فلسطین کاز کے لئے لڑنے والی بہادر بیٹیاں

ان دنوں فلسطین جیل سے رہائی پانے والی عہد تمیمی کے تذکروں سے فلسطین سمیت عرب کے اخبارت بھرے ہوئے ہیں۔عہد تمیم مسلسل 8 ماہ تک صہیونی جیل میں رہنے والی ایک16 سالہ فلسطینی لڑکی ہیں جن پر بنی صالح علاقہ میں ایک اسرائیلی فوجی کو تھپر مارنے کے جرم میں اسرائیلیوں نے 12 مختلف نوعیت کے الزامات عائد کئے تھے ۔ فرد جرم میں تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے، دھمکیاں دینے، تشدد پر اکسانے، فوجیوں کے سیکورٹی امور میں مداخلت کرنے اور فوجیوں کی توہین جیسے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ان میں سے چار میں وہ قصوروار پائی گئیں اور انہی الزامات کے تحت ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا اور 8 ماہ قید اور5 ہزار شیکلز( 1440 ڈالر) جرمانہ کی سز سنائی گئی۔سزا پوری کرنے کے بعد وہ جیل سے باہر آچکی ہیں۔جیل سے رہائی کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے ان کا استقبال کیا۔ اس وقت عہد تمیمی فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی قبضے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گئی ہیں۔
فلسطین کی آزادی کی جدو جہد میں جہاں مرد وں نے قربانیاں دی ہیں ،وہیں خواتین کا رول بھی قابل ذکر ہے ۔آزادی کی جدو جہد کی وجہ سے اسرائیلی جیلوں میں جہاں مرد بڑی تعداد میں قید ہیں،وہیں خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود ہیں۔ صہیونی ریاست کی جیلوں میں قیدخواتین کی تعداد تقریباً 60 ہے جب کہ 6500 مرد اور 350 بچے ہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھتی ہے جس کو دیکھتے ہوئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیاہے جس کہا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں کو تحفظ فراہم کرنا، انہیں جیلوں میں قید کرنے کی پالیسی ترک کرنا اور زیرحراست کم عمر افراد کو عالمی قوانین کے تحت مناسب ماحول فراہم کرنا صہیونی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اس ہدایت کے باجود اسرائیلی انتظامیہ ان قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی رویہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کرتاہے۔

 

 

 

اسرائیلی تشدد کے باوجود فلسطین کی عورتیں مردوں کی طرح ہمت و حوصلہ کے ساتھ اپنے ملک کی آزادی کی لڑائی میں پیش پیش رہتی ہیں۔اس طرح دیکھا جائے تو فلسطینی قوم کو اپنی بہادر بیٹیوں پر بجا طورپر فخر ہے جو میدان جہاد اور تحریک آزادی کے ہر میدان میں جرات اور بہادری کے کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں۔انہی بہادر بیٹیوں میں ایک نام 42 سالہ صحافیہ ’ لمیٰ خاطر‘ کا ہے جو اپنے قلمی جہاد کی وجہ سے بار بار صہیونی جیلوں میں قید کی جاتی ہیں۔
لمی خاطر کو ابھی حال میں محض اپنے منصف قلم کو استعمال کرنے، فلسطینی قوم کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اور صہیونی ریاست کے مظالم کو بے نقاب کرنے کی پاداش میں گھر سے اٹھا کر عقوبت خانے میں ڈالا گیا۔فلسطین میں انسانی حقوق کے کارکن صحافیہ لمیٰ خاطر کو عسقلان نامی جیل میں ڈالا گیا ہے جہاں ان پر وحشیانہ تشدد کیا جا رہا ہے۔انہیں اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل سے حراست میں لیا تھا۔
ان کے شوہر پہلے سے ہی اسرائیلی جیل میں ہیں ۔لمیٰ خاطر کی یہ پہلی گرفتاری نہیں بلکہ وہ ماضی میں بھی کئی بار صہیونی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں اٹھا چکی ہیں۔ دو سال قبل بھی لمیٰ کو اسرائیلی فوج نے دو ماہ کے بچے کے ساتھ جیل میں ڈال دیا تھا۔ تجزیہ نگار راید الشرباتی کا کہنا ہے کہ لمیٰ خاطر سمیت کئی دوسری خواتین کو متعدد بار حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔لمیٰ خاطر پانچ بچوں کی ماں ہیں اور کئی جسمانی بیماریوں کی بھی شکار ہیں۔ فلسطینی اخبارات میں اکثر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں جن میں وہ صہیونی ریاست کے مظالم پر آواز اٹھاتی ہیں۔
نہ صرف صحافیہ بلکہ شاعرات نے بھی اپنے ملک کی آزادی کے لئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان میں شمالی فلسطین سے تعلق رکھنے والی ایک 36 سالہ شاعرہ دارین طاطور کا ہے۔ابھی حال ہی میں اسرائیلی عدالت نے انہیں پانچ سال کی سزا سنائی ہے۔انہیں سوشل میڈیا کے صفحات پر اپنی ایک نظم پوسٹ کرنے کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے ۔حراست میں لئے جانے کے بعد ان پر مقدمہ چلا۔ بیت المقدس کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے ان کو پانچ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اس سے قبل اکتوبر 2015 میں بھی اسرائیل مخالف نظمیں لکھنے اور انہیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی ایک نظم ’مزاحمت اے میری قوم مزاحمت جاری رکھ‘ نے کافی شہرت پائی تھی جس پر صہیونی حکام نے انہیں حراست میں لے لیا ہے ۔بہر کیف عہد تمیمی کی طرح بہت سی خواتین اپنے ملک کی جدو جہد میں برابر کی شریک ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *