قتل کے شک میں بھیڑ نے خاتون کو برہنہ کرکے بازارمیں گھمایا

bhojpur
بہارکے بھوجپورضلع کے بہیاشہرمیں بھیڑکے ذریعے ایک خاتون کوبرہنہ کرکے گھنٹوں گھمانے کا معاملہ سامنے آیاہے۔بتایاجارہاہے کہ بہارکے بھوجپورضلع کے بہیامیں ایک شخص کے قتل میں شامل ہونے کے شک میں مشتعل بھیڑنے ایک خاتون کے کپڑے پھاڑدےئے اوراسے برہنہ(ننگا)کرکے گھمایا۔اس دوران خاتون کی پٹائی بھی کی گئی۔پولس کے مطابق، بھیڑکواس خاتون پر19سال کے نوجوان کے قتل میں شامل ہونے کا شک تھا۔پولس کے مطابق،مشتعل بھیڑنے پہلے کئی گھروں اورگاڑیوں میں آگ لگادی ،پھرایک خاتون کواس کے گھرسے کھینچا،اسے پہلے بری طرح پیٹا اورپھرشہرکے بازارمیں اسے ننگاکرکے گھمایا۔
پولس نے خاتون کوکسی طرح سے بھیڑسے چھڑایا۔واقعہ کا ویڈیوسوشل میڈیاپرشےئرکیاگیاہے۔اس معاملے میں مقامی پولس کی لاپرواہی پرپٹنہ علاقے کے آئی جی نیرحسن خان نے سخت کارروائی کرتے ہوئے بہیاکے ایس ایچ اوسمیت 8پولس اہلکاروں کومعطل کردیاہے۔یہ واقعہ 20اگست کوبہیاریلوے اسٹیش کے پاس پیش آیاہے۔
ایک میڈیارپورٹ کے مطابق،بہار کے بھوجپور ضلع میں نوجوان کے قتل کے بعد خاتون کو برہنہ کرنے کے معاملہ میں پولیس نے بڑی کاروائی کی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں راشٹریہ جنتا دل لیڈر کوشل کشور یادو سمیت چھ لوگوں کی گرفتاری کی ہے۔ تمام ملزمین کی گرفتاریاں بہیاں کے جموعا گاؤں سے ہوئی ہے۔
دراصل، ریلوے اسٹیشن کے پاس 19سالہ وملیش کمارنام کے نوجوان کا لاش برآمدہوئی تھی۔شک تھاکہ وملیش کا قتل کردیاگیاہے۔وملیش قریبی لوگوں نے بہیاریلوے اسٹیشن کے پاس رہنے والی ایک خاتون پرشک کیا۔اس کے بعدسیکڑوں کی تعدادمیں لوگ جمع ہوئے اورمقامی لوگوں نے مقامی بازار میں کئی دکانوں اورخاتون کے گھرمیں آگ لگادی۔بے قابوبھیڑ نے خاتون کوکھینچ کرسڑک پرنکالااورسرعام اس کے کپڑے پھاڑدےئے اوراسے ننگاکرکے گھمایا۔پیرکے روزنوجوان کے قتل میں ایک خاتون کو شمولیت کے شک میں ناراض گاوں والوں نے بیچ بازار برہنہ کر دیا۔ وہ عورت رو۔ رو کر اپنی بے گناہی کا ثبوت دے رہی تھی لیکن نازاض گاوں والے کچھ بھی سننے کو راضی نہیں ہوئے۔
گاؤں والوں کا الزام ہے کہ نوجوان کا قتل کر کے ریلوے ٹریک کے پاس جان بوجھ کر پھینک دیا گیا ہے۔ وہیں دوسری جانب مقتول وملیش ساو کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ وملیش امتحان دینے آیا تھا۔ اسے دوگوں نے جان سے مار کر ریلوے ٹریک کے پاس پھینکا ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *