹی فورسز نے کئی آپریشنز کیے تھے جن کے بعد ملک کی سیکورٹی صورت حال قدرے بہتر ہو ئی تھی ۔لیکن اتنی سی بہتری پاکستان پر دنیا بھر کی طرف سے لگائے جارہے الزامات کو دھونے کے لئے قطعی ناکافی رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سیاسی تجزیہ کار طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی پھیلنے کی حقیقی وجوہات کا تدارک نہیں کیا جا رہا ہے ،اس لیے دہشت گرد کسی بھی وقت دوبارہ بڑے حملے شروع کر سکتے ہیں۔حال ہی میں ٹھیک الیکشن کے دن صبح کے وقت کوئٹہ میں زبردست دھماکہ ہونا اور اس سے کچھ روز پہلے مختلف حصوں میں انتخابی تشہیر کے دوران ہونے والے دہشت گردانہ حملے بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی جڑیں مضبوط ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شدت پسند گروہ فوجی آپریشنز میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں میں ہیں۔اسی طرح ملک کی اقتصادی صورت حال بھی نئی حکومت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو گی۔ ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ شدید ہونے کے بعد ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کی ضرورت پڑ جائے گی۔مرکزی بینک زر مبادلہ کے ذخائرکو مسلسل استعمال میں لا رہا ہے اور روپے کی قدر کم ہو چکی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے غیر ملکی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ کر رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔نیز پاکستان کے لئے بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک مسئلہ ہے۔عالمی بینک اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب آبادی میں اضافے کی شرح ایشیا کے کئی دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔

 

 

 

 

1960 سے لے کر اب تک ملکی آبادی میں پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ برس کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 207 ملین تک پہنچ چکی ہے۔تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اقتصادی اور سماجی سطح پر مثبت اقدامات کے اثرات بھی زائل ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ قدامت پسند معاشرے میں حکومت کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر گفتگو کرنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو پانی سمیت ملک کے قدرتی وسائل اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی ہو جائیں گے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان بحرانی صورت حال کا شکار ہو جائے گا۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ کے گلیشیئر بھی ہیں اور مانسون کی بارشیں بھی کافی ہوتی ہیں۔لیکن ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں کی تعداد ناکافی ہے۔ ملک بھر میں صرف تین بڑے ڈیم ہیں جبکہ اسے سینکڑوں کی تعداد میںہونا چاہئے۔ ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ اکثر تنازعات کا سبب بھی بن جاتا ہے لیکن نئی حکومت کو اس ضمن میں فوری طور کام کرنا پڑے گا اور اس حوالے سے عوام کو معاملے کی نزاکت سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت پڑے گی۔
نئی حکومت کے چیلنجوں میں ایک فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کا مسئلہ بھی ہے۔پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں نصف سے زیادہ مدت تک فوج نے براہ راست ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔ 2013 میں پہلی مرتبہ اقتدار ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہوا تھا جس کے بعد ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونے کی امید کی جا رہی تھی۔تاہم حالیہ انتخابات سے پہلے ہی صورت حال تیزی سے تبدیل ہوتی چلی گئی۔ تین مرتبہ ملکی وزیر اعظم بننے والے نواز شریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کے باعث سول-ملٹری تعلقات ایک مرتبہ پھر غیر متوازن ہو چکے ہیں۔ نئی منتخب حکومت کو بھی ان تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کا بیڑا اٹھانا پڑے گا۔اس کے علاوہ خارجہ پالیسی خاص طور پر افغانستان اور ہندوستان سے تعلقات میں بہتری لانا بھی نئی حکومت کے لئے انہتائی اہمیت کا حامل ہے۔نیز پاکستان میں تعلیمی پسماندگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ظاہر ہے ان تمام مسائل سے نمٹنا نئی حکومت کے لئے زبردست چیلنج بن کھڑے ہوئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *