اجمل خاں طبیہ کالج کے شعبۂ امراضِ نسواں و اطفال میں ’ ’عالمی شیرِ مادر ہفتہ ‘‘ کا انعقاد

Women-and-Faculty-members
اجمل خاں طبیہ کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبۂ امراض نسواں و اطفال کی جانب سے ’’ عالمی شیرِ مادر ہفتہ ‘‘کے تحت مختلف پروگرام منعقد کئے گئے ۔شعبہ کے اوپی ڈی میں آنے والی خواتین کو شیرِ مادر پلانے کے فوائد اور اس کی اہمیت و ضرورت بتائی گئی۔ خواتین میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے اور لیکچر کا بھی اہتمام کیا گیا۔ انھیں بتایا گیا کہ شیرِ مادر سے بچوں کومکمل غذا ملتی ہے اور ان میں تغذیہ کی کمی نہیں ہوتی ۔ بچوں کو مختلف امراض سے تحفظ دینے میں شیرِ مادر اہم رول ادا کرتا ہے، ایک سال سے کم عمر کے بچے میں ڈائریا سے لڑنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے، ماں کے پستان سے پہلی بار نکلنے والے دودھ کے ساتھ گاڑھا پیلے رنگ کا سیّا ل بھی نکلتا ہے جسے کولوسٹرم کہتے ہیں ، اسے بچہ کو ضرور پلائیں ، اس سے بچہ کے اندر انفیکشن سے لڑنے کی طاقت پیدا ہوتی ہے اور مدافعتی قوت کو مضبوطی ملتی ہے۔
شیرِ مادر بچہ کے دماغ کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اور اس سے دماغی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔ ماں کا دودھ بچہ کو اسی درجۂ حرارت میں ملتا ہے جو اس کے جسم کا ہے، اس سے بچہ کو سردی نہیں لگتی ہے۔ اس کے علاوہ بعد کے مرحلہ میں خون کا کینسر، ذیابطیس اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ ماؤں کو دودھ پلانے کے درست طریقے بھی بتائے گئے۔ اس موقع پر انڈرگریجویٹ طلبہ طالبات، انٹرنس اور پی جی اسکالرس کے لئے ’’شیرِ مادر: زندگی کی بنیاد‘‘ موضوع پر پوسٹر سازی مقابلہ کا اہتمام کیا گیا۔ شعبہ کے سیمینار ہال میں منعقد ہونے والے اس مقابلہ میں حنا فاطمہ، سمرین خاں اور مہر فاطمہ نے بالترتیب اوّل، دوئم و سوئم مقام حاصل کیا۔
اس کے علاوہ ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈاکٹر علی جعفر عابدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچہ کی صحت کے لئے ماں کا دودھ ضروری ہے۔ سبھی پروگراموں کی سرپرستی شعبہ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ایس اے ناز نے کی۔ شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر دیوان اسرار خاں، ڈاکٹر ایم انس، ڈاکٹر فہمیدہ زینت، ڈاکٹر ابیہا احمد خاں اور ڈاکٹر سمن انیس نے بھرپور تعاون کیا۔ اختتامی تقریب میں صدر شعبہ پروفیسر ایس اے ناز نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شیرِ مادر نوزائیدہ بچوں کے لئے ضروری ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے طلبہ طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں عام لوگوں اور خاص طور سے خواتین میں بیداری پیدا کریں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *